تاریخی لحاظ سے اسلام اور علم طب کی امداد

جون 2006 ترجمہ

نیا علم طب زیادہ تر یورپی علم طب سے آیا، جسکی نیو پرانے یونانی روم کے علم طب سے ہے۔ جبکہ یہ ٹھیک ہے کہ یہ بہت آسان ہے؛ کچھ لوگ، مسلم یا غیر مسلم بے خبر ہیں کہ آج مغربی علم طب نہ ہوتا اگر کافی اہم مسلم علم طب نہ ہوتا۔ یہاں کچھ امداد کی چھوٹی تصویریں ہیں۔ اس کی پیروی کرتے ہوئے کہ قرآن اور احادیث نے علم طب پر کیا سکھایا۔

اسلام میں علم طب کی شروعات

جبکہ عرب کے رہنے والے، محمد سے پہلے، پرانا علم طب رکھتے تھے، مصری، بازنطینی اور ایرانی بہت ترقی یافتہ تھے۔ انہوں نے جراحی کا کام کیا۔ جڑی بوٹیوں اور دوسرے پودوں سے دوائیاں تیار کر کے ہدیوں کو ٹھیک کیا، صحت و صفائی دی وجہ توں سمجھ بوجھ آئی، اور کوڑھیوں کو علیحدہ کر دیا گیا۔ تاہم، اس وقت وہم پرستی اور بُری منشیات بھی تھیں۔ مسلمان عام طور پر متفق ہیں کہ عباسی اپنے اسلام میں بے پروہ تھے [ ایک حکمران جو شراب کے تالاب میں ڈوبا کرتا تھا] اور ان کے تحت برداشت سائنس اور علم طب نے ترقی کی۔ مسلم دنیا میں پہلے پہلے ڈاکٹر نیسٹورین مسیحی ڈاکٹر غالب تھے۔ جیسے کہ نیچے دئیے ہوئے ہیں ، جرحی بن بخٹشو، یہ مغربی ایران سے تھا (830ء / 215 ہجری میں مرا) اور اسکے بیٹے خلیفہ المنصور کے ماتحت تھے۔ یوحنا ابن مسواہ (857 /243 میں مرا)، نیسٹورین حنین ابن اسحاق (800-873ء سی) (260 اے ایچ) المعامن نے اسے دارالحکمہ دا سربراہ مقرر کیا (یعنی بیت الحکمت) اور وہ ایک تھا جس نے شروع کے عکم طب اور سانسی کاموں کا عربی میں ترجمہ کیا۔ دیکھو

http://www.masnet.org/history.asp?id=1033

اور مزید معلومات کے لیے

http://www.nlm.nih.gov/hmd/arabic/bioI.html

تاہم، 931ء سے 869 ڈاکٹروں نے خلیفہ المقتدیر 931 میں لائسنس کا امتحان دیا۔ چھ اہم ترین مسلمان ڈاکٹر اور ماہر ادویات

"حکمت کی جنت" انسائیکلوپیڈیا علم طب لکھ کر ، اس نے اسلام میں علم طب کی ضروریات کا شروع کیا۔۔

 

علی بن رادھا الطبری (عبداللہ ابن ساحل ربان 855ء

الطبری کا ایک شاگرد، وہ اور ابن سینا پانچویں اور اٹھارویں صدی کے بیچ دو اہم ترین ڈاکٹر تھے ایرانی کیمیا دان جس نے پلاسٹر آف پیرس بنایا اور سرمے کا مطالعہ کیا۔

رازی (الرازی ) سی 850- سی 925

کوردوبا توں عظیم مسلمان سرجن۔ اس نے سرجری پر 200 تصویروں والی کتاب لکھی۔

البُوکس (الزبروہی)

(1013ء میں مر گیا)

سائنسدان بھی تھا، فلسلی بھی، منطق دان جس نے تقریباً 200 کام لکھے۔ انگلینڈ میں البرٹ میگنس نے اس سے بہت کچھ سیکھا۔

ابن سینا 980-1037ء

اس نے پروی دوائیوں پر کتاب لکھی ۔

البیرونی (1051ء میں مر گیا)

ارسطو کا ترجمان۔ اس نے کہا کہ غربت اور مایوسی مسلمانوں کے عورتوں کے ساتھ سلوک کہ وجہ سے ہے

ابوالولید محمد ابن روشد

(1126-1198ء)

 

منشیات اتے دواساز

جعفر الصادق (140/757 میں موا) اس نے مسلم خالد سے یونانی علم طب سیکھا، جس نے اسے بازنطینی راہب ماریونوس سے سیکھا۔ جابر بن حیان، الکندی اور الرازی سب نے منشیات کے علم کی ترقی کی ۔ البیرونی (1051ء میں موا) اس نے منشیات پر پوری کتاب لکھی۔ اس کے بعد صابُر ابن ساخل (868 / 255 میں موا)۔

یقیناً ہم مشرق وسطیٰ کے علم طب کی ہر بات ماننا نہیں چاہتے۔ ایرنیوں نے بھنگ کی کافی مشہوری کی، اس کے ساتھ ساتھ اس کو چینی کے ساتھ گولیوں کی طرح نگلنا یا کھانا بھی تھا مٹھائی کی طرح کھانا " منشیات " صفحہ نمبر 95 کے مطابق۔ اس بات کا اشارہ کرنا چاہیے کہ یہ احادیث کے مطابق نہیں ہے نہ ہی یہ بہت یا تھوڑی مقدار میں۔ ابن ماجہ جلد 4 عدد 3386-3391 صفحہ 496-498 ، جلد 4 عدد 3398-3399 صفحہ 498-499۔ سارے نشہ والے مشروبات منع ہیں (بخاری جلد 1 کتاب 4 سبق 75 عدد 243 صفحہ 153) علی ابن عبدالعظم الانصاری ( 1268ء-1270ء تک ترقی کی) اس نے زہر مار پودوں پر دو کام لکھے۔ اس نے ایک کائناتی تریاق کا بھی ذکر کیا۔

عرب کے شفا خانے

لیفہ ولید بن عبدالمک نے 706ءمیں پہلا شفا خانہ بنایا۔ بعد میں اسکے بہت سارے شفا خانے تھے۔ مثلا دماغی بیماری، وبائی بیماری اور غیر معتدی جسمانی بیماری وغیرہ کے ۔ مسلمانوں نے " سفری شفا خانے" بھی ایجاد کیے۔ ایک شفا خانہ اونٹوں کے قافلے پر اٹھایا جاتا تھا۔ اس میں خوراک، پانی، دوائیاں، آپریشن کرنے کا سامان، اور علیحدہ کمرے، ڈاکٹروں کا عملہ، نرسیں، تیمارداری کرنے والے، افسر اور نوکر ہوتے تھے۔ سفری شفا خانہ شہر شہر اور گاؤں گاؤں میں وبائی مریضوں کی تیمارداری کے لیے اور قدرتی آفات کا شکار لوگوں کے لیے ۔ مسلمان ہسپتال تفریحی سامان پر بھی مشتمل ہوتے اور تھوڑے موسیقی کے ملازم بھی ہوتے۔

 

احمد بن تولن: نے قاہرہ وچ 872ء میں قاہرہ میں ایک مشہور ترین ہسپتال بنایا۔

قلاون: نے 1284ء میں قاہرہ میں"دارالشفا"کے نام پر ایک ہسپتال بنایا۔ جو1798ء تک مصرپرنپولین کے حملے تک استعمال کیا جاتا تھا۔

المقدیر: نے 915ء وچ بغداد میں ایک مشہور ہسپتال بنایا۔

 

ابن سینا

ابن سینا (980/ 979ء) تاریخ میں مشق وسطیٰ کے دو مشہور ڈاکڑوں میں سے تھا؛ یورپی اسے "ڈاکٹروں کا شہزادہ" کہتے تھے۔ اس نے تاریخ میں بہت مشہور کتاب لکھی۔

ادویات کہ فہرست۔ یہ انیسویں صدی تک یورپ میں مستند طبعی کام تھا۔ ابن سینا نے دماغ کی جھلی پر کئی ادویات دریافت کیں۔ اس نے دیکھا کہ منشیات اور غذا علم طب میں علاج میں تعلق رکھتی ہیں۔ وہ سمجھتا تھا کہ بعض معدے کے السر جسمانی وجوہات اور دماغ کی پریشانی کی وجہ سے اور دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ابن سینا نے سرطان( کینسر ) کو دور کرنے کے لیے سرجری کرنے پر زور دیا اور اپنے مریضوں کو شفا دینے کے لیے وہ موسیقی استعمال کرتا تھا۔ وہ اکثر اپنے کام کی جگہ سے بھاگ جاتا اپنا فلسفہ تباہ کرتا کیونکہ یہ روایت پسند نہ تھا۔ عرب کی ادویات صرف منفرد پودے نہ تھے کہ اچانک کسی بیماری میں مدد دیتے، وہ وسیع پیمانے پر تیار کیتے جاتے تھے۔ مثلاً " ادویات" صفحہ 22-23 ایک عرب معدے کی مثال دیتا ہے۔ ۔ مُر، آئرس، چٹی گول مرچ اتے سونف کا ایک آمیزہ تھا جو تین دن تک ایک جگ میں خمیر کے عمل میں سے گزارا جاتا تھا۔ شراب نکالی جاتی اور دوا ورزش کے بعد پی جاتی۔ بد قسمتی سے ابن سینا نے اپنی رومن گولیوں پر سونے اور چاندی کی تہہ لگانے کا نسخہ بھی تجویر کیا۔ دورسے الفاظ میں ، ابوداود جلد 2 سبق 1469 عدد 3861-3865 صفحہ 1086-1087 کہتا ہے کہ کوئی چیز ناجائز نہیں ( جیسے شراب) ادویات میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

ابن سینا دا اک بد قسمت وصیت کردہ عطیہ:

گرم لوہے نال داغنا

ابن سینا اپنے وقت کا ایک بڑا دور اندیش انسان تھا کہ صدیوں تک ڈاکڑوں نے اس کے علم پر سول نہ کیے۔ ایک طرح تو یہ بُرا ہے کیونکہ پنی کتاب میں ابن سینا نے خیال کیا کہ سرجنوں کو چاقو / چھری استعمال کرنی نہیں چاہیے، بلکہ گرم لوہے کے ساتھ داغنا چاہیے۔ جبکہ البوکس نے پہلے یہ گیارھویں صدی میں تجویز کیا، ابن سینا کے عظیم اثر نے یہ عیقدہ چودھویں صدی میں پھیلا دیا۔ " داکٹر" صفحہ 33 کہتا ہے کہ کیتھولک کلیسیا نے ابن سینا کی حکمت اختیار کی اور داغنا ایک مکمل علاج بن گیا۔ ایرانی داکٹر بھی کوڑھیوں اور دوجے بیماروں کا علاج آگ سے کرتے تھے۔ تاہم، فرانسیسی ڈاکٹر ایمبروز پیر 1536 میں زخموں کا علاج کرنے کے لیے اسکا داغنے والا تیل استعمال کیا جاتا تھا۔ کچھ نہ کرنے کی بجائے، وہ تارپین کا تیل اور غلاب کا تیل لگاتا تھا۔ اگلے دن، وہ حیران ہوا کہ وہ سپاہی ان کی نسبت جو داغے گئے تھے اچھے تھے۔ ابن سینا راسخ الاعتقاد مسلمان نہیں تھا، وہ شراب پیتا اور غیر روائیتی عقائد کی پیروی کرتا تھا۔ پر اگر ابن سینا احادیث پر توجہ دیتا تو وہ اسکی مدد کرتیں۔ جبکہ احادیچ نے غلطی سے کہا کہ داغنا مدد کرتا ہے، جبکہ محمد نے اپنے پیروکاروں کو اس سے منع کر دیا۔ داغنا [ لوہے کے ساتھ زخم کو جھلسانا] کا کام، پر مسلمان یہ نہ کریں ۔ ابن ماجہ جلد 5 عدد 3489 صفحہ 32 ، ابوداود جلد 3 سبق 1465 عدد 3857 صفحہ 1085 میں محمد نے سعد بن مودہ کو داغا ( جو بعد میں مر گیا) پر وہ محمد کی زندگی کے شروع میں تھا۔

"شفا تین چیزوں میں ہے۔ شہد کے گھونٹ میں، داغنے یا جھلسانے میں، لیکن میں اپنے ماننے والوں کو داغنے سے منع کرتا ہوں"۔ بخاری جلد 7 کتاب 71 سبق 3 عدد 584 صفحہ 396 ، صحیح مسلم جلد 3 کتاب 24 عدد 5467-5468 صفحہ 1199-1200 یہ چیز سکھاتی ہے۔

رازی اور دوسرے بڑے ڈاکٹر

(رازی / ابن رازی) ابو بکر محمد الرازی 932/925ءسی 855) دو بڑے مسلمان ڈاکڑوں میں سے تھا۔ وہ ابو زید البلخی کے زیر سایہ فلسفے کا مطالعہ کرنے سے پہلے ایک بربط (ساز ) بجانے والا تھا۔ اور پھر بغداد میں علم طب کی طرف آ گیا۔ 902 میں رعیہ کے گورنر کی درخواست پر اس نے بغداد چھوڑ دیا اور رعیہ اپنے آبائی قصبے میں واپس آ گیا کہ ہسپتال کی سربراہی کرے۔ اس نے اور بھی کتابیں لکھیں جس میں نفسیاتی علاج پر بھی ایک کتاب شامل ہے اور ہسپتالوں میں حفظان صحت پر بھی ایک کتاب شامل ہے ۔اس نے شراب بطور جراثیم کش اور پارہ بطور جلاب استعمال کیا۔ الرزی نے تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے شاگردہ بھی بنائے۔ اس کا اچھا کام ایک طبعی انسائیکلوپیڈیا ہے جو الحاوی فی الطب کا نام سے ہے ( یورپ میں کانٹین کے نام سے پکارا جاتا ہے) یہ پہلی طبعی کتاب تھی جو یورپ میں 1486ء میں چھپی۔ اور اٹھارویں سدی تک استعمال کی گئی۔ رازی نے اپنے مریضوں کی شفا کے لیے موسیقی استعمال کی اور چیچک اور خسرہ میں فرق بتایا۔

مصری فاطمی خلیفہ الحکیم (925سی 855ء) بڑا وہمی انسان تھا ، اس نے گرجا گھروں کو جلایا اور عورتوں کو جنگ میں جانے سے منع کیا، لیکن اس نے کہا کہ قاہرہ میں بہت اچھے ہسپتال ہونے چاہیے۔ سب دنیا سے مشہور ڈاکٹر آئے، بشمول ابن بطلان جس نے صحت کا کیلنڈر لکھا اور ابن نفس بھی، جس نے خون کی پلمونری گردش دریافت کی مائیکل سروٹس سے صدیوں پہلے۔

(البوکس) خَلَف ابن عباس الزہروی (1013ء وچ مر گیا) غالباً یہ ایک عظیم مسلمان سرجن تھا اور اس کا تعلق کور دوبا سے تھا۔ اسکا عرف عام الزہروی تھا کیونکہ وہ الزہرہ چلا گیا تھا۔ جو سپین میں اُمیاد حکمران الناصر نے نیا شہر بنایا تھا۔ اس نے سرجری پر ایک کتاب لکھی جو کونیسیو کے نام سے یورپ میں مشہور ہوئی اس میں 200 سے زائد اشکال تھیں۔ سولہویں صدی تک یورپی سرجن اکثر آخر میں اس کا حوالہ دیتے رہے ۔

(ایویروس) عبدالوارد محمد ابن رُشد (1198ء میں مر گیا) یہ کورابا میں پیدا ہوا۔ یہ ایک طبعی ڈاکٹر تھا، فلسفی کے ساتھ ساتھ یہ ایک قاضی بھی تھا۔ یہ پہلا انسان تھا جس نے یہ دیکھا کہ اچھی صحت کے لیے وازش ضروری ہے۔ بارھویں صدی کے دوران، یہودی مائمونیڈز سلادِن کے لیے ایک سرجن تھا۔ سپین میں ابن زہر خاندان کے کئی بڑے ڈاکٹر تھے۔ ابوماروان عبدالملک جو بڑا ماہر ڈاکٹر تھا۔ مشہور فلسفی ابن طفیل اور ابن رشد بھی مشہور ڈاکٹر تھے۔

منگولوں کے مشرق وسطیٰ پر حملے کے بعد، مسلمانوں نے چینی ادویات اور علاج پر توجہ دی۔

طاعونی بیماریاں

یورپ کی طرح مشرق وسطیٰ کی دنیا بھی طاعونی بیماریوں میں مبتلا تھی۔ ان میں سے کچھ یہاں ہیں۔

کچھ مشرق وسطیٰ کی طاعونی بیماریاں

628- 627 /6ء ٹیسی فون کا طاعون

638-640ء امواس اور شام کا طاعون

689- 668ء بصرہ کا طاعون

706ء مدیان کا طاعون

716-716ء نوتابل کا طاعون

1403-1404ء مشرق وسطی میں کالی موت k620 مر گئے۔

کچھ یورپی طاعون

664-683ء کالی موت (طاعون) انگلینڈ

740-744ء کالی موت ترکی اور یونان k200 مر گئے۔

1345-1347ء کالی موت روس میں۔

1347-1351ء کالی موت مغربی یورپ 25- 75 M۔

1485-1550ء انگریزی اعصابی بیماری M3 مر گئے۔

1493ء جنیوا میں طاعون %80 مر گئے۔

1660-1679ء یورپ میں کالی موت M14.4 مر گئے

جب ہر کوئی طاعون میں مبتلا تھا، ترکوں نے اک حل ڈھونڈا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ تھوڑی مقدار میں ایک چھالے میں سے پیپ ایک تندرست آدمی کو لگائی جائے تو یہ چیچک کو کم کر سکتی ہے۔ بلکہ بلکہ %99 وقت میں بچ جاتی ہے۔ یہ اچھا معمول کے خلاف طریقہ ہے کہ اگر کوئی آدمی چیچک میں مبتلا ہو جائے عام طریقے سے۔

مہربانی کر کے مجھے معاف کرنا اگر پہلے والا طریقہ بے کیف نظر آئے، بلکہ اس کی لمبائی علم طب میں امداد طاہر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لوگ ساری دنیا میں مدد کرنے میں فخر محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ ترقی سب سے بڑی اہمیت کے قابل ہے جو سنی احادیث کی روشنی میں اور قرآن کی روشنی میں سکھایا جاتا ہے۔

محمد نے کب کہا کہ مکھی کو اپنے مشروب میں دبوؤ

" اگر کوئی مکھی آپ کے مشروب میں گر جائے تو اسے مشروب میں بھگونا چاہیے کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں علاج ہوتا ہے ( بیماری کے خلاف تریاق) حاشیہ (1) کہتا ہے " حدیث نمبر 673 جلد 7 دیکھو ( مزید تفصیل کے لیے) " بخاری جلد 4 کتاب 54 سبق 15 عدد 531 صفحہ 335 سے آگے۔

"ابوہریرہ سے روایت ہے، کہ نبی نے کہا اگر تہمارے مشروب میں مکھی گر جائے تو اس مکھی کو مشروب میں ڈبونا چاہیے کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں علاج ہوتا ہے"۔ بخاری جلد 4 کتاب 54 سبق 16 عدد 537 صفحہ 338۔

حالانکہ، ایک خورک سے سیر مکھی ہر پانچ منٹ بعد فضلہ خارج کرتی ہے http://www.thebestcontrol.com/bugstoop/controlflies htm. بمطابق

ابوہریرہ اچھی یاداشت رکھتا تھا: "ابوہریرہ سے روایت ہے میں نے اللہ کے رسول سے کہا کہ میں نے آپ سے کئی احادیچ سنی ہیں اور میں ان کو بھول گیا ہوں۔ اللہ دے رسول نے کہا کہ اپنی چادر کو پھیلا اور میں نے ایسے ہی کیا اور پھر اسکے نے اپنے ہاتھوں کو حرکت دی،جیسے کہ وہ کسی چیز کو اپنے ہاتھوں میں بھر رہا ہو ( اور میری چادر پر خالی کر دیا) اور پھر کہا، اس چادر کو اپنے جسم پر لپیٹ لے۔ میں نے ایسا ہی کیا اور اس کے بعد مجھے کوئی چیز نہیں بھولی "۔ بخاری جلد 1 کتاب 3 سبق 43 عدد 119 صفحہ 89 ، بخاری جلد 4 کتاب 56 سبق 27 عدد 841 صفحہ 538، جلد 9 سبق 23 عدد 452 صفحہ332۔

"ابوہریرہ سے روایت ہے: اللہ کے رسول نے کہا، اگر کوئی مکھی کسی برتن میں گر جائے تو اس کو ڈبو کر پھنک دو۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے پر میں علاج ہوتا ہے"۔ بخاری جلد 7 کتاب 71 سبق 58 عدد 673 صفحہ 452-453 ۔

حاشیہ (1) کہتا ہے کہ اب طبعی لحاظ سے یہ مشہور ہے کہ ایک مکھی اپنے جسم کے کئی حصوں کے ساتھ کئی بیماریاں دے جراثیم رکھدی اے جیسے کہ نبی نے ذکر کیا ( تقریباً 1400 سال پہلے جب لوگ طب کے بارے میں بہت کم جانتے تھے) اس طرح اس نے دوسرے جاندار پیدا کیے، اور دوسرا طریقہ ، جو ان بیماریاں پھیلان والے جراثیموں کو مارتے ہیں مثلاً مثلا پینسلین فنگس بیماریوں والے جراثیموں کو مارتی ہے جیسے سٹافلو کوکسائی (بیکٹریا کی قسم) ہے اور دوسرے جراثیم وغیرہ۔ حال ہی میں نگرانی کیے گئے تجربے جو اشارہ دیتے ہیں کہ مکھی میں بیماری کے جراثیموں کے ساتھ ساتھ ان جانداروں کے لیے تریاق بھی ہوتے ہیں۔ عام طور پر جب کوئی مکھی کسی مائع چیز کو چھوتی ہے تو اسکو اپنے جراثیموں سے آلودہ کر دیتی ہے۔ اس لیے اسکو ڈبونا چاہیے کہ تریاق خارج ہو اور بیماری کے جراثیموں کے توازن میں رکھا جا سکے۔ اس مضمون کے لحاظ سے، میں نے اپنے دوست کے ذریعے ڈاکٹر محمد ایم ایل سمعاہی کو لکھا جو الزہرہ یونیورسٹی قاہرہ ( مصر) میں حدیث کے شعبے کا سربراہ ہے جس نے اس حدیث پر ایک آرٹیکل لکھا تھا اور طبعی لحاظ سے اس کا ذکر کیا تھا کہ خوردبینی جانداروں کے ماہرین نے ثابت کیا ہپے کہ مکھی کے پیٹ میں طویل خمیر کے خلیے بطور طفیلے رہتے ہیں اور یہ خمیر خلیے اپنے دور حیات کو دہرانے کے لیے مکھی کی سانس والی نالی میں ابھر رہے ہوتے ہیں اور اگر مکھی مائع میں ڈوب جائے تو یہ خلیے مائع میں پھٹ جاتے ہیں اور ان خلیوں کے مادے بیماری کے جراثیموں کے لیے تریاق ہین جو مکھی کے اندر ہوتے ہیں ۔ غور کرو کہ بخاری کا حاشیہ اس ڈاکٹر کا جو حدیث شبعہ کا سربرہ ہے حوالہ دیتا ہے؛ انہوں نے یہ حوالہ طب یا محکمہ صحت سے نہیں لیا۔ مکھی کے ایک پر میں بیماری جبکہ دوسرے میں علاج ہوتا ہے۔ ابن ماجہ جلد 5 عدد 3504-3505 صفحہ 38-39۔

محمد کا صاف پانی پر بیان

صحت و صفائی: جب لوگوں نے حیض کے کپڑوں سے بھرے ہوئے، اور مرے کتوں اور بدبودار چیزوں سے بھرے ہوئے کنویں میں سے پانی پینے کے متعلق پوچھا، تو محمد نے کہا کہ پانی صاف ہے اور یہ کسی چیز سے ناپاک نہیں ہوا۔ ابوداود جلد 1 سبق 35 عدد 35 نمبر 66-67 صفحہ 16-17۔

طبی علاج کے علاج کے لیے اونٹ کے پیشاب کا استعمال

محمد کے مطابق، ایک آدمی نوں قبر وچ ناپاک کرنے کی سزا دی گئی اسکو الہی کے پیشاب سے ناپاک کیا گیا۔ بخاری جلد 1 کتاب 4 سبق 57 عدد 215 صفحہ 141، بخاری جلد 1 کتاب 4 سبق 57 عدد 217 صفحہ 142۔

پھر بھی محمد نے کچھ لوگوں کو اپنے چرواہے کی پیروی کرنے کے لیے اونٹ کا پیشاب اور دودھ پینے کا حکم دیا۔ بخاری جلد 7 کتاب 71 سبق 6 عدد 589-590 صفحہ 398-399 ، جلد 7 کتاب 71 سبق 29 عدد 623 صفحہ 418۔ محمد نے کہا کہ اونٹ کا پیشاب ایک اچھی دوا ہے۔ ابن ماجہ جلد 5 کتاب 31 عدد 3503 صفحہ 38۔ کچھ لوگوں کو اونٹ کا پیشاب پینے کا بتایا گیا تو انہوں نے مذہب چھوڑ دیا اور چرواہے کو مار ڈالا۔ محمد نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے اور انکھیں نکال دیں ۔ سُنن نساءجلد 1 عدد 308-309 صفحہ 255-256 ، بخاری جلد 4 کتاب 52 سبق 152 عدد 261 صفحہ 162 بھی دیکھیں۔

بچھو کے ڈنک کا چھو منتر علاج

محمد نے انصار لوگوں کو بچھو کا ڈنک دور کرنے کے لیے ایک چھو منتر دیا۔ صحیح مسلم جلد 3 کتاب 24 عدد 5442-5444-5448 صفحہ 1192-1196۔

محمد کے دوسرے علاج

صحیح مسلم جلد 3 صفحہ 1199-1200 کے مطابق کوئی بیماری نا قابل علاج نہیں۔

اللہ نے بوڑھے ہونے کے سوا ہر بیماری کی دوائی بنائی ہے۔ ابوداود جلد 3 عدد 3846 صفحہ 1083۔ ابن ماجہ کتاب 31 جلد 5 سب دوائیوں پر کتاب ہے یہ کہتی ہے کہ بوڑھے ہونے کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے۔ ابن ماجہ جلد 5 عدد 3436 صفحہ 1۔

محمدنے لوگوں کو بتایا کہ اپنی درد والی ٹانگوں کو مہندی لگانی چاہیے۔ ابوداود جلد 3 عدد 3849 صفحہ 1084 کاجل (سرمہ) آنکھوں اور بالوں کو تیز کرتا ہے ابن ماجہ جلد 5 کتاب 31 عدد 3497 صفحہ 35۔ تاہم، طاق عدد میں سرمہ لگانا چاہیے ۔ ابن ماجہ جلد 5 کتاب 31 عدد 3498 صفحہ 35-36 ؛ ابوداود جلد 1 کتاب 1 عدد 35 صفحہ 8۔

زہر کے لیے تریاق: "اگر کوئی سات اجوا کھجوریں ہر صبح کھائے گا تو اسے پورا دن کسی زہر یا جادو کا اثر نہیں ہو گا "۔ بخاری جلد 7 کتاب 65 سبق 44 عدد 356 صفحہ 260 ، بخاری جلد 7 کتاب 72 سبق 56 صفحہ 451، صحیح مسلم جلد 3 کتاب 21 عدد 5080 صفحہ 1129 ؛ جلد 3 کتاب 21 عدد 5081 یہ جادو کا اضافہ کرتی ہے ۔ "عائشہ نےکہا کہ اس نے نبی کو یہ کہتے سنا کہ یہ کالا مگن تمام بیماریوں کے لیے شفا ہے سوائے اسام کے؛ عائشہ نے کہا، اسام کیا ہے؟ اس نے کہا موت "۔ بخاری جلد 7 کتاب 71 سبق 7 عدد 591 صفحہ 400۔ جلد 7 کتاب 71 سبق 7 عدد 592 صفحہ 400 ، بخاری جلد 7 کتاب 71 سبق 10 عدد 596 صفحہ 402۔ نجیلا سیٹوا موت کے سوا ہر بیماری کا علاج کرتی ہے صحیح مسلم جلد 4 کتاب 24 عدد 8489-8490؛ ابن ماجہ جلد 5 عدد 3447 صفحہ 8 ؛ جلد 5 عدد 3449 صفحہ 9۔

بھیڑ کے پٹھے کا گوشت ٹانگ کے کچھاؤ کے لیے ایک علاج ہے۔ ابن ماجہ جلد 5 عدد 3463 صفحہ 18-19۔

پھیپھڑے کے ورم کے علاج کے لیے(بُوٹی کا نام) وارس ہے، ہندوستانی دست آور بُوٹی کا نام اور زیتون کا تیل ۔ ابن ماجہ جلد 5 عدد 3467 صفحہ 21۔ دیکھیے

www.MuslimHope.com/IslamAndScience.htm

محمد بُری نظر کے علاج کے لیے کہا۔

سنگی لگانے پر محمد کی نصیحت ( خون نکالنا)

سنگی لگانا ( خون نکالنا) ایک پُرانا طبعی طریقہ ہے، جو بیمار آدمی کی جلد پر گرم پیالے رکھے جاتے ہیں۔ جب پیالی اور ہوا، ان کے اندر ٹھنڈا کرتی ہے، تو پھر یہ خلا پیدا کرتا ہے جو خون کو سطح پر کھنچتا ہے۔ محمد نے کہا ، سنگی لگانا ایک اچھا طبعی طریقہ ہے۔ صحیح مسلم جلد 3 کتاب 24 عدد 5469 صفحہ 1199؛ صحیح مسلم جلد 2 کتاب 7 عدد 2740-2741 صفحہ 594؛ ابن ماجہ جلد 5 کتاب 31 عدد 3476 صفحہ 24؛ جلد 5 کتاب 31 عدد 3478 صفحہ 25 ۔ سِنگی لگانا اک بہترین دوا ہے۔ ابوداود جلد 3 عدد 3848-3850-3851 صفحہ 1084 مزید براں، محمد نے کہا، اگر کوئی17، 19 یا 21 تاریخ کو سنگی لگاتا ہے تو یہ اسکے لیے ہر بیماری کا علاج ہے ابوداود جلد 3 عدد 3852 صفحہ 1084۔

ابو ہند نے محمد کو سنگی لگائی بمطابق ابوداود جلد 2 عدد 2097 صفحہ 562، ابوداود جلد 3 سبق 1464 عدد 3855 صفحہ 1085؛ ابن ماجہ جلد 3 عدد 2162-2163 صفحہ 302-303؛ بخاری جلد 7 کتاب 71 سبق 12-15 عدد 598-602 صفحہ 403-405۔ یہ احرام میں روزے کا وقت تھا۔ ابن ماجہ جلد 4 عدد 3081 صفحہ 330؛ ترمزی شمائل سبق 49 عدد 1،2،3،4،5،6۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے محمد کو کہا کہ اپنے آپ کو سنگی لگائے۔ ابن ماجہ جلد 5 عدد 3477 صفحہ 25 جلد 5 عدد 3480-3481 صفحہ 26۔

بائبل کے ساتھ مقابلہ

ہر کوئی جانتا ہے کہ پُرانے علم طب میں بہت سارت نقص تھے پر کیا تم جانتے ہو کہ لوقا انجیل کا مصنف پولس کا دوست اور ایک طبعی ڈاکٹر تھا؟ پھر بھی ہم توجہ کرتے ہیں کہ لوقا کی طبعی نصیحت یا حکمت ( وہ غلط رہی ہو) ان میں سے کوئی بھی لوقا کی انجیل یا اعمال کی کتاب میں نہیں ہے لوقا ایک محتاظ اور ٹھیک مورخ تھا اگر اس نے چیزوں کا اضافہ کیا لیکن خدا نہیں چاہتا کہ وہ اس میں ملائے، یقیناً وہ ملاتا جو وہ سمجھتا کہ ایک اچھی طبعی نصیحت ہے۔

پس احادیث سنگی لگانے کی نصیحت سے بھری پڑی ہیں ، اور یہ بھی کہ بُری نظر سے کیسے بچا جائے وغیرہ ۔ نئے عہد نامے میں کوئی بھی غلط نصیحت نہیں۔ صرف ایک طبعی نصیحت ہے جب پولس نے تیمتھیس کو تھوڑی سی شراب / مے کھانے کے ساتھ پینے کو کہا کیونکہ اسکا معدہ مسلسل خراب رہتا تھا۔ پرانے عہد نامے میں نا قابل تردید نصیحت عام طور پر نہیں دی گئی ( سوائے حزقیاہ کے پھوڑے کے لیے انجیر کی ایک مرہم لگانے کے) لیکن پاکیزگی اور ناپاکی کے قوانین حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق دیکھے جا سکتے ہیں۔ یقیناً بیرونی طور پر صاف اور صحت مند رہنا کم اہمیت رکھتا ہے بہ نسبت اندرونی طور پر صاف اور صحت مند رہنا۔ یہ کرنا ضروری ہی اور یہ وہی کر سکتا ہے جس کو ہم " بڑا طبیب" یسوع مسیح کہتے ہیں۔ اس کو کہیں کہ وہ آپ کو صاف کرے اور آپ کی سچ کی طرف آنکھیں کھولے۔

حوالہ جات اور مزید مطالعہ

البخاری صحیح بخاری (مترجم محمد محسن خان، المکتب السلاقیت المدینہ المنورہ نے شائع کیتا (تاریخ نہیں) (9 جلداں) سنی احادیث دا بہترین مستند مجموعہ)

 

البُری، اے۔ جے۔ قرآن دی تفسیر میکمیلان پیبلشنگ کمپنی، انچارج۔۔۔۔ 1955۔ (یوسف علی کا ترجمہ نمایاں طور پر اس سے ٹھیک ہے)

 

کیمبل ولیم۔ تاریخ اتے سائنس دیلومیں قرآن اور بائبل۔ عرب ورلڈ منسٹریز۔ 2002، 1986۔ ڈاکٹر کیمبل ایک طبی ڈاکٹر ہے جو عربی بولتا اور افریقہ میں کام کرتا ہے۔

 

انسائیکلوپیڈیا برٹنیکا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹنیکا انچارج۔ 1958جلد 13 صفحہ 7-8۔

 

القرآن دے معنی داانگریزی ترجمہ: انسانیت دے لئی رہنمائی۔ مصنف محمد فاروق اعظم۔ دی انسٹیٹویٹ آف اسلامک نالج 1997۔

 

دی ہولی قرآن۔ (عربی اور انگریزی) اسلامی ریسرچز کی پریزیڈینسی نے ریوائز اتے ایڈٹ کیتا ، آئی ایف ٹی اے، پکار اور رہنمائی۔ کنگ فہد ہولی قرآن پرنٹنگ کمپلیکس۔ (عبداللہ یوسف علی نے انگریزی ترجمہ کیا)1410 اے ایچ۔

 

نی ، رُسل وی اینڈ سیرل ایمرل۔ دی فزیشن۔ ٹائم لائف بُکس 1967۔

 

ماڈل والٹر اینڈ الفریڈ لائنسگ۔ ادویات۔ ٹائم لائف بُکس 1967۔

مُسلم امام۔(عبد الحمید صدیقی نے انگریزی میں پیش کیا) صحیح مسلم انٹرنیشنل اسلامک پبلشنگ ہاوس۔ ( تاریخ نہیں) (4 جلدیں) نساء امام ابو، عبدالرحمن احمد۔ سنن نساء مترجم محمد اقبال صدیقی۔ قاضی پبلشنگ 1994۔

 

سنن ابوداود۔ مترجم احمد حسن۔ شاہ محمد اشرف پبلشرز 1996-1984۔

 

سنن ابن ماجہ۔ مترجم محمد طفیل انساری۔ قاضی پبلیکیشنز 121 ذوالقرنین چیمبرز (پاکستان) 1998۔

ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا۔ ورلڈ بک انچارج۔ 1990 یحیٰ بن شرف النبوی، امام ابوذکریا (مرتب کرنیوالا) ایس ایم مدنی عباسی (مترجم) ریاض الصالحیین۔ انٹرنیشنل اسلامک پبلشنگ ہاوس۔ (تاریخ نہیں) (2 جلدیں)۔

 

عرب / فارسی طبی تاریخ کے لیے

http://www.nlm.nih.gov/hmd/arabic

http://www.masnet.org/history.asp?id=1033

(www)iad.org/Islam/medicine.html مری ہوئی