زبور کی کتاب میں سے سوال جواب
سوال: بابئل میں زبور کی کتاب کی اہم خوبیاں کیاہیں؟
جواب: یہ ایک بہت مشکل سوال ہے کیونکہ زبور میں بہت سی اہم چیزیں موجود ہیں۔ تم زبور کا مطالعہ کر کے مختلف درجوں پر اس سے فائدہ مند ہوسکتے ہو۔
عقائد: زبور میں بہت سے ایسے عقائد ہیں جن پر ہمیں یقین ہے۔
عملی مشق: تمام براہ راست تعلیمات اور مثالوں سے زبور ہمیں بتاتی ہے اخلاقی پاکیزگی، خداوند کے شاگرد ہونے کے لحاظ سے یا خداوند سے کیسے دعا کرنی چاہیے ہم کیا ہیں اور ہمیں اس لحاظ سے ہمیں کیا نہیں کرنا چاہیے مسیح سے متعلقہ پیشن گوئی، لیکن جیسے کہ یہ جتنی اہم چیزیں ہیں، لیکن میرا خیال نہیں کہ یہ سب سے اہم نقط ہے ان چیزوں کو بالکل سیدھے، سادہ انداز میں مکمل کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ استثناء اور رومیوں میں ہے ۔ کسی بھی پرانے عہد نامے کی کتاب سے زیادہ زبور ہمارے خداوند کے ساتھھ تعلق کی انمول سچائی کو اپنے انداز رکھتی ہے۔ ہم داؤد کے نفس مضمون سے عقائد،عملی مشق پیشن گویئاں، اور دوسری حمدوثناء، تسلیم کرنا، چلا کر کہنا، اور عام طور پر خداوند سے کیسے دعا کرنی ہے سکھتیے ہیں۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ داؤد کیسے سوچتا تھا کیسے محسوس کرتا تھا، اوت ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند کیسے جواب دیتا ہے، زبور اور سمویئل ۱ اور ۲ کی کتابیں کامل طور پر متوازن ہے اور ہر ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ہاں ،خداوند کے الفاظ سمجھنے، دانا اور لازم وملزم ہیں۔ لیکن اگر ہم یہ بھول جایئں کہ خداوند کا طریقہ کتنا خوصبورت ہے، جیسے کہ وہ اپنے لوگوں کی پرواہ کرتا ہے، اور تب ہم اپنی روحانی زندگی کے معنی جسامت کو کھودیں گئے۔
سوال: اس کتاب کا مختصر بیان کیا ہے؟
جواب: زبور کو مرادت کے ساتھھ پانچ کتابوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر انفرادی زبور کی کتاب کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ پیش روئی کے لحاظ سے برتر پا آگے آنے والے زبور کے ساتھھ ایک مقامی تعلق رکھتی ہو۔ یہاں اسکا ایک مکمل خاکہ پیش کیا جارہاہے۔
کتاب نمبر ۱: زبور باب ۱ تا ۴۱ کے عنوان یہ بتاتے ہیں کہ سوائے باب ۱،۲،۱۱۰ ااور ۳۰ کے اور ۳۳ کے علاوہ سب باب داؤد نےخود لکھے ہیں۔ اور یہ باب گمنام ہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ شائد یہ داؤد نے ہی لکھے ہو۔
کے بیٹوں کتاب نمبر ۲: زبورباب ۴۲ تا ۷۲ ابتدائی طور پر زبور
سے تھے پھر انھوں نے نے، تب اسکی پیروی انھوں نے کی جو
پیروی کی جو داؤد میں سے تھے۔ زبور باب ۷۲ سلیمان سے ہے۔
کتاب نمبر : زبور کی یہ کتاب باب ۷۳ تا باب ۸۹ پر مشتمل ہے۔ زبور سے تھےسے ہے اور زبور ۸۹ ایتھن جو باب ۷۳ تا ۸۳
اس سے ہے۔
کتاب نمبر ۴: زبور کی یہ کتاب باب ۹۰ تا ۱۰۶ پر مشتمل ہے۔ اس کے باب نمبر ۱۰۲ اور ۱۰۳ داؤد نے لکھے ہیں۔ اور باقی بابوں پر کوئی نام نہیں ہے۔
کتاب نمبر۵: زبور کی یہ کتاب باب ۱۰۷ تا ۱۵۰ پر مشتمل ہے اسکے باب نمبر ۱۰۸ تا ۱۱۰ ،۱۲۲،۱۳۱،۱۳۳،۱۳۸،۱۴۰،تا ۱۴۵ داؤد سے ہیں۔ زبور باب ۱۲۰ تا ۱۳۴ کو بلند ترین زبور کہتے ہیں۔ اور ہمیں یروشلم کی طرف سفر کرتے ہوئے یا جب کاہن اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ تو ان کو اسکی تلاوت کرنی ہوتی ہے۔
سوال: زبور میں ہے کہ زبور کو کس نے لکھا؟
جواب: قدیم یہودی
کا صفحہ نمبر ۱۸۸ ہمیں واضح طور پر بتاتا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ زبور کو کس نے لکھا۔ ہماری بابئل میں زبور کے ۱۵۰ باب ہیں اور ان میں سے ۱۰۱ ابواب میں عنوانات کا اضافہ کیا گیا ہے جو مصنفوں نے اسے دیئے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے ان میں ۷۳ کو داؤد نے ۲ کو سلمان نے نے لکھا۔ تاہم عنواناتکے بیٹوں نے اور ۱۲ کو اور ۱۲ کو
یہ بھی کو بعد میں لکھا گیا اور یہ غلط بھی ہوسکتے ہیں۔ جبکے
کہتا ہے کہ اس بات کو ثابت نہیں کر سکتے کہ زبور کو کس نے لکھا، تاہم یسوع نے کہا کہ ان میں سے کچھھ زبور کو داؤد نے لکھا۔
سوال: زبور کتاب ۱ ہم سے کہتے ہے کہ اس زبور میں کیا زبورمیں انوکھا پن ہے؟
جواب: بہت سے زبور میں معافی کیدعایئں، مدد کی گزارش اور خداوند سے چلا کر بات چیت اور اسکی حمدوثناء ہے۔ اسکے برعکس زبور ۱ میں پڑھنےوالوں کے لیے وضاحتی ہدایات ہیں۔ کہ خداوند کے احکامات پر عمل کرنے سے خداوند کے برکات کی خوشی نصیب ہوتی ہے۔
کوئی بھی زبور کی تعلیمات اور تعلق کو جس کو زبور کا مرکزی بتایا گیا ہے۔ اسکو توریت کے مخالفت میں کہ ایسا کرنا چاہیے یا ایسا نہیں کرنا چاہیے کے لحاظ سے ترتیب دینے کی کوشش کرسکتا ہے۔ سب سے پہلی اہم اور نمایاں بات یہ ہے کہ زبور خداوند کے احکامات پر غور وفکر والی زبور ہے۔
سوال: زبور کتاب ۱ میں ہے کہ اس زبور کا مختصر یا خاکہ کیا ہے؟
ساخت رکھتی ہے۔ جواب: یہ سادہ اوتر خوب صورت زبور
باب ۱ تا ۳ متقی انسانوں کے بارے میں ہے۔
۔۔۔۱ اسے نہیں کرنا چاہیے
۔۔۔۔۲ اسکی خوشی
۔۔۔۔۳ اسکی خوشحالی کا نتیجہ
۵۔۴ سریر لوگ۔
۔۔۔۔۴ شریروں کا انجام
۔۔۔۵ شریروں کا محاسبہ۔
راست بازی کا طریقہ اور شریروں کا انجام زبور کی کتاب ۱ کی معافی یرمیاہ باب ۱۷ آیت ۵ تا ۸ سے متشبہ ہیں۔
سوال: زبور کتاب ۱ ہم سے کہتی ہے کہ وہ کون سے دس شرعی احکامات ہیں جن پر غور وفکر اور عمل کرکے لوگ خداوند کی برکات ہے۔ اس انمول حاصل کرتے ہیں۔ تاہم زبور ۲۳ ایک بھیڑ کی
زبور کو دو یود کا عنوان دیا جا سکتا ہے۔ زبور باب۱ پر غوروفکر کرنے سے ہمیں یہ دیکھھ سکتے ہیں کہ متقی لوگوں پر دس وجوہات کی وجہ سے برکات دی جاتی ہیں۔
(۱) وہ کسی بھی حصے میں گناہ کرنے کا پابند نہیں ہوتا، اور اسکے کارآمد انعام ہوتے ہیں۔
(۲) وہ خطا کاروں کی مجلس میں نہی بیٹھتا اور شریروں کی اصلاح پر نہیں چلتے۔
(۳) وہ ایک ایسے درخت کی ماند ہیں جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا جاتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ قحط سالی کتنے عرصے تک رہتی ہے۔ جب تک ندی نہیں سوکھے گی، تب تک درخت پھلتا پھولتا رہے گا۔
(۴) وہ اپنے وقت مقررہ موسم میں پھل مہیا کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ جو روحانی اور عام طور پر دوسرے کام پورا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں وہ اسکو مقررہ وقت پر حاصل کرلیتے ہیں۔
(۵) اسکا پتہ تک نہیں مرجھاتا۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ جب ان پر وقت آتا ہے تو ان کی زندگیاں، امیدیں اور خواب مرتے نہیں ہیں۔
(۶) سو جو کچھھ وہ کرتے ہیں وہ بارور ہوتا ہے۔
(۷) انھیں حالات کی تبدیلی ہوا اڑا کر نہیں لے جاتی۔
(۸) وہ آخر میں محاسبے کے لیے کھڑے ہونگے۔
(۹) وہ دوسرے مقدسوں کے ساتھھ خداوند کی ریاست میں پیچھے ہونگے( تما ایمان والے مقدسین ہیں)۔
(۱۰) خداوند ن کی راہ کو جانتا ہے۔ وہ اسطرح ان کی کو جانتا ہے کہ وہ انکے راستوں کو پہنچانتا ثابت کرتا اور دیکھتا ہے۔
سوال: زبور باب ۱ کی آیت نمبر ۱ ہم سے کہتی ہے کہ کوئی شریروں کی اصلاح پر کیسے چل سکتا ہے؟
جواب: ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی نصحیت میں شامل ہو ، جو کہتے ہوں کہ اس سے ڈرنا چاہیے اور وہ اس صریں، اس بات پر یقین کریں جس پر شریر لوگ انھیں یقین کرنے کا کہیںجو شریر لوگ انھیں کرنے کا کہیں وہ اس پر بولیں یا خاموش رہیں۔ اگلا سوال ملا خط فرمایئں۔
سوال: خروج باب ۱ کی آیت نمبر ۱ ہم سے کہتی ہے کہ ایسا انسان جو ایمان والا نہیں ہے اسکی نصحیت میں اور شریر انسان کی نصحیت میں کیا فرق؟
جواب: ایسے انسان کی نصحیت جو ایمان نہیں رکھتا، اسکی نصحیت بابئل سے ہوتی اور وہ اچھی یا بری ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی کہتا ہے کہ ایک رش والی سڑک کی نسبت ایک خالی سڑک پر گاڑی تیزی سے چلائی جاسکتی ہے۔ یہ ایک اچھی نصحیت ہوسکتی ہے لیکن بابئل کے حوالے سے نہیں شریر لوگوں کی نصحیت، کہ خداوند آج کام کر رہا ہے یا خداوند کا آنے والے وقت میں محاسبہ کے لحاظ سے خداوند کی نافرمانی کی تاکید کی نصحیت ہو سکتی ہے۔ شریروں کی نصحیت عام طور پر ایک مکمل عیار نصحیت ہوتی ہے جس میں وہ اس چیز کا تصور دیتا ہے کہ خداوند کبھی بھی کوئی کام نہیں کرئے گا، پہلا طریقہ کوخریت کو ظاہر کرتا ہے لیکن عام طور پر اسے کوئی عملی کافر بھی کہہ سکتا ہےبابئل عملی کے باب نمبر ۳ کی آیت نمبر ۵ کے مطابق کافر ان لوگوں کو کہتی ہے جو متقی لوگوں سا حلیہ بناتے ہیں۔ لیکن خداوند کی طاقت سے انکار کرتے ہیں۔
سوال: خروج باب۱ آیت ۱ ہم سے کہتی ہے کہ خطاکاروں کی راہ میں کھڑا ہونے میں کیا غلط ہے؟
جواب: اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے راستے میں رکاوٹیں آنی چاہیے، لیکن اس راستے پر نہیں چلنا چاہیے جس پر خطا کار عمل کرتے ہیں۔ اگر تم خطاء کرنے نہیں جارہے ہو اس جگہ پر ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس کی کوئی وجہ نہیں بنتی؟ امثال باب ۵ آیت ۸ ہم سے کہتی ہے کہ اس عورت سے اپنی راہ دور رکھھ اور اسکے گھر کے دروازے کے پاس بھی نہ جا، امثال باب ۲۲ آیت ۲۴ ہم سے کہتی ہے غصہ آور انسان کو دوست نہ بنا۔ اور جیسے کہ امثال باب ۱۹ کی آیت ۲۷ سے کہتی ہے کہ ہمیں ایسی ہدایات نہیں سننی چاہیے جو مہیں خداوند کے علم سے دور لے جائے۔
سوال: زبور باب ۱ آیت ۲ ہم سے کہتی ہے کہ ایمان والوں کی خداوند کی شریعت میں خوشنودی کیسے ہوسکتی ہے؟
جواب: زبور ۱۱۹ اسکا نسبتأ مختصر جواب دے سکتی ہے۔ تفصیلی لحاظ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھھ لوگ خداوند کے احکامات کو جاننا بھی نہیں چاہیے، جبکے ایمان والے خداوند کے احکامات کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہاسکی تابعداری بھی کرتے ہیں۔ تاہم یہاں ایک تیسرا درجہ بھی ہے جس میں سرور ہے۔ ہم اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ہماری خوشی خداوند کو خوشنودی ہونی چاہیے!
ایک طرف اسکا خفیف سا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ میرے بیٹوں کو میری تابعداری کرنے میں خوشی ہونی چاہیے۔ جب ہم کھیل کے میدان میں جاتے ہیں، تو وہ میرے لیے پاس آتا اور مجھے حکم دیتا ہے کہ وہ کس کے لیے کیا کرتا ہے۔ جیسے کہ وہ خواہش کرتا ہے، میں اسے حکم دیتا ہوں کہ خلائی مخلوق سے لڑائی کرؤ اور عجیب الخلقت کو قتل کرؤ۔
سوال: زبور باب ۱ کی آیت نمبر ۲ ہم سے کہتی ہے کہ ایک مسیحی کو کسطرح دھیان کرنا چاہیے؟
جواب: ہمیں ایک سچے خدا اور اسکے احکامات پر دھیان کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے اندر نہیں بلکہ اوپر خداوند کو دیکھنا چاہیے۔ ہمیںصرف اپنی روحوں کو خالی نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے روح القدوس سے بھرنا چاہیے۔ یہ دھیان مشرقی دھیان سے مختلف ہے جسکا مقصد اپنے اندر کچھھ کھیچنا ہے، جبکے مسیحی اپنے سے باہر خداوند پر دھیان کرتے ہیں۔
سوال: زبور باب۱ آیت ۶ ہم سے کہتی ہے کہ کیا خداوند شریروں کا بھی طریقہ جانتا ہے؟
جواب: ایک طرف کیونکہ خداوند ہر چیز کو جاننے والا ہے اس لیئے وہ شریروں کے طریقے کو بھی جانتاہے۔ دوسری طرف شریروں کے راستے کو شرعی طور پر پہنچانتے ہوئے یا اس ثابت کرتے ہوئے خداوند ان کے طریقے کو نہیں جانتا۔
سوال: زبور باب ۱ آیت ۶ کے مطابق صرف شریروں کو نابود ہونا چاہیے تو انکی راہ کیسے نابود ہوسکتی ہے؟
جواب: اسکی بجائے شریروں کا خود نابود ہونا چاہیے لیکن اس مخصوص آیت کا مطلب پر نہیں ہے۔ بر عکس اس کے تمام وہ چیزیں جس کے لیے وہ کام کرتے ہیں۔ ، ان کی تمام امیدیں اور ان کے تمام عزائم اس بھوسے کی طرح ہوتے ہیں جسکو ہوا اڑا کر لے جاتی ہے۔ ان کی تمام حرصو حوس، خواہشات اور تقفر اس دھواں کی طرح ہوتا ہے۔ جو اوپر اٹھتا ہے اور آنکھھ سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ تمام وہ چیزیں جنکو وہ اپنی زندگیوں میں بہت بامعنی تصور کرتے ہیں۔ وہ ہوا میں مٹی کی ماند ہوتے ہیں۔
سوال: زبور باب ۲ کی آیت ۱ ہم سے کہتی ہے کہ یہ ایک رنگ آمیزی نہیں ہے کہ قومیں طیش میں ہونگی، اور زمین کے حاکم ایسا مشورہ کریں گے؟
جواب: ایسے ایمان والے جنکو زمانوں سے انکے عقائد کی وجہ تکلیف دی جارہی اور قتل کیا جارہا ہے۔ وہ ایسا نہیں سوچ سکتے۔ کچھھ سیاسی حکمران[قدرتی] طور پر اس کی اپنے پرامن اور موسویٰ قانون کو ماننے والوںکو جنکو مسیحی کہاجاتا ہے کے ساتھھ بعض اور دشمنی کی وضاحت نہیں کی جاسکتی۔ کسی نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ جتنے مسیحی بیسویں صدی میں اپنی عقائد کی وجہ سے مارے گئے اتنےمسیحی پچھلی کسی بھی صدی میں قتل نہ کیے گئے یہاں مسیحیوں پر ایزاء رسائی کی ایک فہرست پیش کی جا رہی ہے۔ خداوند کی بزرگی کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ دینا خداوند کے کام دیکتھے تماشایئوں کی منشاء کے مطابق، ایمان والوں کو فلپوں باب ۲ آیت ۱۶
کی بجائے حالات کا لفظ (اچھے برے) استعمال کرناچاہیے تاکہ دوسرے لوگوں کے گوسپل پر بات چیت کی جاسکے۔
سوال: زبور باب۲ آیت ۱۔۲ میں لوگ بادشاہ اور حاکموں کا ذکر کیوں کیا گیا؟
جواب: نیہاں مختلف قسم کے چشموں کے جوڑے ہیں۔ جنکے ذریعے کوئی ایک تاریخ کو دیکھھ سکتا ہے۔ ان میں کچھھ وہ ہیں جو لوگ ہیں حکمران ہیں۔ سیاسی قومیں حقیقی اور
دوسری ایک زبان ہیں۔ سیاسی تاریخ کا حوالہ نہیں دے سکتیں۔
سوال: زبور باب ۲ آیت ۳ میں بندھن اور رسیوں پر کیا بحث ہے؟
جواب: ان کو اس لحاظ سے سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ خداوند کے سامنے یوم حساب کے دن ضابط اخلاق اور ذوق سلیم کی رسیاں ہیں۔ یا خداوبند کے سامنے جواب دہی کی رسیاں ہیں۔ اگر تم اسکے بارے میں سوچے گئے تو پہلا دوسرے کا مماثل سیٹ ہے۔ اسکا تیسرا متبادل ہو سکتا ہے کہ یہ ان برایئوں کی حد بندی کرتے ہیں جو خداوند انھیں کرنے کی اجازت دیتاہے۔
سوال: زبور باب ۲ آیت ۴ کے مطابق خداوند نے کب بادشاہوں پر طنز کیا یا ان لوگوں سے جا ایمان والے نہیں ہیں ان سے بیزاری دیکھائی؟
جواب: خداوند بنیادی طریقہ یہ ہوتا کہ وہ مملکتوں کا مضحکہ کرتا، بادشاہوں پر جو مملکت کو تباہ وبرباد کرتے ہیں۔ اور اسکے لیے خداوند انھیں خود الگ کر کے ہمیشہ کے لیے جہنم میں بھیج دے گا۔ جب خداوند کسی کامضحکہ اڑاتا ہے تو یہ ایسی چیز نہیں ہوتی کہ اسکو ہلکا تصور کیا جائے مکاشفہ باب۱۹ آیت ۱۱تا ۱۶، یوایل باب ۳ آیت ۱۱ تا ۱۶ اور قضاۃ باب ۱۴ کے مطابق یسوع واپس آیئں گے اور ان قوموں کے خلاف جنگ کریں گے جو انکی مخالفت کرتیں تھیں۔ حزقی ایل باب ۳۸ تا ۳۹ زکریا باب ۱۲ آیت ۷ تا ۱۱، باب ۱۴ آیت ۲۔۸،۱۲ اور یسعیاہ باب ۲۹ آیت ۶ کے مطابق ایک صدی بعد یروشلم کے باہر بہت بڑی جنگ ہو گی۔
سوال: زبور باب ۲ آیت ۷ میں ہے کہ آج تم میرے لیے ہو کیا یہ یسوع کی طرف اشارہ کرتی ،جبکے زمین پر آنے سے قبل یسوع خداوند کا بیٹا تھا؟ جواب: یسوع اس دینا کے شروع ہونے سے پہلے خداوند کا بیٹا تھا تاہم جب یسوع زمین پر پیدا ہہوا تو اس نے دنیا پر اعلان کیا کہ وہ خداوند کا بیٹا ہے۔ تجسمیت کے نظریے کے مطابق خداوند باب غیر جنسی طریقے سے یسوع کا باب ہے۔
سوال: زبور باب ۲ آیت ۷ ہم سے کہتی ہے کہ کیا یسوع جنت کے باپ اور جنت کی ماں کاروحانی بیٹا ہے جیسے کہ کچھھ مورمن کی یہ تعلیمات ہیں؟
نہیں ،یہ نہیں کہتی کی مسیح امین پر آنے سے پہلے قیام پزیر تھا، لیکن یسوع روحانی والدینذکر اس آیت میں نہیں ہے۔ اس سوال کے مفصل کا صفحہ نمبر ۶۲ ملاخط فرمایئں۔ جواب کے لیے
سوال: زبور باب ۲ آیت ۷ ہم سے کہتی ہے کہ کیا قدیم بادشاہوں کا دستور ہوتا تھا کہ وہ خود کو اپنے قومی دیوتا کا لے پالک بیٹا تصور کرتے
کا صفحہ نمبر ۴۸۹۔۴۹۰ ہم سے کہتا.
ہے؟
جواب: مصری فرعون ، بابئل کے بادشاہوں اور کجھ دوسرے حکمرانوں کے لحاظ سے اس کا جواب ہاں ہے۔
سوال: کیا زبور باب۲ آیت ۹ کے مطابق مسیح قوموں کو مار مار کر ٹکڑے کر دے گا؟
اور نازی وغیرہجواب: محدود پہمانے پر خداوند اشوریا، ہابل
تباہ و برباد کرنے کی اجازت دی لیکن یہ اس آیت کا مطلب نہیں ہے اسکے برعکس دنیا کے ختم ہونے سے پہلے زمین پر آئے گا۔ اور زمین کے ان بادشاہوں کے خلاف جنگ کرئے گا جو اسکے خلاف اکٹھے ہوتے ہیں۔ زبور باب۲ آیت ۴ کا مباحثہ ملا خط فرمایئں جو اس آیت کو بیان کرتی ہے۔
سوال: زبور باب ۲ آیت ۱۲ کے مطابق کیا یسوع بہت صابر ہے تو کیسے اسکا قہر ایک لمحے میں بھڑک سکتا ہے؟
جواب: زبور باب ۵۰ آیت ۳ خداوند کے قہر کے عمل کو بھڑکنا کہتی ہے۔ کیا جائے تو جنگل سالوں تک پر سکون رہ جب جنگل کو
سکتا ہے۔ جب ایک جنگل میں آگ لگنی شروع ہوتیہے پہلے پہل وہ آہستہ بھڑکتی ہے پھر تیزی سے درختوں کی چوٹیوں تک جاتی ہے اور پھر اتنی تیزی سے بھڑکتی ہے جتنی تیای سے ایک گھوڑا ڈوڑ سکتا ہے۔ یسوع صابر اور نرم دل ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا
( یسعیاہ باب ۶۳ آیت ۱ تا ۶؛مکاشفہ باب ۱۴ آیت ۱۹ تا ۲۰ باب ۱۹ آیت ۱۵۶)
خداوند کے غضب میں اور اسکے بھڑکنے میں یہ فرق ہے کہ خداوند کا غضب گناہ کہ وجہ سے ہوتا ہے اور خداوند بہت صبر و حوصلے سے لوگوں کو مطلع کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اسکے غضب سے کیسے بچا جائے۔
سوال: زبور ۲ آیت ۱۲ ان لوگوں پر کیسے برکت ہو سکتی ہے جو اسکی جائے پناہ میں جاتے ہیں جسکا غضب ایک لمحے میں بڑھ سکتا ہے؟
جواب: پولیس کا کسی قاتل کو گرفتار کرنے کا عمل مقتول کے ورثاکے لیے ایک زبردست برکت ہوتی ہے۔ اسی طرح خداوند کا غضب ان لوگوں کےلیے برکت ہوتی ہے جو شیطان اور دوسروں کے ہاتھوں دبائے جاے۔ بھڑکتی ہوئی آگ آگے کھڑے ہونے سے بہتر ہے۔ ہمیں زبور باب ۵۲ آیت ۲ میں مطلع کرتا ہے کہ اسکا قہر آرہا ہے۔
سوال: زبور باب ۳ ہم سے کہتی ہے کہ کیا داؤد یہاں صرف ایک چھوٹا سا خبت تھا؟
جواب: اگر حقیقت میں تمھیں ایسا لگتا ہے کہ لوگ تمھیں آپکڑیں گے تو یہ کوئی دماغی خلل یا خبط نہیں ہے۔ ساؤل داؤد ۱۰ سال تک پچھے پڑا رہا۔اسکے بعد جیسے ہی حالات بہتر ہے تو وہاں ایک اجتماعی جنگ شروع ہوگی۔ اب اس بات کا تصور کریں کہ ۱۰ سال تک بھاگتے رہنے کو سے کوئی دشمن باقی نی رہا۔ جب ایوب نے
شکست دی ،تب داؤد نے ساچا کہ یہ ہی وہ راستہ جسکے ذریعے وہ محل کی چھت تک جا سکتا ہے۔ درحقیقت داؤد اپنے اندر ایک اور مزید دشمن رکھتا تھا۔
ہماری زندگیوں میں بھی مشکلات اور آرام کا وقت آسکتا ہے، لیکن ہمیں پر جوش رہنا چاہیے کیونکہ شیطان ایک بھوکے شیر کی طرح ہمیں نگل جانے کے لیے ہمارے گرد گھومتا ہے اور ہمیں تلاش کرتا ہے( ۱ پطرس باب ۵ آیت۸) ہم اپنی خطا کار فطرت میں پہلے ہی ایک دشمن رکھتے ہیں۔ اس خداوند کی تعریف اور بزرگی جو ہمیں ہماری زندگیوں میں کامیابی دیتا ہے ( رومیوں باب ۷ آیت ۲۴ تا ۲۵)
سوال: زبور باب ۳ کی آیت نمبر ۴ تا ۵ کے مطابقتم ایسے شخص کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہو جو بہت معتبر اور سونے کے لیے لیٹ جاتا ہے؟
جواب: زبور اکثر اس بات پر زور دیتی ہے کہ خداوند ہماری ڈھال اور ہمارا مددگار ہے۔ فلپیوں باب ۴ آیت ۶ تا ۷ ہم سے کہتی ہے کہ کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ایک بات میں تمھاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلے سے شکر گزاری کے ساتھھ خدا کے سامنے پیش کی جایئں تو خداوند کا اطمینان جو سمجھھ سے بالکل باہر ہے تمھارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھیئگا۔
سوال: زبور باب ۳ آیت ۷؛ زبور باب ۵ آیت ۱۰ زبور باب ۵۵ آیت ۱۵ ؛ زبور باب۵۸ آیت ۶ تا ۸ ،۱۰؛ باب ۵۹ آیت ۵،۱۲ تا ۱۳ زبور باب ۶۸ آیت ۲۱ تا ۲۳ ؛زبور باب ۶۹ آیت ۱۵ ،۲۲ تا ۲۵ ،۲۷ تا ۲۸ ؛زبور باب ۷۹ آیت ۱۲ ؛ زبور باب ۸۳ آیت ۹ تا ۱۷ ؛ زبور باب ۱۰۹ آیت ۱،۷ تا ۱۵ ، زبور باب ۱۳۷ آیت ۸ تا ۹ ؛ باب ۱۴۱ آیت ۱۰کے ہم سے کہتی ہیں کہ کیا ہمیں خداوند سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمارے دشمنوں کو نقصان پہنچاتے؟
جواب: ان کو بد دعا کی زبور کہا جاتا ہے۔ یہاں تین نکات پیش کیے جارہے ہیںجس سے ہم مختلف نظریات سے بابئل میں ان کے مقام کو سمجھھ سکتے ہیں۔ خداوند ہمیں اچھی ہدایات کے ساتھھ مثالیں بھی دیتا ہے۔ زبور کی کتاب ہماری دعاؤں کرنے کی مثالیں پیش کرتا ہے یہ دیکھتی ہے کہ جب داؤد خوش مایوس، پیارا اور انتقام لینے خواہ ہوتا تھا تب وہ دعایئں کرتا تھا۔
زبور باب ۳۵ آیت ۵ تا ۸ ؛ باب ۴۲ آیت ۹۱۱ ؛باب۷ آیت ۸ ؛باب ۶۹ آیت ۲۲ تا۲۸ ؛ باب ۱۰۹ ؛ باب ۱۳۷ آیت ۹ کے کچھھ جزبات یہ ظاہرنہیں کرتیں کہ ہمیں اپنے دشمن کے ساتھھ پیار کرنا چاہیے جیسے کہ خداوند ہمیں نئے عہد نامے میں سکھاتا ہے۔ یہ زبوریں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارے دل میں جو ہوتا ہے ہمیں اسکے لیے دعا کرنی چاہیے۔ خداوند ہر دعا کے حق میں ہاں نہیں لیکن جب ہم کسی رویے کے ارادے کے تحت اپنا دل خداوند کے سامنے کھولتے ہیں تو وہ ہمارا دل بدل سکتا ہے
کے مطابق (c.397a.d)
۱۵۱۲۸۸میں یہ کہا جا تا ہے کہ ان کی نسبت ہمیں زیادہ بڑے ذریعے کی ضرورت ہے۔ مسیحیوں کواپنے دشمنوں سے ایسے ہی پیار کرنا چاہیے جیسے یسوع کو متی باب ۵ ۴۳۔۸ اور لوقا باب ۶ آیت ۲۷ تا ۳۵ میں سکھایا گیا ہے۔
انصاف کی درخواست؛
کا صفحہ نمبر ۱۵۰ اسکے 735
برعکس ایک مختلف نظریہ رکھتا ہے یہ کہتا ہے کہ تاہم یہ کچھھ مسیحیوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔ اس لیے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔ ان بے زرر ساتھیوں کے خلاف بری خواہشات کا اظہار کرنا بد دعا نہیں ہے جو حضرت داؤد کی مناحبات نویسی کی تزیل کرتے ہیں۔ یہ خطابات کائنات کے اقتداراعلیٰ کی عدالت میں انصاف کی درخواست ہیں۔ یہ عقائد اور پابندی کے اظہارات ہیں۔ اسکے برعکس کہ ذاتی انتقام لیا جائے زبور کو ماننے والے اس بدلے کو خداوند پر چھوڑتے ہیں۔ اور اس سے درخواست کرتے ہیں۔ کہ وہ انصاف کرئے۔ اس جواب سے کچھھ زبوراں کی جیسے کہ باب ۷ آیت ۶ کی تو سمجھھ آتی ہے لیکن دوسری زبور کی جیسے کہ زبور باب ۱۳۷ آیت ۹ کی سمجھھ نہیں۔
کا صفحہ نمبر ۲۴۲ بھی ایسا ہی کہتا ہے اور اس میں اس بات کا اضافہ کرتا ہے کہ اکثر پرانے عہد نامے میں غیر نادم خطا کار اور اسکے گناہ میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔
سوال: زبور باب ۴ آیت ۱، باب ۵ آیت ۱ ، باب ۶ آءیت ۱ ، باب ۸ آیت ۱ باب ۹ آیت، باب ۱۲ آیت ۱ وغیرہ کے مطابق، زبور سے پہلے تادار ساز اور بانسلیاں وغیرہ کیا چیزیں تھیں؟
جواب: یہ موسیقی آلات ہیں۔ کلیسیوں باب ۳ آیت ۱۶ کے مطابق نئے عہد نامے کی کلیسیاء زبور میں سے ایک دوسرے کے لیے گانے پر بہت فراحت سے حکم دیتی ہے۔ بد قسمتی سے ہم یہ نہیں جانتے کہ وہ موسیقی آلات کیسے دیکھتے تھے اور ان کی آوازیں کیسی تھیں۔ مکاشفہ باب ۵ آیت ۸ ؛ باب ۱۴ آیت ۱ تا ۲ اور باب ۱۵ آیت ۲ کے مطابق جب ہم جنت میں مل کر موسیقی کے آلات کے ساتھھ عبادت کریں گے تو ہم جان جایئں گے کہ وہ کیسے تھے۔ ایک طرف بہت سے مسیحی اراکین کی کلیسیاء کلیسیاء میں گانے کے سواء کسی اور اورجیسے کہ
لحاظ سے موسیقی کے آلات کے استعمال پر یقین نہیں رکھتے۔
سوال: زبور باب ۴ آیت ۱ ،باب ۵ آیت ۱، باب ۶ آیت ۱ ، باب ۸ آیت ۱ ، باب ۹ آیت ۱، باب ۱۲ آیت۱ ۔ وغیرہ کے مطابق بابئل سے علحیدہ ہوتے ہوئے ہمیں کب پتہ چلا موسیسی کے آلات کب استعمال تھے؟
جواب: وہ لوگ جو ایمان والے نہیں ہیں۔ اور جو بابئل پر تنقید کرتے ہیں، وہ ان حوالوں کو یعنی آلات کو یہ ثابت کرنے کےلیے استعمال کرتے ہیں۔ جیسے کہ موسیقی کے آکات اسکے زیادہ دیر بعد تک ایجاد نہیں ہوتے کا صفحہ نمبر۳۳can archaeology prove the old Testamentتھے تاہم
اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بربط، بانسری،سارنگی اور بانسری کی دوسری قسم [دوہرئے پائپ] والی جیسے آلات قدیم زمانے میں استعمال ہوتے تھے۔
کا صفحہ نمبرThe Wycliffe dictionary of biblical archaeolagy
۳۹۷۔۳۹۹بھی اس قسم کی بہت سی مثالیں پیش کرتا ہے۔
( c.2500b.c)ایک سونے کا ستار اور چاندی کی بانسری ارکے مقام پر
کے مقربے پر کی کئے مصوری میں بھی میں پائی گئی، اور
کے گرجا کے مقام پر ستار کی تصویر پائی گئی،
گھر میں بھی سارنگی کی تصویر پائی گئی۔ ار،کیش اور دوسرے شہروں میں قدیم مصری باجے ( ہاتھی کے جوفسے بنائے گئے ٹکڑوں کی جوڑی Wycliffe bible جیسے انگلیوں سے بجایا جاتا تھا) موجود تھی
کا صفحہ نمبر ۱۱۶۱ تا ۱۱۶۳ پر قدیم مصری سارنگی، dictionary
بانسری، غار پر موجود سارنگی کی رنگوں سے کی گئے مصوری، اور(c.1450b.c)دوہری بانسری[پائپ] اور ایک بین کی طرح کا آلہ
قدیم مصری باجے کی تصویریں موجود ہیں۔
The new international dictionary of the bible.
کے صفحہ نمبر ۶۷۸ پر بربط نوازی کے ماہر اور ستار بجانے والے اور دوبانسری بجانے والوں کی تصویریں موجود ہیں۔ اسی کے صفحہ نمبر ۶۷۹ پر ایسیدیوار کی تصویر ہے جس پر سارنگی،بین،دوہرے پائپ والی بانسری اور بربط کی تصویریں بنائی گیئں ہیں۔ یہ اس چیز کو بھی دیکھاتا میں ارکے مقام پر ایک ایسا بربط پایا جاتا تھا۔ جس پر 2500b.cہے کہ
ریش دار سانڈ کا سر جو سونے سے بنا ہوا تھا اور اسکے ساتھھ آواز کا لکڑی کا صندوق تھا۔
اسکے صفحہ نمبر ۶۸۳ پر ایک لمبوترے چھن چھن کرنے والے موسیقی (2000-1000b.c)tell asmarاور(c.1200-1000b.c)کے آنے کی
کے مقام پر ستار بجانے والے کی تصویر موجود ہے۔
سوال: زبور باب ۴ آیت کے مطابق بعضاوقات ایسا کیوں لگتا ہے کہ خداوند نہیں سن رہا؟
جواب: خداوند ہمیشہ نیک لوگوں کی دعایئں سنتا ہے لیکن بعض اوقات خداوند کا جواب نفی ہوتا ہے۔ دوسری طرف خداوند فورأ ہماری دعاؤں کا جواب نہیں دیتا جیسے کہ ہماری خواہش ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ خداوند ندکاروں کی دعا خداوند نہیں سن سکتا، لیکن بعض اوقاتزبور باب ۶۶ آیت ۱۸ کے مطابق لوگوں کے گناہ اتنے بڑھ جاتے ہیں۔ کہ خداوند ان کا انتخاب کر لیتا ہے کہ ان کی دعا نہ سنی جائے۔
سوال: زبور باب ۴ آیت ۱ اور زبور باب ۵ آیت ۱ کے مطابق ہم کیوں خداوند سے کہتے ہیں کہ وہ ہماری دعایئں سنے، حالانکہ پہلے سے ہی سب کچھھسن سکتا ہے؟ چلیں آیئں اس بات پر غور کرتے ہیں، اگر خداوند ہماری دعایئں نہیں سنتا، یہاں کوئی ایسا نقط نہیں ہے کہ ہم اس سےبات کوؤ جو تمھیں سن ہی نہیں سکتا۔
جواب: خداتعالیٰ کو ہماری دعاؤں کی طاقت کی ضرورت نہیں ہے اور وہ جو سب چیزوں کو جاننے والا ہے اسےحالات کے بارے میں مطلع کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ خداوند بہت اچھے اور پیارے ہیں اور انھیں اچھائی اور پیار کی طرف مائل کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسکے برعکس خداوند اس بات میں بھی آزاد ہے۔ جس میں اسکی رضا ہے وہ ویسا ہی کرئے، ہماری دعاؤں کو سننے کےلیے متخیب کرئے، ہماری حمدوثناء سے اسکی عظمت وبزرگی ہو، اور وہ ہماری دعاؤں کو جواب دینے کے وعدے کو اپنی خواہش تکمیل کے لیے استعمال کرئے۔ اب خداوند نے آدم اور حواکو اس زمین پر حکومت دی تھی۔ جب انھوں نے خطاء کی تب انھیں اس حکومت کا خصہ شیطان کو تاوان کے طور پر دینا پڑا۔ ( یوحنا باب ۱۲ آیت ۳۱، باب ۱۴ آیت ۳۰ ؛زبور ۱۶ آیت۱۱) کے مطابق شیطان اس دنیاکا شہزادہ ہے، ( ۲کرنتھیوں باب ۴ آیت ۴) کے مطابق وہ اس زمانے کا خدا ہے، ( افسیوں باب ۲ آیت۲) کے مطابق وہ ہوا کا حکمران ہے۔ (۱یوحنا باب ۵ آیت۱۹) کے مطابق ساری دنیا اس ایک کی برائی کے تحت سے ڈگمگارہی ہے۔ تاہم خداوند کا ہم سے وعدہ ہے کہ وہ ان تمام حکمومتوں کو ٹھکراتے ہوئے جو شیطان نے چھین لی ہیں۔ ہماری دعاؤں کا جواب دے گا۔
سوال: زبور باب ۴ آیت ۲ کے مطابق انسان کسطرح داؤد کی بزرگی کو ندامت میں بدل سکتے ہیں؟
جواب: یہاں داؤد کی بزرگی خداوند کی عظمت وبرتری ہے کوئی خداوند کا سچا کردار اور اسکی عظمت واپس نہیں لے سکتا۔ تا ہم اس زمین پر موجود ایمان والے اپنی زندگیوں اور اپنے اعمال سے خداوند کی عظمت وبزرگی کر سکتے ہیں۔ (یا خداوند کو عظمت وزبرگی نہیں دے سکتے) آخر وہ جو ایمان والے نہیں ہیں وہ داأد کے عقیدے اور اسکے خداوند پر یقین کے بارےمیں مزاق اڑا سکتے ہیں اور طنز کر سکتے ہیں۔
سوال: شبور باب ۴ آیت ۲ کے مطابق کوئی ایسا وہم کیوں تلاش کر سکتا ہے؟
جواب: بہت سے لوگ اس بارے میں چھان بین نہیں کرتے کہ وہ دھوکہ کیا ہے لوگ اپنی زندگیاں بہت سی احمقانہ وجوہات کے سبب گنوا دیتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی کو بھی یہ جاننے کی خواہش نہیں ہوتی ہے کہ جس دھوکے کی خاطر انھوں نے جان دی وہ ایک جھوٹ تھا۔ دوسری طرف بہت سے لوگوں کو جب اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ وہ ایک دھوکہ تو چاہیے وہ دھوکہ بوتل کی نچلی سطح پر ہو، کسی نشہ آور دوائی میں ہو، یا کسی سطحی یا معمولی تعلق میں ہو وہ خود اسکو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوال: شبور باب ۵ آیت ۵ تا ۶ کے مطابق، جیسے کہ خداوند خونخوار کے اور دغا باز آدمی سے کرہت کرتا ہے، تو خداوند نے
پر رحم کیوں کیا جس نے اپنا نام پاؤل میں تبدیل کرلیا تھا؟
جواب: خداوند کا غضب لوگوں کی طرف بہت شدید ہوتاہے جو اپنے گناہ پر نادم نہیں ہوتے۔ لیکن خداوند رحم اور ہمدردی سے بھر پور ہے۔ حزقی ایل باب ۱۸ آیت ۲۳ ،۳۲ ہم سے کہتی ہے کہ خداوند شریروں کی موت کا خواہش مند نہیں ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنی اس روش سے باز آیئں اور زندہ رہیں۔ حزقی ایل باب ۳۳ آیت ۱۲ تا ۲۰ کو بھی ملا خط فرمایئں۔
سوال: زبور باب ۵ آیت ۵ کے مطابق خداوند کیسے سب بدکاروں سے نفرت کر سکتا ہے؟
جواب: یہاں خداوند کے پیار اور نفرت کے حوالے سے سات چیزیں تصور کی جاسکتی ہیں۔
خداوند ان سب پر رحم کرتا ہے جن سبکو اس نے بنایا ہے۔
۱۳)خداوند پیار کرنے کے لیے ہے(۱ یوحناb( زبور باب ۱۴۵ آیت ۸،
۸) خداوند غضب بھی رکھتا ہے، جسکا وہ ہر روز اظہار کرتاbباب ۴ آیت
ہے( زبور باب ۷ آیت۱۱)
خداوند پیار اور نفرت دونوں کرسکتا ہے۔: پاؤل اور ہم سب اسکے سامنے جس نے ہمیں بچایا ہے غضب کے فرزند تھے، خداوند نا ماننے والوں ( یا ایمان والوں کے ) جب گناہ کرتے ہیں تو وہ ان سے نفرت کرتا ہے، اور البتہ اسی وقت وہ جانتا ہے کہ وہ شخص نادم ہو گا اور جنت میں جائے گا۔ خداوند کی نفرت کچھھ لوگوں کےلیے عارضی ہوسکتی ہے۔۔: خداوند نے
کےکو اسکی قسمت کے بارے میں با خبر کیا تھا کہ وہ
قریب قریب شمار کیا جائے گا۔ جب وہ اپنے کیے پر پچھتائے تو خداوند نے ان پر رحم کیا ۔
خداوند کی نفرت لچھھ لوگوں کےلیے مستقل بھی ہو سکتی ہے۔ : وہ لوگ جو خداوند کی مہربانی کو رد کرتے ہیں اور یسوع کی پیروی کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ تو خداوند ان کی آزمائش کرتا ہے، اور یا ان سے ہمیشہ کے لیے نفرت کرتا ہے یا شائد ان کی آزمائش کے بعد خداوند بس ان سے مختلف سلوک رکھنے کے لیے انھیں چن لیتا ہے۔
خداوند کا پیار، غضب اور دوسرے جزبات بہت مخلص ہوتے ہیں۔
کا صفحہ نمبرHard saying of the bible Thomas acguinas-263
calvin
اور دوسرے اصلاح کندوں کی اس غلطی کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بات ناگزیر ہے کہ خداوند کے پاس کوئی جذبات ہو۔ آج بھی بہت کلیساؤں میں ( a.d 220-200)Tertullianبہت سے اصلاح کندان ایسا سوچتے ہیں۔
میں یہ سلھایا کہ باپ کے پاس جذبات یا غضب نہیں ہے۔ لیکنبیٹے کے پاس ہیں۔ ناقابل گزیر کا یہ نظریہ اقلالحونی فلسفے سے لیا گیا ہے۔ تا ہم کتاب مقدس اس بات کو صاف صاف بتاتی ہے کہ خداوند کا ہمارے لیے پیار اوت غضب صرف کوئی عمل نہیں ہے خداوند اپنے بچوں میں خوش ہوتا ہے اور ان کے گناہوں سے نفرت کرتا ہے۔ خداوند کے پاس کوئی جذبات نہیں ہیں تو وہ ہم سے پیار کیسے کر سکتا ہے۔ جب واقعات رونما ہوتے ہیں۔ تو خداوند وقت پر اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ خداوند اپنے غیظ وغضب کو موخر بھی کر سکتا ہے لیکن اس سے قطع نظر خداوند اپنے جذبات کا اظہار وقت پر کرتا ہے۔ یہ لفظ اس بات کو ظاہر کرنے میں بہت اہم کہ خداوند وقت کے ساتھھ ساتھھ بھی ہے اور وقت سے باہر بھی ہے۔
735 baffling bible Question answered
کا صفحہ نمبر ۱۵۰ کہتا ہے کہ وہ جو خداوند پر یقین رکھتے ہیں وہ خداوند کے محبت کے دائرے کے ساتھھ بالکل ٹھیک با حفاظت کھڑے رہتے ہیں۔ وہ جو خداوند کا انکار کرتے ہیں اور بدی کرتے ہیں۔ اور آزمائش کی مملکت ہیں خداوند کے دائرے کے باہر کھڑے ہوتے ہیں۔ خداوند ایمان والے خطاکاروں سے پیار کرتا ہے( قبول کرتا ہے معاف کرتا ہے) خداوند ان لوگوں سے نفرت کرتا ہے جو ایمان نہیں رکھتے اور خطا کاری کرتے ہیں۔
(فیصلہ کن، رد کرنا، سزا کے حقدار ہونا) اور خداوند کی طرف رجوع نہیں کرتے، درحقیت سے اطالیہ کا لفظ ہے
۔
سواؒ؛ زبور باب ۵ آیت ۷ کے مطابق کیا ہمیں خوف کے تصور کے تحت عبادت کرنی چاہیے؟ یہ بات اچھے طریقے سے سمجھ لیں کہ ہمیں خوف رکھتے ہوئے خداوند کے سامنے آنا ہے۔ ہمیں خداوند کے سامنے آنا ہے جو عزت واحترام اور شکرگزاری کے تحت اپنے غضب کا اظہار کرتا ہے۔ کیونکہ وہ رحمدل، اور مہربانی ہے اور ہمارے لیےمحبت رکھتا ہے۔
سوال: زبور باب ۶ آیت ۱ کے مطابق عبرانی لفظ شمنیت کا کیا کیا مطلب ہے؟
Astimov's guid to جواب: اس عبرانی لفظ آٹھواں ہے اور جیسے کہ
کا صفحہ نمبر ۴۹۱ کہتے ہیں کہ یہ ایک آٹھھ The skeptical bible
تاروں والے موسیقی کے آلات کی طرف اشارہ کرتا ہے یا کسی مذہبی تقریب کے آٹھویں کو۔
سوال: زبور باب ۶ آیت ۵ اور زبور باب ۱۱۵ آیت ۱۷ کے مطابق کیا مردئے خداوند کو یاد نہیں کرتے؟
جواب: جیسے کہ زبور باب ۱۱۵ آیت ۱۷ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ مردئے خدا کی حمدوثناء بیان نہیں کرتے اس لیے ہمیں ابدی زندگی کی ضرورت ہے اور جیسے کہ زبور باب ۱۱۵ آیت ۱۲۸ میںداؤد نے کہا کہ ایمان والے ہمیشہ خداوند کی حمدوثناء بیان کرتے رہیے گے۔ اس سوال کے مزید مفصل جواب کے لیے
کا صفحہ نمبر ۱۵۹ تا ۱۶۱ اور1001 bible Questios answered
واعظ باب ۹ کی آیت ۵ تا ۶ پر مباحثہ ملاخط فرمایئں۔
سوال: زبور باب ۷ آیت ۳ تا ۵ کے مطابق جیستے کہ داؤد یہ دعا کرتا ہے کہ دشمن کو مارتے ہیں۔ اگر اس نے اپنے میل رکھبے والے سے بھلائی
کے بدلے برائی کی ہو تو یہ تب کیوں نہ رونما ہوا جب اس نے حتیٰ کے
کا قتل کیا؟
جواب: خداوند ایسا بھی کرسکتا تھا، لیکن خداوند نے داؤد کو سزا دی اور اسے موت نہ دی جسکا وقت حقدار تھا بلکہ خداوند نے یہ انتخاب کیا کہ وہ داؤد پر رحم کرئے۔
سوال: زبور باب ۷ آیت ۸ کے مطابق داؤد اپنی صداقت راست بازی کے تحت اپنی آزمائش کا خواہش مند تھا، جو اسکے کام کرنے کی صداقت کی مثال تھی؟
جواب: داؤد کی دعا کوئی معقول دعا نہیں ہے۔ زبور باب ۷ آیت ۸ ہمیں دیکھاتی ہے کہ ہم خداوند سے کسی بھی چیز کے لیے دعا کر سکتے ہیں۔ ، لیکن ہمیں داؤد کی زندگیاور یہ سمجھنے کے لیے کہ کیا موزوں ہے اور کیا غیر موزوں ہمیں زبور کی تمام کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس جواب کے لیے زبور باب ۳۵ آیت ۲۵ پر مباحثہ ملا خط فرمایئں۔
سوال: زبور باب ۷ آیت ۱۱ کے مطابق، جب خداوند روز اپنے غضب کا اظہار کرتا ہے تا کیا اس وقت وہ خوش ہوتا ہے؟
جواب: ہاں خداوند خوش ہے اور خداوند اپنے غضب کا اظہار بھی کرتا ہے۔ خداوند کے جذبات پر غورو فکر کرنے کے لیے تم چار باتوں کا تصور کع سکتے ہو۔
(۱) خداوند کچھھ انسانوں جیسے جذبات رکھتا ہے خداوند، خوش، ناراض،غمگین وغیرہ بھی ہو سکتا ہے۔ یسوع کے پاس زمین پر نارمل انسالی جذبات تھے اور کوئی بھی بات اس چیز کو ظاہر نہیں کرتی کہ یسوع کچھھ کھو رہا ہے، انسان یا دوسری طرف جب وہ جنت کیطرف چلا گیا۔
کہتے ہیں (۲) برعکس اس کے بہت چند( لیکن غالبأ بہت نہیں)
کہ جب بابئل ہمیںیہ سکھاتی ہے کہ خداوند پیار یا دوسرے جذبات کا اظہار کرتا ہے تب وہ تجسمیت کے نظریے کے مطابق نہیں ہوتا۔ دوسرے الفاظ میں جب خداوند کہتا ہے کہ وہ ہم سے پیار کرتا ہے تب یہ کوئی دعویٰ نہیں ہوتا اور انسان ایک پتھر کی طرح سرد اور جذبات سے عاری خداوند کا حوالہ دے سکتا ہے۔ برعکس اس کے بابئل اس بارے میں مخلص ہے اور کوئی ایسا دلیل جو یہ کہتی ہے کہ خداوند حقیقت میں کوئی پیار نرم دلی نہیں رکھتا یا خداپرستی ایک دو دھاری تلوار ہے جو غصے اور پیار دونوں کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ اسکے برعکس رومیوں باب ۸ آیت ۲۶ تا ۲۷ ہم سے کہتی ہےہماری روح ہمارے الفاظ کی گہرائی کے لیے ہمارے لئیے کراہنے کی کوشش کرتی ہے۔ خداوند کے پاس نہ صرف جذبات ہیں بلکہ اسکے جذبات ہمارے جذبات سے کہیں گہرے ہیں۔
(۳) جب ہم اپنے کاموں اور اپنی عبادت میں اس سے پیار کا اظہار کرتے ہیں تو خداوند ہم سے خوش ہوتا ہے اور ہم پر اپنی برکیتںنازل کرتا ہے۔ قیضاۃ باب ۳ آیت ۱۷ کے مطابق خداوند اپنے لوگوں میں ضرور رہیے گا اور وہ گاتے ہوئے تیرے لیے شادمانی کرئے گا۔
(۴) تاہم ہم اس بات کا تصور نہیں کر سکتے کہ خداوند اپنے اندر جذبات کی اقسام، جذبات کی گہرائی یا یک دم ایسے جذبات رکھتا ہے جو انسانی میعار کی تائید کرتے ہیں۔ خداوند کو اس کانئات میںیک دم ہر چیز سے نسبت دی جاسکتی ہے۔ خداوند وقت کے تمام سکینڈوں کے لیے ہر سکینڈ میں کڑوڑوں مختلف وجوہات کے سبب خوش رہ سکتا ہے اور ناراض بھی رہ سکتا ہے، یہ دونوں یک دم جذبات کا انحصار اسی پر ہے۔
سوال: زبور باب۸ آیت۱ کے مطابق خداوند کا نام کیسے زمین پر بزرگ ہو گا، جبکے اس سے پہلے تمام زمین خداوند کو نہ تب جانتی اور پہنچانتی تھی نہاب؟
جواب: خداوند کی مخلوق، زمین، پودے، جانور اور دوسری سب چیزیں اپنے اپنے طریقوں سے خداوند کی حمدوثناء بیان کرتی ہیں۔ رومیوں باب ۸ آیت ۱۹ تا ۲۲) کے مطابق مخلوقات کامل نہیں ہیں۔ بلکہ اس نے انھیں ظاہر ہونے کی راہ دیکھاتا ہے۔ پھر بھی اس بات کے قطع نظر کہ کوئی شخص اسے جانتا ہے یا نہیں، قدرت پھر بھی خدا کی طاقت اور کے اس کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
سوال: زبور باب ۸ آیت ۲ کے مطابق خداوند کیسے شیرخوار بچوں کے منہ سے قدرت کو قائم کرتا ہے؟
جواب: خداوند کم ازکم دو طریقوں سے شیر خوار بچوں کے منہ سے قدرت کو قائم کرتا ہے۔
(۱) کیا تم ۳ تا ۵ سال کے بچے کو قدرت کے گیت گاتے سنا ہے؟ تمھیں دراصل اس لخت جگر ناقابل تقسیم جوشوخروش کو دیکھنا چاہیے۔
(۲)( زبور باب ۱۳۹ آیت ۱۴) کت مطابق شیر خوار بچوں کو کوکنا اور چلانا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہمیں کتنا خوبصورت بنایا گیا ہے۔ جیسے ہی بچہ پہلی دفعہ مسکراتا اور دا۔دا،ما۔ماجیسے الفاظ کو کہنے کو منےخیب کرتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس قابل احترام بچے کے نہ صرف پیچیدہ ناقابک یقین منطقی پرگرام ہے، بلکہ وہ ایک ناقابل یقینیطور پر حیران کن شخص ہے جس کے پاس خواہشات، جذبات اور تجسات ہیں۔ کتنے تم کتنے ایسے کمپیوٹروں کے پرگراموں کو جانتے ہو جو رات کو آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کرتے ہیں جیسے کہ دوسال کا بچہ اس باب کا اعلان کرتا ہے کہ وہ کیا ہے۔
سوال: زبور باب ۸ آیت ۳ کے مطابق اس سے پہلے (جیسے کہ کہا جاتا کے پھٹنے کے سبب بنی تھی، تو کسطرح big-bangہے ) کہ ہر چیز
آدمان خداوند کی حمدوثناء بیان کر سکتے ہیں؟
جواب: کوئی بھی چیز کی اچانک حادثے کے سبب نہیں بن سکتی جیسے چیزوں کا رونما ہونا کسی بھی وجہ کے سبب نہیں ہوتا، یا جو بھی ہے یہ ہی پہلی وجہ ہے کہ خداوند کائنات کو تخلیق کیا۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ کائنات اچانک شرعو ہوئی تو اس سے کہیں کوئی وجوہات نہ بھی ہویا جو بھی ہو ان تمام چیزوں کی فہرست لے کر آیئں جو اس وقت رونما ہویئں تھیں جب ایک بے دینی سائنس دان کہتا ہے کہ جب ہم کسی ایٹم کے نیوکلیسممکن طور پر ٹوٹ پھوٹ کو تصور کرتے ہیں۔ جبکے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔ تب اس حالات میں ہم کسی بھی چیز کا مشائدہ نہیں کر سکتے جو کسی وجہ کے بغیر نہ بنی ہو یا جو بھی ہے۔
سوال: زبور باب ۸ آیت ۴ کے مطابق ، کمپیوٹر کو ترقی کے میدان میں پیشگی طور پر مضوعی ذہانت دی گئی ہے، کیا ہم اس بات کے قریب ترہیں کہ ہم ایسا کمپیوٹر بنا سکیں جو انسان کی طرح سوچ سکے؟
جواب: وہ پیچیدہ مضوعی ذہانتی نظام جو انسان تعمیر کیا وہ ان ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کے دماغوں بھی دام میں آیا جو درمیانی ذہانتی پیچیدگی کے مالک ہیں۔ چلیں صرف انسانی دماغوں کو ہی لیتے ہیں۔ اگرچہکہ تم عصابی نیٹ ورک یا کسی ماہر نظام کے بارے میں بھی بات کررہے ہو تو اسکا جواب منفی ہے۔ مذژید معلومات کے لیئے اگلے دو سوالات ملا خط فرمایئں۔
سوال: زبور باب ۸ آیت ۴ کے مطابق کیا ترقی یافتہ باقاعدہ ٹیکنالوجی ایسا کمپیوٹر بنا سکتی ہے۔ جو دونسلا اعصابی نیٹ ورک پر مشتمل ہو اور بالکل انسان کی طرح سوچ سکتا ہو؟
جواب: نہیں یہاں کوئی موازانہ نہیں پایا جاتا۔ انسانی دناغ تقریبأ سیلزپر مشتمل ہے(نیوران) اور اس میں ۱۰۱۵ جوڑے پائے جاتے ہیں۔ (ایکون)۔ دو منفرد طریقوں سے معلومات کی ترسیل کی جاتی ہے۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے ایک مطابقت سے ٹیرھے میڑھے طریقوں سے ایک پرگرام کی معلوت کو دوسرے پرگرام کے اجزاء میں تبدیل کرنے کے لیئے نمایاں مشکل دیتا ہے،اور دوسرا ظاہری اعدادی عمل میں خفیہ تحریریں لکھی جاتی ہیں۔ ہم دوسرے طریقے کی تفصیل کو نہیں سمجھھ سکتے پہلے طریقے کے تحیرات کو ہم عام طور عصبی نظام میں استعمال کرتے ہیں۔ اب جیسے کہ عصبی نظام کے بارے میں سکیھنے کی ضرورت ہے تو اس کا سادیہ سا جواب ہے
کہ یہ اس بات ہر منحصر ہے کہ تم سکھنے کے لیے کن تعریفات کا انتخاب کرتے ہو۔ تین سال تک عصبی نظام کے ساتھھ کام کرتے ہوئے، عصبی نظام بہت سے خمزادہ حیران کن تبدیلی صیلاحیتوں جیسے تقریبأ درست طریقے اور ایمیریکل ماڈلز رکھتا ہے۔ کچھھ کلوگوں کا خیال ہے کہ انسانی دماغ دو معلوماتی ترسیل کے نظام کو عصبی نطام کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے سوچ سکتا ہے۔ تاہم دماغ اور عصبی نظام کے درمیانی فرق ایک قسم کے ساتھھ ساتھھ حالات کے مطابق رنگ اختیار کر لیتا ہے عصبی سلسلوں کے مجحوعے، جنسیاتی طریقے، ایک قسم کے ممالیہ سے وجدانی وجوہات، احساساتخواہشات اور شعوری اگاہی کے لحاظ سے فریبی باب کھا چکے ہیں۔
سوال: زبور باب ۸ آیت ۴ کے مطابق کیا کمپیوٹر کے ماہرانہ نظام کو ترقی یافتہ بناتے ہوئے اس میں ایسے سافٹ ویئر پرگرام بناتے جا سکتے ہیں۔ جو انسانوں کی طرح ہی وجوہات اخذ کرتے؟
جواب: نہیں یہاں مختتلف قسم کے ماہرانہ نظام کے طریقے پائے جاتے ہیں۔ جیسے کہ آگے کی کڑیاں پیچھے کی کڑیاں پہلے گہرائی، پہلے چوڑائی اور بہت کچھ۔ تاہم ہم کسی بھی ماہرانہ نظام کے لحاظ سے کسی بھی چیز کے سکیھنے کی صیلا
حیتوں سے بہت آگے ہیں۔جیسے کہ ہمیں یہ اختیار ہے کہ کس ماہرانہ نظام کو متخیب کیا جائے درحیقت کی قسم استعمال کرنے کے لیےکو منےخب کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ درحیقت ہم لامحدود طور ہر سابقہ خواہشات کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں۔ ہمارے دماغ میں اور ایک نظریاتی بھاری بھر کم،حالات کے مطابق اپنے آپ ڈھال لینے والے ماہرانہ نظام کے جسم اندر ایک قسم کا اور ایک درجے کا فرق ہے۔ ایک ماہر نظام وجدان جیسے کام تو کرسکتا ہے لیکن موسیقی کو اسطرح بنانا سمجھ کر جو دل کو چھو جانے والی beatکہ دوسرے اس ایک اچھی
اچھی دھن سجمھ کر اسکی تعریف کریں، اور بامعنی شاعری کے الفاظ سے کھیلنا جیسے کام نہیں کرسکتا۔
سوال: زبور باب ۸ آیت ۴ کے مطابق کیا سافٹ ویئر کے پروگراموں میں جیسا سافٹ ویئر کا پرگرام کمپیوٹرکوEliza اتنی ترقی ہو سکتی ہے کہ
اسطرح بنا سکتا ہے کہ وہ انسان کی طرح وجوہات پیش کرسکتے؟
ایک بہت تیز کمپیوٹر پرگرام تھا جو بہت سال پہلے لکھا گیاElizaجواب:
تھا، اور وہ کسی بھی سننے کا مذاق اڑا سکتا تھا اور اسکی نقل اتار سکتا تھا۔ میں یہ سنا تھا کہ ایک متعمد اس سے کھیلتا تھا اور وہ غلطی سے اس ایک اصلی آکی طرح سوچ سکتا ہےElizaبات پر یقین کر بیٹھا تھا کہ
جملوں میں سے اسم اور فعل کو پکڑتے ہوئے جو بعد میں گونجتےEliza
ہیں سوالات کرتا ہے۔
سوال: زبور ۹ آیت ۵ خداوند مشرکوں پر ملامت کرتا ہےوہ کافروں پر کتنا شدید ہے کیونکہ بہت سے کافر یہ نہیں جانتے؟
جواب: سزیروں کو ملامت کرنا اس کا ترجمہ قوموں کو جھڑکنا کی طرح بھی ہوسکتا ہے اس آیت کے ترجمے سے قطع نظر یہ آیت کہتی ہے کہ خداوند پہلے ہی ان لوگوں جو ایمان نہیں لاتے ان پر ملامت کرتا ہے، لیکن خداوند نے بہت سی قوموں کو تباوبرباد بھی کیا ہے۔
سوال: زبور باب ۹ آیت ۱۶ ؛باب ۳۲ آیت ۴ ،۵ ،۷ ؛ باب ۴۵ آیت ۱۱ ؛ باب ۴۷ آیت ۴ ،باب ۴۸ آیت ۸ ؛باب ۴۹ آیت ۱۳ ، ۱۵ باب ۵۰ آیت ۶؛ باب ۵۲ آیت ۳ ، ۵ باب ۵۴ آیت ۳ ؛ باب ۵۵ آیت ۷ ؛ باب ۵۵ اایت ۱۹ ؛ باب ۵۷ آیت ۶ ؛ باب ۶۰ آیت ۴ ؛ باب ۶۱ آیت ۴ باب ۶۲ آیت ۴ ؛۶۶ آیت ۴ ،۷ ،۲۵ ؛ باب ۶۸ آیت ۷ ؛ باب ۷۵آیت ۳ ؛ باب ۷۶ آیت ۳ ،۹ ؛ باب ۷۷ آیت ۳ ،۹ ؛ باب ۸۴ آیت ۴ ؛ باب ۸۵ آیت ۲ ؛ باب ۷۶ آیت ۳ ،۶ باب ۸۸ آیت ۷ ،۱۰ ؛ باب ۸۹ آیت ۴ ؛ باب ۸۹ آیت ۳۷ ، ۴۵ ؛ باب ۱۴۳ آیت ۶؛ کا کیا مطلب ہے؟ باب ۱۴۰ آیت ۳ ،۸ کے مطابق لفظ
جواب: ان آیات سے باہر اگر ہم اس لفظ کو دیکھیں تو یہ کوئی مقابلہ بازی نہیں کرتا اسلیئے ہم اسکے بارے میں اتنے پر یقین نہیں ہی۔ تاہم نفس مضمون کی بنیاد ہپر اس لفظ کا مطلب یہ ہو سکتا ہے امین یا ایسا بھی ہو کازیریں حاشیہ کے مطابق سکتا ہے زبور باب ۳ آیت میں
ہو سکتا ہے۔ شک پر مبنیمطلب وقفہ لفظ عروج یا موسیقی کا صفحہ نمبر ۴۹۰ تا ۴۹۱ کے مشاہدے Asimov's Guide to the bible
کا لفظ زبور میں ۷۱ دفعہڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا کے مطابق
ہے۔
سوال: زبور باب ۹ آیت ۱۹ کے مطابق کیا ہمیں خداوند کے انصاف کے لیے دعا کرنی چاہیے اگر کوئی ایسا نہیں کرئے گا تو تب بھی کیا انصاف ہو گا؟
جواب: خداوند کا انصاف اٹل ہے اور اسکا ہونا یقینی ہے ۔ یہاں داؤد خداوند سے انصاف کے بھی ہونے کے لیے دعا کررہا تھا، تاکہ وہ کافروں کو دیکھا سکے کہ یہاں صرف ایک سچا خدا تھا اسرایئل کاخداوند۔
سوال: زبور باب ۱۰ آیت ۱ کے مطابق اور دوسرےپیراگرافوں کے مطابق ایسا کیوں لگتا ہے کہ خداوند کہیں دور کھڑا ہے اور کچھ نہیں کرسکتا؟
جواب: دوسری بات کے لیے تصور کریں کہ ہر گناہ کے سرزد ہونے کے ایک لمحے کے بعد خداوند ایک ہلکہ سی سزا دیتا ہے۔ مذید برآں سزا ہمیشہ کافی حد تک خوشگوار، اٹل ہوتی ہے اور یقینی طور پر خداوند کی طرف سے آتی ہے۔ یہاں اسکے کچھ نتائج پیش کیئے جارہے ہیں۔ ۱۔ خطاء کے لیے آزادی کو نظر انداز کرنا۔ ان حالات کے دوران خطاء کار کو آزمانا نہایت مشکل ہوتا ہے۔
۲۔ آزادی سے کم پیار کرنا اور خداوند کی تابعداری کرنا، وہفوری نتائج سے عاری ہوتا ہے۔ خداوند نے لوگوں کو تخلیق کیا ہے جو گرتے ہیں۔ اور وہ خداوند کی تابعداری قبول کرنے میں آزاد ہیں۔
۳۔ ایمان کے لیے تھوڑی نہیں ہوتا کہ خداوند ہاں ہے لیکن ان پر یقینی طور پر علم ہوتا ہے کہ خداوند وہاں ہے۔
سوال: زبور باب ۱۰ آیت ۳ کے مطابق کیا یہ لفظ برکت یا لغت ہونا چاہیے؟
جواب: یہاں یہ لفظ الوداعی برکات کے لحاظ سے برکت بھی ہوسکتا ہے۔ انگلش میں ہم گڈ۔بائے کہتے ہیں جو کہ خداوند تمھارے ساتھھ ہوبرعکس ہے۔ دونوں میں بھی یہاں اور ایوب باب ۱ آیت ۱۱ میں یہلفظ طنزیہ معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ پس زبور باب ۱۰ آیت ۳ کا ترجمہ ایسے بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ کہا جاتا ہے اچھے چلو اور خداوند کو ترک کرتے ہیں۔
سوال: زبور باب ۱۱ آیت ۳ کے مطابق اس آیت میں کیا بنیاد بیان کی گئی ہے؟
جواب: اچھے سے اچھا گھر بھی ملبے کے ڈھیئر میں گر جاتا ہے اگر اسکی بنیاد تباہ وبرباد ہو جائے۔ یہاں دو چیزیں بنیاد بناتے ہیں۔ جب بھی اچھے یا برے پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ جب لوگ ان چیزوں پر یقین کرتے ہیں جو ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب وہ تباہ وبرباد ہو جاتتی ہے تو وہ آنے وال؛ے مستقبل میں خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ جب وہ چیویں جو لوگوں کو خوشی دیتے ہیں۔ جب وہ تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ تو وہ اس وجہ سے مستقبل کے بارے میں بہت مایوس ہوتے ہیں۔
اچھی چیزیں: جب اچھے ادارے نیک اسومات اور لوگ تباہ وبرباد ہو جاتے ہیں۔ یا شریر لوگوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ تو ایمان والوں کے لیے یہایک بہت بڑا چلینج ہوتا ہے کہ وہ ان کے سامنے ایک سخت چٹان کی طرح کھڑے رہیں۔ اگر وہ چیزیں ہمارے ایمان کی بنیاد ہو تو ہم ایسا نہیں کر سکتے ہم صرف تب ایسا کرسکتے ہیں۔ جب خداوند خود ہمارے بنیاد ہو۔
سوال: زبور ۱۲ کو بابئل میں مایوسی کی بابئل کیوں کہتے ہں؟
جواب: یہ ان احساسات کو دیکھاتی ہے جن کا لوگ بابئل میں تجربہ کرتے ہیں۔ نفرت ،حسد ،طیش میں قتل کرنا، شہوت جنون خبط، کو اچھے طریقے سے بیان کرتی ہے اور دیکھاتی ہے دوسری چیزوں کے درمیان بابئل زندگی کے بارے میں ایک کتاب ہے، اچھی اور بری، اگر بابئل کو دوسروں کی ناکامی یا کامیابی کے لحاظ سے پڑھا جائے تو یہ مطالعہ کرنے والے سے فائدہ مند ہے۔
سوال: زبور باب ۱۳ آیت ۱ تا ۲ کے مطابق بعض اوقات ایسا کیوں لگتا ہے کہ خداوند ہم سے دور ہے اور ہمیں سن نہیں رہا؟
جواب: بعض اوقات ہم ہی وہ ہوتے ہیں جو اپنے گناہوںکے سبب خداوند سے دور ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا اور اسے زبور میں ایسے بیان نہیں کیا گیا ہے۔ بعض اوقات یہ ہماری بعض اوقات خداوند ہمیں ہاں یا نہیں۔ کچھھ نہیں کہتا لیکن صرف انتظار کرنے کا کیتا ہے۔ زبور باب ۱۳ آیت ۳ تا ۴ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ بعض اوقات خداوند ہماری زندگیوں میں کچھ چیزیں ہمارے لیے نہیں بلکہ وہ اپنی توصیف اور گواہی کے لیے کرتا ہے کہ دوسرے خداوند کی طرف آیئں۔
سوال: زبور باب ۱۴ آیت ۱ کے مطابق بابئل میں بہت سے احمق تنقید دان کیوں ہیں؟
جواب: یہایک عقلی ستی نہیں بلکہ اخلاقی حماقت ہے۔ یہ جھوٹی جہالت اور وہ جہالت ہے جو بے گناہ نہیں۔یہاںاحمق کے لیے چار عبرانیلفظ ہیں۔ اور ایک آرام طلب شخص کے لیے ہے۔
سوال: زبور باب ۱۴ آیت ۱ کے مطابق کوئی بھی نیکوکار نہیں تو نوح،ابراہام اور موسیٰ کے بارےمیں کیا خیال ہے، جبکے داؤد کا ذکر نہیں کیا گیا؟
جواب: تمھارے لیے اچھے ہونے کا مطلب اتنا کم کیو رہا ہے خداوند کے معیار کے مطابق جو شخص بھی زمین ہر چلتا رہا ہے ان میں سے کوئی بھی مکمل طور پر اطھا نہیں ہے ساوئے یسوع مسیح کے یسوع مسیح سے قطع نظر اگر جنت صرف ان لوگوں کے لیے ہوتی جو اچھائی کے درجہ تک پہنچ پر ابدی زندگی حاصل کرلیتے تو جنت خالی ہوگی ۔
جب سب کے لیے سب کچھھ ختم ہو جائے گا تو تب یسوع مسیح امین پر آیئں گے اور ہمارے لیے راستہ بناتے گئے۔ ہم جنت میں اچھے اور معصوم ہو سکتے ہیں۔ اور سڑک پر زمین پر اچھاہونے کے لیے ہو سکتے ہیں اگر کوئی آج تمھاری زندگی پر نظر ڈالے کچھھ عرصہ پہلے آیات وہ کون سی سڑک ہے جو وہ سوچتے ہی جس پر تم سفر کررہے ہو۔ سوال: کیا زبور باب ۱۵ صرف نیک لوگوں کا حوالہ پیش کرتی ہےیا ان نیک لوگوں کا جو گناہ گار بھیہوتے ہیں؟
جواب: یہ ان لوگوں کو حوالہ پیش کرتی ہے جو خطاء کار بھی ہوتے ہیں لیکن خداوند انھیں نیکو کار کرکے پکارتا ہے، اور وہ ایسا بنانے کے عمل میں رہیں کہ وہ معصوم ہیں۔ تاہم تب تک مکمل گناہوں سے پاک نہیں بن سکتے جب تک ہم جنت میں پہنچ جایئں۔
سوال: زبور باب ۱۵ آیت ۴ کے مطابق آج ہمیں رذیل آدمی کو حقیر سمجھنا چاہیے؟
جواب: نہیں آج ہم پرانے عہد نامے کی نسبت زیادہ بلندمعیار رکھتے ہیں۔ جیسے کہ قضاۃ باب ۲۲ تا ۲۳ ہمیں دیکھاتی ہے کہ آج بھی گناہ کو پیار اور بے حد اصرار کے ساتھھ ملاتے ہوئے حقیر سمجھنا چاہیے۔
سوال: زبور باب ۱۶ آیت ۸ تا ۱۰ کے مطابق یہاں وہ مقدس انسان کون ہے؟
جواب: زبور داؤد کے پہلوؤں سے شروع ہوتی ہے جو اپنی حفاظت کے لیے خداوند کی طرف دیکھتا ہے، تب یہ زبور آہستہ آہستہ حرکت کرتے ہوئے داأد کے بارے میں بات نہیں کرتی بلکہ خداوند نے ایک متبرک بندے کے بارے میں بات کرتی ہے جو کہ مسیح ہے۔ یہ اعمال باب ۲ آیت ۲۵ تا ۲۸ میں پطرس کے مطابق اور اعمال باب ۱۳ آیت ۳۵ میں پاؤل کے مطابق یسوع ہی ہے۔
سوال: زبور باب ۱۷ آیت ۱ کے مطابق جوڑنا ریا کار لبوں سے کیا مراد ہے؟
جواب: یہ ریا کار لبوں سے نکلی ہوئی دعا تھی جو ایساشخص کہہ رہا ہے جو متقی تھا لیکن اسے خداوند کی تابعداری قبول کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں تھی۔
سوال: زبورباب ۱۸ آیت ۹ کے مطابق تاریکیاں تاریک بادل کیسے خداوند کے پاؤں کے نیچے ہوسکتے ہیں؟
جواب: یہ رنگا رنگ شاعری کا اظہار بھری اور اخلاقی معنوں دونوں لحاظ سے سچ ہے۔
بصارت کے لحاظسے: بھری لحاظ سے یہ بہت روشن لگتی ہے جیسے کے مطابق ایسی جگمگاہٹ تھی جیسی اس (niv)حزقی ایل باب ۱ آیت ۲۸
کمان کی صورت ہے جو بارش کے دن بادلوں میں دکھائی دیتی ہے۔
اخلاقی معنوں کے لحاظ سے: اخلاقی معنوں کے لحاظ سے خداوند خالص ہے اور اندھیرے اسکے پاؤں کے نیچے ہیں۔
سوال: زبور باب ۱۹ کے مطابق قدرت ہمیں خداوند کے بارے میں کیا بناتی ہے؟
جواب: وہ لوگ جو مشاہدہ اور جستجو کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ دیکھاتی ہے کہ یہاں کوئی تخلیق کارہے، اور یہ بہت زیادہ خوبصورتی طاقت اور دانائی دیکھاتی ہے۔ یہ ہمیں دیکھاتی ہے کہ ییہ کائنات بہت بڑی ہے اور ہم چھوٹے ہیں۔ اور اس زمین پر ہم کتنے کم دن ہیں۔ یہ لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہے تاکہ لوگ جستجو کریں کہ یہاں کوئی چیز ہے جو ابدی ہے، کیا یہاں ہمارے وجود کے قیام کوئی مقصد ہو سکتا ہے۔ اگر ہم مناسب طریقے سے تصور کریں تو قدرتی کائنات ہمیں خداوند کو سمجھنے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ غیر مناسب طریقے سے سمجھتے ہوئے بہت سے لوگ قدرت کے عجوبوں کو دیکھتے ہیں۔ اور اسے پوجنا شروع کر Baffling bible دیتے ہیں۔ اسکے مکمل جواب کے لیے ۷۳۵
Question Answered.
کا صفحہ نمبر ۱۵۱ تا ۱۵۲ ملا خط فرمایئں۔
سوال: زبور باب ۱۹ آیت ۱ کے مطابق کیا انجیل کو ستاروں میں دیکھا جا سکتا ہے؟
جواب: یہ آیت مخصوص طور پر یہ نہیں کہتی یہ صرف کہتی ہے کہ آسمان خداوند کے جلال کو ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے کہ رومیوں٘ باب ۱ آیت ۱۹ تا ۲۰ ہم سے کہتی ہے کہ عام طور پر تخلیق کرنے والے کچھ خصوصیات دیکھاتی ہے۔ کچھ مسیحی انجیل کی کہانی کو ستاروں کے جھرمٹ میں کہانی کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ ( میزان کو خداوند کا کواژدھا سانپ کہا جاتا ہے وغیرہ)۔ تاہم انجیل کو انصاف اور
ستاروں کے مخصوص جھرمٹ میں تلاش کرنا بابئل سے باہر کی بات ہے۔
سوال: زبور باب ۲۰ آیت ۴ کے مطابق خداوند کب تمھارے دل کی آرزو برلائے گا؟
جواب: جب میں بڑھ رہا تھا،تب میں نے اس آیت کا مطلب یہ لیا تھا کہ خداوند ان کی خواہشات پوری کرتا جو اسکی تابعداری کرتے ہیں۔ اسکے بعد مجھے اسکی بجائے اس بات پر یقین ہوا کہ اسکا مطلب یہ ہے کہ خداوند تمھیں احساسات مقاصد اور دوسری خواہشات جو وہ چاہتا ہے کہ تم میں ہو وہ دیتا ہے۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ دونوں باتیں سچ ہیں۔ خداوند اپنے بچوں کو مناسب خواہشات دیتا ہے اور وہ انکی تکمیل بھی کرتا ہے۔ تاہم ہماری خداوند کو روبرو دیکھنے کی خواہش صرف تب پوری ہوگی جب ہم جنت میں جایئں گے۔
سوال: زبور باب ۲۱ آیت ۱۰کے مطابق خداوند کیوں زمین سے بدوں کی نسل کو نست ونابود کردے گا؟
جواب: (اعمال باب ۱۷ آیت ۳۰ ططس باب ۲ آیت ۱۱ ۱تیمتھس باب ۲ آیت ۵ تا ۶ ؛ باب ۴ آیت ۱۰ ؛۱یوحنا باب ۲ آیت ۲) کے مطابق اس بات سے قطع نظر کہ کسی کے والدین کیا تھے سب کو نجات دی جائے گی۔ یقینی طور پر ہر آدمی اور عورت چاہے وہ خداوند کا بیٹا(رومیوں باب ۸ آیت ۱۴، گلیتوں باب ۳ آیت ۲۶) جو خداوند کے بچوں کے طور پر دوبارہ پیدا ہونگے( یوحنا ۳ آیت ۳ تا ۸ ؛۱ یوحنا باب ۳ آیت ۱، ۱۰ رومیوں باب ۸ آیت ۱۶ تا ۱۷) یا چاہیے شیطان کے بچے ہوں ( یوحنا باب ۸ آیت ۴۴ ؛ ۱ یوحنا باب ۳ آیت ۱۰)
سوال: ایسی کون سی بات اس چیز کو ظاہر کرتی ہے کہ زبور باب ۲۲ حضرت مسیحی کے صلیب پر چڑھنے کے بارے میں بات کرتی ہے؟
جواب: یہ داؤد کے بارے میں حوالہ پیش کرتی ، کسی نے بھی داؤد کے ہاتھھ اور پاؤں میں سواراخ نہیں کیے تھے۔ اسکا شیر کی طرح کا مطلب بھی ہوسکتا ہے، لیکن پھر بھی داؤد کے ہاتھھ اور پاؤں شیر کے پنجوں کی نہیں تھے) داؤد کے ہپاس ایسی کوئی پوشاک نہیں تھے جس کے ٹکڑے ہوئے ہو داؤد مایوس نہیں تھا کیونکہ ایسا لگتا تھا کہ خداوند اسے نجات نہیں دے گا(باب ۲۲ آیت ۶ تا ۸) تا ہم یہ زبور ان چیزوں کے بارے میں نہیں ہے جنکا داؤد نے ذاتی طور پر تجربہ کیا ہے تو پھر یہ کس لکا حواکلہ پیش کرسکتی ہے۔ یہ اسکا حوالہ دیتی ہے جو اپنے ماں کے پیٹ سے ہی اسکی تابعداری کرتا ہے(آیت۹) جو اس بات پر مایوس ہے کہ خداوند نے اسے کیوں ترک کردیا (آیت ۶تا ۸) اور وہ کہتا ہے میرے خدا میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا (آیت نمبر۱) یہ کہتی ہے کہ جس کے ہاتھ اور پاؤں میں سوراخ ہیں (آیت۱۶) جسے موت کی خاک میں ملا دیا گیا۔ یہ یسعیاہ ۵۳ کے طرح کسی خادم کی تکلیف کو بیان کرتی ہے اور یہ مسیح کا حوالہ پیش کرتی ہے۔
سوال: زبور باب ۲۲ آیت ۱۶ کے مطابق کیا عبرانی زبان میں اسکا ترجمہ ہاتھھ اور پاؤں میں سوراخ تھے کی طرح ہونا چاہیے تھا یا شیر کے جیسے کی طرح؟
جواب: مفکر اس بات پر متفق نہیں ہیں۔ عبرانی زبان میں اسکا لغوی مطلب شیر کی طرح ہے اور اس لفظ کو عام طور پر اسطرح استعمال نہیں کیا گیا۔ شائد اسکا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یسوع کے ہاتھھ مڑتے ہو نگے اور ناخن نکالنے کے بعد وہ مڑ گئے ہونگے اور وہ ان ناخنوںپر گھنٹوں تک کھڑے رہے ہونگےایسا ہو سکتا ہے کہ صرف شاعری کے سادہ اندازمیں بیان کرنے کے لیے یہاں سوراخ کا الفاظ استعمال کیا ہو۔ قدیم
Asimovs Guide to the bible
کا صفحہ نمبر ۸۹۵ بڑے حیران کنی سے کہتی ہے کہ اگر مسیحیوں نے اس میں سوراخ کا اضافہ پیش کیا ہے اور اسے یسوع سے منسوب کرتے کا قیاس غلط ہے کیونکہ یونانی توریت جو ترجمہ یسوع کے آنے سے بہت ڈیوں پہلے کیا گیا وہ اسے سوراخ کہتاہے۔ یہ ہیں۔ تاہم یہاںمعاملہ ابدائی طوماروں میں پائی گئی جیسے کہ
سے پہلے لکھی گئی یہ کہتیa.d50 جو (5/6 hevps) Nahal Hever
کہ انھوں نے میرے ہاتھوں اور پاؤں میں سوراخ کردیئے۔ اسکی مزید Abegg martin tr, peter flint Eugene ulrichمعلومات کے لیے
کا صفحہ نمبر ۵۱۹ ملا خط فرمایئں۔ The dea sea اورscrolls bible.
سوال: زبور باب ۲۳ آیت ۴ کے مطابقو کیسے خداوند کی لاٹھی اور عصا کسی کو تسلی دے سکتا ہے؟
جواب: ایک چرواہائے کا عصا یاس چروائے کا اٹکڑا ایک بھیڑ کو خطرے سے یا کسء بد نما مقام سے باہر نکال سکتا ہے۔ بجیڑیو
ں کو دور رکھنے کے لیے ایک عصا یا لاٹھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔ اسطرح ہم بھی خداوند کی طاقت سے مطمین ہو سکتے ہیں کہ وہ اس قابل ہے کہ وہ ہمیں رہا کر سکے اور ہماری حفاظت کر سکے۔
سوال: زبور باب ۲۴ آیت ۱ کے مطابق کیسے ہر چیز خداوند سے تعلق رکھ سکتی ہے، جبکے اس سے پہلے ایوان عدالت کے علاقائی حصے اس بات کا خیال کرتے ہوئے کہتی ہے کہ میرا بھر مجھ سے تعلق رکھتا ہے؟
جواب: وہ کو ہے جو علاقائی حصوں کی ایوان عدالت کوزمین کا مالک بناتا ہت اور وہ لوگ کون ہیں جو اسکے اندر جاتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ ہم چیزوں کے مالک ہیں، لیکن خداوند نے مخلوق کو ہر چیز کا مالک بنایا ہے۔
سوال: زبور باب ۲۴ آیت ۲ کے مطابق کیا زمین کی بنیاد سمندروں پر رکھی گئی یا جیسے کہ ایوب باب ۲۶ آیت ۷ ہم سے کہتی ہے کہ زمین خلا میں لٹکی ہوئی ہے؟
(جیسے کہ انگلشeresجواب: یہ دونوں باتیں درست ہیں عبرانی زبانزمین
میں ہے ) میں سمجھتے ہوئے اسکا مطلب مٹی، زمین یا یہ سیارہ ہو سکتا ہے۔ پیدائش باب ۱۹ اور جدید سائنسی شواہد کے مطابق خشکی سمندر سے پہلے آتی ہے۔ زمین سمندر کے اوپر ہے، تاہم سمندر اس کے اوپر نہیں بہہ سکتے۔ زمین کا دائرہ خلاء میں کسی بھی چیز پر لٹکا ہوا When crtics askنہیںض ہے۔ اسکے مکمل جواب کے لیے
کا صفحہ نمبر ۲۳۶ ملا خط فرمایئں۔
سوال: زبور باب ۲۵،زبور ۳۴ ،زشبور ۱۱۹ کے مطابق حروف تہجی کو صنعت و خو شیع کے ساتھھ کیوں استعمال کیا گیا ہے؟
جواب: الفاظ کا صنعتکے لحاظ سے خوبصورتی اور احتیاط سے استعمال کرنا آسانی سے کسی چیز کو اس حالت میں اور بہت سے نئے مشاہدات کو خوبصورتی اور جلدی سے یاد کرنے میں مدد دیتی ہے۔ پچھلے جملے کو ۵ دفعہ دہرایئں، ایک ہی لفظ (۱۷) کو کتاب میں سے ایک دم ۵ دفعہ دہرایئں اور آدھے گھنٹے کے بعد دیکھے کہ کس کو آپ اچھے طریقے سے یاد کرپائے ہیں۔ زبور باب ۱۱۹ کو بھی صنعت و توشیح کے لحاظ سے لکھا گیا ہے جیسے کہ زبور باب ۱ ۲،اور ۴ میں توریت کی تباہی کے حوالے سے نوحہ سازی پیش کی گئی ہے۔
جیسے کہ آستر( باب ۱ آیت ۲۰،باب ۵ آیت ۴، باب ۵ آیت ۱۳ باب ۷ آیت ۷) میں مختلف قسم کے غیر حروف تہجی کے سے صنعتو توشیح کا استعمال کیا گیا ہے جس میں چار حرفی لفظ یہواہ چار قطی حصوں میں پیش کیا گیا ہے۔ دو دفعہ آگے والے حصے میں اور دو دفعہ پیچھے والے حصے میں کہانی کے اس قطی نقط پر صنعت توشیح کا استعمال کوئی زمانی مطابقت نہیں ہوسکتی۔
سوال: زبور باب ۲۶ آیت ۲ تا ۳ کت مطابق کیا ہمیں ایسی خواہش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ خداوند ہمارے دل ودماغ کی جانچ کریں؟
جواب: اگر لوگ خداوند کی تابعداری کو قبول کرنے کا انتخاب نہیں کرتے تو غالبؤ یہ نہیں ہے جو وہ چاہتے ہیں۔ اگر وہ مخلص طریقے سے خداوند کی تابعداری کریں، تو ان کی یہ خواہش ہونی چاہیے کہ خداوند انھیں مندرجہ ذیل چار چیزوں کے لیے آزمائے۔
۱۔ خداوند کے جلال کے لیے۔
۲۔ ان کو وہ راستہ دیکھانے کے لیے جس سے وہ بے خبر ہیں کہ وہ خداوند کی خواہش کا راستہ نہیہں ہے تو تب وہ اس راستے کو تبدیل کر سکیں۔
۳۔ ان کو وہ غلط عقائد، غلط رویے یا غلطط اعمال دیکھانے کے لیے جنکو وہ نادانستہ طور پر لکھ رہے ہیں تاکہ وہ اسے تبدیل کو سکیں۔
۴۔ وہ اپنی مسیحیت کے کام بہت اچھے طریقے سے کر سکیں اور اسطرح مزید نیک بن سکیں۔
سوال: زبور باب ۲۷ آیت ۸ کے مطابق داؤد خداوند کے چہرے کے دیدار کا مطلب کیوں تھا جبکے کوئی بھی خداوند کاس دیدار کر کے زندہ نہیں رہ سکتا؟
جواب: داؤد خداوند سے ایک قریبی تعلق بنانے کی کوشش کرہا تھا اور بے تابی سے جنت میں خداوند کو جنت میں روبرو دیکھنے کی جستجو میں تھا۔
سوال: زبور باب ۲۷ آیت ۱۰ کے مطابق کیا داؤد کے وعالدین داؤد کو ہمیشہ حفاظت کر سکتے تھے؟
جواب: ۱ سمویئل باب ۱۶ آیت ۵ تا ۱۱ میں کچھ لوگ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ داؤد اپنے والدین کا پندیدہ بیٹا نہیں تھا۔ داؤد کا باپ داؤد کو بھڑوں کی نے ابتدائی طور پر سمویئل میں داؤد طرف مائل کرنا چاہتا تھا اور
کا ذکر نہیںکیا ہے۔ تاہم اس بات کے قطع نظر ہمارے پاس ایسے کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ داؤد کے والدین اسکی حفاظت کریں گے داؤد صرف یہ کہہ رہا ہے کہ اگر اسکے والدین اسے چھوڑ گئے تو خداوند ہمیشہ اسے سنبھالے گا۔ سوال: زبور باب ۲۸ آیت ۱ کے مطابق خداوند ہماری چٹان ہے یہاں اسکی کیا افادیت ہے؟
جواب: خداوند بہت طریقوں سے ہمارے لیے ہماری چٹان ہے۔ خداوند یہاں بہت سے عرصتے سے ہے (ابدی) خداوند ایک چٹان سے بھی زیادہ مضبوط تر ہے۔
دوسری چیزیں چٹان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ایک چٹان تما موسموں میں بھی چٹان ہی رہتی ہے۔ کوئی بھی چٹان پر با حفاظت کچھھ بھی تعمیر کر سکتا ہے چٹان کی طرح خداوند بھی کبھی تبدیل نہیں ہو سکتاخداوند ایک جیسا ہی رہتا ہے جب بھی ہم اسکے سامنے آتے ہیں ایک چٹان کی طرح خداوند ایک لمبے عرصے تک کسی بھی چیز کو برداشت کرسکتا ہے(ابدیت)
سوال: زبور باب ۲۹ آیت ۵،۹ کے مطابق خداوند کیوں لبنان کی دیواروں کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور جنگلوں کو بے برگ کرنا چاہتا ہے؟
جواب: خداوند اس درخت کے خلاف نہیں ہے جو سوچ نہیں سکتا بلکہ یہ کنعان یہ قدرت کی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کسی حد تک بربادی ہوگی۔
سوال: زبور باب ۳۰ آیت ۱ کے مطابق یہ گیت ہیکل کی تتمجید کے لیے کیسے ہو سکتا ہے، تاہم اسے پہلے داؤد نے لکھا تھا؟ داؤد ہیکل پر نزرونیاز سے پہلے سے وفات پاگیا؟
جواب: اس سوال کے لیے دو مختلف جوابات ہیں، اور ہم اس بارے میں بھی پر یقین نہیں ہیں کہ ان میں سے کون سا درست ہے۔
۱۲۔ یہاں عبرانی لفظ ہیکل کا مطلب محل بھی ہوسکتا ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب داؤد بہت خوشحال تھا اور وہ محل پر نزرو نیاز چڑھانا چاہتا تھا۔
۲۔ یہ سلیمان کے ہیکل کے لیے بہت محبت بھرا گیت تھا جو داؤ کی وفات کے بعد گایا گیا۔
سوال: زبور باب ۳۰ آیت ۱ کے مطابق یہ کسطرح خدفاوند کے گھر کے لیے ایک تمجیدی گیت ہو سکتا ہے، جبکے یہ داؤد کا ذاتی تجربہ تھا؟
جواب: پہلی دو غالبأ امکانات ہیں، اور پھر اس جیسی جواب ہے۔
داؤد سے نہیں: زبور کا ہر عنوان موسویٰ نفس مضمونکے لحاظ سے ہے کا صفحیہ نمبر ۲۴۳Encyclopedia of bible difficultiesاور جیسا کہ
کا صفحہ نمبر ۲۳۴۔۲۳۵،۲۳۶ کہتی ہےکہ اسکا When critics askاور
کوئی حصہ بھی اصلی قلمی لکھائی میں نہیں ہے عنوان یہ کہتے ہوئے غلط ہوسکتا ہے کہ اسے داؤد نے لکھا تھا۔
پہلی زبور کے لیے عنوانات: ان عنوانات کا اضافہ بعد میں کیا گیا ہے، اور ہو سکتا ہے کہ یہ پہلی زبور کا حوالہ دیتی ہوں تاہم یہاں بہت سے عنوانات کی مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔ جو درحیقت ویسی عبارتیں ہیں۔ جو ویسی عبارتیں جنکا اضافہ خط میں دستخط کے بعد اضافہ کیا جاتا ہے۔
ہیکل کے لیے نہیں: یہ عنوان اس صورت میں غلط ہو سکتا ہے جب یہ کہتی ہے کہ یہ ہیکل کی تمجید کے لیے ہے۔ تاہم کوئی بھی چیز اس بات کو سہارا نہیں دیتی کہ عنوان غلط اسکے لیے مندرجہ ذیل جواب کافی ہے۔
جواب: زبور ۳۰ کو داؤد سے تھی ( جیسدے کہ زبور باب ۱ تا ۴۱) اور داؤد نے اسے مستقبل میں ہیکل کی تمجید کے لیے لکھا۔ جیسے داؤد نے ہیکل اپنے بیٹے سلیمان کی خاطر ہیکل کےلیے سامان جمع کرنا شروع کیا تب اس نے مستقبل میں ہیکل کی خوبصورتی پر غور وفکر کرنا چھوڑ دیا تھا۔
سوال: زبور باب ۳۰ آیت ۲ تا ۳ کے مطابق داؤد کو کس قسم کی شفاء ملی تھی؟
جواب: کتاب مقدس ایسا نہیں کہتی لیکن اسکے لغوی معنوں کے لحاسظ سے اسیسا لگتا ہے کسی طبعی بیماری سے صحت یابی نصیب ہوئی تھی۔ سوال: زبور باب ۳۰ آیت ۵ کے مطابق کیسے خداوند کا قہر دم بھڑکا ہو سکتا ہے، جبکے ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو جہنم میں جانے میں ایک لمبا عرصہ لگے گا؟
جواب: زبور باب ۳۰ کا لکھاری داؤد ہے، جو خداوند سے اپنے تعلق اور اشارۃ خداوند کا دوسرے ایمان والوں کے ساتھ تعلق کو بیان کرتا ہے۔ وہ وقت جب تک خداوند داؤد سے ناراض تھجا اسکا موازانہ ابدیت سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ مکمل آیت اس بات کو بیان کرتی ہے کہ اسکا قہر دم بھڑکا ہے اور اسکا کرم عمر بھر کا ہے۔ رات کو شائد رونا پڑے پر صبح کو داؤد تمام شریروں کے لیے بات نہیں کر(خوشی کی نوبت آتی ہے
رہا، کیونکہ داؤد کو خود بھی اس بات کیہ پہچان ہے کہ ان کی سزا ہمیشہ کے لیے ہوگی۔ وہ لوگ جو خداوند کو رد کرتے ہیں نہ صرف وہ خداوند کا قہر ایک دم میں دیکھ سکیں گے، بلکہ وہ ساری زندگی خداوند کی رحمت سے بھی محروم رہتے ہیں۔ جب خداوند لوگوں کا انتخاب کرتا ہے، خداوند کا قہر اور اسکے مریدوں کا تفیصلی حد تک ابدیت سے موازانہ کیا جاتا ہے۔
سوال: زبور باب ۳۰ آیت ۶ تا ۷ کے مطاسبق جبکے داؤد خوشحال تھا تو کیوں خداوند نے داؤد کی خوشحالی کو روک دیا تھا؟
جواب: غالبأ زبور باب ۳۰ آیت ۷ میں اسکا جواب ملتا ہے داؤد نے خداوند سے کہا کہ اپنے کرم کو میرے پہاڑ پر قائم رکھھ ۔ جب ہم متواتر خوشحالی میں رہتے ہیں۔ اور ہمیں کوئی مسلہ بھی نہیں ہوتا تو اسکا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم زیادہ بڑھے گئے بلکہ ہم خداوند پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
سوال: زبور باب ۳۰ آیت ۸ تا ۷ کے مطابق کیا داؤد یہ کہتے ہوئے کہ مجھے مت مار خداوند سے کوئی سودا کر رہا تھا یا تمھاری پرستش کرنے میں ایک کی کمی ہوجائے گی؟
جواب: ایسا ضروری نہیں ہے داؤد کویہ احساس ہو سکتا ہے کہ خداوند پہلے سے ہی بہت مغرور بادشاہ ہے جتنا کہ وہ چاہتا ہے لیکن ابتدائی طور ہپر خداوند داؤد کا اندازہ ایک بادشاہ کی طرح نہیں بلکہ ایک عابد کی طرح کرنا چاہتا تھا۔
سوال: زبور باب ۳۱ آیت ۶ کے مطابق کیا ہمیں بھی آج کچھ لوگوں سے نفرت کرنی چاہیے، جیسے کہ داؤد ان لوگوں سے نفرت کرتا تھا جو جھوٹے معبودوں کو مانتے تھے؟
جواب: نہیں، نیا عہد نامہ( اپنے دشمنوں سے محبت رکھو) پرانے عہد نامے کی نسبت زیادہ بلند مقام پیش کرتا ہے ہم چھھ قسم کی نفرتوں کی جماعت بندی کر سکتے ہیں اور پرانے اور نئے عہد نامے کی تعلیمات کا موازانہ کر سکتے ہیں۔
ان لوگوں سے نفرت کرؤ جو تمھیں نقصان پہچاتے ہیں: کچھ زبور میں داؤد نے ان لوگوں سے نفرت کا اظہار کیا ہے جو اسے مارنے کی کوشش کرتے تھے۔ یسوع اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ پہلے لوگوں کو اپنے دوستوں سے پیار کرنے اور اپنے دشمنوں سے نفرت کرنے کا سکھایا گیا تھا، اور یسوع کو صاف صاف طور پر یہ سکھایا گیا ہے کہ ہمیں اپنے دشمنوں سے بھی پیار کرنا چاہیے۔
اعمال اباب 7 آیت 60میں جب سٹیفن شہید ہوا اس نے ان کے لیے بھی دعا کی جس نے انھیں مارا تھا۔
بغیر کسی وجہ کے لوگوں سے نفرت کرنا:
دونوں پرانے عہد نامے (زبور باب 35آیت 19 ،باب69 آیت4 ،سیعیاہ باب 49 آیت 7 ) اور نئے عہد نامۃ (یوھنا باب 15 آیت25 ) اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کۃ کچھھ گناہ گار لوگ ایسا کرتے ہیں ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
ان سے نفرت کرنا جو خداوند سے کرتے ہیں:
داود کہتا ہے کۃ وہ ان سے نفرت کرتا ہے جو خداوند سے نفرت کرتے ہیں تاہم نئے عہد نامۃ ہم سے کہتا ہے کۃ ہمیں اپنے ہما سیون سے محبت کرنی چاہیے اس بات سے قطع نظر کر وہ ایک سچے خداوند سے پیار کرتے ہیں یا نہیں تا ہم ہمیں ان لوگوں سے الگ رہنا چاہیے جو خداوند پر ایمان نہیں رکھتے۔
بد کاروں سے نفرت کرنا:
زبور باب 31آیت 6 کے مطابق داود نے کہا کۃ وہ ان سے نفرت کرتا ہے گو جھوتے معیودون پر یقیں رکھتے ہیں۔
انتقام :
دونوں عہد نامے پرانا اور نیاء ہم 4 آیت 2 مزید کہیتی ہے کۃ سورج کے ڈوبنے تک تمھاری خفگی نۃ رہے ۔
گناہ سے نفرت کرنا :
دونوں عہد نامے پرانا اور نیاء ہم سے یہ کہتے ہیں کہ ہمیں گناہ سے نفرت کرنی چاہیے قفاۃ باب 23 ہم سے کہتی ہے کہ اس کپڑے سے بھی نفرت کرنی چاہیے جس پر خراب گوشت کا نشان ہوتا ہے
سوال :زبور باب 32 آیت 3کے مطابق یہ مکر کیا ہے ؟
جواب : اسکا مطلب عیاری ہے تاہم مکر صرف جھوٹ سے نہیں ہوتا لیکن بعض اوقات یہ تمھارے اپنے ارادوں کا مکر بھی ہوتا ہے ۔
سوال:زبورباب 32 آیت 3کے مطابق داود نے ایسا کیون کیا کہ جب وہ خاموش رہتا ہے تواس کی ہڑیان گھل جاتیں ہیں ۔
جواب داؤد نے یہ محسوس کیا کہ جب وہ خداود کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف نہیں کرتا تو اسے ایسا لگتا ہے کہ اسکی طبعی حالت بگڑجاتی ہے ۔آج کے زمانے میں بات بہت دلچسپ ہے کہ بہت سے لوگ اب یہ تسیلم کرتےہین کہ مکر دباو ہمارے جسم کی طبعی حالت پر بڑے اثرات ڈالتا ہے ۔
سوال: زبور باب 32 آیت 8 کے مطابق خداوند کیسے یماری اس راستے پر راہنمایئ کرتا ہے جس پر ہم چلنا چاہتے ہیں ؟
جواب :خداوند لوگون کی 5 طریقوں سے راہمنایئ کرتا ہے :
1 بائیبل کے ذریعے: بائیبل ہمیں خداوند کے احکامات دہتی ہے اور ہمیں دیکھاتی ہے کہ خداوند کی خوشی کس میں ہے اور ہمیں مسائل سے بھی اگاہ کرتی ۔ تاہم ایک اکیلا فرد پوری با ئیبل کو پڑھ کر سمجھ نہیں سکتا اور اسے کچھ یاد دہانیوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔
دوسرے ایمان والاں کے ذریعے :ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں انھیں سکھائیں درشگی کریں اور ایک دوسرے کو ملامت بھی کریں یہ اس بات کا اطلاق کرتی یے کہ ہمیں وقت پر حوصلہ افزائی کرنے ،سکھانے ،درستگی یا ملامت کرنے کی ضروت ہے ۔
دوسروں کے ذریعے:تاہم وہ لوگ جو ایمان نہیں رکھتے وہ بھی ہمیں سچی باتیںسکتے ہیں اور ہم دوسروں کے بربےتجربات سے سیکھتے ہوئے بہت سے ناکامیوں بچ سکتے ہیں۔
خداوند کچھھ چیزیں براہ راست نازل کرتا ہے:
جب ابراہم نے سنا کہ خداود اس سے مشورہ لیتا کہ ہر چیز کیسے ہوگی اسطرح کی بہت سی کہایناں ہیں جس میں مسیحی مبلخ قومو ں سے بائبل کے ذریعے بات نہیں کرتے ، ان لوگوں کو خداوند ہی کہتا ہے کہ مسیحی مبلغوں کی سنیں اسطرح کے لوگوں کی بھی ہے کے قبیلے کی ایک قابل غورمثال کا مطالعہ کہ کوئی بھی اسکی مزید تفصیل کے لیے
سکتا ہے ۔
جب خداوند کا یہ مطلب ہوتا ہے کہtربانی تعیناتی:یہ وہ دور ہوتا ہے
تم یقینی طور پر کس اہم جگہ پر تعینات ہوگئے لیکن تمھارے علاوہ اس زمیں پر اسکو کوئی نہیںجانتا۔
سوال: زبور باب 34 آیت 1 کے مطابق کیا یہ کہنا چاہتی ہے کہ ابی مایک
کا بادشاہ تھا؟یا
جواب یہ 1سموایئل باب 21آیت 12 تا 15 میں اس وقت کا حوالہ پیش کرتی ہے جب داود ایک باولے کی طرح اپنے کہے پر نادم تھا یہاں تےن قسیم کے امکانات ہوسکتے ہیں
نقل کر کے لکھنے والے کی غلطی:جب لکھاری نے زبور کے عنوانات کا اضافہ کہنا چاہتا ہو اور نقل کرتے ہوئے غلطی سے ابی کیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ
مالک لکھ رہا ہو ۔
دوہرے نام: قدیم زمانے میں بہت سے بادشاہوں کے دودو نام ہوتے تھے ایک ان کا ذاتی نام جو انھیں پیدائش کے وقت ملتا تھا اور دوسرا بادشاہی نام فارسے بادشاہ اور مقری فرعون ان سب کے دودو نام تھے سلیمان بھی اور بہت دوسے نام رکھتا تھا
بھی کہا گیا دوسرے سلاطین باب 24 آیت 17 میں زکریا کو
ہے ہم بہت سے فلسطینی بادشاہوں کے نام نہیں جانتے سوائے ان کو جو ہمیں آشوریا کے درائعوں سے ملے ہیں وہ ابی مالک (جیسے ابی مالک ہے )جو
کا بادشاہ تھا فلسیطینوں نے سب سے پہلے یہ نام ابے مالک پہلی دفعہ پیدائش باب 20 آیت 2 میں استعمال کیا تھا اور دوسری مرتبہ ابی مالک 2 پیدائش باب 26 آیت 1 میں استعمال ہواتھا ۔
کا صفہ نمبر اس کا اضافہ کرتےSkeptical Asimov's guide to bible خطاب:
ہوئے یہ بیان کرتا ھے کہ ایسا ممکن ہو سکتا ہے کہ لکھنے میں غلطی کی گئی ہو لیکن یہ بھی کہتا ہے کہ یہ لکھنے والے کی غلطی نہ ہو بلکہ یہ ایک خطاب ہو سکتا ہے جیسے کہ میری حکمرانوں کا خطاب فرعون تھا۔
سوال:زبور باب 34 کے بارے میں کیا چیز بہت غیر معمولی یا انوکھی ہے؟
جواب:یہ زبور حروف تہجی کے استعمال سے اسطرح لکھی گئی ہے اسکے ابتدائی ،درمیانی اور آخرس حروف سے کوئی جمعہ بنتا ہو مسس آیات مسس Asimov's Guid to the Bibleعبرانی الفظ سے شروع ہوتے ہیں۔ قدیم
کا صفہ نمبر 495 بھی اس بات کوظاہر کرتا ہے
سوال:زبور باب 34 کے بارے میں کیا چیز بہت غیر معمولی یا انوکھی ہے؟
جواب: یہ زبور حروف تہجی کے استعمال سے اسطرح لکھی گئی ہے کہ اسکے ابتدائی، درمیانی اور آخری حروف سے کوئی جملہ بنتا ہو، آیات مسلسل عبرانی کا صفحہ نمبر 495 بھی الفاظ شروع ہوتے ہیں۔ قدیم
اس بات کوظاہرکرتا ہے
کے بادشاہ کے سامنے اپنا رویہ سوال: زبور باب ۳۴ آیت کے مطابق داؤد نے
بدلہ۔
جواب: 1سموایئل باب 21 آیت 12 تا 15 کے مطابق داؤد نے ابی مالک کے سامنے آپنے آپ کو ایک پاگل انسان کے طور پر پیش کیا کیونکہ اور وہ چاہتا تھا کہ ابی مالک اسکو مشکوک نہ سمجھے کہ وہ فلسیطن کا وفا دار نہیں ہے یہ ہونا سمجھے کہ داؤد کسی ریاست کا حکمران ہے۔ یہاں داؤد نے فریبکو استعمال کرتے ہوئے اپنی ترکیب پر بھروسہ کیا ہے نہ کہ خداوند پر بھروسہ ضروری تھا۔
سوال: زبور باب 35 آیت 24 ؛باب 7 آیت 8 کے مطابق داؤد یہ کیوں چایتا تھا کہ خداوند کی عدالت اپنی صداقت کے لحاظ سے کرئے؟
جواب: اس وقت داؤد اپنی زندگی میں اپنے تقوی کے لیے بہت بڑا مقام رکھتا تھا۔ داؤد کی درخواست کو مکمل یا نسبتی لحاظ سے سجمھا جا سکتا ہے۔
نسبتی لحاظ: داؤد ساؤل سے اور فلسیطن سے بھی زیادہ خداوند کی تابعداری قبول کرتا تھا اور اس کی خدامت کرتا تھا۔ داؤد نے اس بات کو اس لیے ترجیح دی کہ وہ چاہتا تھا کہ خداوند ان کے درمیان اور داؤد کے درمیان عدالت کرئے۔ اگر داؤد کا یہ ہی مطلب تھا، تو جیسے کہ حبقوق باب 1 ہمیں دیکھاتا ہے۔ کہ داؤد اس بات سے بے خبر تھابعض خداوند اپنے تابعدار بندوں کا آداب سکھانے کے لیے برے لوگوں کا استعمال کرتا
کا صفحہ نمبر 227 یہ بیان کرتا ہے کہ زبور باب 7 آیت 8 میں داؤد یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ گناہ سے مکمل طور پر پاک ہے لیکن وہ یہ کہہ رہا داؤد کہ وہ ان بدکاروں کے اعمال کے لحاظ سے معصوم ہے
خداوند یہ کہہ رہا تھا کہ وہ اسکی عدالت کرئے اور اسے بچائے کیونکہ داؤد خداوند کا سچا خادم تھس۔ داؤد جانتا تھا کہ کوئی بھی راست باز نہیں ہے(زبور باب 143 آیت2) تو اس لیے یہاں داؤد اس باتکا دعویٰ نہیں کررہا کہ وہ گناہ گار نہیں ہے، داؤد یہ بات جانتا تھا کہ خداوند نیک لوگوں کی حفاظت کرتا ہے اور اس سے داؤد کو اس بات پر مکمل بھروسہ تھا کہ خداوند اسے بچائے گا۔ بعد میں(زبور 51 آیت1 ) میں داؤد کو اپنی گناہ گار فطرت کے بارے میں اگاہی ہوئی اور اسے خداوند کے رحم کی ضرورت ہوئی۔
تاہم اس بات سے قطع نظر کہ داؤد کا مطلب مکمل طور پر یہ ہی تھا ،نسبتی لحاظ سے تھا یا دونوں، دعا کرنے کی یہ درخواست اتنی اچھی مثال نہیں ہے کہ ہمیں بھی آج اسطرح سے دعا کرنی چاہیے۔ تاہم یہ
ہمیں ہماری دعاوں کی اہمیت کے بارے میں کچھھ سیکھاتی ہے خداوند کے تابعدار بچوں کے لیے یہ ٹھیک ہے کہ ان کے دل میں جو نھی ہے وہ اسکی دعا کریں حتٰی کہ اگرچہ وہ اچھی چیزنہ ہو جسکی دعا کی جارہی ہو خداوند اتنا اعیظم ہے کہ وہ ہماری دعاوں سے بات کرتا ہے ، ہماری علطیوں کو سمجھتا ہے اور ایک عقل مند بات کی طرح وہ ہماری جماقت بھری درخواستوں اور ان اچھی درخواستں کو جو خداوند کی خواہش اور اسکے بڑے منصوبے کا حصہ نہیں ہوتیں ان کے لیے وہ نفی میں جواب دیتا ہے ۔
سوال :زبور باب 36 آیت کے مطابق شیریرخداوند کا خوف کیوں نہیں رکھتے؟
جواب:کچھھ لوگ خداوند سے نہیں ڈرتے کیونکہ ان کا اس بات پر یقین نہیں ہوتا کہ وہ موگود ہے دوسرے جو خداوند کے وجو پر یقین رکھتے ہیں اگرچہ انھیں بھی انکے گناہوں کی سزا نہیں دی گی تاہم وہ سوچتےہیں دونوں کہ وہ نہیں ہونگے (یعقوب باب 2آیت 19 ) کے مطابق جانتے ہیں کہ خداوند کا موگود ہے اور اعمال کی مستقل میں سزا گئ ، تاہم بت بھی وہ لگاتار خداوند کی نافانی کرتے ہیں۔
سوال: زبور باب 36 آیت 4 کے مطابق لوگ کیسے اپنے بستروںپر بدی کے منصوبے باندھتے ہیں؟
جواب: جب وہ لیئے ہوئے نید کا انتظر کررہے ہوتے ہیں تو وہ کس کو نقان پہچانے کا، بد دیانت طریقے سے کمائی کرنے کا یا جسنی تصورات کے بارے میں منصور بنا رہے ہوتے ہیں زبور باب 63آیت 6 ہم سے کہتی ہے کہ بر عکس اسکے ہم ایسا کریں ہمیں خداوند پر غور وفکر کرنا چاہیے۔
سوال:زبور باب 37آیت 3تا 5 کے مطابق خداوند پر توکل کرنا، خداوند میں سرور رہنا اور اپنی راہ خداود پرچھوڑدینے میں کیا فرق ؟
جواب:ہم یہ تیوں چیزیں کرستکے ہیں،لیکن بہت سےچ ایمان والے اان میں سے ایک یا دو کام کرتے ہیں۔
خداوند پر توکل کرنے کا مطب یہ ہے کہ جو خداوند کہتا ہے اس پر یقین ہونا، اس باب کے بارے میں پر امن ہو جاتا کہ تم خاوند کے ساتھھ میں ہو اور حق کے سامنے اور جھوٹ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا حوصلہ ہونا ضروری نہیں کہ اسکا مطلب یہ ہو کہ تم خداوند میں مسرور رہویا تم اسکو خداوند کو خوش کرنے کی کوشش کے تابعداری کرو زبور 62 خداوند پر توکل کو ایک بہت خوبصورت انداز میں پیشکرتی ہے۔
خداوند میں مسرور رہنے کا مطلب یہ کہے کہ تمھاری زندگی کو خداوند کی حمد وثناء کرکے ہی خشی ملے ضرورینہیں کہ اسکا مطلب یہ ہوکہ تم خداوند بڑی گہری سے سمجھو یا اچھے طریقے سے اسکے تابعداری کرو اپنی راہ خداوند پر چھوڑنے کاق مطلب یہ ہے کہ تابعداری کا بثوت دیتے ہیں کہتا ہے اسکی پیروی کرو اور جس سے منع کرتا ہے اس سے باز آجاو۔ تابعداری فرائضکی بجا آوری میں ہو سکتی ہے ضروری نہیں کہ یہ بہت زیادہ محبت میں یا اپنے آپ کو ایمان سے بھرنے میں ہو۔
دوسرں کو
نظرانداز
کرتے ہوئے ان
میںہر ایک نقار
ہمارے سے اہم
ہے کہ ہمیں
اسے کرین۔
سوال :کیا
زبور باب 37
آیت 9 ،11 ،29 کے
مطابق کیا صادق
ہمیشہ اس کے
گواہ اس بات
کا دعویٰ
کرتے زمین پر
رہیں گئے جیسے
کہ ہیں؟
جواب :نہیں یہاں عبرانی نفظ کا مطلب علاقہ اور زمیں، اور یہ دونوں الفاظ یہاں لاگو ہو سکتے ہیں۔
اس سوال کے جواب کے لئے تین نکات کو فرض کیا جا سکتا ہے ۔
ہمیشیگی کے بارے میں نہیں لیتا : یہاں عبرانی لفظ ہمیشہ لمبے عرصے استعمال نہیں ہواہے ۔تک
علاقہ :لوگ سرزمین کے وارث ہونگے یہودی اس سرزمین پر واپس لوٹ جائیں گئے اور خداوند کے لوگ اس صدی کے دوران وعدے کی سرزمین میں رہیں گئے
زمین :مکاشقہ باب 21 کے مطابق خداوند کے لوگ ایک نئی زمین پر ہمییشہ کے لیے رہیں گئے ۔
سوال :زبور باب 37آیت 20 کے مطابق کیا شریرطتباہ و برباد ہو جائیں گئے کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ فنا کر دیئے جائیں گئے؟
کا مطلب ہے طبھی طور پر مر جاتا جواب :نہیں اس عبرانی لفظ
جیسے سیعیاہ باب 57 آیت نمبر 1 اور مہکاہ باب 7 آیت 2 کے مطابق صادق ہلاک ہو جاتا ہے اسکایہ بھیط مطلب ہو سکتا ہے کہ انھیںجنت میں ابدی زندگی نیصب نہیں ہوگئی اگرچہ ان کی زندگیوں کا زمین پر ختم ہو جانے کا ہرگز ییہ مطلب نہیں ہے کہ ان کا وجود فناء ہو جائے گا ۔
سوال زبور باب 37آیت 25 ان ایمان والوںکے بارے میں کیا کہتی ہے جوقدرتی آفات یا قحط سالی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں ؟
جاب :داقود اسآیت کا دینا یہ اس حوالے سے دیتا ہے میں نے کھبی نہیں دیکھا" از"پس خداوند سے کہا "۔ تاہم اس سچ بات سے قطع نظر یہ پو چھنا جائز ہے کہ کب اورکیسے خداوند ایمان والوں کو قدرتی آفات سے نچاتا ہے ۔
خداوند کبھی اس بات کی اجازت نہین دئے گا کہ اس کے تابعدار بندئے اسکے فیصلے آگے ہلاک ہو ، جبکہ خداوند اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ کے مطابق خدوند ان کی موت پر غور کر تا ہے اور کہتا کہ خداوند کی نگاہ میں اسکے Nkjvیہ ان کا وقت ہے زبور باور باب 16آیت 15
مقدسوں کی موت گراں قدر ہے ۔
سوال : زبور 37 آیت 25 کے مطابق داود نے کیسے صادق کو بیکس یا اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا؟
جواب :اگر کسی کو روتی کی ضرورت ہے تو اس میں کوئی ایسی بری بات نہیںہے اگر وہ کسی سے روٹی مانگتا ہے جبکے داود یہ کہہ رہا تھا کہ اس نے کبھی خود صادقوں کے بچوں کو مانگتے ہوئے نہیں دیکھا ایسا ابھی بھی دوسے ممالک میں ہوسکتا ہے ۔ اسرائیل میں انھیں غریبوں کا خیال رکھنے کا کہا گیا تھا اور مسیحیوں کو آج اس کا حکم دیا گیا ہے۔
سوال:زبور باب 38آیت 5 کے مطابق داود کے زخم کیسے سڑ گئے ؟
جواب :کیونکہ ان کے زخم شدید بیماری یا سڑگئے تھے اس لیے زخمو ںسے بد بو آنا اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
سوال :زبور باب 38آیت 7 کے مطابق شریر لوگوں کو کیسے کاٹ دیا جائے گا ؟
کا مطلب فنا کردینے کے نہین ہین جیسے کہ دانی ایل باب9آیت 26میں کمسوحوں کو جواب :اسکا مطلب ہے ہلاک کردینا عبرانی لفظ
قتل کیا جائے گا ، جبکہ کاٹ ڈالنے کا مطلب ہلاک کر دینا ہیں ۔
سوال زبور باب 39 آیت 1 کے مطابق یہاں یروشلم کا ذکر کیوں کیا گیا ؟
جواب :زبور یروشلم کی تمجید کے لیے بھی ہو سکتی ہے یا جیسا کہ
کا صفحہ نمبر 497 کہتا ہے Asimov's Guide the Bible is keptial
کے قبلیے بعدراس انداز میں لکھا جا سکتا تھا۔ کہ یہ
سوال :زبور باب 39 آیت 12 کے مطابق داود ایسا کیوں محسوس کرتا تھا کہ وہ ایک اجنبی ہے ؟
کو مار نے سے پہلے جواب :اس سے پہلے کہ داؤد بادشاہ بنتا وہ
اور بعد میں ساول کی فوج میں سپاہیوں کے درمیاں خود کو ان جیسا نہیں سمجھتا تھا ۔ ساول سے بھاگنے کے بعد یقینی طور پر داود لے کد کو تنیا اور اجنبی محسوس کیا ۔تاہم ایک بادشاہ کی طرح سے سے داود کے پاس ایسا وقت ہوتا تھا کہ وہ خود کو تنہا اور اجنبی محسوس کرتا ۔
سوال :کیا زبور باب 40 آیت زبور باب 50 آیت 13 تا 15 اسبات کو ظاہر کرتی ہے کہ جانوروںکی قربانی کو ترک دینا چاہیے ؟
جواب:نہیںایسا نہیںہے اسکی دووجوہات ہیں۔
لکھاری : اگر کوئی قربانی کا خلاف تھا ،اگرچہ کے وہ داؤد سلیمان یا اسکے ملازم نہیں تھے جو قربانی کے خلاف تھے ۔ داود زبور 40 کو نے لکھا تھا جو کہ داود کے لیے تحریر کیا ،جبکے زبور کو 51
موسیقی بناتا تھا ۔ جب سموائیل نے بیت الحام پر قربانی دی بت داود ایک
بادشاہ تھا 1 تواریخ باب 21آیت تا 27 کے مطابق داود نے قہر
موڑنے کے لیے قربانی دی پھر داود کے بعد سلیمان نے تواریخباب 7آیت ب1، 4 تا 5 میں ہیکل کی نزرونیاز 22000 بیلوں کی اور 120000 بھیڑوں کی ایک بہت قربانی پیش کی ۔
منطقی غلطی :تا بعداری کو قربانی پر فضلیت دینےکا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ قربانی کو ترک کردیا جائے زبور 50 بھی حرف یہ ہی دیکھاتی ہے کہ قربانی کو خداوند کی طرف طبعی ضرورت پوری کرنے کےلیے خداوند سے مسوب نہیں کیا جاسکتا
Baffling Bible Question Answeredاسطرح کے جواب کے لیے
کا صفح نمبر 152 ملا خط فرمائیں ۔
سوال :زبور باب 40 آیت 6 کے مطابق خاوند کیسے داود کے کا کھول سکتاا ہے؟
داود کے جواب :اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ خداوند
کان مین سوراخ کر دیا تھا توریت کی پہلی پانچ کتابون میں ایک غلام اپنی زندگی کو کب اپنے مالک کے سپرد کرتا ہے تو وہ اسکو ظاہر کرنے کے لیے اپنے کان میں سواخکرتا ہے ۔
سوال :زبور 40آیت کے مطابق داود یا مسیح کے بارئے میں کتاب میں کیسے لکھا جا سکتا ہے ؟
جواب :داود نے زبور باب 39 آیت 16 میںلکھا ہے جا یہ کہتی ہےکہ جونام میرے لیئے مقرر تھے وہ سب تیری کتاب میں لکھے تھے جبکہ ایک بھی وجود میںنہ آیا تھا مکاشفہ باب 20آیت 12بھی اس بات کو بیان کرتی ہے کہ خداوند کے پاس کتاب ہے جس میں ہر کسیکے اعمال لکھے ہوئے ہیں ۔
تاہم یہ بات ہمارے لیے اور داود کے لیے سچ ہے اسکا ابتدائی مطلب مسیح ہے جو خداوند کی خوشنودی کے مطابق زمین پر آیا اور ان کی موت ہوئی اور اعمال باب 2آیت 23 کے مطابق علم مین وقوع کے لیے ہے ۔
سوال : زبور 41کے مطابق اس سے پہلے داود خداوند کی تابعداری کرتا تھا ،تو پھر داود نے ایسے انداز میں کیا محسوس کیا کہ اس نے زبور 41 لکھی ؟
جواب :یہ ظاہری طور پر بت ہوا تھا جب داود بہت شدید بیمار تھا اسے نہ صرف طبعی اپنی محبت کو حا صل کرنے میں لگاو تھا اس کے دشمن اسکو منہ چڑائے تھے ،اور وہ سوچتا تھا کہ خداوند انھیں اس سے دورط پٹا دے داود اسی بات پر زور دیتا ہے کہ وہ گناہ گا رہے کچھھ لوگ کہ ka کا گناہ کیا ،لیکن اسکاکوئی کہتے ہیں کہتب ہوا جب داود نے
ثبوت نہیں ۔
تاہم خداوند کہ نہیں چاہتا کہ ہم اس بات کو مرکز نگاہ بنائیں کہ داود کے ساتھھ ایسا کب ہوا تھا لیکن بر عکس اس کے یہ ہمین اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہمیں بھی ایسے جزبات رکھنے چاہیے اگر کوئی کہے کہ ایک ایمان والے کو ہمیشہ مسکرانا چاہیے ، مثبت رویہ رکھنا چاہیے اور کبھی بھی ہار نہیں ماننی چاہیے ،یہ دیکھانے کےلیے ایک اچھی زبور ہے۔داود بھی پہلے گناہ گار تھا لیکن اب داود تابعداد ہے ۔
سوال :زبور باب 42 کے مطابق بعض اوقاتچ ایمان والے ایسا کیوں محسوس کرتے ہین کہ کداوند ان سے الگ ہوگیا ؟
جواب :بعضاوقات وہ خود کو دینا میں معروف کرئے ،نافرمانی
ایک ایسے دل کے ساتھھ جو کسی کو معاف نہیں کرتا اور دوسرے بہت سے گناہوںکے سیب خداوند سے الگ ہو جاتے ہیں تاہم بعض اوقات تابعدار ایمان والے بھی کچھھ عرصہ کے لیے مایوسی اور شکست محسوس کرسکتے ہیں ہمیں اپنے احساسات سے قطع نظر خداوند سے وفادار رہنا چاہیے ۔
سوال :زبور باب 42آیت 1تا 2 کے مطابق پہلے ہی ایک تعلق تھا پھر وہ خداوند کے لیے کیوں ترستا تھا ؟
جواب یہ بالکل ایسے یہ ہے جیسے ہر مسیحی پہلے سے یہ اپنے اندر روح القدوس کو رکھتا تا ہم پھر بھی خداوند ہمیں اس بات کا حکم دیتا ہے کہ مسیحی اپنے آپ کو روح القدوس سے بھریں داود پہلے یہ خداوند سے ایک زندہ تعلق رکھتا تھا لیکن پھر وپ محسوس کرتا تھا کہ اس مقام پر اس کاتعلق خداوند سے روکھا سا تعلق ہے ۔
سوال کیا زبور باب 43 آیت 5 کے مطابق کیا ایک مسیحی کو ہمیشہ جزباتی طور پر زوال کا شکار ہو جانا چاہیے ؟
جواب :داود اس وقت ایسا تھا اور پر درست تھا یسوع بھی
کے باغ میں جزبات کے لحاظ سے گر گیا تھا اور پاول بھی 2کر ونتھیوں باب 1 آیت 8 تا 10 کے مطابق مایوس ہوگیا تھا پاول بھی بہت غم زدہ تھا بیمار تھا فلیسیوں باب 2 آت 27 مین تقریبا مر گیا تھا جب
تاہم کہ بہتر ہے کہ مسیحوں کو بہت زیادہ جزبات رکھنا چاہیے لیکن کہ یہ کہتا ہے ۔ جیسے
سوال : زبور باب44 آیت 6 کے مطابق داود نے جب کمان پر بھروسہ نہ کیا تو اس کی کیا افاد یت ؟
جواب :کمان ایک وہ ہتھیارتھا جسکو داؤد بہت ترجیح دیتا تھا ۔اگرچہ داؤد خداوند کی بجائے کمان پر بھروسہ نہ کرتا تو یقینا وہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔
سوال :زبور باب 44آیت 20 کے مطابق کیسے لوگ اپنے دل کو آج بھی اجنبی معبودوں خداؤں کے آئے پھیلا سکتے ہیں ؟
جواب :یہدونوں جھوٹے معبودوں کی پوجا کرنے اورچ ان معبودوں سے مدد طلب کرنا دونوں ہی غلط باتوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں آج بھی ہندو مت بدھھ مت اور دوسرے مزاہب دیوتاوں کو بنا کر پوجتے یا ہیں یا کسی اشیا کو بنا کر دیوتا کی طرح پوجتے ہین بیت سے کیتھولک وسطی اور جنوبی امریکہ ک میں کیھتولک مسیحی کو بتون کی پوجا سے جو ڑتے ہین تاہم بیت سے مسیحی بت پرستی کو اتنی سجنیدگی سے نہیں لیتت ایک دفعہ ایک کیھتولک پادری نے مجھھ سے پوجھا کہ پروٹسٹنٹ مسیحی کنواری مریم سے کیوں خوف زدہ ہیں؟ میں ان سے خوف زدہ نہیں ہوں بلکہ مری ایک بیتی کا نام بھی ان کے نام پر ہے ۔ میںنے دوبارہ ان سے پوچھنا چاہیے تھا کہ بہت سے مسیحی بت پرستی کے گناہ کو اتنی سنجیدگی سے کیوں نہین لیتے ۔
سوال زبور باب 44 آیت 22 کے مطابق خداوند کے لوکوں کو ڈبح جانے والی بھڑیں کیوں سمجھا جاتا ؟
جواب :ایسا زمانہ بھی تھا جب خداوند نے اپنے بہت سے بیٹوں کو ہلاک ہونے دیا تھا بعض اوقات خداوند نے یہیودیوںکو ان کی نا فرمانی کی وجہ سے سزادی لیکن اس آیت کا پہلا مطلب نہینہے برعکس اس کے خداوند بعض اوقات اپنے تابعدار ایمں والوں کو اپنے لیے تکلیفیں برداشت کرنے اور زیہد ہونے کی اجازت دیتا ہے ہم مندجہڈیںکو بھی دیکھھ سکتے ہیں
خداوند ظاہری طور پر زمےن پر زندگی کا وہ نظر نہیںرکھتا جیسا کہ بہت سے لوگ رکھتے ہینتاہم ہم موت کے بعد کی زندگی نہین دیکھھسکتے تاہم زمین پر لمبی زندگی کو محسوس کرنا بہت اہم چیز ہے خداوند کے اور اک کا طرےقہ مختلف ہے خداوند دیکھتا ہے کہ کوئی بھی زمین پر یا جنت پر کیا کر سکتا ہے تو بعض اوقات اس بات کو ثابت کرنا کہ تم اپنے عقیدئے کی خاطر خوشی سے مرنے کے لیے تیار ہو یہ دوسرون کے لیے گواہی ہوتی ہے اور اسکی جگہ دوسری بہت سی چیزیںلے سکتے ہیں۔
ابتدائی کلیسیا کے دور میں تقریبا 324 تک 50000 -40000 مسیحیوں کو انکے عقیدئے کیہ وجہ سے ہلاک کیا گیا ۔
سوال :زبور باب 44 آیت 23 اور زبر باب 73 آیت 20 کے مطابق کیا خداوند سو سکتا ہے وہ نہیںسو سکتا جیسا کہ زبور باب 121آیت 304ہمیںایسا دیکھاتی ہے ؟
جواب : خداوند کبھی بھی نہیں تھکتا یا اسے کبھی نید نہیں آتی تاہم ایسا وقت بھی ہوتا ہے جب خداوند
عمل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ بعض اوقات خداوند لوگوں کی خواہشات کے برعکس عمل کرتا ہے( ۲ پطرس باب ۳ آیت ۹) اسی آہستہ عمل وجوہات یہ ہوتیں ہیں کہ وہ اس وقت ہمیں آزمانا چاہتا ہے،بعض اوقات ہم کسی چیز کے لیے تیار نہیں ہوتے یا بعض اوقات ہم ریار ہوتے کا صفحہ نمبر kہیں اور دوسرے نہیں ہمیں خداوند کا انتظار کرنا چاہیے
۱۲۸ کہتا ہے کہ یہاں سونے کا مطلب یہ ہے کہ خداوند کسی کی خاطر انصاف کو موخر بھی کردیتا ہے۔
سوال: کیا زبور باب ۴۵ کی آیت ۳ تا ۵ محمد(صلی اللہ علیہ و االہ وسلم) کی طرف اشارہ کرتی ہے، جیسے کہ کچھھ مسمان اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں؟
جواب: نہیں کچھھ مسمان اس کو اس طریقے سے نہیں دیکھھ سکتے سوائے اسلام کے ان قرتے کہا جاتا ہے جو یہ سوچتے ہیں محمدخدا ہی۔ زبور باب ۴۵ آیت ۶کے لوگوں کے جنکو
محمد کے بارے میں اس بات کا ()ہم سے کہتی ہے کہ اے خد تیرا تخت ابد آباد رہے گا
اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہمحمد نے کبھی خدائی دعویٰ نہیں کیا تھا،محمد کے پاس نی کو نہ تخت تھا یا منصب شاہی کا نشان تھا۔ اس کے مکمل جواب کے لیے
کا صفحہ نمر ۶۴ ملا خط فرمایئں۔ کا صفحہ نمبر ۲۳۸ اور
سوال: زبور باب ۴۵ آیت ۶ کے مطابق کیا یہ خدا کا تختتھا یا ایک انسان کا تخت؟
جواب: اس کا جواب کا ترجمہ لکھ لیں۔سوال: زبور باب ۴۵ آیت ۶ کے مطابق میں نے ایک شخص سے بحث کی جو یسوع کے ابتدائی عیدے سے انکار کر رہا تھا اس نے میرے عبرانی باب ۱ آیت ۸ اور زبور باب ۴۵ آیت ۶ تا ۷ کے دلیل کو جن کا ترجمہ بالکل درست کیا گیا ہے سے انکار کیا۔ اے خدا تیرا تخت۔ وہ اس بات پر زور رہا تھا کہ یہ خداوند تمھارا تخت ہے ایسے ہونا چاہیے تھا؟
جواب: درحیقت یہا تین سوالات ہیں۔
۱۔ اس آیت میں خداوند اور اس کے تخت کے بارے میں بات ہو رہی ہے، داؤد اور اسکا تخت خداوند نے دیا یا دونوں نے؟
۲۔ کیا پرانا عہد نامہ کیسی بھی غیر واضح طور پر یہ بات کرتی ہے کہ خداوند اپنے تخت پر بیٹھا تھا؟
۳۔ عبرانی کی کتاب کی اضافہ کمازکم مسیحیوں کے لیے کیوں کیا گیا۔
۱۔ کیا زبور ۴۵ آیت ۶ میں یہ خداوند کا تخت تھا یا داؤد کا عبرانی باب ۴۵ آیت ۷ میں
ہے جسکا لغوی معنی تمھارا تخت اور خداوندہے بہت سے ترجمہ کرنے والے اسے
تیرا تخت اور خداوند(طلب کرتا ہے) جے پی گرین/ایسے دیکھتے ہیں۔ تمھارا
یونانی توریت وغیرہ وغیرہ۔
تاہم اس جملے میں ایک مجسم بات ہے کیونکہ عبرانی اسم کو صفت کے طور پر استعمال کر سکتے تھے۔ مثال کے طور پر ۱ توریخ باب ۲۹ آیت ۲۳ کہتی کہ سلیمان یہواہ کے تخت پر بیٹھا ۔ حزقی ایل باب ۲۸ آیت ۱۳ کہتی ہے کہ جنت الہوم کا باغ تھا یا خداوند کا باغ پس ترجمہ انداز میں تبدیلی کے تحت زبور باب ۴۷ آیت ۷ مندرجہ لحاظ تراجمہکیا گیا ہے۔
تمھارا خدائی تخت(یہودی
تمھارا تخت خداوند کے تخت کی طرح ہے
(صفحہ نمبر ۳۶۰) تمھارا تخت اے خدائی بادشاہ
تمھارا تخت خداوند کا تخت ہے۔
لکھے ہوئے کو فرض کرتے ہوئے بالکل صاف جواب دیتیاور یہ قابل غور بات ہے کہ
ہے کہ یہاں الہوم ایک صفائی نام کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اس فہرست میں دوسرے نے کچھ مزید الفاظ کا اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ عبرانی نہیں ہیں۔
کا صفحہ نمر ۱۱۳۲بھی یہ دیتا ہے کہ تمھارا تخت اے خداوند آباد ہےجیسا J
کہ ایسا حاشیے میں لکھا ہوا ہے،تا ہم اس کو اسطرح سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ اسطرح بھی ہو سکتا ہے۔
کا ایک آرٹیکل ہے جو اسکا بچاؤکرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ زبور باب ۴۵
-آیت ۷ تا ۸ میں الہوم کا ترجمہ درحیقت ہپہلے طریقے کی طرح کیوں ہے۔
(۸۹۔۶۵ (۱۹۴۸) - 35
تو پھر کیا زبور ۴۵ میں یہ خداوند کا تخت ہے داؤد کا ؟ آیت نمبر ۷ کہتی ہے ۔۔۔۔اس لیے خدا اس لیے تیرے خدا نے تجھے مسح کیا ۔۔۔ مسیحی زبور کا ایسے دیکھتے ہیں جن میں پہلے خداوند خطاب کرتا ہے ۰مطلب کرنے کے لحاظ سے) جبکہ دوسرے کے کہتے ہیں یہ دہرائی ہے جیسے کہ اس مثال میں ہے اس لیے حیران کن خدانے، عظیم خدا نے تاہم زبور باب ۴۵ آیت ۱۱ ہم سے کہتی ہے کہ اس بادشاہ کی عبادت کرؤ کیونکہ وہ تمھارا خدا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس زبور میں اور دوسری میں داؤد مسیح کی قسم کا ہے۔ اور یہ بہت مشکل دیکھائی دیتا ہے کہ اس زبور کا کیسے خارج کیا جائے جو خداوند کا حوالہ پیش کرتی ہے۔ اس جملے کو تسلیم کرتے ہوئے خداتمھارا خدا کیا یہ یہودیوں کے لیے جو اسے پڑھتے ہیں غیر یقینی بات پیدا کرتی ہے۔ زبور باب۱۱۰ سے ہمیں یہ اشارہ ملتا ہے کہ صدق کے حکم کے بعد ایک خداوند بھی کاہن ہے۔
۲۔کیا پرانے عہد نامے میں کہیں ایسا ہے کہ خدفاوند اپنے تخت پر بیٹھا؟
پرانے عہد نامے میں خداوند نے کہا کہ وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہے غیر واضح طور پر حزقی ایل باب ۱ خاص طور پر آیت ۲۶ میں حزقی ایل باب ۱۰ آیت ۱، یسعیاہ باب ۶ آیت ۱ تا ۳ اور وجہ نہیں بنتی کہ زبور باب ۹۷ آیت ۱ تا ۲ اور زبور باب ۹۳ آیت ۲۔تو یہاں ایسی کو
ایک یہودی شخص کو جو خداوند کے حوالے سے زبور باب ۴۵ آیت ۷ تا ۸ کو رد کرتا ہے یا خداوند کا دہرا روپ پیش کرتی ہے اور داؤد کا اسکا ایک کارندھے کے طور پر پیش کرتی ہے۔
۳۔ عبرانی ۱ کیا کہتی ہے۔
عبرانی کی کتاب صحیح طریقے سے ہمیشہ کے لحاظ سے بیٹے کی طرح حوالہ دیتی ہے۔ تاہم یونانی جملے میں بھی ایسا ہی شک پایا جاتا ہے جیسا کہ عبرانی جملے میں عبرانی باب۱ آیت ۸ اس سے شروعہوتی ہے۔ لیکن بیٹے سے اور عبرانی باب ۱ آیت ۹ ہم سے کہتی ہے جیسے زبور باب ۴۵ آیت ۷ کہتی ہے اسلیئے خد تمھارا خدا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عبرانی باب ۱ آیت ۸ تا ۹ یسوع کو خد کہتی ہے اور زبور باب ۴۵ آیت ۷ تا ۸ اسکی تشریح کرتی ہے اور اسکا حوالہ خدا سے پیش کرتی ہے۔ تاہم عبرانی باب ۱ آیت ۸ تا ۹ کسی بات کا اضافہ نہیں کرتی سوائے کہ دوسرا خدا کا بیٹا ہے۔
باب ۱ آیت ۸ کا ترجمہ اسطرح کیا گیا تمھارا تخت اور خدا (جے پی گرین۔
(ویویٹس
خداوند تمھارا تخت ہے
والیوم ۱۲ کا عبرانی باب ۱ آیت ۸ کے حوالے سے
صفحہ نمبر ۱۹ کہتا ہے کچھھ متراجم ایت ۸ کے ابتدائی الفاظ میں رکاوٹ پیش کرتے ہیں لیکن یہ بہتر ہے کہ یونانی کو یہاں)جیسے کہ خداوند تمھارا تخت ہے یا اسطرح
میں تمھارا تخت اے خداوند۔ زبور باب ۴۵ آیت ۶ ایک پیشہ کی طرح لیا جائے جیسے کہ
آیت ۶ تا ۷ کے حوالہ جات بھی اسطرف اشارہ کرتے ہیں کہ بیٹا ہے جو بعد کی طرح خطاب کرتا ہے۔ اسکا بادشاہی معیار اسکے تخت کے حوالے باہر لایا جا سکتا ہے جو منصب شاہی کا نشان ہے اور ریاستیں اور اسکی اخلاقی تقوی سے تعلق جو بہت ریاستوں میں بڑا مقام رکھتا ہے۔ ہم شائد ہمیں لفظ کے خدا وقوع ایک دوسرے بلاوے کے لحاظ پر لے سکتے ہیں۔ اس لیے اے خدا تمھارا خدا تمھیں ٹھیک کرئے گا۔
خاصل کلام: صرف زبور باب ۴۵ آیت ۷ تا ۸ کی بنیاد پر نتیجہ نکالتے ہوئت تمھارا تخت اے خدا کے جملے کے رموز خداوند کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔ لیکن باب ۴۵ کی آیت ۷، ۱۱، ۱۷ پوری طاقت سے یہ تجویز پیش کرتی ہیں کہ یہ زبور خداوند کے ساتھھ ساتھھ داؤد کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے اور پرانے عہد نامے کی دوسری آیات بھی اسطرف اشارہ کرتی ہیں کہ خداوند ایک تخت رکھتا ہے۔
سوال: زبور باب ۴۶ ہم سے کہتی ہے کہ اس زبور کا خلاصہ کیا ہے؟
جواب: اس زبور میں تین تصویریں ہیں۔
آیت ۱ تا ۳ میں آفتوں سے نفرت کرتے ہوئے ہمیں خوف نہیں ہوگا۔
آیت ۴ تا ۷ میں خداوند ہماری پناہ ہے۔
آیت ۸ تا ۱۱ میں جنگوں کے بعد خداوند کی سربلندی۔
خداوند کے اس مستقبل کے شہر کے بارے میں مزید جاننے کے لیے مکاشفہ باب ۲۱ آیت ۱ تا ۲۲: ۵ پڑھیں۔
سوال: زبور باب ۴۶ کی آیت ۴ کے مطابق یہ کون سے دریا ہے اور یہ کسے ظاہر کرتا ہے، جبکے یروشلم میں کوئی دریا نہیں تھا؟ جواب: یروشلم میں اتنے بڑے چشمے تھے جوکہ ایک
کو پانی پلاتے تھے، لیکن یہ اس دریا سے تعلق نہیں رکھتا۔ برعکس اسکے زبور باب pool
۴۶ آیت ۴ تا ۱۱ مستقبل کے بارے میں بات کرتی ہے جب جنگیں موقوفکردی جایئںگی۔ (زبور باب۴۶ آیت ۹) جب خداوند کمان توڑ دے گا اور ہنتر کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔ (زبور باب ۴۶ آیت ۹) اور جب خداوند قوموں کے درمیان سر بلند ہو گا( زبور باب ۴۶ آیت ۱۰) نئے یروشلم میں زندگی کے پانی دریا ہوگا جو اس کے درمیانمیں سے بہے گا اسکا ذکر مکاشفہ باب ۲۱ آیت ۲، ۱۰ ،۱۰۔ ۲۲:۵ میں بھی ملتا ہے۔
سوال: زبور باب ۴۶ آیت ۵ کے مطابق صبح سویرے کی کیا اہیمت کیا ہے؟
جواب: فوج کا حملہ اکثر صبح سویرے ہی ہوا کرتا تھا۔ یہ اس لیے ہوتا تھا جب تھوڑا سا اندھیرا ہو فوجی دستے اپنی جگہیں لے لیں۔
سوال: زبور دنیا کے آخری وقت میں جنگوں کو موقوف کردے گا، تو پھر کیوں ابھی تک جنگیں ہوتیں ہیں؟
جواب: تاہم اسرایئل کے خلاف جنگوں کو تھوڑی دیر کے لیے موقوف کردیا گیا ہے، لیکن یہاں کے یہ لفظ پیش نہیں کیا گیا۔ داؤد یہ جانتا تھا تمام جنگیں نہیں روکے گی اور نہ ہی
خلاف اس لیے اس نے ایک فوج تعینات کی برعکس اسکے زبور باب ۴۶ کی آیت ۴ تا ۲۱۱ مستقبل کے اس وقت کی بات کرتی ہے ۔ جب یروشلم کے لیے شہر کے درمیان میں دریا بہے گا۔ تم اسکے بارے میں مکاشفہ باب ۲۰ آیت ۷۔۲۲ :۵ میں پڑھ سکتے ہو۔
سوال: کیا زبور ۴۶ کی آیت ۱۰ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ کیا انسان خدا بن سکتا ہے جیسے کہ
سکھتا ہے؟
جواب: نہیں ایسا بالکل نہیں ہے ۔ زبور باب ۴۶ آیت ۱۰ ہم سے کہتی ہے یہ جان لو کہ میں کے صفحہ نمبر ۶۹ تا ۶۵ کے مطابقتمھارا خدا ہوں تاہم
کا ۱۷۸ کہتا ہے کہ اس آیت کا مطالب ہے یہ بات جانلو کہ
خدا ہو (اصلی تحریر میں اسکے نیچے لائن نہیں ہے) دوسری طرف کچھھ زبانوں میں جن میں لاطینی، یونانی اور عبرانی شامل ہے اسم ضمیر( میں،تم،وہ،یہ وغیرہ) کو فعل کے ساتھھ شامل کیا جاتا ہے۔ خاص کر اس مخصوص آیت کے لیے