اَمثال

سوال: امثال میں اس کتاب کی کیا قدر ہے؟

جواب: بہت سی مسیحی، بہت سے اچھے جواب دے سکتے ہیں، لیکن یہاں ہپّو لائٹس کی بڑی قدیم تفسیر سے (اے ڈی 6/ 225-235) الفاظ ہیں: "اس لیے امثال ساری زندگی کے راستے کے لیے مفید نصیحت کا کلام ہے، ان کے لیے جو خدا کی طرف اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں، یہ ان کے لیے بطور رہنمائی اور دوبارہ زندہ کرنے کی نشانیاں خدمت کرتی ہیں، جب سڑک کی لمبائی کے ساتھ تھک گئے ہوں"۔

 ہپّو لائٹس (اے ڈی 6/ 225-235)آئرنیس کا ایک شاگرد تھا (182-188 اے ڈی میں لکھا، 120-202 اے ڈی میں رہا)، جو پولی کارپ کا شاگرد تھا (100-155 اے ڈی کے درمیان لکھا)، جو یوحنا رسول کا شاگرد تھا، جو تقریباً 90-110 اے ڈی میں فوت ہوگیا۔

سوال: امثال میں ، "حکمت کا علم" کیا ہے؟

جواب: آج، علم یا ادب کی بہت سی اقسام یا انواع ہیں، جیسے ناول، چھوٹی کہانی، تاریخی واقعات کا سلسلہ، نظمیں، محبت کی شاعری، الہامی، سوانح حیات وغیرہ ۔ کچھ جدید انواع قدیم دور میں مشہور نئیں تھیں، اور علم کی کچھ قدیم انواع آج تک نہیں لکھی گئیں۔ ایک مشترکہ قدیم قسم "حکمت کا علم" تھا۔ حکمت کے علم کی کم از کم چار اقسام ہیں، دونوں بائبل کے اندر اور باہر:

          امثال اور اقوال (آنکھشی شونکی کی ہدایات) (300-400 قبل از مسیح) 10:11 کہتی ہے، "وہ جو آسمان کی طرف تھوکتا ہے وہ اسکے کے چہرے پر آ کر گرتاہے"۔

          والدین کی نصیحت

                  مصیبت کیوں (انسانی راز کا بابلی مکالمہ یہ جواب دیتا ہے کہ دیوتاوں نے انسانوں کو بُرا بنایا ہے)

 زندگی کا بُرا ہونا (واعظ بھی اس چھوٹی قسم کا ایک حصہ ہے ماسوا اسکے کہ واعظ بھی خدا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ تجاوز کرتا ہے۔

بائبل کہتی ہے کہ دوسری تہذیبوں میں بھی دانشمند لوگ ہیں۔ مثلاً مصر (1سلاطین 30:4؛ یسعیاہ19: 11-12)، ادوم( یرمیاہ7:49 عبدیاہ8) بابل( سیعیاہ 47: 1، 10؛ یرمیاہ 35:50؛ 57:51؛ دانی ایل 1: 4،20؛ 2: 13-14؛ 8:5) ۔ یہاں کچھ دوسری مثالیں ہیں جو دوسری تہذیبوں میں ہیں:

مصر:

اِن سِنگر پائپرس (سی 100-400 قبل از مسیح)

آنکھشی شونکی

ہارپر کا گیت

انسان کا اپنی روح سے بحث مباحثہ

شہزادہ ہر جدف کی تحریریں

فوفوحوطپ وزیر کی ہدایات (2450ق م )

کاگی منی کی ہدایات

میریسکرے (2040-2160 ق م )

امنی ہیٹ (200 ق م ) (بیٹے کی طرف باپ)

انی کی ہدایت (1100 ق م)

امنی ہوپ کی ہدایت (900-1300 ق م )

امثال17:22، 22:24 اور امنی ہوپ کی تعلیم میں مشابہتیں ہیں ۔

اپوور کی ملامتیں (آنیٹ صفحہ 444-441) مصری معاشری میں تبدیلیوں کے خلاف احتجاج، اخلاقی گراوٹ اور معاشرتی ضابطے پر عدم استحکام کا اثر ۔

ایلاکیونٹ کسان کے احتجاج ( اینٹ صفحہ 41-407) (اکیسویں صدی ق م ) انصاف کے لیے فرعون کے خلاف کسان کا احتجاج کی نو تقاریر۔

سامری اور اکادی:

                      سرپک ( 1000-1500 ق م ) ایٹیکیوٹ عدالت کے نکات دیتی ہے۔

حکمت کی کونسل (1000-1500 ق م)

اکادی امثال (1600-1800 ق م )

سامری: انسان اور اس کا خدا (کیوں تکلیف میں) اٹھارھویں صدی ق م )  اس کے ایک میز کی تصویر انٹرنیشنل سٹینڈرڈ بائبل انسائیکلوپیڈیا جلد6 صفحہ 123 میں ہے۔ اس کام میں ، ایک معصوم انسان کی بد قسمتی ہے، مدد کے لیے دعا کرتا ہے آخر کار بچا لیا جاتا اور پھر اپنے دیوتا کی تمجید کرتا ہے۔

اکادی:

        میں حکمت کے خداوند کی تمجید کروں گا (بعض اوقات بابلی ایوب کہلاتا ہے)

اکادی: زندگی کی مایوسی کا مکالمہ (بارہویں صدی ق م مخالفت سے تعلیم) (انیت صفحہ 437) ایک نوکر راضی ہوتا ہے کہ اس کا مالک کیا کہتا ہے۔ جب مالک الٹ کہتا ہے تو نوکر پھر بھی راضی ہوتا ہے۔

بابلی:  انسانی راز کے متعلق مکالمہ (بابلی تھیوڈسی) شگل کنّم ابیب کے درمیان 27  تقاریر اور آسمانی انصاف اور انسانی راز کے متعلق دوستوں کا ایک گروپ ۔

حتی: اپو کی کہانی۔ اپو تکلیف میں کیونکہ اسکے کے بچے نہیں ہیں۔ اور اسکی بیوی اس پر تنقید کرتی ہے۔

آہی کار کا کلام جو اسور کا ہے (400-700 ق م ارامی اور ممکن ہے اکادی )  (اسکا پرانے عہد نامے میں ایک انگریزی ترجمہ سوڈی پگرافا ہے جلد 2 صفحہ 494-507)

یونانی:

          سوڈو فوکسی کلائیڈ (200 ق م  سے 200 م) پرانے عہد نامے میں اس کا ایک انگریزی ترجمہ سوڈی پگرافا جلد 2 صفحہ 507-494 ) ۔

اسوری:

          اسوری منینڈر کے فقرات (تیسری صدی م)

یہودی:

        اپاکرفا میں سلیمان کی حکمت واعظ ( = سیراخ = بن سیراخ کی حکمت ) اپاکرفا میں

   3مکابین (پہلی صدی ق م )

4 مکابین (پہلی صدی م)

(3 اور 4 مکابین بطور حکمتی علم درجہ بندی کی گئی ہے پرانے عہد نامے کا سوڈی پگرافا جلد 2 صفحہ 6-7)

بائبل کے اندر، حکمت کا علم امثال، واعظ، ایوب اور زبور 19، 37، 104، 107، 147 اور 148 ہیں۔ کچھ نے سلیمان کی غزل الالغزلات  کو حکمت کا علم کہنے کی کوشش کی ہے اگرچہ یہ حقیقیتاً محبت کی شاعری کی ایک صنف ہے۔

سوال: امثال میں، "بہت زیادہ حکمت کا علم تقریباً سلیمان سے منسوب کیا گیا ہے روش کے معاملے کے طور پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " ؟

جواب: نہیں، سوال کرنیوالا، یہاں اپنی طرفداری ظاہر کر رہا ہے۔ یہاں یہودی حکمت کے علم کی مشہور مثالیں ہیں۔

امثال

واعظ

ایوب

زبور 19، 37 ، 104، 107، 147، 148۔

 اپاکرفا میں سلیمان کی حکمت، واعظ ( = سیراخ = بن سیراخ کی حکمت )

 اپاکرفا 

 3مکابین

4 مکابین

زبوروں کو نہیں گنتا صرف سات میں سے تین کہا جاتا کہ سلیمان کے ہیں۔

سوال: امثال میں، سلیمان کی نجی زندگی دی گئی ہے بائبل میں اس کی تحریریں کیوں ہونی چاہیں تھیں؟

جواب: پہلے ہم دیکھتے ہیں جو بائبل کہتی ہے کہ سلیمان نے غلط کیا۔

گناہ 1۔ سلیمان نے غیر عورتوں سے شادی کر کے گناہ کیا (خروج 34: 15-16 استثنا 7: 1-5 ؛ نحمیاہ 13: 26-27؛ 1 سلاطین 11: 1-2؛ 2 تواریخ 8: 11 )

گناہ 2۔ بہت سی بیویاں رکھ کر ( استثنا 17: 17 ؛ 1 سلاطین 11: 3)

گناہ 3۔ بیویوں کا اس کا دل دوسرے دیوتاوں کی طرف موڑنے سے (1 سلاطین 11: 4-6، 10، 33 )

گناہ 4۔  اپنی بیویوں کے لیے اونچے مقامات اور بتوں کے لیے ہیکل بنا کر (1 سلاطین 11: 67-68 )

گناہ 5 ۔ بہت سے گھوڑے اور رتھ رکھنے سے (استثنا 17: 16، 2 تواریخ 9: 18؛ 1 سلاطین 10: 26-29 ) یہاں یہ ہے جو اس سے ہم سیکھ سکتے ہیں۔

سبق 1: حتیٰ کہ حکمت کے ساتھ سلیمان کی حکمت کی طرح عظیم کوئی حکمت رکھ سکتا ہے اور یہاں تک کہ خدا کا فرمانبردار رہا۔ یہ جاننا انکساری ہے کہ کوئی مسلہ نہیں کیسی ذہانت یا ہو سکتا ہے ہم سیکھے ہوں، کہ خدا کی طرف ہمیں کھنچنا اکیلا نا کافی ہے؛ ہم سب کو ابھی تک خدا کے فضل کی ضرورت ہے۔

سبق 2: کوئی کئی جگہوں میں حکمت کی مشق کر سکتا ہے، اور دوسروں میں نا فرمان ہو سکتا ہے۔ تاہم، یعقوب2: 10-11 ہمیں یاد کراتی ہے کہ اگر کوءی ہر جگہ شریعت کی فرمانبرداری کرتا ہے ماسوائے ایک جگہ اس نے اسے تھوڑا؛ وہ ابھی تک خدا کی شریعت کا توڑنے والا ہے۔

سبق 3: خدا نے کسی کو بھی انتخاب کی آزادی دی ہے، وہ چاہتا ہے، حتیٰ کہ کچھ سلیمان نوں پسند کرتے ہین کہ اس کا (خدا کا) کلام ہم تک منتقل کرے۔ ابھی تک کسی کو بائبل میں سے ایک بھی آیت نہیں ملی، خدا کو یہ کہتے ہوئے کہ یہ کرنے کے لیے پابند کرتا ہے۔

سبق 4: ہم خیال نہیں کر سکتے کہ کیونکر کسی کا، کوئی سنجیدہ اخلاقی کارکردگی رکھتا ہے، ہم ان کے الفاظ نظر انداز کر سکتے ہیں۔ خدا کی سچائی، خدا کی سچائی  ہے، یہ مسلہ نہیں ہم کہاں ہیں۔

نتیجہ: سلیمان کا کلام بائبل میں ہونا چاہیے کیونکہ وہ خدا کا سچا کلام ہے۔ سلیمان کے گناہ، خدا کے کلام کو جھٹلاتے نہیں، نہ ہی ہمیں ان کو نہ ماننے کی اجازت دیتے ہیں۔

سوال: امثال میں، کتاب کا خاکہ کیا ہے؟

جواب: امثال حکمت کی کہاوتوں کا ایک آزاد مجموعہ ہے۔ 

(1)        تعارف

 2-7  حکمت کی قدر پر سلیمان کا کلام، اسکے بیٹے کے لیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2 حکمت کے فوائد چاندی سے زیادہ قیمتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔3 حکمت اجر دیتی ہے، لیکن حکمت خود ایک انعام ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔4 حکمت مشکلات اور بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5 حکمت جنسی بد اخلاقی سے محفوظ رکھتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔6- حکمے غربت، جھگڑے، مکروہ چیزوں اور بد اخلاقی سے بچاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔7 حکمت کو اپنی بہن کے طور پر لے، بجائے آوارہ عورت کے۔

8 "کیا حکمت پکار نہیں رہی۔ حکمت کی پسندیدگی

9 حماقت کے برعکس حکمت کی دعوتیں۔

10   22: 16 "سلیمان کی امثال"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔10-15 بدی کے برعکس راستبازی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔16- 22: 16 حکمت کی قدر

22: 17-24 : 34 "حکمت کی کہاوتیں"

24: 23-24 "یہ بھی حکمت سے تعلق رکھتی ہیں"

25-29 " یہ بھی سلیمان کی امثال ہیں، جو  حزقیاہ شاہ یہوداہ نے نقل کی"۔

30 " اجور کا کلام " حکمت کا موازنہ

31 "لموایل بادشاہ کا کلام"

۔۔۔۔۔31: 1-9 بادشاہ کے راستے

31: 10-13 شریف بیوی

باب 1 ہم آہنگی کی تحریک کی مانند ہے۔ یہ مقاصد کا ایک مخصوص مزہ دیتی ہے بعد میں کتاب میں ملتا ہے، خداوند کا خوف، ایک بیٹے کو ایک باپ کی ہدایت ہے اور حکمت کی پکار ہے۔

سوال: نئے عہد نامے میں کہاں امثال کے حوالے درج ہیں؟

جواب:  یہاں دس مقامات ہیں ۔

رومیوں 3: 15

 

رومیوں 12: 16

 

عبرانیوں 12: 5-6

یعقوب 4: 6

 

1پطرس 4: 8

 

1پطرس 4: 18

 

1پطرس 2: 17

 

رومیوں 12: 22

 

2پطرس 2: 22

 

یعقوب 3: 31

امثال 1: 16

 

امثال 3:17

 

امثال3: 11-12

امثال 3: 34

 

امثال 10: 12

 

امثال 11: 31

 

امثال 24: 21

 

امثال 25: 21-22

 

امثال 26: 11

 

امثال 27: 1

 

سوال: امثال میں، اس کتاب کی کیسے تشریح کرنی چاہیے؟

جواب:  کتاب خوبصورت عبرانی شاعری کو گہری اور سادہ تعلیم دونوں سے جوڑتی ہے ہمیں پہچاننا چاہیے کہ زیادہ تر اقوال کائناتی اور کردار میں عام ہیں۔ ہر معاشرہ میں، ہر ایک پر اطلاق اور نکات عام طور پر سچ ہیں، لیکن ہر ایک فرد کے لیے ضروری نہیں۔

سوال: امثال 1: 1  میں کیا سلیمان نے تمام امثال لکھیں؟

جواب: نہیں سلیمان نے شاید اکثر امثال لکھیں ہیں لیکن امثال 30 اجور کا کلام ہے اور امثال 31 لموایل سے آئی ہیں اسکی ماں کی تعلیم پکار ہے۔ اجور اور لموایل کے سوچنے کی   کوئی وجہ نہیں سلیمان کے لیے مترادف ہے ۔ چار پانچ حصے سے زیادہ امثال سلیمان کی ہیں۔ اسکندریہ کا کلیمنٹ (217-183 م ) سڑومیٹا 2: 15  بھی اس ستے متعلقہ ہے کہ سلیمان نے امثال لکھیں۔ عالم مختلف رائے رکھتے ہیں کہ یہاں تعارف پہلے حصے کی طرف اشارہ کرتا ہے (امثال 1: 2 – 9: 18 ) یا امثال کی پوری کتاب، لیکن جو شاید یہ صرف پہلا حصہ مکمل کرتا ہے چونکہ دوسرے حصے اپنے تعارف آپ رکھتے ہیں۔

سوال: امثال میں، 1: 1-7 اس کتاب کا مقصد کیا ہے؟

جواب: امثال کی کتاب گہری اور سادہ اقوال کے ساتھ حکمت کی عملی کتاب ہے۔ ہر ایماندار کو خدا کی حکمت کی ضرورت ہے ، اور یہ کتاب خدا کی حکمت حاصل کرنے کے لیے ہماری مدد کرتی ہے۔ امثال 1: 1-6 کتاب کا مبینہ مقصد دیتی ہے ۔ "حکمت اور تربیت حاصل کرنے اور فہم کی باتوں کا امتیاز  کرنے کے لیے عقلمندی اور صداقت اور عدل اور راستی میں تربیت حاصل کرنے کے لیے سادہ دلوں کو ہوشیاری جوان کو علم اور تمیز بخشنے کے لیے تاکہ دانا آدمی سنکر علم میں تعقی کرے اور فہیم آدمی درست مشورت تک پہنچے جس سے مثل اور تمثیل کو داناوں کی باتوں اور ان کے معموں کو سمجھ سکے"۔

سوال: میں، کیا ہم خداوند سے ڈرنے کے لیے ہیں یا خدا سے محبت کرنے کے امثال 1: 7 لیے؟

جواب: دونوں، مناسب سمجھے گئے ہیں۔ ہم خدا سے اپنے پورے دل ، اپنی پوری عقل، اپنی پوری جان اور اپنی پوری طاقت سے محبت کرنے کے لیے ہیں۔ پھر بھی ہم نہیں سمجھتے کہ خدا ہمارا بطور "دوست" ہے خداوند کا خوف اسکا احترام کرنا ہے کہ وہ کون ہے اور اسکے خوف میں رہنا۔ امثال 8: 13 کہتی ہے کہ خداوند کا خوف، جس میں بدی، غرور، خودی، بُرا رویہ اور گمراہ کن گفتگو بھی شامل ہے۔

سچے مسیحیوں کوں ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ خدا انہیں جہنم میں بھیجے گا (عبرانیوں 12: 18-24) ہمیں ابھی تک ان لوگوں کی ابدی منزل کے لیے ڈرنے کی ضروت ہے جنہوں نے یسوع کو اپنا خداوند اور نجات دہندہ قبول نہیں کیا۔ مثلاً اعمال 2: 40 میں ان سے بحث کرتا ہے۔

سوال: امثال میں، 1: 7، 20؛ 9: 10؛ 14: 27؛ زبور 10: 111؛ ایوب 28: 28

حکمت کیا ہے اور کیسے خداوند کا خوف حکمت کا شروع ہے؟

جواب: حکمت کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے۔ زندگی کے لیے کامل علم ایک عجیب بات ہے کہ اقوام دانش مند تصور نہیں کی جاتیں، صرف افراد۔ خدا کی عزت اور اسکی فرمانبرداری حقیقی حکمت کا شروع ہے۔ امثال 8: 13 کہتی ہے کہ خداوند کا خوف بدی سے نفرت ہے اور یہ کہ خدا غرور، خودی، بُرے رویے اور بُری گفتگو سے نفرت کرتا ہے۔

سوال: امثال 1: 8 میں اس کا کیا مطلب ہے ہم خدا کے قوانین کی بجائے والدین کے قوانین کی پیروی کریں؟

جواب: نہیں، قدرے یہ آیت سکھا رہی ہے کہ ہمیں خدا کی تعلیم کی پیروی کرنی چاہیے، جسے کئی بچپن سے ہی اپنے نیک والدین سے سیکھتے ہیں۔

سوال: امثال 1: 10 میں کیسے گنہگار دوسروں کو پھسلاتے ہیں؟

جواب: بعض اوقات وہ دوسروں کو قائل کرنے کے لیے مختلف دلائل استعمال کرتے ہیں لیکن یہ بنیادی طریقہ نہیں ہے۔ مزید برآن یہ گناہ آلودہ خواہش کرنے کی درخواست ہے اور سبز باغ دکھانے کے لیے دباؤ ہے۔ تصور کریں ٹی وی فلمیں کتنی مختلف ہیں اور سڑک کنارے لگے بورڈ کتنے مختلف ہوں  اگر ان میں گناہ کرنے کا لالچ نہ ہو۔

سوچنے کا مقام ہے کہ دو لوگ ہو سکتا ہے اسی طرح کے پھسلانے  کے اثر کو ظاہر کریں،پھر بھی وہ بڑا مختلف رد عمل دے سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم ہر چیز پر قابو نہ پا سکیں جو ہمیں پھسلاتی ہے۔ لیکن ہم ذمہ دار ہیں کہ اپنے آپ پر بُری چیزوں کو اثر انداز ہونے کی کتنی اجازت دیتے ہیں۔

سوال: امثال 1: 29 میں کچھ لوگ علم سے کیوں نفرت کرتے ہیں ؟

جواب: جب کہ کچھ لوگ تعلیم کی طرف سے بے پرواہ ہوتے ہیں، دوسرے حقیقت میں کسی علم سے نفرت کرتے ہیں۔ علم جو آپ خیال نہیں کرتے کہ گناہ کے لیے ہے اور تم کیوں گناہ خیال کرتے ہو، وہ جو پہلے ہی گناہ کرنے کے لیے اپنے ذہن میں تیار ہیں وہ نہیں چاہتے علم حاصل کیا جائے۔

اسی طرح 2 کرنتھیوں 2: 15-16 کہتی ہے کہ مسیحی  "خداوند یسوع مسیح کی خوشبو یا مہک" ہیں۔ ہم کسی کے لیے موت کی مہک  اور کسی کے لیے زندگی کی خوشبو ہوتے ہیں، ان کے لیے جو سچائی کو رد کرتے ہیں، ہم آنی والی عدالت کی ناخوشگوار تاکید ہیں ان کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں کہ گناہ لا علاج اور بے رحم ہے ہم تاکید کرنے والے ہیں کہ ان کا خیال تنگ ذہن ہے اور غلط ہے ۔

سوال:  امثال 1: 32 میں، احمقوں کی خوشحالی انہیں کیسے تباہ کرتی ہے؟

جواب: دولت ان کو جینے کا ذریعہ دیتی ہے انکی خواہشات کے مطابق۔ یہ ان کو طبعی طور پر مار سکتی ہے، یا بیماری سے تشدد یا دوسرے ذرائع سے ۔ مجموعی طور پر، ایک احمق کا گناہ اُسے روحانی طور پر مارتا ہے۔

سوال: امثال 2: 8، 13 میں انصاف کی راہیں اور تاریکی کی راہیں کیا ہیں؟

جواب: راہیں امثال کی کتاب کا مرکزی عنوان ہے انجنیر آج انہیں ہو سکتا ہے کہ تراکیب کیتے ہوں۔ جب آپ اچھی عدالت استعمال کرتے  ہیں تو آپ اور زیادہ اچھی  عدالت استعمال کرنے کے قابل بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔ جب آپ گناہ کرتے ہیں تو اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ تم اکثر وہ گناہ دوبارہ کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ مجموعی طور پر، بعض اوقات آپ پہلے گناہ کو چھپانے کے لیے دوسری دفعہ گناہ کرنا محسوس کرتے ہو، جیسے داود نے اپنے زنا کے گناہ کو چھپانے کے لیے قتل کا جرم کیا۔

سوال: امثال 2: 16، 19؛ 5:3 میں یہاں بیگانہ عورت کون ہے؟

جواب: یہ ایک غیر اخلاق عورت کی طرف اشارہ کرتا ہے، خاص طور پر وہ جو پیسوں کے لیےزنا کرتی ہے۔

سوال: امثال3: 2؛ 11:9؛ 21:10، 27 میں خداوند کے قوانین کی فرمانبرداری کیسے آپ کو لمبی عمر دیتی ہے؟

جواب: سب سے پہلے وہ جو خدا کے قوانین مانتے ہیں خدا ان کو برکت دیتا ہے (امثال32:8) دوسرے نمبر پر، یقیناً خدا ترس زندگی بسر کرنا، شراب نوشی، منشیات، تمباکو نوشی، ایڈز اور جنسی بیماریوں اور زیادہ تشدد سے مرنے کے آپ کے مواقع کم کرتی ہے ۔ تاہم ، یہ خدا کے ساتھ ابدی زندگی  کے مقابلے میں بہر غیر اہم فوائد ہیں۔

سوال: امثال 5:3 میں، ہمیں اپنے آپ پر بھروسہ کیوں نہیں کرنا چاہیے؟ حالانکہ جدید ثقافت میں کئی آوازیں ہمیں ایسا کرنے کو کہتی ہیں۔

جواب: لوگ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا پر یقین کرتے ہیں اور بائبل کی سچائیوں پر۔ تاہم، تم خدا پر بھروسہ کرنے کے بغیر بھی، یقین کر سکتے ہو۔ خدا پر بھروسہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی حکمت سب سے بہترین حکمت ہے اور بھروسہ کرنا یہ کہ تمہارے لئے خدا کی راہ سب سے بہترین راہ ہے اور سب تمہارے محبت کرنے والوں کے لیے بھی۔

 سوال: امثال7:3 میں کوئی اپنی ہی نظر میں کیسے عقلمند بن سکتا ہے، اور یہ غلط کیوں ہے؟

جواب: آخر کار، اس کا مطلب دونوں بھروسہ کرنا کہ تمہاری حکمت خدا کی نسبت زیادہ گہری ہے، زیادہ عملی یا بہتر ہے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ تم سوچتے ہو کہ تم پہنچ چکے ہو اور زیادہ سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ فلپیوں 3: 12-14 میں پولس کا رویہ اس سے بہت مختلف تھا۔

سوال: امثال 3: 9 میں ہم اپنے خدا کی اپنی دولت سے کیسے تعظیم کر سکتے ہیں؟

جواب: جبکہ کام اور وقت رقم سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، وہ مختلف عنوانات ہیں جو یہاں بیان نہیں ہوئے یہاں 28 طریقوں کی فہرست ہے جس سے ہم اپنے مال سے خدا کی تعظیم کر سکتے ہیں۔ آپ یاد کر سکتے ہیں محاورے کی چار اقسام ہیں " خدا میں اُمید نہ کہ مال میں" مال کی محبت سے آزاد دل۔

ایچ1۔ محسوس کریں کہ خدا قدرت، خواہش اور عمدہ وعدہ رکھتا ہے کہ اپنے فرمانبردار بچوں کو مالی طور پر مہیا کرے۔ دولت سے پیار نہ کرو (زبور62: 10) یا کیا آپ کا دل دولت پر خیال کرتا ہے (متی 6: 21؛ کلسیوں 3: 1-2) اور نہ ہی دولت کے بارے فکر مند ہوں (متی 6: 25-34)۔

ایچ2۔ ہمیں پہچاننا ہے کہ ساری دولت خدا سے تعلق رکھتی ہے (زبور 24: 1؛ 50: 9-12) خدا دولت لاتا ہے (استثنا 8: 18؛ امثال 10: 22؛ 22: 4؛ ملاکی 3: 10-12)

ایچ 3۔ جبکہ دولت رکھنا ٹھیک ہے (1 تیمتھیس 6: 17؛ ایوب 42: 10-12، پیدائش 13: 6،2 ؛امثال 104؛ 14: 24) دولت ایک پھندا ہو سکتی ہے (قضاۃ 8: 24-27 )، مرقس 10: 21-25) ہم دولت سے محبت کرنے کے لیے نہیں (1 تیمھتیس 6: 10؛ 2 تیتھیس 3: 2؛ عبرانیوں 13: 5؛ رومیوں 1: 29) ، لالچی بننے کے لیے امثال 15: 27؛ لوقا 12: 15) یا اپنی دولت پر بھروسہ کرنے کے لیے نہیں (زبور 49: 6 ؛ 52: 7 ؛ امثال 11: 28 ؛ 18: 10-11 ؛ 30: 8-9 ؛ یرمیاہ 9: 23 ؛ لوقا 12: 16-21)

ایچ 4۔ ہمیں اپنا خزانہ آسمان میں جمع کرنا ہے ( متی 6: 19-21 ؛ 19: 23؛ لوقا 12: 15-21 ؛ مکاشفہ 3: 11) ۔ خدا کے لیے اپنے زمینی خزانے کھو جانے کے لیہے مت ڈرو۔ (عبرانیوں  10: 34 ؛ متی 6: 19-21 ؛ لوقا 2: 15-18، 33-34 ؛ اعمال 4: 32-37 )

ایچ 5۔ دوسروں پر رشک نہ کرو، یا ان پر جن کے پاس زیادہ ہے (زبور 73: 2-17 ؛ امثال 23: 17؛ زبور 37: 4 ؛ رومیوں 7: 7-12 ؛ 1 کرنتھیوں 13: 4) ۔ دوسروں کے پاس جو ہے اس کی خواہش نہ کرو (خروج 20: 17 ؛ استثنا5: 21 ؛ رومیوں 7: 7-12 ) ۔ دوسروں کے یہ مال و دولت حاصل کرنا نہ سوچو کہ وہ تمہارے پاس لا سکتے ہیں ۔

ایچ 6 ۔ ہم دولت کی نسبت حکمت کی قدر کرتے ہیں ( امثال 3: 14-15 ؛ 20: 15 زبور 37: 16) اور دولت کی نسبت اچھے نام ( امثال 22: 1 ) یہ جانتے ہوئے کہ دولت کتنی عارضی ہے ( امثال 11: 4، 18 ؛ 23: 5 ؛ 1 تیمتھیس 6: 7 ) پہچانیے کہ پیار کے ساتھ تھوڑا اور خدا کا خوف، نفرت سے اور جھگڑے کی نسبے بہتر ہے (امثال 15: 16-17 ؛ 17: 1 ؛ 19: 1 )

ایچ 7۔ اپنے آپ کو بچے نہ بتاؤ، یہ سوچ کر کہ تمہاری دولت کوئی ابدی چیز خرید سکتی ہے ( متی 16: 26 ؛ مرقس 8: 37 ؛ اعمال 8: 20-21 ؛ زبور 50: 9-12 ؛ میکاہ 6: 6-8 )

مال میں دیانتداری:

11  چوری نہ کر (بشمول لوٹ کا مال ) کروج 20: 15؛ استثنا 5: 19، افسیوں 4: 28 ؛ طِطُس 2: 10 ؛ متی 15: 19 ) ناجائز دولت نہ رکھو ( امثال 1: 13، 14، 19؛ 10: 2 ) اگر آپ نے چرایا ہے ، یا دھوکا کیا ہے یا غلط کیا ہے اسکی تلافی کرو ( خروج 22: 3-5 ؛ گنتی 5: 5-8 ؛ لوقا 19: 8 )

12   دوسروں کو ادا کرو جو تم نے قرض لیا (زبور 37: 21 ؛ رومیوں 13: 8؛ یعقوب 5: 4 ) اور جلدی سے ( احبار 19 : 13 ؛ استثنا 24: 15) اپنے ٹیکس ادا کرو ( متی 22: 21 ؛ 17: 24-27؛ مرقس 12: 17 ؛ لوقا 20: 25 ؛ رومیوں 13: 6 ) اور کسی بھی عدالتی فیصلے کا بھی ادا کریں ( خروج 21: 22 ) ۔

13    دوسروں کے خلاف عدالتوں کو دبانے یا نا انصافی کے لیے استعمال نہ کرو جو غریب ہیں جب وہ تمہارے قبضے میں ہوں کیونکہ تم امیر ہو (امثال 14: 31 ؛ 22: 22-23 ؛ 24: 28 ؛ یعقوب 2: 6 ؛ حزقی ایل 22: 7 ، 13، 29 ؛ 45: 9 ؛ 1 سلاطین 21 : 1-15) (خلاف قیاس کے طور پر، کوئی شخص یا قوم ، غریبوں سخاوت کا نمونہ دے سکتے ہیں، اور اسی وقت وہ انہیں دبا کر رکھ سکتے ہیں)، قدرے ہم دبے ہووں کا دفاع کریں ( یرمیاہ 7: 6 ؛ 22: 16 ؛ یسعیاہ 1: 17 ؛ 58: 6 ) مثال کے طور پر پرانے وقتوں میں کان کھودنے والوں کو کمپنی تنخواہ دیتی تھی، اور وہاں ارد گرد کوئی ذخیرہ خانہ نہیں ہوتا تھا ، سوائے کمپنی کی ملکیت کے، جو کوئی طے کیا جاتا وہ ادا کرتی تھی۔ یہاں ایک تقریباً ایک کان کن کا ایک گیت ہے  "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمپنی میں ذخیرہ کرنے کے لیے میری جان بیچی گئی " ۔

14 ہمیں رشوت لینے سے نفرت کرنی چاہیے (امثال 15: 27؛ 17: 23، زبور 15: 5 ؛ خروج 23: 8 ؛ استثنا 16: 19 ؛ واعظ 7: 7 ؛ 1 سیموئیل 12: 3 ؛ یسعیاہ 1: 23 ؛ عاموس 5: 12 ؛ 2 تواریخ 19: 7 ) ، کیونکہ وہ ہمارے دلوں کو بد عنوان کر سکتی ہے۔  (استثنا 16: 19 ؛ امثال 15: 27 ؛ 28: 16؛ زبور 15: 5 ؛ واعظ 7: 7 ؛ یسعیاہ 5: 13 ؛ 1 سیموئیل 4: 3-4) ۔

 15    جو تمہاری زمیں نہیں اس کا دعویٰ نہ کرو (استثنا 19: 14 ؛ 27: 17 ؛ امثال 22: 28 ؛ 23: 10 ؛ ایوب 24: 2 ) یا دوسری قابل قدر چیزوں کا ( یشوع 7: 1 ، 20-24 ) ۔

16   جو آپ دے رہے ہیں اس کے متعلق جھوٹ نہ بولو ( اعمال 5: 1-11 ) یا شیخی مارنا اس کے متعلق جو آپ نہیں دیتے ( امثال 25: 14 )

16   خداوند کے پیسے کے استعمال میں ایماندار اور محتاط رہو ( 2 سلاطین 12: 4-16 ؛ نحمیاہ 13: 4-13 ) ۔ پیسے کی بیہودہ نمائش سے بچو  ( 2 کرنتھیوں 8: 18-21 ؛ 1 تھسلُنیکیوں 5: 22 ) ۔

اپنا روپیہ پیسا دینا: 

1 جی کنجوس نہ بنو ( امثال 28: 22 ؛ 2 کرنتھیوں 9: 6 ) خوشی سے دو ( 2 کرنتھیوں 9: 7 ) ۔ خدا دیکھتا ہے

 کہ جو تمہارے پاس ہے تم اس تناسب سے دیتے ہو ) مرقس 12: 42-43 ؛ لوقا 21: 2-3 ) تم نے کیا قیمت ادا کی ( 2 سیموئیل 24: 21-24 ) ۔  خدا کو دینا ایمانداروں کے لیے اختیاری مضمون نہیں (ملاکی 3: 10-12 ) ۔ مشترکہ طور پر چیزیں بانٹنا اچھا ہے (اعمال 4: 32 ) ، لیکن ذاتی جائیداد بھی اچھی ہے ( 2 تیمتھیس 4: 13 )

2 جی  ہمیں غریبوں کو سخاوت سے دینا ہ ے اگرچہ یہ دکھاوا  نہ ہو ۔ ( امثال 11: 24-25 ؛ 14: 21؛ 24: 11-12 ؛ 29: 7؛ ؛ 31: 9، 20 ؛ 11: 24-25 ؛ 19: 9-10، 17 ؛ 21: 13 ؛ 22: 9، زبور 41: 1 ؛ یسعیاہ 58: 7-8 ، 10 ؛ یرمیاہ 5: 28 ؛ 22 : 16 ؛ متی 6: 2-4 ؛ 19: 21 ، گلتیوں 2: 10 ؛ افسیوں 4: 28 ؛ 1 تیمتھیس 6: 18-19 ) ۔ غریبوں کو حقارت سے نہ دیکھو ( امثال 22: 2)

3 جی    ہمیں بیواوں اور یتیموں کی خاص طور پر مدد کرنی ہے ( یعقوب 1: 27 ؛ استثنا 15: 11 ؛ زبور 68: 5 ؛ ایوب 29: 12-13 ) ، اور بیماروں کی ، بھوکوں کی، ننگوں کی اور قیدیوں کی ( متی 25: 34-46 ؛ ذکریاہ 7: 9-10 ) ۔

4 جی    احمق کو پیسے نہ دو (امثال 17: 16 )  یا جو کام چور ہیں ان کی مدد نہ کر ( 2 تھسلُینکیوں 3: 6-15 )، پھر بھی ان کو حقارت سے نہ دیکھو اور انکی مدد کرو، اگر وہ توبہ کریں ( لوقا 15: 18-30)

5 جی    ہمیں خداوند کے کام کے لیے دینا ہے (2کرنتھیوں 8: 1-8 ؛ 9: 6-1 ؛ امثال 3: 9، 10 ؛ 11: 24 ؛ 1 کرنتھیوں 16: 2 ؛ طِطُس 2: 13 ) ۔ تاہم، تم خدا کے گھر کی تعظیم کرو (ملاکی1: 10-14)، دوسروں کے ساتھ صلح رکھیں ( متی5: 23-24)، اور دوسروں کو ناجائز حاصل کیے گئے تحفے نہ دو ( استثنا 23: 18؛ امثال 10:2)

6 جی    ہمیں اپنے خاندان کو مہیا کرنا ہے (1 تیمتھیس 5: 4، 8 ؛ امثال 31: 13-15 ؛ مرقس 7: 10-13 ؛ لوقا 15: 18-30)

7 جی    خدا کے کام کے لیے غیر ایمانداروں سے روپیہ نہ لینا ( 3 یوحنا7) تاہم، کام کے لیے غیر ایمانداروں کو ادا کرنا ٹھیک ہے ( 1سلاطین 5: 3-18) لوگوں کی مہربانی کے لیے دوبارہ ادا کرنے کے لیے موقع ڈھونڈیں (2 سیموئیل 9: 1 ؛ آستر 6: 1-4) ، پھر بھی زمین پر اپنے آپ کو دوبارہ ادا کرنے کی اُمید نہ رکھیں (لوقا 6: 30 ، 34-35)

مال و دولت میں حکمت

1ڈبلیو      ہمیں اپنی روز مرہ کی ضروریات کے لیے مہیا کرنا ہے ( طِطُس 3: 14) خدا کے خادم اپنی ادائیگی کے حقدار ہیں ( 1 کرنتھیوں 9: 4-12 ؛ 1 تیمتھیس 5: 18 ؛ گلتیوں 6: 6)

2 ڈبلیو    ہمیں آئندہ کے لیے منصوبہ بندی اور بچت کرنی چاہیے ( امثال 6: 6-8 ؛ 10: 5 ؛ 31: 16 ؛ لوقا 15: 18-30 ؛ طِطُس 3: 14 ) اپنے بچوں کے لیے ورثہ بھی شامل ہے ( امثال 13: 22 ؛ 17: 2 ؛ 9: 14 ؛ زبور 17: 14)

3 ڈبلیو   ہمیں جلد بازی کے مال کے فیصلے نہیں کرنے ( امثال 22: 26-27 ؛ 6: 2-3) یا اس کے برابر دوسرے کام کے لیے رکھنے ہیں ( امثال 6: 1، 3 ؛ 11: 15 ؛ 17: 18 ؛ 20: 16 ؛ 27: 13)

4 ڈبلیو    ہمیں اپنے مال کو فضول خرچی یا گناہ میں خرچ نہیں کرنا ( امثال 20: 21 ؛ یعقوب 5: 5 ؛ متی 23: 25 ؛ عاموس 6: 4-7) ہمیں اپنی جائیداد کی حفاظت کرنی چاہیے ( امثال 12: 10، 11، 27) ہمیں اپنی دولت کی حالت کا پتہ ہونا چاہیے ، کیونکہ اسے نظر انداز کرنے سے یہ گم ہو سکتی ہے ( امثال 27: 23-24)

5 ڈبلیو     ادھار دینے میں محتاط رہیے ؛ یہ جان کر کہ قرض لینے والا ، دینے والے کے قبضے میں ہے ( امثال 22: 7)

6 ڈبلیو    کینے سے دیئے گئے تحفوں سے ہوشیار رہو ( امثال 23: 1-3) مناسب طریقے سے تحفے دینا، دینے والے کے لیے فائدہ مند ہے ( امثال 19: 6 ؛ 21: 14)

7 ڈبلیو    عقلمند بنو۔ بہت سے لوگ کرتبی ہوتے ہیں ( امثال 20: 14 ) رشوت کے لیے چارہ گوئی کرتے ہیں ( امثال 17: 8) یا روپے پیسہ میں بد دیانتی کرتے ہیں ( امثال 20: 17 ؛ یعقوب 5: 4 )  روپے پیسے کی وجوہات پر بعض لوگ انجیل کی مخالفت کرتے ہیں ( اعمال 19: 24-28)

سوال : امثال 3: 16 ؛ 3: 2 اور 28: 16 میں چونکہ ہم سے لمبی زندگی کا وعدہ کیا گیا ہے کیا ہر مسیحی کو زندگی کا احاطہ کرنا چاہیے؟ غیر مسیحی کی نسبت اوسط زندگی کے خواہشمند رہنا چاہیے؟ اگر نہیں کیسے اوسط زندگی کا احاطہ کرنا چاہیے؟

جواب:  اگر کوئی ایماندار صرف ایک سو(100) سال زندہ رہتا ہے یا حتیٰ کہ 200؟ اپنے شروع میں اپنے بدن اور ذہن کے ساتھ، وہ مریل گھوڑے کی مانند ہو گا ۔ کیونکہ ہماری زندگی کا احاطہ آسمان میں ابدی زندگی کا احاطہ ہے۔ افسیوں 6: 3 پر بحث پر بھی نظر کریں اور امثال 3: 2 پر بھی، مزید معلومات کے لیے۔

سوال: امثال 3: 27 میں ہم کیسے دوسروں سے نیکی دبائے رکھتے ہیں؟

جواب: یہ تمہارے ملازموں کو ادا کرنے کی طرف حوالہ ہے ( یعقوب 5: 4 ؛ ملاکی 3: 5 ) اسکے ساتھ ساتھ خیرات جو کچھ تم ادا کرتے ہو، اور دوسروں کی مدد کے لیے حمایت کرتے ہو تم کو کچھ ادا نہیں ہوتا۔ اس کا لغویٰ مطلب ہے، "اسکے مالکوں سے نیکی نہ دباؤ۔ خیال مکمل ہے کہ یہ ایک فرض ہے جیسے کسی لگائے مزدور کو مزدوری دینا" ۔

ایک بغیر ایثار آمیز نوٹ پر ، امثال 14: 4 کہتی ہے، " یہاں بیل نہیں کھرلی خالی ہے۔۔۔۔۔"

سوال: امثال 4: 6 میں کیسے حکمت لوگوں کو محفوظ رکھتی ہے؟

جواب: امثال 5: 23 ظاہر کرتی ہے کہ حکمت لوگوں کو محفوظ رکھتی ہے ان کو انکے راستوں پر قائم رکھ جہاں وہ جانا چاہتے ہیں اور تباہی کے راستوں سے دور رکھ کر۔ جب تم خدا کی مرضی کے مرکز ہوتے ہو، تا نظم و ضبط کے لیے، تم سے کوئی بھی بُرا واقع نہیں ہو گا سوائے خدا کے جلال کے جسکی وہ اجازت دیتا ہے۔

سوال: امثال 4: 8 میں، ہم کیسے حکمت کو عزیز رکھتے ہیں؟

جواب: سب سے پہلے، یہ تمام حکمت کی طرف اشارہ نہیں کرتا، بلکہ خدا کی حکمت کی طرف۔ ہمارے دولت کی نسبت قیمتی حکمت ہے (امثال 3: 14-15 ؛ 16: 15-20)

طبعی فوائد: حکمت ہماری لمبی زندگی میں مدد کرتی ہے۔ ابدی زندگی بھی اس میں شامل ہے ( امثال 3: 16) حکمت ہمیں صحت مند رکھتی ہے ( امثال 4: 20-27 ) حکمت ہماری حفاظت کرتی ہے اور محفوظ کرتی ہے ( امثال 3: 23-26) حکمت ہمیں غربت سے بچاتی ہے( امثال 3: 16 ؛ 6: 1-11 ) حکمت ہمیں مسیبت سے بچاتی ہے ( امثال 1: 10-33 ؛ 4: 10-19)

انسانی تعلقات:  حکمت دوسروں کے ساتھ بہتر رہنے کے لیے ہماری مدد کرتی ہے ( امثال 3: 21-35 ؛ 6: 12-19) حکمت عزت دیتی ہے ( امثال 1: 8-9 ) حکمت ہمیں جنسی بے راہ روی سے بچاتی ہے ( امثال 5، 6: 20 ؛ 7: 27) حکمت ایک اچھا شریک حیات تلاش کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے ( امثال 31)

طویل فائدے:  ہم خدا کی حکمت کو دیکھتے ہیں نہ صرف انجام کے ذریعے کے طور پر، بلکہ یہ اس کا اپنا اجر بھی ہے ( امثال 3: 13-15 ؛ 4: 7 ؛ 9: 1-6) حکمت خدا کو خوش کرنے کے لیے زندگی گزارنے میں ہماری مدد کرتی ہے اور ہمیں خدا کے نزدیک کر دیتی ہے (امثال 8: 35)

سوال: امثال 4: 17 میں، ہم کیسے شرارت کی روٹی اور غضب کی شراب پیتے ہیں؟

جواب: کچھ لوگ اپنی کمائی کرتے ہیں، اور شرارت اور غضب سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ شرارت اور غضب کو اپنے اندر لے لیتے ہیں اسطرح یہ ان کی پہچان اور انکی اندرونی حالت کا حصہ بن جاتا ہے۔

سوال:  امثال 5: 3-5 میں، خدا نے کیوں عورت کو جہنم میں جانے کے لیے بنایا صرف عورت ہونے کی وجہ سے؟ ( ایک مسلمان نے یہ پوچھا)۔

جواب: میں بہت حیران ہوں کہ ایک مسلمان الزام لگانا چاہتا ہے کہ بائبل سکھاتی ہے کہ خواتین جہنم کے لیے ہیں۔ امثال 5: 3-5 میں جب یہ ایک "بیگانہ عورت" کی بات کرتی ہے تو یہ صاف طور پر ایک بد اخلاق عورت کے بارے بات ہے ، کیونکہ یہ احادیث کہتی ہے اس عنوان پر کہ عورتیں جہنم میں جا رہی ہیں۔

مسلمانوں کا عورتوں اور جہنم پر جھوٹ:

"یہ عبداللہ بن عمر کے اختیار پر بیان ہوا کہ اللہ کے رسول نے مشاہدہ کیا: اے خواتین کے گروہ، تمہیں خیرات دینا چاہیے اور زیادہ معافی مانگنا چاہیے کیونکہ میں نے جہنم میں بہت سی خواتین کو وہاں دیکھا ہے ایک عقلمند عورت نے کہا: یہ کیوں ہے، اللہ کے رسول، کہ ہمارا جہنم میں بہت سا ہجوم ہے؟ اس پر نبی نے کہا تم پر بہت لعنت ہے اور تم اپنے اپنے شریک حیات سے نا شکر ہو۔ میں نے عام فہم میں غیر محتاجی دیکھی ہے اور تم مذہب میں ناکام ہو بلکہ (اسی وقت) عقلمند کی عقل لُو ٹتی ہو، اس پر عورت نے خیال پیش کیا: ہماری عام فہم اور مذہب کے ساتھ کیا غلطی ہے؟ آپ نے (نبی پاک ) نے کہا: تمہاری کم فہمی ( حقیقت سے زیادہ عدالت میں جا سکتی ہے) اس کا ثبوت یہ ہے کہ دو عورتیں ایک مرد کے برابر ہیں یہ تمہاری کم عقلی کا ثبوت ہے۔ اور تم نے کچھ رات ( اور دن) گزارے ہیں جن میں تم نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں روزے نہیں رکھتی ( دن میں ) یہ مذہب میں ناکامی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" صحیح مسلم جلد 1 کتاب 1 عدد 143 صفحہ 47-48۔ بخاری جلد 2 نمر 161 ؛ جلد 1 نمبر 301 ؛ جلد 1 عدد 28 ؛ صحیح مسلم جلد 2 کتاب 4 عدد 1926 صفحہ 417 ؛ جلد 4 عد 6600-9596  صفحہ  1431 سنن نساء جلد 2 عدد 1578 صفحہ 342۔ بھی دیکھیے " اے عورتو! زکواۃ دو، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ جہنم کے زیادہ رہنے والے تم ہو ( خواتین)۔ انہوں نے پوچھا، ایسا کیوں ہے اے اللہ کے رسول؟  اس نے جواب دیا 'تم پر لعنت ہوئی ہے کیونکہ تم اپنے خاوندوں کی شکرگزار نہیں ہو۔ میں نے تمہاری نسبت کوئی زیادہ عقل اور مذہب میں کم تر نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔ عورتوں نے پوچھا، " اے اللہ کے رسول؟ ہماری عقل اور مذہب میں کیا کمی ہے؟ اس نے کہا ، اس نے کہا کیا یہ ثبوت نہیں کہ دو عورتیں گواہی میں ایک مرد کے برابر ہیں؟ انہوں نے جواباً ہاں میں سر ہلایا۔ اس (رسول) نے کہا، یہ آپ کی عقل میں کمی ہے کیا یہ سچ نہیں کہ ایک عورت اپنے حیض کے دوران نہ ہی نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ ہی روزہ رکھ سکتی ہے؟ عورتوں نے ہاں میں جواب دیا۔ اس نے یہ کہا ، یہ آپ کے مذہب میں کمی ہے"۔ بخاری جلد 1 عدد 301 صفحہ 181۔ صحیح مسلم جلد 2 کتاب 4 عدد 1982، 1983 صفحہ 432 بھی دیکھیں  سنی اسلام کی جھوٹی تھیالوجی میں جہنم میں زیادہ عورتیں ہیں ۔ وہ اپنے خاوندوں کی نا شکری ہیں زیادہ تر جنت میں غریب ہیں۔ بخاری جلد 7 کتاب 62 عدد 125 -126 صفحہ 96۔

سوال: امثال 5: 8 میں، اس کا کیا مطلب ہے کہ ہمیں ایک زانیہ کے گھر کے نزدیک بھی نہیں جانا چاہیے؟

جواب: یہاں کئی وجوہات ہیں کہ ہمیں ایسا کیوں کرناق چاہیے۔

1: گھر میں جانا ایک آزمائش ہو سکتی ہے۔

2: یہ دوسروں سے بُرائی کی شکل دیتی ہے (2کرنتھیوں 8: 22 ؛ 1تھسلنکیوں5: 22 ) اور یہ ایک کمزور گواہی ہے۔

3:  یہ دوسروں کو گمراہ کر سکتی ہےہم اپنے ساتھی ایماندار کے ضمیر کو تباہ نہیں کرنا چاہتے۔

سوال: امثال 5: 15 میں تو اپنے ہی چشمہ کا پانی پینا کا کیا مطلب ہے؟

جواب: چشمہ بارش کے پانی کو جمع کرنے والا ایک بڑا ٹینک ہے تمہیں اس سے لطف اٹھانا ہے جو آپ کے متعلقہ ہے جو تمہارے متعلقہ نہیں اس کا لالچ نہیں کرنا چاہیے۔ ( خروج 20: 17 ؛ استثنا 5: 21 ؛ رومیوں 7: 7-12)

سوال:  امثال 6: 17 میں، خدا مغرور آنکھوں سے اتنی نفرت کیوں کرتا ہے جھوٹی زبان، خونی ہاتھوں، بُرے منصوبے باندھنے والا دل، بُرائی کرنے والے جلد باز پاؤں، ایک جھوٹا گواہ اور جو دروغگوئی کرتا ہے؟

جواب: جبکہ حوالہ تفصیل وار نہیں کہتا، یہ فہرست قدرے بُرائی کی بنیاد کی جامع اقسام ہیں۔

سوال: امثال 6: 17 میں، یہ 6 یا 7 چیزیں کیوں ہیں؟

جواب: یہ ایک ظاہری نصیحت ہے، یہ عاموس 1: 3، 6، 9، 13 ؛ 2: 1، 4، 6 میں بھی سات بار استعمال ہوئی ہے فہرست میں سات چیزیں ہیں۔ فہرست کو نہ لیںکہ "بالکل" 7 اتنی سنجیدگی سے، چونکہ کچھ اکھٹا جوڑ سکتے ہیں۔ فہرست میں شامل تمام چیزیں اتنی ضروری نہیں اور خاص زور آخری چیز پر دیا گیا ہے۔

سوال: امثال6: 26 میں، ایک آدمی روٹی کے ٹکڑے کے لیے کونسی چیز کم کر رہا ہے؟ کا مطلب کیا ہے؟

جواب:  اس کا مطلب ہے کہ تعلق کی شکل، دوستی کی شکل اور محبت کی شکل اتنی کھوکھلی ہوتی ہے کہ حقیقت میں انسانن دیکھا گیا کہ کچھ نہیں ایک چیز سے جو رتم بناتا ہے انسان کے تمام انسانی خیالات ختم ہو جائیں گے۔ تاہم، ایک دوسرا خیال یہ ہے کہ ایک زنا کار سے گناہ کرنا مہنگا پڑتا ہے اور یہ ایک انسان کو روٹی کے ٹکڑے کے لیے محتاج کر سکتا ہے۔

سوال: امثال 7: 7 میں اس کتاب میں احمقوں کی پانچ اقسام کونسی ہیں؟

جواب: عبرانی پانچ امتیازی الفاظ استعمال کرتی ہے اور ان کے مختلف معانی ہیں۔

امثال میں سادہ: 1: 4، 22، 32 ؛ 7: 7 ؛ 8: 5 ؛ 9: 4، 13، 16 ؛ 14: 18 ؛ 19: 25 ؛ 21: 11 ؛ 22: 3 ؛ 27: 12۔

احمق: امثال میں 10: 18، 23 ؛ 13: 16 ؛ 14: 16 ؛ 15: 14 ؛ 17: 10، 12، 16، 21 ؛ 18: 2 ؛ 19: 1، 10 ؛ 23: 19 ؛ 26: 1، 4، 6، 5، 8، 10، 11، 12 ؛ 28: 26 ؛ 29: 11، 20۔

سخت احمق: امثال میں تین دفعہ استعمال ہوا ہے 17: 10، 21 ؛ 30: 22۔

کاہل: امثال میں 6: 6، 9 ؛ 10: 26 ؛ 12: 11، 24، 27 ؛ 13: 4 ؛ 15: 19 ؛ 18: 9 ؛ 19: 15، 24 ؛ 20: 4 ؛ 21: 25 ؛ 22: 13 ؛ 24: 30-34 ؛ 26: 13-16۔

ٹھٹھا باز: امثال 1: 22 ؛ 3: 34، 35 ؛ 9: 7، 8، 12 ؛ 13: 1 ؛ 14: 6 ؛ 15: 12 ؛ 19: 25، 28، 29 ؛ 21: 11، 24 ، 22 ؛ 24: 9 ؛ 29: 8۔

سوال: امثال 7: 13 میں بے حیا سے کیا مراد ہے؟

جواب: اس متن میں، اسکا مطلب ہے بُرا اور شرم یا شرمندگی محسوس نہ کرنے والا۔

سوال: امثال 8: 1-17 میں حکمت کیسے چلاتی ہے؟

جواب: زیادہ تر لوگوں پر مصیبتیں حکمت کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس کے اثرات، کسی کو حکمت کے لیے پکار بتاتا ہے۔ تاہم، اس طرح اس کا بنیادی مطلب نہیں۔  خدا کا کلام ہمیں حکمت بتا رہا ہے اور پاک روح دنیا کے لوگوں کو مجرم بنا رہا ہے کہ ان کو خدا کو جاننے کی ضروت ہے۔ جبکہ پاک روح نئے عہد نامے کے وقت ایمانداروں کے اندر نہیں رہتا تھا۔ خدا کی روح زمین سے غیر حاضر نہیں تھی؛ یہ لوگوں کو خدا کی ضروت کے لیے انکو مجرم ٹھہراتا رہا۔

سوال: امثال 8: 22-23 میں، کیا یہ یسوع کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور پس ظاہر کرتی ہے کہ یسوع پیدا (خلق) ہوا ہے، جیسا کہ یہواہ کے گواہ دعویٰ کرتے ہیں عظیم ترین انسان جو 1991 تک رہا صفحہ 11 میں؟

جواب: نہیں یسوع خلق نہیں ہوا تھا، اور یہ یسوع کی طرف اشارہ نہیں کرتی ہے امثال میں حکمت بطور مونث نمائندگی کرتی ہے۔(امثال : 7: 4 ؛ 8: 1، 3 ؛ 9: 1، 2، 3) اور حتیٰ کہ یہواہ کے گواہ متفق ہیں کہ یسوع کھبی بھی مونث نہیں تھا۔ اگلا سوال دیکھیں مزید بحث کے لیے۔

سوال: امثال: 8: 22، 23 یہ کس کی طرف اشارہ کرتی ہے؟

جواب: یہ کسی فرد کہ طرف اشارہ نہیں کرتی، بلکہ یہ خدا کے ایک پہلو کا ایک شخص ہے۔

سوال: امثال 9: 1 میں حکمت کے سات ستون کیا ہیں؟

جواب: کلام نہیں کہتا اس کا غالباً صرف یہ مطلب ہے کہ گھر بڑا تھا۔ یعض ہو سکتا ہے سوچیں یہ خدا کی سات روحوں کی طرح ہے۔ جیسا ذکریاہ 3: 9، یسعیاہ 11: 2، اور مکاشفہ 1: 4 میں ذکر کیا گیا ہے یعقوب 3: 17 بیان کرتی ہے حکمت کے سات پہلو ہیں۔ ضروری، خالص، پُر امن، پیارا معقول، اپنے استحکاق سے کم مطمن فرمانبردار، رحم سے بھرا ہوا اور اچھے پھل، منصافہ اور بے وفائی سے پاک"۔ (وویسٹ ترجمہ)

سوال: امثال 9: 2 حکمت نے کسے "اپنی مے ملائی"؟

جواب: مے گاڑھی ذخیرہ کی جاتی ہے، اسکے ایک حصے میں 3 یا 4 حصے میں پانی  ملایا جاتا تھا۔ مے میں مسالے بھی ملائے جاتے تھے۔

سوال: امثال9: 8 میں ایک عقلمند کو اس سے جو اسے ملامت کرتا ہے کیوں ؟

جواب:  ایک عقلمند شخص اصلاح کر پسند کرتا ہے،اور غرور اسے عاجزی قبول کرنے سے نہیں روکتا۔

سوال: امثال 9: 13 میں،  یہاں احمق عورت کون ہے؟

جواب: صرف حکمت ایک عورت کے طور پر شخص مانا گیا ہے یہ دوسری عورت حماقت کی تصویر ہے۔

سوال: امثال 9: 17 میں، اس کا کیا مطلب ہے کہ " چوری کا پانی میٹھا ہے اور پوشیدگی کی روٹی لذیذ" ؟

جواب: اسکی تین امدادی تفاسیر ہیں:

علم: آزاد خیالی تعلیم ایک غلط تعلیم ہے جو تمہیں کئی مختلف ذرائع سے سچائی نکالنی چاہیے ( اور عام طور پر برعکس)

اعمال: کوئی طبعی وجہ نہیں کہ کسی سے چرایا گیا پانی ذائقے میں بہتر ہو لیکن لوگ چیزیں حاصل کرنے کے لیے ٹرپ رکھتے ہیں۔ بعض اوقات امیر نوجوان دھوپ والی عینکیں یا دوسری چیزیں چرانے میں مشہور رہے ہیں۔ یہ وجہ نہیں کہ ان کے پاس رقم نہیں اور یہ وجہ بھی نہیں کہ ان کے پاس پہلے دھوپ والی عینکیں نہیں بلکہ چوری کرنے کی تڑپ ہوتی ہے۔ ایک گار فیلڈ کارٹون دکھاتا ہے کہ گار فیلڈ بلی کے ہاتھ چوہوں سے بھرے ہیں جاتے جاتے وہ سوچتی ہے کہ وہ دوسرا بھی پکڑ سکتی ہے۔ عنوان کہتا ہے" یہ رکھنے کی بات نہیں بلکہ حاصل کرنے کی بات ہے"۔

مجرمانہ خوشیاں: یہ تمام بُرائی کے لیے مزید قابل خوشی ہیں۔ کیونکہ ممنوع چیزیں کر رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً ، ایک شخص ہو سکتا ہے رومانوی یا جنسی تعلقات کسی کے ساتھ خاص طور پر لطف اندوزی کے لیے رکھے، وہ ایک شریک حیات یا بوائے فرینڈ/ گرل فرینڈ کو چھین لیتے ہیں۔ تاہم، ایک دفعہ یہ واقع ہو جاتا ہے ، پھر فرض کی گئی جدت ظاہر ہوئی اور وہ آدمی کی قیمت کم کر دیتے ہیں۔ یہ آیت ہو سکتا ہے ناجائز مباشرت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ خاص طور پر پانی کا حوالہ امثال 7: 29 ۔

سوال: امثال 10: 12 میں محبت کیسے تمام گناہ ڈھانپتی ہے؟

جواب: آپ کو اس قابل بننا چاہیے ان کو معاف کرنے کے جو آپ کے خلاف گناہ کرتے ہیں۔ یعقوب 5: 20 ظاہر کرتی ہے کہ ایک گناہ گار کو اس کے گناہ سے واپس لے آنا بہت زیادہ گناہوں کو ڈھانپتا ہے۔ بہت زیادہ اہم بات یہ کہ، خدا کی محبت اسکے خلاف سارے گناہوں کو معاف کرتی ہے ان کے لیے جو خدا کی محبت میں رہنا چاہتے ہیں۔ خدا نے ہمیں یہ معافی دی ہے اسکے ساتھ ساتھ دوسری عظیم برکات ، یسوع سمیح کی صلیب پر موت کے ذریعے۔

سوال: امثال: 10: 27 اور واعظ 8: 12 میں کیا شریر کی زندگی کم ہے یا لمبی ہے جیسے ایوب 21: 7 کہتی ہے؟

جواب: سب سے اہم ممکنہ طریقے میں ہرکوئی غیر نجات یافتہ شریر شخص صرف تھوڑے وقت کے لیے زندہ رہتا ہے، کیونکہ وہ خدا کے ساتھ ابدی زندگی نہیں رکھتا۔ زمین پر، ہم دیکھتے ہیں، کچھ شریروں کی زندگیاں تشدد، منشیات، شراب نوشی عام طور پر گناہ وغیرہ میں کم عمر پاتے ہیں دوسرے الفاظ میں، زمین پر ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے شریر لوگ نسبتاً لمبی لمبی زندگی گزارتے ہیں اس سے پہلے عدالت آئے۔

سوال: امثال 11: 1 میں، دغا کا ترازاو کیا ہے؟

جواب: یہ بڑا سنجیدہ گناہ تھا قدیم دنیا میں ، اور یہ آج تک مختلف طریقوں میں واقع ہوتا ہے۔ ایک دغا کا ترازو یہ ہے کہ جو کوئی بد دیانت تاجر اناج یا دوسری چیزیں تولنے کے لیے استعمال کرتا ہے جو وزن کر کے خریدی جاتی ہیں آج ، جب خریدنے والا ، ایک چیز کے متعلق بتاتا ہے اور دسورے کو دیتا ہے کم چیز، یہ حقیقت میں دغا کا ترازو ہے۔ دو بُری اصطلاحات دو اقسام کے لیے گناہ آلودہ کاروبار کی ہے یہ رویہ جیسے "دام میں پھنسانا" اور " تھوڑا ادل بدل"۔

سوال: امثال 11: 2 میں، یہاں لفظ غرور کا کیا مطلب ہے؟

جواب: یہ عبرانی لفظ اُبالنے کے لفظ سے ، جیسے پکانا ، کے طور پر آتا ہے ۔

سوال: امثال 11: 16 کا کیا مطلب ہے؟

جواب: یہ مختصر آیت اختلاف کرتی ہے اور پچیدہ ہے کیونکہ  اس میں کم از کم تین مکمل کرنے والے مطلب ہیں۔

1: لوگ ای ک مہربان دل والے شخص کی قدر کرتے ہیں، لیکن وہ ایک سنگدل آدمی کی  عزت نہیں کرتے۔

2: ان کے درمیان جن کو مہربان دل ہونے کا شرف ہے زیادہ عورتیں ہیں۔ سنگدل لوگوں کی اکثریت میں مرد ہیں۔ مردوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ سنگدل نہیں ہیں۔ بہت سارے مرد بھی نرم دل ہو سکتے ہیں لیکن یہ امثال 11: 17 کا عنوان ہے

3: سنگ دل ہونے کے ناطے حقیقت میں وہ اور دنیا وی دولت جھپٹتے ہیں ان کی نسبت جو نرم دل ہیں۔ لیکن خدا کی عزت کرنا اور اسکی پیروی کرنا مال و دولت کی نسبت عظیم تر اجر ہے۔ لفظ " نرم دل " کا ترجمہ "رحیم " بھی ہوا ہے۔

سوال: امثال 11: 12 میں، بائبل نے (مبینہ طور پر) خواتین کا موازنہ سوار کے ساتھ کیوں کیا ہے؟ (ایک لا دین نے یہ سوال کیا)

جواب: بائبل کبھی یہ نہیں کہتی کہ خواتین سوار ہیں۔ قدرے، یہ آیت کہتی ہے کہ ایک بد اخلاق عورت، جو جسمانی طور پر خوبصورت ہے یہ اُسی طرح ہے سوارنی نے ناک میں سونے کی نتھ ہے یہ خوبصورت دکھائی دیتی ہے، پھر بھی سارا شخص غیر خوشامدانہ ہے۔ جسمانی خوبصورتی بہانے کی لغزش نہیں ہو سکتی۔

سوال: امثال 11: 28 میں، لوگ مال و دولت پر کیسے بھروسہ کرتے ہیں؟

جواب: بعض لوگ اپنی دولت پر بھروسہ رکھتے ہیں کہ وہ انہیں سنبھالتی ہے یا ان کو خوشی دیتی ہے۔ کچھ جانتے ہیں کہ ان کی دولت  خوشی نہیں دیتی۔ بلکہ وہ ڈرتے ہیں کہ دولت کے بغیر وہ یقیناً اداس ہوں گے۔ کچھ دیکھتے ہیں کہ دولت حقیقتاً دوست خریدتی ہے، لیکن انہیں کنے کہ ضروت ہے کیا ان کے دوست جو وہ چاہتے ہیں اُسی طرح کے ہیں ۔ کچھ لوگ شاید امیر بننا نہ چاہیں۔ اگر وہ امیر بن گئے ، تو پھر وہ سوچتے ہیں کہ ان کی تمام مشکلات حل ہو گئیں ہیں اگر تم دولت پر بھروسہ کر رہے ہو تو حق پر بھروسہ کرو۔ آسمان پر ابدی دولت پر نہ کہ اس دنیا کی حقیر دولت پر۔

سوال: امثال 11: 31 میں، اس زندگی میں راستبازی کا اجر کیسا ہے اسکے ساتھ ساتھ اگلا اجر؟

جواب: سادہ بات یہ ہے، کہ غیر مافوق الفطرت طریقہ سے یہ دیکھنا آسان ہے کہ راستباز لوگ، جو منشیات استعمال نہیں کرتے، شراب نہیں پیتے، اپنے پھیپھڑوں کو زخمی نہیں کرتے، یا جنسی بیماری کا خطرہ مُول نہیں لیتے۔ ان کی اوسطااً زندگی زیادہ صحت مند اور لمبی زندگی بسر کرتے ہیں ان کی نسبت جو یہ گناہ کرتے ہیں۔ راستباز لوگ جو اپنا وقت، ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے ضائع نہیں کرتے ان کے پاس زیادہ وقت ہوتا ہے اور زیادہ توانائی دوسری چیزوں کے لیے۔ راستباز لوگ جو بُری چیزوں کے لیے روپے پیسے خرچ نہیں کرتے ان کے پاس سرمایہ کاری کرنے اور استعمال کرنے کے لے زیادہ رقم ہوتی ہے۔ 

مجموعی طور پر، خدا راستبازوں پر نظر کرتا ہے، اور کوئی بُری چیز ان پر واقع نہیں ہوتی۔ سوائے اُسکے جسکی وہ اپنے جلال کے لیے اجازت دیتا ہے۔

سوال: امثال 12: 4 میں ، ایک نیک عورت کیسے اپنے خاوند کے لیے تاج ہے؟

جواب: وہ نہ صرف اپنے خاوند کی عزت اور تعظیم کرتی ہے ، بلکہ اس کا کردار بھی اسکے خاوند اور خاندان کے لیے تعظیم اور عزت لاتا ہے۔ امثال 31: 28-30 بھی ظاہر کرتی ہے کہ ایک نیک خاوند اور بچے بھی اسکے قدر دان ہوتے ہیں اور اسکی عزت اور تعریف کرتے ہیں۔ دونوں اسکو بھی اور دوسروں کے سامنے بھی۔

سوال: امثال 12: 10 میں، ایک ایماندار کو جانوروں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا  چاہیے؟

جواب: ہمیں خدا کی مخلوق کی عزت کرنی چاہیے۔ یہاں ایک پورق خاکہ ہے جو بائبل سکھاتی ہے۔

جانوروں کا پالنا اچھا ہے اور جانوروں پر بوجھ ڈالنا اچھا ہے پالتو جانوروں کو رکھنا اچھا ہے۔

جانوروں کو مارنا ٹھیک ہے۔

جانوروں کو کھانا اچھا ہے۔

جانوروں تنگ کرنا ٹھیک نہیں ۔

 جانوروں کے خون کا احترام کرو۔

جانوروں کی مامتا کی قدر کرو، حلوان کو اسکی ماں کی دودھ میں ابالنا ٹھیک نہیں۔

سوال: امثال 12: 15 میں کیسے ایک احمق اپنی نظروں میں ٹھیک ہے؟

جواب: ایک احمق آدمی عام طور پر، اپنی حماقت سے بے خبر ہوتا ہے۔ ایک اندازے میں، کاروباری مینجروں سے کہا گیا کہ اپنی خود قیمت لگاؤ، اس پر انہوں نے قیمت لگائی کہ وہ بطور مینجر ہیں ٪ 90 سے زیادہ مینجروں نے اپنی قیمت لگائی کہ وہ ٪ 10 چوٹی کے مینجر ہیں۔ حقیقت میں وہ سب ٹھیک تھے کم از کم اپنی اپنی جگہ ٹھیک تھے۔ قضاۃ کی کتاب ایک تاریک دور کا بتاتی ہے اسرائیل کی تاریخ کا۔ جب ہر شخص نے وہ کیا جو اس کے نظر میں ٹھیک تھا۔

سوال: امثال 12: 16میں، ہم ندامت کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے بے خبر رہو، بلکہ انہیں نظر انداز کر دو اور اس شخص کو معاف کردو۔ تاہم، کسی کو یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ آپ کی بجائے دوسرے سے کوئی مسئلہ پیدا کرے، امثال 12: 16 کو 1 تیمتھیس 4: 11 کے ساتھ توازن کرنا چاہیے جہاں پولُس بتاتا ہے کہ تیمتھیس کسی کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھنے دو کیونکہ وہ جوان ہے۔

سوال: امثال 12: 21 میں، کس طرح راستباز کو نقصان نہیں پہنچتا؟

جواب:کئی احمق لوگ اس زندگی مین کچھ سزا لیتے ہیں، اپنے اعمال کے فطرتی نتیجہ کے طور پر۔ مثلا کئی گینگ میجرز دوسری گینگ کے رکنوں کی نسبت زیادہ مارے جاتے ہیں ۔ عام طور پر، راستباز بُرے کاموں کے نتیجہ سے بچ جاتے ہیں۔ اگر وہ ان میں شامل نہ ہوں تاہم، بعض اوقات راستبازوں کو شریروں کی نا انصافی سے نقصان پہنچتا ہے۔ بعض اوقات راستباز کو شیطان تکلیف دیتا ہے، لیکن خدا ان کو بَری کرتا ہے اُنکو آسمان پر خبر دیتا ہے اور بعض اوقات انہیں زمین پر بھی بدلہ دیتا ہے۔

سوال: امثال 13: 2 میں کیسے ایک عقلمند آدمی اپنے ہونٹوں کا پھل کھتا ہے؟

جواب: یہ آیت میری پسند یدہ مثال ہے۔ ایک امیر آدمی کے نقطہ نظر سے دولت حفاظت کے لیے بہت اہم ہے وہ اسکی زندگی کے لیے چھٹکارا ہے۔ اگر کوئی اسے اغوا کرے یا موت کی دھمکی دے تو وہ اسے ادا کرتا ہے۔

تاہم، مفید دولت ہو سکتا ہے ظاہر ہو، ایک زیادہ امیر شخص کئی طریقوں میں ایک امیر آدمی سے زیادہ محفوظ ہے۔ کیونکہ کوئی اسے اغوا نہیں کرتا یا اھمکاتا نہیں۔ یہاں بہت عام اصول بیان کیا گیا ہے ۔ بعض اوقات ہم کسی چیز کو پکڑے رکھنے کی ضد کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم خوف زدہ ہوتے ہیں، اور مزید رکھتے ہپوئے لگتا ہے کہ یہ ہمیں مزید تحفظ دیتی ہے۔ تاہم، اگر ہم اسے جانے دیں ، تو ہم اصل میں بہت محفوظ ہو جاتے ہیں یہ بات نہیں ہو رہی کہ خدا اس میں معجزات کرتا ہے صرف ایک دانائی اور فیاضی کا اندیکھا اجر ملتا ہے۔ تمام متفق ہو سکتے ہیں کہ ایک قحط زدہ شخص جو رقم حاصل کرتا ہے وہ قحط زدہ شخص سے زیادہ تحفظ محسوس کرتا ہے جس کے پاس رقم نہیں۔ پس زیادہ رقم کا مطلب ہمیشہ یہ ہوتا ہے زیادہ تحفظ اور کم فکر ، ٹھیک ہے ؟ یا غلط  فرض کریں مندرجہ ذیل کو ایک قیمتی پرانا برتن، ایک قیمتی کار کے ساتھ نئی نوکری، ایک قیمتی گھر، سرمایہ کاری میں زیادہ رقم آپکی زندگی میں خدا کی رہنمائی کے بغیر، ان تمام چیزوں سے، واقعی آپ کی فکر بڑھتی ہے نہ کہ کم ہوتی ہے۔

سوال: امثال13: 8 میں ، اس کا کیا مطلب ہے کہ ایک غریب آدمی دھمکی نہیں سنتا جس سے ایک امیر ّدمی اپنی زندگی کا تاوان دیتا ہے؟

جواب: ایک دولت مند شخص ہو سکتا ہے اپنا تاوان ادا کرنے کے قابل ہو یا اس کا خاندان اغوا کاروں سے تعلق رکھتا ہو۔ لیکن ایک غریب آدمی کو اس کے متعلق دھمکی کی کوئی پرواہ نہیں۔ اسی طرح، تم جو زیادہ دولت رکھتے ہو تم نہ صرف اغوا کاروں کا نشانہ بن سکتے ہوبلکہ شرعی سیل مین کا بھی اور دوسرے لوگوں کا بھی نشانہ بن سکتے ہو۔

سوال: امثال 13: 22 میں، چونکہ ہم خدا کو پیسے دے سکتے ہیں تو کیسے ایماندار اپنے بچوں کے لیے میراث چھوڑتے ہیں؟

جواب: 1تیمتھیس 5: 8 ظاہر کرتی ہےہمیں اپنے خاندان کی ضروریات کے لیے مہیا کرنا چاہیے امثال 17: 2 ؛ 19: 14 ؛ زبور 17: 14 کے مطابق میراث چھوڑنا اچھا ہے اور مُسرف بیٹے کی کہانی میں جو لوقا 15: 12-31 میں ہے۔ تاہم، ہمیں بہت زیادہ دینے کی ضرورت نہیں کہ انہیں کوئی کام نہ کرنا پڑے اور ان کی زندگی میں آرام ہو۔ ہمیں خداوند کے لیے بھی سخاوت سے دینا چاہیے ( امثال 3: 9 ؛ 1 کرنتھیوں 16: 2 ؛ 2 کرنتھیوں 8: 1-8 ؛ 9: 6-12 ؛ حجی 1: 3-11)

سوال: امثال 14: 4 میں، جب بیل نہیں ہوتے تو چرنی خالی کیوں ہوتی ہے؟

جواب: یہ متناقص بات ہے اور ایک معیاری بات ہے کیونکہ بیل چرنی میں گھاس کھاتے ہیں ہو سکتا ہے کوئی سوچتا ہو کہ بیلوں کے بغیر چرنی ہر وقت بھری رہتی ہے۔ تاہم، بیلوں کے بغیر ہل نہیں چلتا تو کوئی خواراک یا اناج نہیں ہوتی اور اس طرح چرنی خالی ہوتی ہے ۔ امثال 14: 28 کا بھی ایک ایسا ہی خیال ہے "ایک بہت بڑی آبادی بادشاہ کی شوکت ہے لیکن رعایا کے بغیر شہزادہ برباد ہو جاتا ہے"۔ جب تم خوشحال ہوتے ہو، یاد رکھو، وہ آپ کی خوشحالی کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ اور سخاوت سے دیتے ہیں۔

سوال: امثال 14: 6 میں ، کیوں ایک ٹھٹھا باز حکمت تلاش کرتا ہے؟

جواب: امثال میں یہ حقیقتاً خلاف معمول ہے کہ احمق حکمت تلاش کرتا ہے اس کا مسلہ خواہش کی کمی نہیں بلکہ قدرے خدا کا خوف نہیں ہوتا۔ یہ خدا کو ماننے کے لیے کافی نہیں ہے،  تمہیں خدا کی مرضی کے مطابق پیروی کرنا ہے نہ کہ اپنی مرضی پر۔

سوال:  امثال 14: 14 میں احمق اور نیک آدمی دونوں کو کیسے اجر ملتا ہے؟

جواب:   خدا ان کو ان کی "مزدوری" دیتا ہے، دوسرے الفاظ میں وہ کس چیز کے حقدار ہیں۔ بے وفا کو اجر ملے گا اگرچہ وہ ہو کستا ہے جو وہ حاصل کریں پسند نہ کریں۔

سوال: امثال 14: 20 میں، یہ آیت کیوں ذکر کرتی ہے کہ غریب کے ہمسائے اس سے نفرت کرتے ہیں؟

جواب: بعض اوقات غریب ہونا مشکل ہوتا ہے اور امثال 14: 21 کہتی ہے کہ اپنے ہمسائے کو حقیر جاننا، خاص طور پر ایک غریب ہمسائے کو، یہ گناہ ہے ایک روکھا انسان یہ سوچے گا کہ یہ مسئلہ نہیں۔ ایک سادہ تصوری یہ سوچے گا یہ کم واقع ہوتا ہے۔ بائبل نہیں چاہتی کہ روکھے بنیں اور نہ ہی سادہ خیالی۔

سوال: امثٓل 14: 25 میں، کیسے ایک سچا گواہ جان بچاتا ہے؟

جواب: ایک سچا گواہ معصوم لوگوں کو غلط سزا یا قتل ہونے سے بچاتا ہے۔ مجموعی طور پر، ایک سچا گواہ، ایک مجرم کی بھی مدد کرتا ہے اور اسے اور گناہ کرنے سے بھی بچاتا ہے۔

سوال: امثال 14: 32 کا کیا مطلب ہے؟

جواب: یہ موازنے کی مثال ایک مشابہت سے شروع ہوتی ہے۔ شریر کی مصیبت اور صادق کی موت۔ شریر، جو عام طور پر نا پسند کیا جاتا ہے ہو سکتا ہے اس زندگی میں مدد نہ حاصل کرے، اس سے پہلے اگلی زندگی میں بڑی تباہی کا سامنا کرے۔ حتیٰ کہ صادق جو پہلے مرتا ہے خدا سے اگلی زندگی میں مدد اور حفاظت حاصل کرتا ہے۔

سوال: امثال 15: 1 میں کیسے ایک نرم جواب غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے؟

جواب:  غصے کو غصے سے ملنا صرف اور جھگڑا پیدا کرتا ہے تاہم، ایک نرم جواب ظاہر کرتا ہے کہ تم ان پر ناراض نہیں ہو اور تم اس بات کی دلیل دیتے ہو کہ تم ذمہ دار شخص ہو اور شاید دوسرا شخص اس کے بعد اتنا زیادہ ناراض نہیں ہو گا۔

سوال: امثال 16: 3 میں، کیا ہمارا ہر کام کامیابی دیتا ہے اگر ہم یہ خداوند کے لیے کرتے ہیں؟

جواب: یہ ایسے ہی ہے کہ ایک بچہ نرمی سے کچھ، کرنے سے پہلے اپنے والدین سے پُوچھے، تو کیا مہربان والدین ہمیشہ کہیں گے "ہاں" یقیناً نہیں۔

سوال: امثال 14: 4 میں، یہاں بُرا دان کیا ہے؟

جواب: یہ 24 گھنٹے کا ایک خاص عرصہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ "جب تباہی کے دن آتے ہیں"

سوال: خدا کیسے، بُرے دن کے لیے شریر کو استعمال کرتا ہے؟

جواب: یہ آیت رومیوں 8: 28 میں ملتی ہے یہاں کدا ہر چیز کو اکٹھا کام میں لاتا ہے یہ ان کے لیے جو خداوند سے محبت رکھتے بھلائی ہے۔ افسیوں 1: 11 کہتی ہے کہ خدا سب کچھ کرتا ہے یہ اس کے منصوبے کا حصہ ہے پس حتیٰ کہ حقیقت یہ ہے کہ شریر لوگوں کو سزا ملتی ہے اور جہنم میں بھیجا جاتا ہے یہ بھی خدا کے منصوبے کا حصہ ہے۔

سوال: امثال 16: 33 میں، کیا چیزوں کے لیے قرعہ ڈالنا چاہیے؟

جواب: اس آیت میں قرعہ اندازی کی منظوری نہیں دی گئی۔ قدرے، یہ اشارہ کرتی ہے کہ قرعہ اور دوسری اشیاء بے ترتیب موقع ظاہر کر سکتی ہے۔ لیکن ان کو جیسے چاہیے پھیر سکتا ہے۔ اگر کوئی قرعہ ڈالتا ہے یقین کرو کہ تم خدا کو موقع دیتے ہو کہ وہ (خدا) جواب نہ دے۔ مثلاً اگر تم ایک سکہ اچھالتے ہو اور سر کا مطلب ہے "خدا کہتا ہے ہاں" اور دم کا مطلب ہے "خدا کہتا ہے نہیں"  کیا خدا جواب منتخب نہیں کرتا اور کیا تم خدا کے منہ میں الفاظ رکھ رہے ہو؟

سوال: امثال 17: 5 میں، کیا نا انصافی غربت کا سبب نبتی ہے، یا کیا کاہلی جیسے امثال 10: 4 ؛ 20: 13 ؛ 21: 17 کہتی ہیں؟

جواب: دونوں درست ہیں کیونکہ غربت کے بہت سے اسباب ہیں۔ ہمیں غریبوں کی مدد کر نی ہے بلا لحاظ کہ ان کی غربت کی وجہ بد قسمت خاندان ہے۔ ناانصافی، یا کمزور فیصلے ہیں صرف سوائے ان کے ۔

1: ہمیں ان کی مدد نہیں کرنی چاہیے جو کام سے انکار کرتے ہیں ( 2 تھِسلنکیوں 3: 10)

2: ان کو رقم دے کر ضائع نہ کرو جو احمق ہوں اور رقم کا غلط استعمال کریں ( امثال 17: 16) اور

3: ان کی مدد نہ کرو جو بُرے کام کرتے ہیں ( 2 یوحنا 10-11)

سوال: امثال 17: 8 ؛ 21: 14 میں کیا رشوت جائز ہے کیا رشوت خور اور بدعنوان غلط ہیں جیسے خروج 23: 8 ؛ استثنا 19: 16 اور واعظ 7: 7 کہتی ہیں؟

جواب: یہاں تحفے اور رشوت ہیں، تحفے جائز ہیں لیکن رشوت نہیں یہاں فرق ہے

تحفے: تحفے کھلے عام ہو سکتے ہیں، یا وی پوشیدہ ہو سکتے ہیں یہ انصاف کو تہس نہس کرنے کے لیے نہیں دیئے جاتے بلکہ محبت کی وجہ سے یا حقیقتاً کسی کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے یا غلط خیال کے لیے ( امثال 21: 14) اگر کوئی طاقتور بادشاہ کسی چھوٹے بادشاہ پر حملہ کرنے کو ہے تو کمزور بادشاہ ہو سکتا ہے اسے خراج سے خریدے اور یہ کمزور بادشاہ کے لئے جائز ہے کچھ ثقافتوں میں، مستقبل کا خاوند دلہن کے خاندان کو روپے پیسے دیتا ہے۔ "دلہن کی قیمت" یا " جہیز" یہ غیر بائبلی نہیں ہے

رومی دور حکومت میں کئی رومی سرکار کے راہنماوں نے اپنا عہدہ حاصل کرنے کے لیے رشوت دی۔ وہ رقم ضائع نہیں جاتی تھی جیسے ہی وی اکٹھی کرتے، یہ بطور ٹیکس تھا ان علاقوں سے جن پر وہ حکومت کرتے تھے۔ کیتھولک میں کئی پوپ اور کارڈینل اپنے عہدے حاصل کرنے کے لیے بہت سی رقم ادا کرتے تھے۔ یہ پوشیدہ تحفے نہیں ہیں پس یہ تکنیکی طور پر تحفے ہونگے نہ کہ ایک رشوت۔ تاہم، یہ اب تک حقیر کام ہے کیتھولک چرچ میں عہدے حاصل کرنے کے لیے پیسے ادا کرنا۔

رشوت: یہ استحصال ہو سکتا ہے یا پوشیدگی سے کسی مسئلے کا فیصلہ تبدیل کرنا ( واعظ 7: 7 ) معاملہ ہو سکتا ہے جائز ہو ایک کاروباری خریدوفروخت کا فیصلہ یا ایک اسکول گریڈ۔ کچھ رشوت خور بنیادی طار پر یقین دلاتے ہیں کہ یہ فیصلہ آپ کی جماعت میں کیا گیا ہے۔ جب باہر آتا ہے تو نتیجہ الٹ ہوتا ہے۔ یا نامعلوم یا خلاف ہوتا ہے۔

سوال: امثال 17: 12 میں، ریچھنی کے بچے کیا ہیں؟

جواب: یہ ریچھنی کے پِلے ہیں۔

سوال: امثال 17: 12 میں، شریر کو صادق ٹھہرانا کے درمیان کیا فرق ہے جس سے خدا نفرت کرتا ہے اور لوگوں سے رحم دل بھی ہےَ

جواب: شریر کو صادق ٹھہرانے کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کو جائز قرار دینا، کسی باز پُرسی کی ضرورت نہیں اور نہ توبہ کی یا معافی کی ضرورت نہیں۔ رحیم ہوتے ہوئے تسلیم کرتا ہے کہ گناہ غلط ہے۔ باز پُرسی ہو سکتا ہے ضروری ہو لیکن جو توبہ کرتا ہے اس کے لیے پوری معافی کی پیش کش ہے ۔ توبہ کرنے کا مطلب ہے معذرت کرنا، اقرار کرنا کہ کھبی گناہ نہ کرنا، ضرورت کے مطابق تلافی کرنا  اور معافی مانگنا۔

سوال: امثال 17: 17 میں، ایک دوست ہر وقت کیسے محبت کرتا ہے؟

جواب:  یقیناً اگر ایک دوست آپ سے محبت نہ کرے تو وہ مزید دوست نہیں ہو گا۔ لیکن یہاں یہ نکتہ نہیں ہے ایک پیدائشی بھائی یا بہن نہیں ہے لیکن دوست اچانک ہوتی یا ہوتا ہے وہ جو پسند کی محبت کرتا ہے بھائی یا بہن سے زیادہ قریب ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا پسند کی محبت کرے۔

سوال: امثال 17: 19 میں، ایک شخص جو گناہ سے محبت کرتاہے کیسے جھگڑے سے محبت کرتا ہے؟

جواب: اس آیت کی سچائی کے کم از کم دو اطلاق ہیں۔

خدا کی طرف: ہر قسم کا جرم گناہ ہے جو خدا کے ساتھ تعلقات توڑ دیتا ہے اس کے متعلق سوچیئے۔ جب کبھی تم جان بوجھ کر گناہ کرتے ہو، اس لمحے تم اہمیت دے رہے ہو کہ خدا کے ساتھ رشتے سے گناہ بہتر ہے۔

دوسروں کی طرف: جب لوگ دوسروں کے ساتھ غلط کرتے ہیں تو یا تو وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ دوسرے کیا رد عمل دیں گے یا بعض اوقات شریر لوگ ہو سکتا ہے جھگڑے سے لطف اندوز ہوتے ہوں اور بُری محسوسات کا سبب بنتے ہیں۔

سوال: امثال 18: 4 میں، کیسے حکمت کا چشمہ ایک بہتا نالہ ہے؟

جواب: یہ کھبی نہیں ہوتا کہ ایک احمق شخص حکمت کی باتیں کہے؛ عام طور پر عقلمندوں کی باتوں کا عقلمند لوگوں سے باہمی رشتہ ہوتا ہے۔ ایک عقلمند دل عام طور پر حکمت میں مسلسل رہیتا ہے۔ اور حکمت کی باتیں عام طور پر "باسی کری میں ابال" نہیں ہوتیں۔

سوال: امثال 18: 19 کا کیا مطلب ہے؟

جواب: یہ مثال دلچسپ ہے کیونکہ تم ہو سکتا ہے سوچتے ہو کہ ایک دشمن کے بارے بات کرنا لازمی ہے جو ناراضی ہے تاہم، اس کی بجائے کہتا ہے کہ بد ترین چیز ناراض بھائی ہے ایک بھائی تم سے توقع کرے گا کہ تم وفا دار اور محافظ ہو اور اسے خاص طور پر صدمہ ہو گا ناراض ہونے پر۔ جبکہ کسی دشمن کو صدمہ نہیں ہو گا۔ ہمیں جاننے کی ضرورت ہے کہ ہمارے قریبی لوگ ناراض ہو سکتے ہیں وہ ہو سکتا ہے اجنبیوں کہ طرح آسانی سے ناراض نہ ہوں بلکہ جب وہ ناراض ہو جائیں تو وہ اجنبیوں کی نسبتزیادہ تکلیف محسوس کر سکتے ہیں۔ نہایت محتاظ رہنا بہت ضروری ہے ان کو نہ لیں جو ہمیں ماننے کے لیے محبت کرتے ہیں یا ماننے کے لیے لیں کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم اُن کو محبت کرتے ہیں۔ ہمیں صرف دوسرے سے محبت نہیں کرنا ، بلکہ دوسروں سے اپنی محبت کا اظہار بھی کریں۔

دوسرا اطلاق یہ ہے کہ ہمارا کوئی قریبی ناراض ہوتا ہے تو ہم اس کو بڑا عجیب محسوس کریں ( شاید بہت زیادہ عجیب) اس کی نسبت جب ہم سے کوئی اجنبی ناراض ہو۔ ہمیں اپنا انسانی رحجان جو سنجیدہ غصے کی طرف جاتا ہے سمجھنے کی ضرورت ہے اور پھر یاد رکھو کہ 1 کرنتھیوں کہتا ہے کہ برداشت سے محبت کرو کیونکہ گناہ کا کوئی ریکارڈ نہیں۔

سوال: امثال 18: 22 میں، چونکہ بیوی تلاش کرنا اچھی چیز ہے تو ایک خاوند تلاش کرنا اچھی چیز ہے کیوں ذکر نہیں کیا گیا ؟

جواب: واضح طور پر ہر مرد کے لیے جو ایک بیوی حاصل کرتا ہے اور ایک عورت کے لیے جو  ایک خاوند حاصل کرتی ہے۔ اس کے باوجود اس ثقافت میں اسکے ساتھ ساتھ آج بھی یہ عام ہے کہ مرد ہی تلاش کرتا ہے اور شادی کی تجویز دیتا ہے۔ تاہم، ایک بائبلی مثال کے لیے جہاں عورت تلاش کر رہی ہو اور خدا نے شادی کو بہت برکت دی ہے، روت کی کتاب پڑھیے۔

سوال: امثال 18: 24  کا کیا مطلب ہے؟

جواب: یہ مثال کس قدر باعث حیرت ہے۔ کوئی ہو سکتا ہے سوچے کہ بہت دوست کامیابی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ تاہم، احمق دوست بیرونی طور پر تمہاری دولت کے بھروسے پر اور آپکی ساکھ پر ناسور ہے۔ حتیٰ کہ بد ترین احمق دوست اپنی نصیحت اور مثال، آپکی خدا کی خدمت کی تحریک پر ناسور ہے۔

سوال: امثال 18: 24 میں یہ کیوں کہا گیا ہے کہ بربادی کرتا ہے؟

جواب: یہاں یہ ذومعنی بات ہے دوست کے لفظ

 توڑنے کے لیے لفظ ٹکڑوں میں Reeh  جبکہ کسی دشمن کو صدمہ نہیں ہو گاےتے،یںید دوست نہیں ہو گا

 ہے۔Raa 

سوال: امثال 18: 24 میں، کونسا دوست ہے جو بھائی سے زیادہ قریب ہے؟

جواب: یہ آیت مختلف اقسام کے دوستوں سے اختلاف کرتی ہے مطلبی دوست تلاش کرنا آسان ہے لیکن یہ قیمتی ہے کہ وہ دوست تلاش کرنا جو آپ سے چمٹا رہے۔ جو بھائی سے زیادہ نزدیک ہو، مشکل اوقات میں بھی۔ یقیناً دوست جو تمام ایمانداروں سے چمٹا رہے گا وہ یسوع ہے۔

سوال: امثال 19: 4- 6 میں، یہ آیت کیوں کہتی ہے کہ دولت بہت سے دوست بناتی ہے؟

جواب: یہ گناہ ہے کسی کی صرف دولت کی وجہ سے حمایت کرنا جیسے یعقوب 2: 1-4 سے ظاہر ہوتا ہے، لیکن امثال 19: 4، 6 گناہ گار لوگوں کے ساتھ زندگی کی حقیقتوں کی تعلیم دے رہی ہے۔ تم اس کا امثال 14: 21 سے بھی توازن ضرور کرو، جو کہتی ہے یہ گناہ ہے ۔ اپنے ہمسائے کو ضقارت سے دیکھنا خاص طور پر غریب ہمسایوں کا ذکر کرتے ہوئے۔ جبکہ دولت ہو سکتا ہے بہت دوست بنائے ایک دولت مند شخص ہو سکتا ہے ہمیشہ آوارہ پھرتا رہے جو اسکے اصل میں دوست ہیں۔

سوال: امثال 19: 14 میں، خدا سے کیسے دانا بیوی ملتی ھے؟

جواب: یہاں خدا ترس کردار کے بہت سے پہلو ہیں کہ یہ مشکوک ہے کہ مرد یا عورت اپنے آئندہ شریک حیات کا چوتھائی حصہ جانتے ہیں۔ یقیناً کسی بھی ایماندار۔ خدا سے رہنمائی کے لیے بہت سی دعاؤں کے بغیر کسی سے شادی طے نہیں کرنا چاہیے۔

سوال: امثال 19: 17 میں، لوگ کیسے خداوند کو قرض دے سکتے ہیں؟

جواب: جبکہ خدا کو کسی چیز کی ضروت نہیں ( زبور 24: 1؛ 50: 9-12) ہم تشبیہاً خداوند کو دیتے ہیں جب ہم دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ متی 25: 35 میں، یسوع نے کہا اگر تم غریبوں، اجنبیوں، بیماروں یا قیدیوں کو خواراک، پانی، مہمان نوازی کرتے، کپڑے دیتے یا حفاظت کرتے ہو یہ ایسے ہے جیسے تم نے خدا کو دیا۔ سائیڈ نوٹ کے طور پر یسوع نے وصول کندہ کو نہیں کہا کہ وہ اس لے کیے ایماندار ہوں ان کے لیے اجر ہے ان کے لیے اجر ہے جیسے یسوع کے لیے کر رہے ہو۔

سوال: امثال 19: 22 کا کیا مطلب ہے؟

جواب: زندگی انتخابات سے بھری پڑی ہے۔ اگر آپ کو محبت والی یا کسی دوسری چیز جو محبت سے خالی ہے کے درمیان انتخاب کرنا پڑے تو لوگ حقیقتاً چاہیں گے کہ محبت ہی ہو۔ جہاں محبت کے عبرانی لفظ ہیسڈ کا مطلب ہے کامیاب محبت یا وفادار، عہد محبت ہو سکتا ہے ایک جھوٹا اپنے جھوٹوں کے سبب دولت حاصل کرتا ہو۔ اس سے  بہتر ہے کہ بندہ غریب رہے اور سچی محبت کرے، بجائے اس کے کہ امیر ہو اور جھوٹی محبت ہو۔ ہمیں دوسرے لوگوں پر رشک نہیں کرنا چاہیے، بلکہ کسی دولت مند پر رشک کرناخاص طور پر حماقت ہے کہ حقیقی دوستوں کی بجائے بہت سے دوست رکھنا۔

سوال: امثال 19: 25 میں، جب ٹھٹھا باز کو مارا جاتا ہے تو کون اس سے سبق سیکھتا ہے؟

جواب: امثال 19: 25 دعویٰ نہیں کرتی کہ ٹھٹھاباز کبھی سیکھے گا۔ قدرے سادہ دل سیکھیں گے، خود ٹھٹھا باز کے لیے ضروری نہیں۔ قید کا ایک استعمال ظلم کو روکنا ہے۔ صرف یہ نہیں کہ مجرم کچھ دیر کے لیے کام نہ کرے۔ لیکن ناخوشگوار چیز قید میں، دوبارہ دوسری سوچ بن سکتی ہے اس سے پہلے کہ مجرم بننا منتخب کیا جائے۔

سوال: امثال 19: 27 کیوں علم سننے سے روکتی ہے؟

جواب: حقیقتاً نہیں، امثال 19: 27 یہاں طنزیہ ہے۔ یہ اس قسم کی کہاوت ہے کہ تمباکو نوشی سے تمہاری زندگی کم ہو گی۔ یہ حقیقتاً ہمیں علم سننے سے روک نہیں رہی، بلکہ یہ کہہ رہی ہے "اگر" ہم سننا بند کر دیں گے تو گمراہ ہو جائیں گے۔ حقیقت میں، اگر ہم علم سننا بند کر دیں تو جہالت کی وجہ سے نہ صرف ہم گمراہ ہونگے بلکہ ہم جو جانتے ہیں اس میں بھی گمراہ ہو جائیں گے۔ بائبل نالج کمنٹری: پرانا عہد نامہ صفحہ 948 اس میں اضافہ کرتا ہے عقلمند ہونا ایک سکونی حالت نہیں ہے؛ ایک عقلمند آدمی ترقی کرتا اور سیکھیتا ہے۔ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ صرف امثال 7: 1 اور 23: 15 کے درمیان جگہ ہے یہاں لفظ " میرا بیٹا" واقع ہوتا ہے۔

سوال: امثال 19: 27 میں، کیا تمام علم اچھا نہیں؟

جواب: نہیں۔ خاص طور پر یہ اس علم کی طرف اشارہ کرتا ہے جو جھوٹ میں ہے جو کسی کو سچے علم سے دور لے جا سکتا ہے۔

سوال: امثال 20: 2 میں، کیسے کسی کا گناہ اس کے ہی خلاف ہوتا ہے؟

جواب: تمام گناہ، شیطانی ہیں، لیکن یہ گناہ کہ بادشاہ کے غصے کو بھڑکانہ، کسی کو نہیں بلکہ آپ کو ہی زخمی کرتا ہے۔

سوال: امثال 20: 8 میں، کیسے ایک بادشاہ بیٹھ کر اپنی آنکھوں سے بدی کو پھٹکتا ہے؟

جواب: بادشاہ کی نظر بدی کو روکتی ہے، کیونکہ بدکار، بدی نہیں کرتا، جبکہ وہ دیکھ رہا ہے۔ تم جانتے ہو کہ یہ آیت والدین کے لیے اور اس کے ساتھ ساتھ بادشاہوں کے لیے بھی کام کرتی ہے۔

سوال: امثال 20: 9 میں، کیا یہ سکھایا جاتا ہے کہ کوئی اپنے دلوں کو صاف رکھ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: یہ آیت منصف کی عمل پذیری ظاہر کرتی ہے۔ کہ زمین پر کوئی بھی نہیں جو اپنے دل کو تمام گناہوں سے پاک رکھ سکے۔

سوال: امثال 20: 14 میں، خریدار کیوں کہتا ہے کہ ردی ردی ہے اور پھر اپنی خرید پر فخر کرتا ہے؟

جواب: امثال اس جھوٹ کی تعریف نہیں کرتی، بلکہ یہ ہمیں سکھاتی ہے کی خریدار اور فروخت کرنے والے کربتی ہوتے ہیں، حتیٰ کہ جب وہ حقیقتاً دھوکہ باز لوگ نہیں ہوتے ہو سکتا ہے کہ کوئی اس آیت کو یہ عنوان دے کہ "فروخت کرنے والے با خبر ہوں"۔

سوال: امثال 20: 16 کیوں بے دردانہ رویہ رکھتی ہے؟

جواب: بائبل میں، غریبوں کی اور محتاجوں کی دیکھ بھال کے لیے آیات بھری پڑی ہیں۔ اور ادھار لینے والوں کے لیے سخاوت، یہ امثال حقیقتاً نمایاں ہے۔ بعض لوگوں کے لیے، انہیں وسیع کرتے ہوئے روپے پیسے کی سخاوت اسکو بدی بنا دیتی ہے نہ کہ بہتری۔ اگر کوئی اجنبی کا ضامن بنتا ہے تو وہ بے وقوفی سے اپنے دولت کا خطرہ مُول لے رہا ہے ۔ اگر ان کے پاس رقم نہیں تو اس کا مطلب ہے کیونکہ اس نے ایک بد اخلاق عورت کی ضمانت دی تھی۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم ٹھیک کر رہے ہو، یا ان کے لیے بہترین ہے، ان کو مزید رقم دینے سے کیا وہ اپنا سبق نہیں سیکھتے۔ امثال 11: 15 ؛ 17: 18 اور 22: 26-27 بھی ہمیں قرض کے ضٓمن ہونے کے خلاف خبردار کرتی ہے۔

سوال: امثال 20: 25 کا کیا مطلب ہے؟

جواب: ایہ ایک جانور کے پھندے میں پھنس جانے کی طرح ہے کہ کسی چیز کا وعدہ کرنا، اور پھر وعدہ کے بعد نتائج کاسوچنا یہ آپ کے وقت کے لیے ایک پھندا ہو سکتا ہے،  آپ کی رقم یا حتیٰ کہ آپ کی اقتصادی حفاظت کا بھی۔

سوال: امثال 20: 26 ہم سے کیے تعلق رکھتی ہے؟

جواب: جب ہم ایک عقلمند رہنما بدی اور ناقابل بھروسہ لوگوں کو پھٹکتا ہے تو وہ، وہ کام کر رہا ہے جو اس نے فرض کیا ہے ۔ ایک دوسرا اطلاق یہ ہے کہ جب ہم ایک ذمہ داری میں ہوتے ہیں۔ تو ہم بدی اور ناقابل بھروسہ اور بے وفا لوگوں کو پھٹکنے کا فرض ادا کرتے ہیں۔ وفا داری کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی جی ہاں جی کہنے والا انسان ہواور کبھی آپ سے غیر متفق نہ ہو۔ وفاداری کا مطلب ہے خوبصورت اور بااخلاق طریقے سے اپنی بہترین کوشش کرنا، ان کے لیے جو آپ کو معاوضہ دے رہے ہیں۔ جب تم ایک احمقانہ فیصلہ کرتے تو یہ ماتحتوں کے لیے زیادہ وفادار ہے جو حماقت دیکھتے ہیں۔ اور تمہیں علیحدگی میں بتاتے ہیں ان کی نسبت جو کچھ نہیں کرتے۔ جب تم ایک بُرے فیصلہ پر ضد کرتے، اور وہ آپ کو اس کی حماقت کے متعلق مطلع کر چکے ہیں۔ کیا وہ آپ کی پیروی کریں گے، یا کیا وہ اپنے مالک کو دوسروں کے سامنے ٹھوکر ماریں گے؟ یقیناً ایک ماتحت کو کسی بُرے فیصلے کو بھی تسلیم نہیں کرنا چاہیے، اگر ایک ناجائز غیر اخلاقی ہے یا خدا کے حکموں کے خلاف ہے۔

سوال: امثال 20: 29 میں، کیسے بوڑھوں کے سفید سر انکی زینت ہیں؟

جواب: سفید سر کا مطلب ہے ( یا کم از کم مطلب ہونا چاہیے) ایک شخص کی زندگی میں عقل اور تجربے کا وقت ہے کہ جس سے دوسروں کو اس کی قدر کرنی اور سیکھنا چاہیے۔

سوال: امثال 20: 30 میں کیسے زخم کی نیلاہٹ سے بدی صاف ہو جاتی ہے؟

جواب: ایک ہلکا زخم کالا اور نیلا ہوتا ہے۔ یہ کہا ہے کہ ایک کوڑوں کی مار بعض اوقات ایک بڑے شخص کو اپنی زندگی تبدیل کرنے کے لیے بدی سے باز رکھ سکتی ہے۔

سوال: امثال 21: 1 میں، چونکہ خداوند بادشاہ کے دل کو موڑتا ہے، جیسے اوہ چاہے تو کیسے بادشاہ بہتر سلوک نہیں کرتے جیسا وہ کرتے ہیں؟

جواب: خدا کسی بھی بادشاہ کا دل موڑ سکرا ہےجیسے وہ چاہتا ہے۔ لیکن خدا ان کی آزاد مرضی میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ تاریخ میں دیکھنےسے پتہ چلتا ہے کہ" خدا حقیقتاً کوشش نہیں کر رہا" کہ ایک ایسا ماحول مہیا نہیں کر رہا جہاں بادشاہ اور دوسرے بدی نہ کرسکیں۔ قدرے، خدا مختلف ماحول مہیا کرتا نظر آتا ہے جہاں لوگوں کو موقع مل سکتا ہے۔

سوال: امثال 21: 14 میں، کہ کیسے ایک پوشیدہ تحفہ یا ایک انعام بہت قہر کو ٹھنڈا کر دیتا ہے؟

جواب: عبرانی لفظ امثال 15: 27 ؛ 18: 16 اور 21: 14 میں متن استعمال ہوا ہے۔ جس کا مطلب ہے انعام سے بڑھ کر۔ اس کا مطلب ہے ایک تحفہ اور یہ ایک تحفہ ہو سکتا ہے جو مناسب ہے یا اس کا مطلب ہے منہ بھرائی۔ امثال 21: 14 میں مطلب ہے کہ کبھی بھی غیر مناسب انعام، نہ ہی پوشیدہ تحفہ ہو۔ قدرے اس کا مطلب ہے کسی کو تسلی دینے کے لیے ایک تحفہ دیا گیا کسی کو ناراض کرتا ہے، خاص طور پر اگر تم نے انہیں غلط کیا ہو۔ مزید معلومات دے لیے امثال 17: 8 پر بحث دیکھیں۔

سوال: امثال 21: 16 میں، مُردوں کا غول کیا ہے؟

جواب: یہ وہ غول نہیں جس کا آپ حصہ بننا چاہتے ہو۔ یہ ان کا مجمع ہے جو ابدی زندگی سے محروم ہیں۔

سوال: امثال 21: 17 میں، چونکہ وہ جو عیاشی، شراب اور تیل سے محبت کرتے ہیں وہ امیر نہیں ہونگے، کیسے کئی دولت مند لوگ شرابی عیاش بنتے ہیں؟

جواب: جواب مکں دو نکات ہر غور کیا جا سکتا ہے۔

زمین پر:وہ جو ان چیزوں سے پیار کرتے ہیں عام طور پر وہ امیر بننے کے لیے سخت محنت نہیں کرتے۔ وہ جو پہلے ہی امیر ہیں اور عیاشی سے پیار کرتے ہیں اور اس کے لیے بڑا پیسہ خرچ کرتے ہیں جو ان کی دولت خرچ کرنے کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔

زیادہ ضروری: وہ جو خدا کی نسبت عیاشی کو پیار کرتے مکمل طور پر آسمانی دولت کو کھو دیتے ہیں۔

سوال: امثال 21: 30-31 میں، کیسے خداوند کے خلاف عقل، فہم، اور مشورت نہیں ہے؟

جواب: جبکہ کئی منصوبے خدا کو خاطر میں نہیں لاتے، کوئی بھی حتمی طور پر خدا سے لڑ کر جیت نہیں سکتا۔

سوال: امثال 22: 6 میں، درست طور پر یہ آیت کیا کہتی ہے ؟

جواب: اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک بچے کو آپ اپنے طریقے سے سکھائیں، لیکن اس کی شخصیت اور خصوصیت کے مطابق۔

سوال: امثال 22: 6 میں، چونکہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں۔ کیا یہ بچوں کے لیے ٹھیک ہے کہ وہ کھیلیں؟

جواب: یقیناً، نہ صرف بچے اکٹھے کھیل کر تعلقات کے بارے میں سیکھیں اور کھیل سے مشق کریں، یہ ایک اچھی تفریح بھی ہے۔ خدا لڑکے اور لڑکیوں کو کھیلتے دیکھتا ہے یہ ایک خوشگوار منظر ہے ذکریاہ 8: 5 میں۔

سوال: امثال 22: 6 میں، کیا یہ ایک ایماندار والدین کے لیے پکا وعدہ ہے جو اپنے بچوں کی "درست" تربیت کرتے ہیں؟

جواب: نہیں کوئی درست تربیت خدا کو قائل نہیں کر سکتی کہ بچے کی آزاد مرضی پر قبضہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ ایک موعودہ بیٹا جیسے سمسون بھی اپنی آزاد مرضی رکھتا تھا کہ نافرمانی کرے۔ قدرے یہ آیت ان کے لیے ایک مشاہدہ ہے جو بچے کی تسلی بخش راہ میں اور خدا خوفی میں تربیت کر رہے ہیں وہ اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو اس پر چلتے دیکھیں۔

سوال: امثال 22: 9 میں، غریبوں کے متعلق ہماری کیا ذمہ داری ہے؟

جواب: بائبل بہت کچھ کہتی ہے لیکن ہم اسکا 21 نکات میں لُب لباب بیان کر سکتے ہیں۔ تین اے کے ساتھ: ہمارا محبت کو رویہ ، ہمیں بالکل کیا نہیں کرنا چاہیے، اور ہمارے محبت کے اعمال۔

محبت کا رویہ: غریبوں سے نفرت نہ کرو ( امثال 14: 21 ؛ 17: 5 ) یاد رکھو، خدا نے امیروں کو بنایا ہے غریبوں اور انکے مظالم کو۔ ( ایوب 34: 19 ؛ امثال 29: 13) جانیے کہ خدا ہمارے دیے کو غریبوں کے لیے بڑی سنجیدگی سے لیتا ہے جیسے اس نے کرنیلیس سے کیا۔ ( اعمال10: 2، 4، 31)

تاہم، اگر کوئی ابرہام کی طرح امیر ہے، تو اس کا خود بخود یہ مطلب نہیںکہ خدا ان سے انکے مظالم سے خوش ہوتا ہے جیسے ایوب 29: 12 میں ہے۔ ابرہام ایک بہت امیر شخص تھا ( پیدائش 13: 2-6) پھر بھی وہ راستباز نہ کہلایا گیا، رومیوں 4: 3 اور یعقوب 3: 21 اگر وہ غریبوں پر ظلم کرتا۔

کئی غریب ہیں کیونکہ وہ آرام طلب ہیں۔ ( امثال 6: 9-11 ؛ 10: 4 ؛ 12: 24 ) یا جو جلدی سے اقتصادی سمجھوتہ کر لیتے ہیں (امثال 22: 26-27 ؛ 6: 2-3) ایک دوسرے کے ساتھ ہمیں مل کر رہنا چاہیے( امثال 6: 1-3 ؛ 11: 15 ؛ 17: 18 ؛ 20: 16 ؛ 27: 13) وہ اپنی رقم (دولت) عیاشی پر خرچ کرتے ہیں ( امثال 20: 21 ؛ 29: 3 ؛ یعقوب 5: 5 ؛ متی 23: 25 ؛عاموس 6: 4-7) یا نظر انداز کرتے ہیں ( امثال 27: 23-24) دوسرے جیسے روت اور نعومی( روت 1: 6 ؛ 2: 2) غریب جنکی اپنی کوئی غلطی نہیں تھی، جیسے یوسف اور مریم ( لوقا 2: 24 ؛ احبار 12: 8 ) یسوع ، یوحنا اصطباغی اور پولس غریب تھے۔

غریبوں کا انصاف احتیاط سے کرو ( امثال 29: 7 ؛ 31: 9 ) یاد رکھو غریبوں کو ( گلتیوں 2: 10) انکی غربت کم کرو اور دیکھو کہ غریب کی مدد کرنا ایسے ہے جیسے یسوع کی مدد ہے ( متی 25: 34- 46)

ہمارے مثالی شخصوں کر غربت نکالنا چاہیے  (استثنا 15: 4) پھر بھی ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ غریب ہمیشہ ہمارے درمیان ہونگے ( استثنا 15: 11؛ متی 26: 11 ؛ مرقس 14: 7 ؛ یوحنا 12: 8)

بالکل نہ کریں : غریبوں پر ظلم نہ کریں ( امثال 22: 16 ؛ 28: 3 ؛ ایوب 20: 19 ؛ حزقی ایل 18: 12 ؛ 22: 24 ؛ عاموس 2: 7؛ 4: 1 ؛ 5: 11) نفع سے زیادہ وصول نہ کرو ( امثال 28: 8 ) بے انصافی کے قوانین نہ بناؤ۔ ( یسعیاہ 10: 1-2) عدالتوں کو جن کے پاس دولت کم ہے بطور معرکہ استعمال نہ کرو۔ امثال 22: 22-23 ؛ 24: 28 ؛ یعقوب 2: 6 ؛ عاموس 5: 12)

غریبوں کے بارے میں بے حس نہ بنو ( حزقی ایل 16: 49 ؛ لوقا 16: 19-20) یا ان کی چیخ و پکار کو نظر انداز نہ کریں ( امثال 21: 13) غریبوں کے خلاف طرفداری ظاہر نہ کرو ( امثال 29: 14 ) امیروں کی طرف داری کرنا ( احبار 19: 15 ) غریبوں کی طرف داری کرنا (خروج 23: 3؛ احبار 19: 15 ) غریبوں کے لیے انصاف کے بارے محتاط راستی ( امثال 29: 7)

غریبوں کو اپنے درمیان میں سے نہ نکالو (عاموس 8: 4 ؛ زبور 109: 16) یا غریبوں کو تباہ کرنا (یسعیاہ 32: 7) غریبوں کی مدد کرنے میں انکو تبلیغ نہ کرو اور اپنی تبلیغ کی مشق نہ کرو ( یعقوب 2: 15-17)

محبت کے افعال: غریبوں کے ساتھ سخاوت کرو (امثال 19: 9-10 ؛ 22: 9؛ یسعیاہ 58: 7-8، 10) اور ان سے مہربانی کرو ( امثال 28: 8)

غریبوں کو دو (یسعیاہ 1: 7 ؛ 58: 6-10 ؛ یرمیاہ 5: 28 ؛ 22: 16؛ گلتیوں 2: 10 ؛ زبور 14: 1 ؛ 112: 9 ؛ امثال 14: 21 ؛ 24: 11-12 ؛ 28: 27؛ 29: 7؛ 31: 9، 20؛ افسیوں 4: 28 ؛ اعمال 9: 36 ؛ 1تیمتھیس 6: 18-19 ؛ یعقوب 1: 27 ) اور غریبوں کی حفاظت کرو (ایوب 24: 21) حتیٰ کہ اپنے کاروبار سے انکو دو (خروج 23: 11 ؛ روت 2: 2، 6، 15) ہمیں خاص طور پر بیواؤں اور یتیموں کی مدد کرنی چاہیے ( یعقوب 1: 27؛ استثنا 15: 11 ؛ زبور 68: 5 )

ہمیں دوسرے ایمانداروں کی مدد کرنی چاہیے( 1یوحنا 3: 17-19 ؛ رومیوں 15: 26 )

 ہمیں بیماروں، بھوکوں، ننگوں اور قیدیوں کی مدد کرنی چاہیے ( متی 25: 34-46 ؛ زکریاہ 7: 9-10)

جو کام سے جی چُراتا ہے اسے خوراک مت دو ( 2تھسلنُیکیوں 3: 10) بھوک، ایک اچھا محرک بنا سکتی ہے سست بننے کے لیے نہیں( امثال 16: 26)

جو بدی کرتے ہیں ان کی مدد نہ کرو ( 2یوحنا 10-11) یا دولت سے حماقت کریں ( امثال 1: 16) معلوم کرو کہ کسی جھوٹے دعوےٰ سے وہ غریب ہیں یا امیر ( امثال 13: 7)

سوال:امثال 22: 12 میں، کیسے خداوند کی نگاہیں علم کو محفوظ کرتی ہیں؟

جواب: خدا عالم لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ خدا ھق کا محافظ ہے اور خدا یقین دلاتا ہے کہ اسکی سچائی زمین سے کبھی بھی ختم نہ ہو گی۔ خدا کی حفاظت کے نیچے رہنا عقلمندی ہے۔

سوال: امثال 22: 15 میں، ہمیں ایک بچے پر کیسے جسمانی سزا استعمال کرنی چاہیے؟

جواب: عام طور پر یہاں نظم و ضبط پر کچھ ہدایات ہیں۔

1: سزا کا مقصد توبہ کی حاصلہ افزائی کرنا نہیں ہے۔ وقتی طور پر یہ تکلیف دہ ہوتی ہے، لیکن یہ بچے کے لیے بھلا ہے۔ ( عبرانیوں 12: 2-11) بچے کے لیے وہ جسمانی سزا استعمال نہ کریں جس میں اسکی بھلائی نہ ہو۔

2: بچے کے لیے مستقل جسمانی نقصان کا باعث نہ بنیں۔ بچے کے کان پر مارنے سے اسکی قوت سماعت استعمال ہو سکتی ہے، اور بچے کو جھٹک کر مارنا اسکے بازو کا جوڑ نکلنے کا سبب بن سکتا ہے ، بچے کو ہلانا، خاص طور پر چھوٹے بچے کو، اسکے مستقل زخمی ہونے حتیٰ کہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔

3: ہمیں شاگرد بچے کو بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے نہ کہ اپنے جزبات کو نکالنے کے لیے۔ اگرپ بہت غصے میں ہیں، یہ اچھا ہے کہ بچے کو بتانا کہ تم اسے سزا دو گے، لیکن اب نہیں۔ تم اپنے آپ کو ٹھنڈا ہونے تک انتظار کرو گے۔

4: بائبل صاف کہتی ہے کہ جسمانی سزا قابل قبول ہے اور بعض حالات میں یہ بہترین ہے۔ خبردار رہیے! کہ دوسری سزا کی اقسام ہیں جو تم استعمال کر سکتے ہو۔ جیسے منطقی نتائج ( ابتدائی طور پر ذہن نشین کرنا وغیرہ) اور جب کوئی خطرہ نہ ہو تو فطری نتائج ہوتے ہیں۔ میرے بیٹی کی چوتھے درجے کی سہیلی نے مجھے بتایا کہ اسکی امی اسے ہمیشہ اپنے کمرے میں بھیجنے کے لیے سزا دیتی ہے۔ اس کے کمرے میں اچھا ماحول ہے، جہاں وہ کھیل سکتی ہے۔ اور پڑھ سکتی ہے، لیکن اس نے جلدی سے اضافہ کیا " مہربانی سے میری ماں کو یہ نہ بتانا"

5: ہم بچے کو احمقانہ نافرمانی کی وجہ سے سزا دیتے ہیں، لیکن ایک چھوٹے بچے کو چھوٹا بچہ ہونے پر سزا نہ دو۔

6: بچوں کو جاننا چاہیے کہ انہیں کیوں سزا دی جا رہی ہے، اور دیکھیں کہ آئندہ وہ اس سے بچ سکتے ہیں۔ انہیں سزا کو بطور موجی نہیں دیکھنا چاہیے یا کسی سبب کے بغیر۔

7: ہمیں معلوم کرنا چاہیے کہ چھوٹی خلاف ورزی کی سزا، بڑی سزا کی نسبت چھوٹی ہونی چاہیے توریت میں خدا کے قوانین بھی جرم کے مطابق ہیں۔

8: جب ایک بچے سے زیادہ ہوں توں بچوں کر برابر سکھانا چاہیے ان کی عمر کے مطابق۔

9: تمہیں اپنے بچے کے لیے بہترین کرتے ہوئے افسوس نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم، ان سے معذرت کے لیے آزادی محسوس کریں۔ جب آپ انہیں بے انصافی یا بے موقع سزا دیتے ہیں۔ ان کے لیے یہ اچھا ہے کہ وہ دیکھیں کہ تم مانتے ہو کہ تم مکمل نہیں ہو۔ اکثر وہ آپ کی دیانتداری سے زیاہ آپکی عزت کرتے ہیں۔ بہ نسبت اسکے کہ انکار کرنا کہ تم دونوں سچائیوں کو جانتے ہو۔

مزید برآں: 1 سلاطین 1: 6 پر بحث کو دیکھیں۔ جو خدا ترس بچوں کو ترقی میں ساخت اور آزادی پر ہے۔

سوال: امثال 22: 17 سے 24: 22 میں، کیا یہ حصہ ایک مصری کتاب کی طرح ہے۔ ایمنی ہوپ کی ہدایت جو 900-1300 ق م میں لکھی گئی؟

جواب: جب اعتراض کرنیوالے  پوچھتے ہیں صفحہ 248 کہتا ہے "اول تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کیوں سلیمان اپنی رہنمائی کے لیے دوسرے انسانی ذرائع ، خدا کے کلام کے لکھنے میں کیوں  استعمال نہ کر سکا۔ کلام کے دوسرے مصنفین نے ایسا کیا ہے۔ (لوقا 1: 1-4) تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ سلیمان نے یہ مصری ذریعہ استعمال کیا۔ کیونکہ اگرچہ فقرات اور مواد یہاں موجود ہیں جو بالکل ہو بہو ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فرق مشاہبتوں کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں ۔ مزید براں علماء کے قرینی معانئے سے واضع ہو چکا ہے کہ یہاں کچھ ادھار لیا گیا ہے تو یہ اور ملتا جلتا ہے کہ مصری مصنف نے عبرانی مصنف سے ادھار لیا ہے۔ آخر کار، یقیناً خدا تمام سچائی کا منبع ہے، یہاں کیہں بھی یہ موجود ہے "۔

دی بائبل نالج کمنٹری: پرانا عہد نامہ کا اسی طرح نتیجہ ہے۔ صفحہ 904-906 یہ کہتا ہے " ایمن ایم اوپ کی ہدایت ( سی اے 900-1300 ق م) ایک بادشاہ کی اپنے کو تعلیمات، امثال میں موجود استعمال کیے الفاظ کی طرح ( مثلاً " میرے بیٹے کان لگا" " زندگی کا راستہ" ، "راہ ") حقیقت یہ ہے کہ کچھ الفاظ ایمن ایم اوپ کی ہدایت میں امثال کے متوازی حصے ہیں ( مثلاً امثال 22: 17؛ 21: 22 ) سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا امثال مصری اس تحریر سے ادھار لی گئی ہے، یا مصری مصنف نے امثال سے ادھار لیا ہے ، یا آیا کہ دونوں نے آزادنہ عام فکر کے متعلق لکھا ہے" ۔ دی بائبل نالج کمنٹری : پرانا عہد نامہ صفہ 954-955 نظر آتا ہے مسئلہ کے دونوں اطراف پر اور نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی قسم کی نقل نہیں ہے۔ قدامت پسند بائبل کی تفسیر جلد 5 صفحہ 883 کہتا ہے "اگرچہ دونوں مجموعے ایک جیسے نہیں ہیں، وہ ایک جیسے، براہ راست تصدیق کرنے کے لیے کافی ہیں یہاں ثبوت ہے اس کے حق اور تائید میں۔

حق میں:

پی 1: زیادہ امثال کہا جاتا ہے کہ سلیمان نے لکھی ہیں یا دستاویز مخصوص نہیں ہے۔ تاہم، امثال 22: 17 خاص کہتی ہے یہ " دانا کی تعلیمات ہیں " یہ اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ امثال سلیمان نے نہیں لکھیں۔

پی 2: مشاہبتیں

مضمون

ایمنی ہوپ

امثال

غور کرنیکی درخواست

ہدایت کا مقصد

تیس اقوال

قابل عزت تعلیم سیکھنا

ایک گھٹیا شخص کو نہ لوٹو

غضبناک آدمیوں کی دوستی سے بچو

مبادا تیری جان کا پھندا ہو

حد بندی کے پتھر نہ سرکا

محنتی بادشاہ کے حضور کھڑا رہے گا

بادشاہ کے حضور غور کر کے کھا

دولت ایک باز کی طرح اُڑ جاتی ہے

تنگ چشم کی روٹی نہ کھا

جو نوالہ تو نے کھایا اگل دے

اپنی باتیں احمق کو نہ سنا

یتیموں کے کھیتوں میں دخل نہ کر

جو قتل کے لیے گھسیٹے جاتے ان کو چھڑا

 

3: 9، 16

7: 1

27: 7-8

1: 5-6

2، 4: 4-5

9، 11: 13-14

9، 13: 8-9

6، 7: 12- 13

30، 27: 16-17

23، 23: 13- 18

7، 9: 14 ؛ 10: 5

11، 14: 5-10

11، 14: 17- 18

21، 22: 11-12

6، 7: 12-15 ؛ 8: 9-10

8، 11: 6- 7

22: 17-18

22: 19

22: 20

22: 21

22: 22-23

22: 24-25

22: 25-27

22: 28

22: 29

23: 1-3

23: 4-5

23: 6-7

23: 8

23: 9

23: 10- 11

24: 11

 

پی3: ایمنی ہوپ کے 30 اسباق ہیں اور امثال کے اس حصے میں 30 اقوال ہیں

تائیدیں:

تائید1: ایمنی ہوپ، طویل ہے 7: 26 لائنیں ایک سبق کی اور 30 اسباق، اس امثال کے حصے کی نسبت۔

تائید 2: ترتیب بڑی مختلف ہے۔