پرانے عہد نامے سے بائبل کے سوال جواب
سوال: پرانے عہد نامے میں، مشکل سوالات کا جواب دینے کے لیے پہلا ایماندار کون تھا؟
جواب: ایسا کرنے کے لیے تحریر کیا گیا پہلا آدمی، خروج18: 13-16 میں موسیٰ تھا جس نے یترو کی تجویز پر ،خروج 18: 22-26 میں چھوٹے فیصلے کرنے کے لیے قاضی مقرر کیے۔ سلیمان سے جب سبا کی ملکہ نے 2 تواریخ 9: 1-2 میں مشکل سوالات پوچھے۔ قیاساً ان سوالات میں سے اکثر خدا اور شریعت کے متعلق تھے۔
سوال: آپ پرانے عہد نامے پر کیوں بھروسہ کرتے ہو؟
جواب: نوشتے اور علم آثار قدیمہ دونوں اشارہ کرتے ہیں کہ کم از کم پانچ وجوہات کی بنا پرآج ہماری نقول میں کوئی معنی خیز تبدیلیاں نہیں ہیں۔
خدا نے وعدہ کیا: تاکہ اپنا کلام محفاظ کرے یسعیاہ55: 10-11؛ 59: 21؛ 1 پطرس 1: 24-25، متی 24: 35۔ ہم خدا پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ یسوع ار نیا عہد نامہ پرانے عہد نامے کے نوشتوں کی تصدیق کرتا ہے۔ متی 19: 4؛ 22: 32، 37، 39؛ 23: 25؛ مرقس 10: 3-6؛ لوقا 2: 23-24 ؛ 4: 4؛ 11: 51؛ 20: 37؛ 24: 27، 44 ۔
آثار قدیمہ کا ثبوت: ہفتادی ترجمہ میں، توریت کا تقریباً 400 ق م میں یونانی ترجمہ ہوا۔ بحیرہ مردار کے طومار تقریباً 250 ق م سے تھے اور بعد میں یسوع مسیح کے وقتتک، اور ہم آج اپنی بائبل سے ان کا موازنہ کر سکتے ہیں۔
توریت کے ارامی تراجم: تقریباً یسوع مسیح کے زمانے میں مُرتب ہوئے۔ بحیرہ مردار کے طومار تقریباً 95،000 حصے ہیں جو پرانے عہد نامے کے 867 مسودات سے اور دوسری تحریرات سے ہیں۔ بحیرہ مردار کے طومار پرانے عہد نامے کے مسوادت کا تقریباً 3/1 ہیں۔ علم آثار قدیمہ ظاہر کرتا ہے کہ بائبل کا یسوع جانتا تھا کہ بائبل محفوظ کی گئی ہے۔
نحل ہیور ( وادی حبرا) : ایجنڈی کے قریب ایک غار ہے جس میں 36 طوماروں کے حصے ہپیں۔ ایک حصہ 50 ق م اور 50 م کے درمیان لکھا گیا۔ انبیاء اصغر یونانی نحل ہیور میں6/5 ہیور 22 زبور کا حصہ ہے اور دوسرا زبور 15: 1-2 رکھتا ہے۔
مسدا کے مقام پر یشوع کی کتاب کی ایک نقل ہے مورخہ 169-93 ق م۔ مسدا کے مقام پر متون پیدائش، احبار، استثنا، زبور، اور حزقی ایل سے آتے ہیں۔ رومیوں نے اپریل 73 م میں مسدا پکڑا، پس طومار اس سے پہلے کے تھے۔
غور کیجیے کہ پیدائش کا حصہ ( پیدائش 46: 7-11) تلمون کا خیال ہے کپ پیدائش کی تشریح سے ہو سکتا ہے بشمول یوبلی کی کتاب۔
فاش پاپائرس: مورخہ 150 ق م ، دس احکام پر مشتمل ہے جو خراج 20: 2-17 اور استثنا 5: 6؛ 6: 4 سے اکٹھی کی گئی ۔ اس میں چھٹا اورساتواں حکم دہرائے گئے ہیں۔
وادی مربعات پر: عبرانی طومار ( مُر 88) بارہ انبیاء اصغر میں سے دس 132 ق م سے ہے۔ غار 2 میں سے پیدائش، خروج، گنتی، استثنا اور یسعیاہ کے چھوٹے حصے ملے تھے۔ مربعات کے تمام طومار اصل میں میسورٹیک متن سے ملتے جلتے ہیں۔
ابتدائی کلیسیا کے مصنفین 97/98م کے آغاز میں ، وسیع طور پر رپانے عہد نامے کی طرف اشارہ کرتے تھے۔
یہودی فقیہ، حتیٰ کہ مسیحت کے دشمن ہوتے ہوئے انہوں نے اسی طرح پرانا عہد انمہ محفوظ کیا جیسے آج پروٹسٹنٹ بائبل میں پایا جات ہے۔
مسلمانوں کے لیے ایک تحریر: سورۃ 4: 150-151 کہتی ہے، " وہ جو اللہ کا انکار کرتے ہیں اور اس کے انبیا کا اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان علیحدگی چاہتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ، ہم کچھ پر ایمان لاتے ہیں لیکن دوسروں کو رد کرتے ہیں: اور ایک درمیانی راستہ لینا چاہتے ہیں۔ ( 151) در حقیقت وہ بے ایمان ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" سورۃ 3: 48 کہتی ہے، " اور اللہ اسے (یسوع) سکھائیگا کتاب اور حکمت ،توریت اور انجیل۔ اگر یسوع کو پرانا عہد نامہ سکھائیگا اور ہمارے پاس یسوع کے دور سے پرانا عہد نامہ ہے پھر یسوع کو سکھایا گیا کہ ہمارے پاس کیا ہے۔
سورۃ 3: 50 کہتی ہے " میں ( یسوع ) تمہارے پاس آیا ہوں، توریت کی تصدیق کرنے کے لیے جو مجھ سے پہلے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے پاس، تمہارے خداوند کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کر" ۔ لوگوں کے لیے تقریباً ناممکن وقت ہے کہ مندرجہ ذیل کی پیروی کریں ۔ سورۃ 5: 47 کہتی ہے۔ "اہل انجیل کو، ان پر جن پر اللہ نے ظاہر کیا حکم کرنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" اگر اہل انجیل حکم کرنے کے لیے ہیں اس سے جو انجیل میں خدا نیں ظاہر کیا، تو پھر کیسے انجیل ان کو حکم کر سکتی ہےء جو خدا نیں ان کو انجیل نہیں دی حکم کرنے کے لیے۔
سورۃ 5: 48 کہتی ہے " تمہاری طرف ( اہل کتاب) ہم نے سچائی کا کلام بھیجا، اس کلام کی تصدیق کرنے کے لیے جو اس سے پہلے آیا تھا، اور اسکی حفاظت کرتے ہوئے: پس ان کو جو اللہ نے ظاہر کیا حکم کرو، اور انکی خواہشات کی پیروی نہ کرو: سچائی سے نہ پھرو، جو تمہارے پاس آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
سورۃ 15: 9-10 کہتی ہے " ہمارے پاس وہ ہے جس میں شک نہیں یہ پیغام نازل کیا؛ اور ہم اسکی یقینی طور پر حفاظت کریں گے [بد عنوانی سے] ہم نے پرانی بدعتوں کے درمیان، تم سے پہلے رسول بھیجے" : سورۃ 15: 9 صرف یہ نہیں کہتی کہ قرآن کی حفاظت کی گئی، بلکہ " پیغام کی"
نتیجتاً ،خدا قادر مطلق ہے، سب کچھ جانتا ہے اور لاپرواہی سے دور ہے۔ ہم بھروسہ کر سکتے ہیں کہ وہ ان کے لیے ہمیشہ صحیح سمت محفوظ کرتا ہے جو دیکھتے ہیں کہ کس طرف ہم پیروی کریں۔
سوال: کون سا ثبوت ہے کہ یہودیوں نے پہچانا کہ 400 سل تک کوئی نبی نہیں تھا؟
جواب: مکابین 4: 45؛ 9: 27؛ 14: 41 کہتی ہے لوگ انتظار کر رہے تھے " جب تک کوئی نبی نہ اٹھے گا " ۔
نظم و ضبط کا رسالہ: بحیرہ مردار کے طوماروں کے درمیان بھی" آنے والے نبی" کی تلاش کرتا ہے۔
بابلی تالمود 7۔8 کہتی ھے " آخری انبیاء حجی ، ذکریاہ اور ملاکی کے بعد روُح القدس اسرائیل سے جدُا ہو گیا"
نیا عہد نامہ نے کھبی بھی نہیں درج کیا کہ ملاکی کے بعد کوئی کتاب لکھی گئی ھے
سوال : یہودیوں نے پرُانے عہد نامے کو کتنے حصّوں میں تقسیم کیا ھے ؟
جواب : یہودیوں کی مختلف درجہ بندیاں ہیں۔
کوئی درجہ بندی نہیں، ہفتادی، ویٹی کیٹس، سینائٹی کس، سلامس کی ایپی فینیئس کی فہرسیتں(c315-403 م)
شریعت اور انبیاء: ان کا ذکر یسوع نے متی7: 12؛ 22: 40 میں کیا ہے۔
موسیٰ اور تمام انبیاء: لوقا 24: 27 میں ذکر ہے۔
موسیٰ کی شریعت، انبیاء اور زبور: جو کچھ یسوع نے لوقا 24: 44 میں کہا۔
شریعت ( توریت)، انبیاء اور تحریرات: ان کا پہلا ذکر کلیسیائی ابتدائی دباچے میں ہے ( 132 ق م)، لیکن یہ فہرست نہیں ہے جو کتب اس حصے میں ہیں ۔
یوسفس (100م) کے بھی تین حصے ہیں لیکن تحریرات میں صرف چار کتابیں ہیں۔ نمایاں طور پر روت کو قضاۃ میں ، نوحہ کو یرمیاہ میں اور آستر اور دانی ایل کو انبیاء میں شمار کیا گیا ہے۔
یہودی فلسفی ( 20ق م سے 50 ق م میں رہا) نے " شریعت، نبوتوں کے ساتھ نظمیات اور ڈیگر کا ذکر کیا جو بنا بنایا اور کامل علم اور پرہیز گاری ہے " ۔ ( متفکر زندگی 25۔3)
بابلی تالمود نے جدید تہری تقسیم دی۔
شریعت ( توریت): ( ترتیب وار 5 کتب پیدائش، خروج، احبار، گنتی اور استثنا)۔
انبیاء: ترتیب وار 8 کتب: یشوع، قضاۃ 1 اور 2 سیموئیل ( بطور ایک کتاب) 1 اور 2 سلاطین ( بطور ایک کتاب) ، یسعیاہ، یرمیاہ، حزقی ایل 12 انبیاء اصغر ( ہویسع سے ملاکی تک)۔ عبرانی بائبل میں ، بارہ انبیاء اصغر براہ راست حزقی ایل کے پیچھے آتے ہیں۔
صحائف ( کتیم): 11 کتب ترتیب وار: ایوب ، زبور، امثال، واعظ، غزل الغزلات، روت، آستر، نوحہ، دانی ایل، عزرا، نحمیاہ ( بطور ایک کتاب) اور 1 اور 2 تواریخ ( بطور ایک کتاب)
سوال: پرانے عہد نامہ کی کتب کب لکھی گئی اور نیا عہد نامہ کہاں سے ان کا حوالہ دیتا ہے ؟
جواب: پرانا عہد نامہ دنیا کی حیرت انگیز کتب میں سے ایک ہے۔ اسکی انتالیس کتب ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ پر محیظ وقت میں لکھی گئیں جنکو بادشاہوں، غلاموں، کاہنوں، جنگجوؤں، چرواہوں اُمراء اور غربا نے لکھیں۔ یہاں لکھنے کی تاریخ اور کچھ نئے عہد نامے کے حوالہ جات کی فہرست کا جدول ہے۔
|
اقتباسات اور حوالہ جات |
تاریخ ق م |
مصنّف |
پرانے عہد نامے کی کتاب |
|
متی 19: 4-5؛ مرقُس 9: 16؛ 10: 6،8؛ اعمال 3: 25؛ 7: 3، 7؛ رومیوں 4: 17-18؛ 9: 7، 9،12؛ 1 کرنتھیوں 6: 16؛ 15: 45؛ 2 کرنتھیوں 4: 6؛ گلتیوں 3: 6، 8،16؛ 4: 30؛ افسیوں 5: 31؛ عبرانیوں 4: 4؛ 6: 14 یعقوب 3: 23 |
تقریباً 1407 ق م |
موسیٰ |
پیدائش |
|
متی 5: 21، 38؛ 15: 4؛ 19: 19؛ 22: 32؛ مرقس 7: 10؛ 10: 19؛ 12: 26؛ لوقا 2: 23؛ 18: 20؛ ~ یوحنا 6: 31؛ 19: 36؛ اعمال 7: 28، 32، 34، 40؛ 23: 5؛ رومیوں 9: 15، 17؛ 13: 9؛ 1کرنتھیوں 10: 7؛ 2 کرنتھیوں 8: 15؛ عبرانیوں 8: 5؛ 9: 20؛ 12: 20؛ یعقوب 2: 11( 2 دفعہ)
|
تقریباً 1407 ق م |
موسیٰ |
خروج |
|
متی 5: 38، 43؛ 15: 4؛ 19: 19؛ 22: 39؛ مرقس 7: 10؛ 12: 31؛ لوقا 2: 24؛ 10: 27 رومیوں 10: 5؛ 13: 9؛ گلتیوں 3: 12؛ 5: 14؛ یعقوب 2: 8؛ 1 پطرس 1: 16 |
تقریباً 1407 ق م |
موسیٰ |
احبار |
|
2تمتھیس 2: 19 (LXX) ~ یوحنا 19: 36 |
تقریباً 1407 ق م |
موسیٰ |
گنتی |
|
متی4: 4، 7، 10؛ 5: 38؛ 6: 13؛ 15: 4؛ 8: 16؛ 19: 19؛ 22: 37؛ مرقس 7: 10؛ 10: 19؛ 12: 30؛ لوقا 4: 4،8، 12؛ 10: 27؛ 18: 20؛ اعمال 3: 23؛ 7: 37؛ رومیوں 10: 6-7، 8، 19؛ 11: 8؛ 12: 19؛ 13: 9؛15: 10؛ 1کرنتھیوں 9: 9؛ گلتیوں 3: 10، 14؛ افسیوں 6: 3؛ عبرانیوں 1: 6؛ 10: 6؛ 10: 30 ( دو دفعہ)؛ 12: 21، 29؛ 13: 5؛ یعقوب 2: 11 ( دو دفعہ) |
تقریباً1407 ق م |
موسیٰ ( اکثر) |
استثنا |
|
~ عبرانیوں 11؛ یعقوب 2: 25 |
تقریباً 1377 ق م |
یشوع |
یشوع |
|
~ عبرانیوں 11: 32 |
1377-1004 ق م |
بے نام سیموئیل؟ |
قضاۃ |
|
~ متی 1: 5؛ ~ لوقا 3: 32 |
1011 ق م |
بے نام سیموئیل؟ |
روت |
|
رومیوں 15: 9؛ 2 کرنتھیوں 6: 18؛ عبرانیوں 5: 1 |
1050-1004 ق م |
بے نام |
1-2 سیوئیل |
|
ارومیوں 11: 3، 4 |
950-550 ق م |
بے نام |
1-2 سلاطین |
|
اشارہ عبرانیوں 1: 5 |
95-550 ق م 340 ق م |
عزرا؟ کچھ حصہ لکھا گیا |
1-2 تواریخ |
|
نحمیاہ 8: 1؛ 12: 32 |
450-430 ق م |
عزرا |
عزرا |
|
~ عزرا 2: 2؛ ~ یوحنا 6: 31 |
445-430 ق م |
نحمیاہ |
نحمیاہ |
|
ـــــــــ |
470-424 ق م |
گمنام |
آستر |
|
رومیوں 11: 35؛ 1 کرنتھیوں 3: : 19 |
غالباً 2100 ق م |
گمنام |
ایوب |
|
متی4: 6؛ 8: 2؛ 13: 35؛ 21: 9، 16، 42؛ 22: 44؛ 23: 39؛ 27: 46؛ مرقس 11: 9؛ 12: 11، 36؛ 15: 34؛ لوقا 4: 11؛ 13: 35؛ 19: 38؛ 20: 17، 43، یوحنا 2: 17؛ 6: 31، 45؛ 10: 34؛ 12: 13؛ 13: 18؛ 15: 25؛ 19: 24، 36 اعمال 1: 20( دو دفعہ)؛ 2: 28، 35؛ 4: 11، 26؛ 13: 33، 35؛ رومیوں 2: 6؛ 3: 12، 13 ( 2 دفعہ) 14، 18؛ 4: 8؛ 10: 18؛ 11: 10؛ 15: 3، 9، 11؛ 1کرنتھیوں 3: 20؛ 10: 26؛ 15: 27؛ 2 کرنتھیوں 4: 13؛ 9: 9؛ افسیوں 4: 8، 26 ؛ عبرانیوں 1: 5، 7، 9، 12، 13؛ 2: 8، 12؛ 3: 11، 15؛ 4: 3، 7؛ 4: 3، 7؛ 5: 5، 6؛ 7: 17، 21، 10: 7، 30؛ 13: 6؛ 1پطرس 2: 7؛ 3: 12 مکاشفہ 2: 27؛ 19: 15 |
غالباً 1050 ق م
587 ق م کے بعد |
داود اور دیگر
زبور 137 |
زبور |
|
رومیوں 2: 6؛ 12: 20؛ عبرانیوں 12: 6، 13؛ یعقوب 4: 6؛ 1 پطرس 4: 18؛ 5: 5؛ 2پطرس 2: 22 |
تقریباً 971-931 ق م |
سلیمان، اجور، لموایل اور دیگر |
امثال |
|
─ ( رومیوں 3: 12 کی طرح کا تصور) |
967 ق م کے بعد |
سلیمان |
واعظ |
|
─ |
967 ق م کے بعد |
گمنام |
غزل الغزلات |
|
متی 3: 3؛ 4: 16؛ 8: 17؛ 12: 21 13: 14-15؛ 21: 13؛ 24: 29؛ مرقس 1: 3؛ 4: 12؛ 7: 6، 7؛ 9: 48؛ 11: 17؛ 13: 25؛ 13: 25؛ لوقا 3: 4-6؛ 4: 19؛ 8: 10؛ 8: 10؛ 19: 46؛ 22: 37؛ یوحنا 1: 23؛ 12: 40؛ اعمال 7: 50؛ 8: 33؛ 13: 34، 47؛ 28: 27؛ رومیوں 2: 24؛ 3: 17؛ 9: 20، 28، 29، 33؛ 15: 12، 21؛ 10: 15، 16، 20: 21؛ 11: 8؛ 14: 11؛ 1کرنتھیوں 2: 9، 16؛ 14: 21؛ 15: 32، 54؛ 2 کرنتھیوں 6: 2، 17؛ گلتیوں 4: 27؛ عبرانیوں 2: 13 ( دو دفعہ)؛ 1 پطرس 1: 25؛ 2: 6، 8، 22؛ 3: 14 |
696-622 ق م |
یسعیاہ |
یسعیاہ |
|
متی 2: 18؛ 21: 14؛ مرقس 11: 17؛ لوقا 19: 46؛ 23: 30؛ 2کرنتھیوں 10: 17؛ عبرانیوں 9: 12؛ 10: 16، 17 |
627/6-587 ق م تقریباً 561 ق م |
یرمیاہ یرمیاہ 520: 31-34 |
یرمیاہ |
|
─ |
586-583 ق م |
غالباً یرمیاہ |
نوحہ |
|
رومیوں 2: 24؛ 2کرنتھیوں 6: 7 |
7/593-571 ق م |
حزقی ایل |
حزقی ایل |
|
متی 24: 15؛ مرقس 13: 14؛ مکاشفہ 4: 14 |
606-536 ق م |
دانی ایل |
دانی ایل |
|
متی 2: 15؛ 9: 13؛ 12: 7؛ لوقا 23: 30؛ رومیوں 9: 25،26؛ 1 کرنتھیوں 15: 55 |
تقریباً 790-710 ق م |
ہوسیع |
ہوسیع |
|
اعمال 2: 21؛ رومیوں 10: 13 |
900؛ 587؛ 400؟ |
یوایل |
یوایل |
|
اعمال 7: 43؛ 15: 16-18 |
760 زلزلہ |
عاموس |
عاموس |
|
─ |
844؛ 723؛ 585 |
عبدیاہ |
عبدیاہ |
|
2سلاطین 14: 25؛ حوالہ جات: متی 12: 39-41؛ لوقا 11: 29-32 |
تقریباً 763 ق م |
یوناہ |
یوناہ |
|
متی 2: 6؛ 10: 36؛ 10: 35-36 |
722 ق م سے پہلے |
میکاہ |
میکاہ |
مصنف وہ شخص ھے جسکو خدا اپنے کلام کا مکاشفہ دیتا ھے کلام یا تو خود لکھتا یا اس کا مُنشی لکھتا مشلاً یرمیاہ کے مُنشی باروک نے کئی نبویتں لکھیں یرمیاہ 51: 64 کہتی ھے " یرمیاہ کی بایتں یہاں تک ہیں "۔ نئے عہد نامہ میں سے پُرانے عہد نامہ کے تقریباً 250 حوالہ جات ہیں پُرانے عہد نامہ کے مصنفین اکژ ایک دُوسرے سے ذکر کرتے تھے۔
شریحت کی پانچ کتب : یشوُع 1: 7؛ 8: 31؛ 23: 6؛ 1 سلاطین 2: 3؛ 2 سلاطین 14 : 6؛ 17 :37؛ 10 : 6؛ 1 تواریخ 16 : 40؛ 2 تواریخ 17: 9؛ 23: 10؛ 30: 5، 16، 18؛ 31: 3؛ 35: 26؛ عزرا 3: 2، 4؛ 6: 18؛ 7: 6؛ دانیایل 9: 11، 13؛ ہوسیح 8: 12۔
عزرا: نحمیاہ 8: 1؛ نحمیاہ 12: 32۔
نحمیاہ: عزرا 2: 2
یسعیاہ: 2سلاطین 19: 2؛ 2تواریخ 32: 20
یرمیاہ: دانی ایل 9: 2؛ 2تواریخ 36: 22
یوناہ : 2 سلاطین 14: 25
میکاہ: یرمیاہ 26: 18
حجی: عزرا 5: 1؛ عزرا 6: 14
زکریاہ: نحمیاہ 12 : 1، 16، عزرا 5: 1 6: 14
نقطہ یہ ھے کہ پپرانے عہد نامہ کی کتب ایک دوسرے میںقائم ہیں جیسے الجھن میں حصّے پھنسے ہوتے ہیں
سوال: پُرانے عہد نامہ نے قدیم کتب کے بارے کیا ذکر کیا ھے لیکن وہ پُرانے عہد نامہ میں نہیں ہیں ؟
جواب : زمانہ قدیم میں ، آج کی طرح ، بہت سی مزبہی اور تاریخی تعریرات تھیں زیادہ تر کی مختلف خوبیاں تھیں اپا کرفاکتب کے علاوہ، "جھوٹی اپاکرفائی کتب" بھی ہیں جو آج کوئی بھی قبول نہیں کرنا یہ اکژ جحلی کام ہیں جو دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کو ایک عظیم تاریخی شخصیت نے لکھا ھے لیکن حقیقت میں نہیں ۔ یقیقناً اگر کوئی غلط ھے تو یہ خدا کا کلام نہیں ھے دوسری کتب جب کہ کامل نہیں، اتنی بُری نہیں ۔ یقیقناً اگر کوئی خدا ترس شخص کچھ لکھتا ھے جو سچ ھے ، وہ ضروری نہیں خدا کا کلام ہو، اور نہ ہی اس نے ایسا ہونے کا دعویٰ کیا ہو ۔ اسی طرح، ایک اچھی مسیحی کتاب، اچھی ہو سکتی ھے لیکن خدا کا کلام نہیں۔ پہلی حنوک، ایک مرکب کتاب ھے، بمعہ قدیم ترین مصبف کی تعریر کی طرح اکژ پہلا حصّہ ھے۔
اس سلسلے میں، یہوداہ 14۔ 15 قدیم ترین پہلی حنوک کا حوالہ دیتا ھے پُرانا عہد نامہ خود کچھ کتب اور تعریرات کا ذکر کرتا ھے آج ہمارے پاس کوئی نقل نہیں ہے
سلیمان کے اعمال 1 سلاطین 14: 19، 29، 2 سلاطین 19: 9۔ 12، 11
یہوداہ/ اسرائیل کے بادشاہ 2 تواریخ 20: 34؛ 33: 18؛ 24: 7؛ 1 سلاطین 14: 19
یاشر/ آشر ( راستباز) یشوع 10: 13؛ 2 سموئیل 1: 18
خداوند کی جنگیں گنتی 21: 14 یہ کھبی بھی نوشتے ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی ہیں بلکہ یہ سادہ سے دوسرے مُستند تعریرات ہیں۔ جو جدید دینا میں گُم رہی ہیں۔
سوال : کونسے ابتدائی کلسیا کے مُصنفین نے کونسی پُرانے عہد نامہ کی کتب کے حوالے دیئے؟
جواب: یہاں وہ ہے جو میں نے تلاش کیا۔
سی آر( RC)1 کلیمنٹ( روم کا) ( 16صفحات97/98م
بی اے( AB) برنباس کا خط ( 13صفحات 100۔ 150م
آئی جی(IG) اگنیشیں (21 صفحات) تقریباً 110۔ 117م
پی اے( PA) پاپائس یوحنا کے شاگرد ( 3 صفحات) 110۔ 113م
ڈی آئی (DI) ڈڈاک ( 12 شاگردوں کی تعلیم ) (6 صفحات) 125م
ڈی جی( DG)(گمنام) ڈائیونیٹس (6صفحات) 130م
پی او(PO) پولی کارپ، یوحنا کے شاگرد (4 صفحات) 150م
جے ایم (JM) جئن شہید ( 119صفحات) 138۔ 165م
ایچ ای (HE) ہرمیس کا چرواہا (47 صفحات) 160م
ٹی ایچ (TH) تھیوفیلُس ( انطاکیہ) (33 صفحات) 168۔ /188م
ایم ای (ME) میلتیو آف سردیس (11 صفحات) 170۔ 177م
اے ای (AE) اتھپناگوراس (34 صفحات) 177م
آئی آر (IR) ایرینیس (264 صفحات) 182۔ 188م
سی اے (CA) سکندریہ کا کلیمنٹ (424 صفحات) 193۔ 217/220م
ٹی آی (TE) طرطولیان (روم) (854 صفحات) 200۔220م
ایچ آئی(HI) ہپوّلائیئس،(233 صفحات) 225۔6/235م
او آر(OR)اوریجن (622 صفحات) 230۔254م
این وی(NV) نوویتیان (39 صفحات) 250۔ 257م
اےاین (AN) گمنام نوویتیان کے خلاف (7 صفحات) 255م
اور دوبارہ بپتسمہ پر رسالہ (11 صفحات)
سی پی (CP) قرسی اور دوست (270صفحات) 248۔ 258م
بارڈیسن ظاہر نہیں کیا گیا(154۔230) [حوالہ پیدائش]یا جوئیس افریقی ( 232-245م) نخم، دانی، بنام، خروج اشارتہً)
ڈبیلیو (W) = کتب یا اقتباسات بنام ذکر یا بنام مصنف
آئی (I) =(Implied) اشارتہً
جی (G) =ذکر کردہ بطور خدا کا کلام (God of Word) +حوالہ
ایس (S) = ذکر کردہ بطور نوشتہ یا حوالہ + " یہ لکھا گیا ہے " ۔
کیو (Q) ایک کا حوالہ یا مزید آیات 2/1 = حوالہ 2/1 آیت ھا اے حصہ
اے ( A) اشارہ-= حوالہ نہیں X= خارج کردہ
|
سی آر |
آئی جی |
بی اے |
پی اے |
ڈی آئی |
ڈی جی |
پی او |
جے ایم |
ایچ ای |
ٹی ایچ |
ایم ای |
اے ای |
آئی آر |
سی اے |
ٹی ای |
ایح آئی |
او آر |
این وی |
اے این |
سی پی |
مصنف |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
W |
- |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
پرانا عہد نامہ |
||||||||
|
S |
- |
G |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
W |
W |
A |
B |
W |
G |
W |
W |
W |
W |
W |
پیدائش |
||||||||
|
G |
- |
W |
- |
Q |
- |
- |
W |
- |
G |
W |
- |
W |
Q |
W |
W |
W |
W |
Q |
W |
خروج خ |
||||||||
|
- |
- |
W |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
W |
- |
½ |
W |
W |
- |
W |
- |
- |
W |
احبار |
||||||||
|
Q |
A |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
A |
- |
W |
- |
W |
S |
W |
W |
W |
- |
W |
W |
گنتی |
||||||||
|
Q |
A |
W |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
W |
- |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
استثنا |
||||||||
|
Q |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
W |
- |
W |
W |
W |
Q |
W |
- |
- |
W |
یشوع |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
A |
W |
W |
- |
W |
- |
W |
W |
قضاۃ |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
روت |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
Q |
- |
- |
W |
- |
S |
W |
A |
W |
I |
- |
Q |
W |
1 ،2 سیموئیل |
||||||||
|
A |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
W |
- |
Q |
W |
W |
Q |
W |
- |
W |
W |
1، 2 سلاطین |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
- |
- |
W |
W |
½ |
- |
W |
1، 2 تواریخ |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
A |
- |
- |
- |
عزرا |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
X |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
Q |
نحمیاہ |
||||||||
|
W |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
X |
- |
- |
W |
- |
- |
W |
- |
- |
- |
آستر |
||||||||
|
W |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
Q |
W |
- |
- |
W |
- |
W |
W |
- |
- |
W |
ایوب |
||||||||
|
W |
- |
W |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
W |
W |
- |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
زبور |
||||||||
|
G |
G |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
W |
W |
S |
W |
W |
W |
W |
W |
- |
- |
W |
امثال |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
A |
- |
W |
- |
- |
W |
W |
W |
W |
- |
- |
W |
واعظ |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
A |
- |
W |
W |
W |
- |
- |
W |
غزل الغزلات |
||||||||
|
Q |
Q |
G |
- |
- |
- |
Q |
W |
- |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
یسعیاہ |
||||||||
|
- |
- |
G |
- |
- |
- |
- |
W |
A |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
W |
- |
W |
W |
یرمیاہ |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
A |
W |
Q |
- |
W |
- |
- |
Q |
نوحہ |
||||||||
|
G |
- |
G |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
W |
W |
- |
W |
W |
W |
W |
W |
A |
W |
W |
حزقی ایل |
||||||||
|
A |
- |
S |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
W |
- |
W |
W |
W |
W |
W |
- |
W |
W |
دانی ایل |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
W |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
- |
12 انبیا اصغر |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
W |
- |
- |
W |
W |
W |
Q |
W |
W |
- |
W |
ہوسیع |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
S |
- |
W |
- |
- |
S |
W |
W |
- |
W |
W |
Q |
W |
یوایل |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
- |
- |
S |
W |
W |
W |
Q |
½ |
- |
W |
عاموس |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
عبدیاہ |
||||||||
|
A |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
- |
- |
W |
W |
W |
- |
W |
- |
- |
- |
یوناہ |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
W |
- |
Q |
W |
W |
W |
S |
- |
Q |
W |
میکاہ |
||||||||
|
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
Q |
W |
- |
W |
- |
- |
W |
ناحوم |
||||||||
|
S |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
W |
- |
W |
W |
W |
- |
W |
W |
- |
W |
حبقوق |
||||||||
|
- |
- |
S |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
W |
- |
- |
W |
- |
S |
W |
صفنیاہ |
||||||||
|
- |
- |
S |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
- |
S |
A |
- |
W |
- |
- |
W |
حجی |
||||||||
|
- |
- |
G |
- |
- |
- |
- |
W |
A |
W |
- |
- |
W |
W |
W |
½ |
W |
W |
W |
W |
زکریاہ |
||||||||
|
½ |
- |
- |
- |
- |
A |
- |
W |
- |
W |
- |
- |
W |
W |
W |
W |
W |
- |
- |
W |
ملاکی |
||||||||
|
سی آر |
آئی جی |
بی اے |
پی اے |
ڈی آئی |
ڈی جی |
پی او |
جے ایم |
ایچ ای |
ٹی ایچ |
ایم ای |
اے ای |
آئی آر |
سی اے |
ٹی ای |
ایح آئی |
او آر |
این وی |
اے این |
سی پی |
مصنف |
||||||||
|
H |
- |
- |
- |
- |
1 |
a |
a |
|
آر |
|
||||||||||||||||||
|
97/98 A.D. |
150 A.D. |
168 A.D. |
200 |
225 A.D. 258 A.D. |
وقت |
|||||||||||||||||||||||
|
151 صفحات |
135 صفحات |
264 |
854 |
424 |
225 |
622 |
57 pgs |
270 |
صفحات |
|||||||||||||||||||
سوال: ہم بائبل کے متن سے الگ رکھتے ہیں پُرانے عہد نامے کی کتابوں کی کونسی فہرست ہے
جواب یہاں فہرستیں ہیں
بن سرا، دوُسری صدی ق م میں ۔ تمام بلکہ حزقی ایل۔
فلسفی اسکندری یہودی ( ڈی وٹا کیٹمیلیٹو25) ۔3 شیکشن
یوزیفس یہودی مُصنّف ۔100م کنڈا اپیون 1۔8۔
جمینیہ کی یہودی کونسل 90م ۔ اپا کرفا نہیں ۔
کارتھیج کی کونسل 397م ۔ اس میں تاریخی اپا کرفا ہے (بشمول 1، 2 ایسد ررساور منسی کی دُعا ، آج کھتیولک اپا کرفا میں نہیں پایا جاتا۔
سوال: پُرانے عہد نامے بیں کہاں مُناسب شاعری کی شکلیں پائی جاتی ہیں؟
جواب: مناسب شاعری کی اشکال عبرانی شاعری میں عام ہیں۔ اُن میں سے کچھ یہاں ہیں
پیدائش 7: 4۔ 8؛ 7: 21۔ 23ا۔ گنتی 15: 35۔ 36۔ 1 سموئیل 2؛ 3: 17؛ 3: 1۔ 4؛ 8: 5۔ 22 اور 18: 20۔ 26 2۔ سموئیل 1: 19۔ 27؛ 5: 17۔ 8: 18؛ اور 23: 1۔ 7ایوب 4: 5۔ :5 27۔ زبور 3: 7۔ 8؛ 51، 58۔ زبور 109 اس کے قریب ہے یسعیاہ 15: 1۔ 4؛ 21: 1۔ 10؛ 22 : 8۔ 11؛ 22: 1۔ 4؛ 22: 8۔ 11؛ 22: 12۔ 14 23: 1۔ 14؛ 24: 1۔ 13؛ 26: 1۔ 21؛ 27: 1۔ 13؛ 29: 9۔ 14؛ 32: 1۔ 5؛ 37: 14۔ 20؛ 38: 1۔ 8؛ 38: 1۔ 18؛ 30: 10۔ 20؛ 41: 17۔ 20؛ 42: 1۔ 4؛ 42: 13۔ 17؛ 43: 1۔ 7؛ 43: 8۔ 13؛ 43: 22۔ 24؛ 43: 25۔ 44: 5؛ 44: 6۔ 8؛ 48: 17۔ 22؛ 51: 1۔ 3؛ 51: 7۔ 8؛ 51: 13۔ 15؛ 55: 1۔ 13؛ 56: 9۔ 12؛ 59: 14۔ 20؛ 61: 5۔ ؛ 63: 15۔ 12؛ 65: 1۔ 66: 24؛ 65: 17۔ 18ب؛ 65: 18پ۔ 20؛ 66: 5۔ 41؛ 66: 18۔ 24۔
یرمیاہ 9: 1۔ 11؛ 20: 24۔ 18
زکریاہ 6: 9۔ 15۔
حزقی ایل 26: 3۔ 14 مناسب شاعری کی شکل ہے اگرچہ یہ مکمل مناسب شاعری نہیں ہے۔
کچھ مُبصر آستر اور متی کتب کو بطور مناسبشاعر کی شکل سمجھتے ہیں
سوال: پُرانے عہد نامے مین کہاں الامی پائی جاتی ہے؟
جواب: السائیکلوپیڈیا برٹنیکا ورلیم 1(1956) صفہ 684 کیتا ہے " ارامی کا ابتدائی ریکارڈ تقریباً 800 ق م تک جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حروف تہجی موربی پتھر سے تھوڑے سے مختلف ہیں یہ کہتا ہے یہاں دو رحجانات ہیں جو فارسیوں کے دور حکومت میں مکمل ہوئیں بائبل میں ارامی عبارات مندرجہ ذیل ہیں۔
پیدائش 31: 47 ( حرف دو الفاظ) دانی ایل 2: 4ب۔ 7: 28۔
عزرا 4: 8۔ 6: 18۔
عزرا 7: 12۔ 26
یرمیاہ 10: 11
کلیسیاء نظام میں کچھ ارامی بیان ہیں
کچھ نام :عبرانی اور ارامی دونوں ہیں ای آئی، مردگی ، مارہ ( روت 1: 20، توبیاس، جیشم
کچھ دوسرے الفاظ عبرانی اور ارامی دونوں ہیں۔
اعاہن ("اسیلے" ارامی میں "اُن کے لیے " عبرانی میں) ( روت 10: 13)
غاروں میں ہال میں دو کتبوں میں 11 میل ( 18 کلو میٹر) عمان کے مفرت میں اُردن کا ذکر " تُوبیاہ" ارامی میں۔ ( 590ق م سے 200 ق م تک
اسیری کے بعد پُرانے عہد نامے کی کتب میں کچھ بابلی یا ارامی بیانات ہیں حوالے کے لیے ، یسعیاہ میں کوئی ارامی اصطلاع نہیں ہے۔
مختلف الفاظ نئے عہد نامے میں اناجیل میں بھی ارامی الفاظ ہیں۔
سوال: پُرانے عہد نامے میں ، ایک فقہیہ (نقل نویس) کی غلطی اور اصل متن کی غلطی میں کیا فرق ہے؟ کون سی وضاحت زیادہ مناسب ہوگی؟
جواب: فقہیہ کی غلطیاں عام طور پر، املا کی غلطیاں، چند حروف کی تبدیلیاں یا متن کی لائن دوہرائی جانا یا پھسل جانا۔ ایک خاص عبارت کے لیے ، اگر ہمارے پاس صرف پُرانا عہد نامہ ہے تو یہ کہنا مُشکل ہو گا جو زیادہ مناسب تھا کیونکہ ہمارے پاس زیادہ مسودات نہیں ہیں۔ تاہم مطابقت سے نئے عہد نامہکے 1000 سے زیادہ مسودات سے موازنہ کر سکتے ہیں نئے عہد نامے کے مسودات میں ایک دو اور تین حروف کی کئی تبدیلیاں ظاہر ہوئی ہیں اس کی وجہ نقل نویسی اور املا کی غلطی ہے یہ کہنا کہ نئے عہد نامہ کے مسودات میں بہت سی نقل نویسی غلطیاں ہیں کیونکہ ہمارے پاس کئی مسوداتی ثبوت ہیں، اور پُرانے عہد نامے میں اکژ نہیں کیونکہ ہمارے پاس تبدیلیاں ظاہر کرنے والے مسودات نہیں ہیں یہ سمجھ نہیںبنے گی کیونکہ ہمارے پاس اتنے زیادہ پُرانے عہد نامے کے مسودات نہیں ہیں ۔ نہیں، قدرے نقل نویسوں کی پُرانے عہد نامے میں غلطی کرنے کی رفتار غالباً سرسری طور پر ایک ہی قدر ہے جسے نقل نویسوں کی غلطیاں نئے عہد نامہ میں ہیں۔
سوال: کیا چرچ آف کرائسٹ فرقہ ایمان رکھتا ہے کہ پُرانے عہد نامے کا خدا، نئے عہد نامے کے خدا سے مختلف ہے؟ ( ایک مسیحی نے یہ پوُچھا تھا)
جواب: نہیں ، یہ ایک جھوٹا الزام ہے میں نے یہ سُنا۔ کچھ چرچ آف کرائسٹ کلیسیاؤں کی کچھ سنجیدہ غلطیاں ہوتی ہیں حققتاً لوگوںکی نجات کے لیے پانی کے بپتسمہ سے متعلقہ غلطیاں ۔اعمال 10: 44۔ 48 اورایک انسان کی گناہ گار فطرت سے انکاری شخص کا خیال مختلف ہے یوحنا 6: 44، 65 اور رومیوں 3: 10۔ 18 سے بھی مختلف ہے تا ہم ، میرے بہترین علم کے مطابق کوئی بھی چرچ آف کرائسٹ شخص نہیں کہتا کہ پُرانے عہد نامے کا خدا نئے عہد نامے کے خدا سے مختلف ہے غناسطیت جو ایک ابتدائی