گنتی کی کتاب سے سوالات
سوال: گنتی کی کتاب کا اصل مقصد کیا ہے؟
جواب: عام طور پر نظر رکھنے کے لیے گنتی کی کتاب پر غور کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ کتاب بہت ساری نسلوں اور ذاتوں کے ساتھ وضاحت کرتی ہے اس کتاب کا نقطہ انفرادیت کے ساتھ اور ذمہ داری کے تعاون کے ساتھ خدا کے سامنے وضاحت کرتا ہے ۔ خدا نے لوگوں کو انکی ذاتی کوتاہیوں اور انکے گناہوں کی وجہ سے پکڑنا ہے لیکن لوگ اکثر اس انجام سے گزرتے ہیں کہ وہ دوسروں کے لیے کیا کرتے ہیں۔
کچھ کے لیے گنتی کی کتاب نفرت انگیز اور معمہ دونوں کے لیے قابل تسلیم سمجھی جاتی ہے۔ خدا کائنات میں سب سے پیارا ہے ۔ لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خدا محبت ہے اور کچھ نہیں ۔ گنتی ایک واحد کتاب ہے وہ جنہوں نے اس کتاب کو پڑھا ہو گا کہ سب چیزوں سے پہلے خدا ہے ، خدا پاک ہے اور خدا غصے بھی ہوتا ہے۔
سوال: گنتی کی کتاب کی شہہ سرخیاں کیا ہیں؟
جواب: اس کتاب کہ شہہ سرخیوں کے بہت سارے ذرائع ہیں۔ بہت سارے تبصرہ نگار سبق کے ایک چھوٹے سے حصے پر اتفاق کرتے ہیں لیکن اس چھوٹے سے حصے پر یہاں یہ اکیلا کھڑا ہے جو بڑے حصے کا ایک حصہ ہے اس پر اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ یہاں پر ایک شہہ سرخی ہے جو زور دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں گنتی کی کتاب سے کیا سیکھتے ہیں اور ہم اپنی زندگیوں میں اسکو کیسے لاگو سکتے ہیں جب ہم استعارے کے طور پر لیتے ہیں کہ " خدا پہاڑ پر ہے"۔
I: 19 دن تک سینا میں تربیت میں ( گنتی 10: 1-10)
A : لوگوں کی مقرری ( گنتی 1-4)
1: مردم شماری پہلی نسلیں 603، 550 ( گنتی 1)
2: حکم اور مہربانیاں۔ ( گنتی 1)
: لوگوں کی قربانیاں ( گنتی 10: 5-10)B
1: پاکیزگی اور بد گمانی ( گنتی 5)
2: نذرات کی علیحدگی ( گنتی 6: 1-21)
3: ہیکل کی ذمہ داریاں ( گنتی 6: 22-7: 89)
4: قربانیوں کی ذمہ داریاں ( گنتی 8)
5: جب آپ دشمنوں سے چھٹکار حاصل کر چکے ہوں گے تب تم نرسنگا پھونکنا جو خدا کی حضوری یاد دلائے گا ( گنتی 10: 9-10)
II: 34 سال بیابان میں لمبے سفر کے بعد خدا نے ان کو وہ جگہ دی ۔ ( گنتی 10: 11-20: 13)
A: بنی اسرائیل سے دشت سینا سے فاران کی کوچ۔ ( گنتی 10: 11-12: 16)
1: کوہ سینا سے ابر شہادت کا مسکن اٹھ گیا ( گنتی 10: 11-36)
2: تبعیرہ میں آگ، بٹیر اور مصیبت ( گنتی11)
3: مریم اور ہارون نے موسیٰ کے خلاف بد گوئی کی ( گنتی 12)
: دشت فاران پر مصیبت۔ ( گنتی 13-20: 13)B
1: جاسوسی رپورٹ ، شک اور ٹھہرنا ( گنتی 13)
2: اتحادی شکست کی رہنمائی کرتے ہیں ( گنتی 14)
3: آتشی قربانیاں اور سوختنی قربانیاں ( گنتی 15)
4: قورح کی روگردانی لیڈروں کے درمیان ( گنتی 16)
5: ہارون کے سٹاف کی پشت پناہی اتحادیوں کے لیے ایک نشان ہے ( گنتی 17)
6: خادمانہ ذمہ داری اور مدد ( گنتی 17)
7: بے عیب اور سرخ رنگ کی بچھیا اور پاکیزہ پانی ( گنتی 19)
8: موسیٰ کا گناہ ( گنتی 20)
III: موآب کی وادی: مخالف پر قابو کرنا ( گنتی 2: 14-25: 18)
A: بے مہری اور موت کا اختیار ( گنتی 20: 14-27)
1: ادوم: جب رشتہ داروں کو رد کرتا ہے ( گنتی 20: 14-21)
2: ہارون کی موت ( گنتی 20: 22-27)
B: مختلف قسم کی جنگ کو اور لڑائی کو سیکھتے ہیں ( گنتی 21)
1: عراد کا چھوٹا حملہ۔ ( گنتی 21: 1-3)
2۔ سانپوں کا ڈسنا لڑائی کیسی تھی ( گنتی 21: 4-9)
3۔ سیحون اور عوج کی لڑائی ( 21: 10، 35)
C: موآبی اسرائیل کے خلاف ہے ( گنتی 22: 25)
1۔ بلعام کی لعنت کو برکت ( گنتی 22: 24)
2۔ بہکاؤ اور آفت ( گنتی 25)
IV: وعدہ کی گئی سر زمین کے لیے تیاریاں ( گنتی 26: 36)
A: گنتی 26 باب میں دوسری نسل مردم شماری 601، 730
B: شفقت: خاندان، عوام، اور ذاتی طور پر ( گنتی 27: 30)
C: مال غنیمت حاصل کرنا ( گنتی 31: 32)
1۔ مہربانیوں سے انتقام ( گنتی 31)
2۔ یہ کم لیکن بہتر ہے: میراث کے لیے مختصر وقت کے لیے رکنا ( گنتی 32)
D: ماضی کے اور مستقبل کے کام کو پورا کرنا ( گنتی 33: 26)
1۔ ماضی کی کھوج کی اہمیت ( گنتی 33)
2۔ مستقبل کی سرحدوں کو سامنے رکھنا ( گنتی 34)
3۔ تم رد کی ہوئی جگہ کو جانو ( گنتی 35)
4۔ میراث کی حفاظت خواہش ( گنتی 36)
سوال: گنتی باب 1 اور خروج باب1 کے مطابق اسرائیل نے کیسے 602000 مردوں میں 67 مردوں کی شرح پیدائش 430 سالوں میں کی؟
جواب: یہ تقریباً 2.15 فیصد ایک سال میں شرح پیدائش ہو گی، جو کہ سالانہ آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح تناسب نہیں ہے حوالے کے طور پر 1983 میں سالانہ آبادی کی شرح پیدائش نیوگنی، انڈونیشیا اور ملائشیا میں 2.5 فیصد تھی۔ وسطی امریکہ میں 1983 کی شرح آبادی تقریباً 3.16 فیصد تھی ۔ حوالے کے طور پر نیوگنی ، انڈونیشیا اور ملائشیا کی سالانہ شرح آبادی 4.2 فیصد ، 4.15 فیصد تھی۔ اور یکے بعد دیگرے 3.07 فیصد تھی۔ میکسیکو کی سالانہ شرح آبادی 4.2 فیصد تھی۔ اور امریکہ کے دوسرے وسطی ممالک 3.5 فیصد تا 4.86 فیصد ایک سال میں قریب تر تھے۔
اگر اسرائیلی لڑائی اور قحط سے 430 سال تک آزاد ہوئے اور انہوں نے لمبی زندگی گزاری تھی ( جیسے خروج 6: 16-20 میں بیان ہوا ہے) ہو سکتا ہے کہ وہ 2.15 فیصد شرح سے بڑھے ہوں یہ قدرتی وجوہات کی وجہ سے ہے۔ ان میں مختلف قسم کے جو اسرائیلی تھے ان میں مکس تھے جو اسرائیل کے ساتھ گئے( خروج 12: 38، احبار 24: 10) اور خدا نے ابرہام سے عہد باندھا کہ وہ اسکی نسل کو بڑھائے گا۔ ( پیدائش 17: 2)
سوال: گنتی 1 اور خروج 1 کے مطابق دشت سینا میں پینسولیہ نے 600،000 لوگوں کی جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے کیسے مدد کی؟
جواب: اگرچہ ان کے پیچھے بارش کی بہتات بھی ہوتی لیکن یہ پھر بھی ان کی مدد نہ کر سکے جیسے خروج 16: 3 ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے خدا نے من اور بٹیروں کے معجزات کیے ( خروج 16) جو کہ زیادہ مدد گار ثابت نہ ہوئے لیکن ضروری تھے۔
سوال: گنتی 600،000 کی بجائے 30،000 لوگ شمار ہونے چاہیے تھے؟
جواب: نہیں، یہ تھیوری پہلی دفعہ تقریباً 1955 میں شائع ہوئی اور اسکا عبرانی زبان کے لفظ ( ایلف) میں ترجمہ ایک قبیلے کے طور پر بجائے ہزاروں کے جب یہ لفظ استعمال ہوا تو سینکڑوں اس ایک ہی لفظ کی پیروی کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ پورے نمبر 600،000 ایک ہی لفظ ( ایلف) کو پڑھنے کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں ۔ ہزار کی طرح اور یہ لفظ قبیلے کی طرح اس کے ساتھ منسلک نہیں ہوتا۔
سوال: گنتی 1 اور گنتی 3 کے مطابق مختصر جواب کیا ہے کہ کیوں ایسے متفقہ طریقے سے پہلوٹھوں کا شمار کم ہوا تھا؟
جواب: نمبر 22، 273 غالباً جو صرف دو سالوں میں پیدا ہوئے انکے لیے شمار کیے گئے کہ جنہوں نے بیابان میں چکر کاٹے تھے۔ جنہوں نے پہلے ہی دوسروں کو محفوظ کر لیا اسکے متبادل ہو سکتا ہے کہ فرعون نے مصر کے بہت سارے پہلوٹھوں کو قتل کیا ہو ۔ مزید معلومات کے لیے دیکھیے اگلا سوال۔
سوال: گنتی 1 اور گنتی 3 کے مطابق کیوں ایسے متفقہ طور پر پہلوٹھوں کا شمار کم کیا گیا تھا؟
جواب: پہلا بنیادی اثر کم ۔ مگر متعلقہ معلومات اور تب اسکا جواب۔
بنیادی اثر: گنتی 1: 46 اور گنتی 2: 32 بیان کرتی ہے پہلی نسل میں 603،550 غیر لاوی مرد تھے۔ جنہوں نے آرمی میں بیس سال تک خدمت سر انجام دی اور جو بوڑھے تھے۔ چنانچہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کے پہلوٹھوں کو گنا سو جتنے پہلوٹھے ایک مہینے اور اس سے اوپر کی عمر کے تھے گنے گئے وہ سب 22273 تھے۔ اسکی تناسب 27.1 بنتی ہے۔ یہ تناسب سے زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ پہلا نمبر جو 20 ہے وہ صحت مند پہلوٹھا ہے اور جو دوسرے مہینے پر گنے گئے وہ ایک مہینے کے پہلوٹھے ہیں۔
کم۔ مگر متعلقہ معلومات: جبکہ یہ پہلوٹھوں کی سب سے کم فیصد ہے جبکہ وہاں پر بڑے قبیلے ہیں وہ غالباً تناسب کی بڑی وجہ نہیں ہے۔ کیوں نہیں خدا عورتوں کی تناسب کو مردوں میں تبدیلی کرنے کا معجزہ کر سکتا ہے لیکن بائبل اسکا دعویٰ نہیں کرتی کہ خدا نے ایسے معجزات کیے ہیں ۔ اس سوال کی تسکین کے لیے معجزے کی اپیل غیر ضروری ہے۔
جواب: تین حصوں میں ہے۔
یاد رکھیں یہ کام کیوں کیا گیا تھا ۔ تمام پہلوٹھے جنھوں نے مصر چھوڑا پہلے ہی خون سے نہا چکے تھے اس لیہے وہاں پر قربانی کے لیے ایسے ہی پہلوٹھے کی دوسری دفعہ ضرورت نہیں تھی ۔ وہ مصری جنھوں نے اسے پہلے ہی پورا نہیں کیا تھا انکے پہلوٹھے قتل کیے گئے اس لیے وہاں پر قربانی کی ضرورت نہیں تھی یا ان پہلوٹھوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں تھی تبدیلی کی ضرورت کے لیے یا ان پہلوٹھوں کی قیمت کے لیے وہ جو مصر کو چھوڑنے کے بعد پیدا ہوئے انکے لیے ضرورت تھی۔
یہ عرصہ کتنا لمبا تھا؟ گنتی 1: 1 بیان کرتی ہے کہ پہلی نسل مصر کے علاقے سے نکلنے کے بعد دوسرے سال کے دوسرے مہینے کے پہلے دن کو سینا کے بیابان میں ٹھہرے ۔ اس وقت جو پہلوٹھے پہلے مہینے میں تھے وہ خارج کر دیئے گئے۔ یہ مردم شماری ان پہلوٹھوں کے لیے تھی جو 24 مہینوں کے عرصے میں پیدا ہوئے ۔ مصر میں بنی اسرائیل کی شرح آبادی تقریباً 2.15 فیصد ہر سال تھی۔ موجودہ ممالک کی سالانہ شرح آبادی مختلف شرح آبادی کا 3 تا 4.86 فیصد کے مشابہہ ہے ( گنتی اور خروج 1 اس مردم شماری کے لیے دیکھتے ہیں ) دو سالوں میں603،550 مرد اور 3 تا 4.86 فیصد شرح 37000 مردوں کو پیدا کرنے کے لیے قابل قبول ہو گی۔ اور 61000 شیر خواروں مرد اور عورتوں کی برابر تناسب دیتے ہیں کیوں بچوں کی اموات کم ہیں لیکن شاید دو سال میں بڑوں کی تعداد کم ہو گی۔ لیکن درحقیقت جوڑے ہو سکتا ہے کہ زیادہ تر علیحدہ ہوں کیونکہ مرد اہرام پر اکٹھے تمام وقت کام کرتے رہتے تھے شاید شیر خوار بچوں کے مرنے کی تعداد زیادہ تھی۔
جبکہ 73000 تا 61000 تمام مردوں کی صف بندی حقیقت میں 22،273 پہلوٹھے مردوں کے حق کے متعلق ہے۔ ان میں سے کچھ پہلوٹھے غالباً مار دیئے گئے جب وہ مصر میں پیدا ہوئے تھے۔ ( ویسے خروج 13: 12 ظاہر کرتی ہے کہ آدمی یا جانور کے لیے یہ ماں کے پہلوٹھے ہیں نہ کہ باپ کے یہ نذر کے لیے گنے گئے ہیں جبکہ میراث اکثر باپ کے پہلوٹھوں کی جانب سے شمار کی جاتی ہے یہ میراث تھی نہ شکرگزاری۔
فرعون کا حکم: اگر تم نہیں قبول کرتے کہ یہ قربانی ان کے لیے تھی جنہوں نے مصر کو چھوڑنے کے بعد جنم لیا لیکن تمام پہلوٹھے مرد اسے تسلیم کرتے ہیں اگر فرعون نے یہ قانون جاری کیا تھا کہ وہاں پر کوئی بھی اسرائیلی پہلوٹھا مرد نہیں ہو گا۔ جبکہ ( خروج 15: 20 ) بتاتی ہے کہ فرعون نے فوعہ اور سفیرہ سے باتیں کی ان دائیوں نے مصر کے پہلوٹھوں کو جیتا چھوڑ دی خروج 1: 15-20 بتاتی ہے کہ یہ رحلت سے 80 سال پہلے کی بات تھی ۔ خروج کی کتاب خاموش ہے خواہ سفیرہ اور فوعہ کی جانشین دائیوں کے انتظام کرنے کا جغرافیہ ایک جیسا تھا۔ یہ خاص طور پر دوسرے درجے کی رحلت کے دوران ہوا۔
نتیجہ: کہ مشکوک ہے کہ کوئی آدمی 1400 قبل از مسیح میں واپس آئے ۔ یہ تمام شرح پیدائش کو تیار کرنے کی حسابی سوچیں ہو سکتی ہیں جو مردم شماری کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔ پہلوٹھوں کی نسل کی صحت کی درستی کا اور اسکے واقعات کا صحیح ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔
سوال: گنتی 1 میں کیوں خدا نے موسیٰ سے کہا کہ صرف مردوں کی ہی مردم شماری کرو؟
جواب: گنتی 1: 3، 44 اس سوال کا جواب مہیا کرتی ہے۔ یہ تمام مردوں کے لیے نہیں تھا جو شمار کیے گئے تھے لیکن یہ صرف جنگ جو تھے۔ وہ جو نہ ہی قربانی اور نہ ہی مر سکتے تھے۔ جنہیں نہیں لڑنا چاہیے تھا وہ خارج کر دئیے گئے تھے۔
سوال: گنتی 1 رحلت کے دوسرے سال دوسرے مہینے کو بنی اسرائیل نکل آئی یا پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو جیسا کہ خروج 40: 2 بیان کرتی ہے؟
جواب: ملٹری نسل دوسرے مہینے میں تھی اس سوال کا جواب تین نکات سے واضح کرتے ہیں۔
1: قبیلے کی مردم شماری جنگی مقاصد کے لیے کی گئی ( گنتی 1: 46) جو دوسرے مہینے میں مکمل ہوئی ( گنتی 1: 1-2)
2: پہلے مہینے کی پہلی تاریخ خیمہ اجتماع کا مسکن کھڑا کر دیا گیا تھا ( خروج 40: 2) یہ آیات خیمہ اجتماع کے ٹیکس کے بارے میں نہیں کہتی جو جلد ہی اسی وقت اکٹھا کیا گیا تھا۔
3۔ اگر دوسرے مہینے میں صرف ایک ہی نسل کو گنا گیا تھا تب لعنت پوری تعداد اور قبیلے کی تعداد کے ساتھ میچ کرے گی۔
4۔ اگر دو نسلوں کو گنا گیا تھا ایک خیمہ اجتماع کے ٹیکس کے لیے پہلے مہینے میں اور دوسری کو فوجی مقاصد کے لیے دوسرے مہینے میں گنا گیا تھا ان کی تعداد ایک جیسی ہو گی کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب ہوں گے۔
سوال: گنتی 1: 2-24 کیا وہاں پر کوئی اضافی بائبل کا ثبوت ہے کہ کچھ اسرائیلی قبیلے رحلت سے پہلے فلسطین میں طے عرصے تک رہے تھے؟
جواب: نہیں بیسویں صدی کے ابتدائی حصے میں اگارٹیک افیکس میں کچھ الفاظ کی نشاندہی کی گئی جو آشر اور زبولون کے الفاظوں کے مشابہہ تھے۔ کے اے کچن انشینٹ اورنٹن اینڈ اولڈ ٹیسٹمینٹ صفحہ 71 کہتی ہے۔ اس میں زبولون اور آشر کے حوالے کا تصور کیا جاتا ہے۔ آگارٹیک افیکس نے اس ثابت کیا تھا کہ اسکی وسعت زیادہ پرانی اور لمبی نہیں ہے۔ ڈبلیو ایف ابرائیٹ باسور اپنے فٹ نوٹس میں بیان کرتا ہے ابرائٹ باسور 63 ( 1936) صفحہ 27-32 اور باسور 71 ( 1938) صفحہ 35-40 آر ڈی لنگ لس ٹیکٹس ڈی راس شامرا آگاریٹ II 1945، صفحہ 4696-519 ۔
سوال: گنتی 2 میں غیر اسرائیلی کہاں تھے " ان کی بڑی تعداد ان میں شامل تھی خروج 12: 37 میں بیان کیا گیا ہے؟
جواب: کچھ لوگ اپنے راستے سے چلے گئے تھے اور انہوں نے اسرائیل کی صحبت کو چھوڑ دیا تھا۔ ان میں سے کچھ بے خوف و خطر اسرائیل کے کیمپ میں شامل تھے، ایسے ہی سارے اسرائیل کی بے ادبی کرنے والے تھے۔ جیسا کہ احبار 24: 10 میں بیان کیا گیا ہے اگرچہ انہوں نے من اور بٹیر بھی کھائے ہوں گے۔ یہ کافی اہم ہو گا اور دوسرے اسرائیل کے خاص قبیلے میں رہتے تھے۔
سوال: گنتی 3: 12 جب تمام پہلوٹھے خداوند کی نذر کر دئیے گئے تو ان تمام کی بجائے خدا نے لاوی کے قبیلے کو ہی کیوں چنا تھا؟
جواب: کتاب مقدس یہ نہیں بیان کرتی کہ لاوی کے قبیلے کو کیوں بلایا گیا تھا۔ کیوں کہ اس وقت تمام خدا کے لوگ تھے اور خدا تمام چیزوں کی بڑھوتری کر سکتا ہے جیسے خدا کی مرضی تھی۔ جیسے نوٹ کیا گیا کہ پیدائش 47: 7 میں یعقوب نے پیشن گوئی کی کہ لاوی کا قبیلہ منتشر ہو گا۔
سوال: گنتی 3: 13 خدا کیسے مصر کے پہلوٹھوں کو قتل کرتا ہے تاکہ اسرائیل کے پہلوٹھے خدا کے ساتھ تعلق رکھیں؟
جواب: وہاں پر کوئی بھی پوشیدہ تقاضا نہیں ہے کہ یہ اسطرح کا رستہ اپنائیں کتاب مقدس ہمیں یہ بیان نہیں کرتی کہ خدا نے کیوں اس طرح کی خواہش کو شامل کیا کہ جیسے یہ ایک اضافہ ہے حصہ ہے جو ان کےدرمیان اور خدا کے لوگوں کے درمیان ہوا۔ تاہم، ہم یہاں تین وجوہات پر نگاہ کر سکتے ہیں۔
پرانی یاد داشت: یہ رواج انکی مصر سے رہائی کے وقت استعمال ہوا ہو گا جو کہ اہم یاد داشت ہے ۔
دائمی سچائی: درحقیقت ہر کوئی یقیناً خدا سے تعلق رکھتا ہے جبکہ خدا نے بھی ہر کسی سے یہی تقاضا کیا ہے۔ اس نے کچھ ایسے ہی تقاضے کی خواہش کی ہے۔
مستقبل کے مقاصد: تربیت انکے خلاف حفاظت کی خدمت سر انجام دے سکتی تھی اگر وہ نقل کرتے جیسے کنعان کے لوگوں نے بتوں کے سامنے پہلوٹھے بچوں کی قربانی کی مشق کی۔
سوال: گنتی 3: 16-34 کیوں صرف لاوی کے مردوں کو چنا گیا تھا؟
جواب: اس قبیلے کا مقصد تھا کہ خیمہ اجتماع کے ساتھ جسمانی کام سر انجام دیتا اور قربانیاں کرنا تھا۔ اور اسکے مردوں نے ایسا ہی کیا اگلے سوال میں بھی ہم دیکھتے ہیں۔
سوال: گنتی 3: 16-34 لاویوں کو ہی کیوں جو ایک مہینے کے اوپر کے تھے شمار کیا گیا اسوقت ایک مہینے سے اوپر کے مردوں کو شمار نہیں کیا گیا تھا؟
جواب: کتاب مقدس یہ نہیں بیان کرتی ایک ممکن وجہ ہو سکتی ہے کہ نوجوانوں کی تناسب جنگ کے لیے موثر نہ ہو اسوقت لاوی جنگ میں نہیں گئے تھے۔
سوال: گنتی 3: 28 تمام کو کیوں شامل نہیں کرتے ہیں؟
جواب: اس طرح یہاں پر کاپی کرنے کی غلطی ہوئی ہے یہاں پر ان کی تعداد 8600 ہے۔ جبکہ اسے 8300 ہونا چاہیے تھا۔
سوال: گنتی 3: 42-46 میں، کے مطابق پہلوٹھے مردوں کی شرح فیصد کیوں کم نظر آتی ہے ؟
جواب: یہ پہلوٹھے بیابان میں پیدا ہوئے ہیں فرعون نے بہت سارے پہلوٹھوں کو مصر میں مار دیا تھا اس سوال کے جواب کے لیے گنتی 1 کو دیکھتے ہیں۔
سوال: گنتی 3: 48 میں، کے مطابق اس انوکھی مردم شماری کے لیے کیوں روپیہ ادا کیا؟
جواب: خدا نے اسرائیل کے ساتھ بات چیت کی تاہم وہ چاہتا تھا خدا نے ظاہری طریقے سے ان کے ساتھ بات چیت کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ وہ سمجھ سکیں۔
سوال: گنتی 4: 3 میں، کیا لاوی 30 سال کی عمر میں خیمہ اجتماع میں خدمت سر انجام دینا شروع کر دیتے تھے یا 25 میں گنتی 8: 24 یا عزرا 3: 8 کے مطابق؟
جواب: گنتی 8: 24 کہتی ہے کہ تمام لاوی 25 تا 50 سال کی عمر میں خیمہ اجتماع کے کاموں میں حصہ لیتے تھے۔
گنتی 4: 3 کہتی ہے کہ قہاتی مردوں کو اکٹھا کرو جو 25 تا 50 سال کے ہیں " وہ خیمہ اجتماع کے مقدس کاموں میں خدامت سر انجام دیں۔ یہ نہیں کہا گیا کہ 25 تا 30 سال کے قہاتی خدمت نہیں کرتے تھے یا صرف ان کو نہیں گنا جاتا تھا۔ یہ ہو سکتا ہے کیونکہ لاوی اسوقت زیر تربیت تھے۔
عزرا 3: 8 جب اسیری سے واپس لوٹے تو انہوں نے ہیکل کی عمارت کا کام شروع کیا لاوی جو 20 سے اوپر تھے ہیکل میں خدمت نہیں کرتے تھے۔ لیکن ہیکل کی عمارت کی نگرانی کرتے تھے نوجوان ہو سکتا ہے کہ خاص طور پر اس کام پر توجہ کرتے تھے تھوڑے لاویوں کی وجہ سے۔
سوال: گنتی 4: 6 میں ،کیا چوب عہد کے صندوق سے ختم کر دی گئی تھی یا وہ صندوق کے اندر لگی رہی جیسے خروج 25: 15 تجویز کرتا ہے؟
جواب: گنتی 4: 6 کہتی ہے کہ چوبیں اسکے اندر لگی ہوئی تھی جب عہد کا صندوق منتقل کیا جا رہا تھا لفظ چوب کا مطلب ہو سکتا ہے باندھنا، لگانا یا ممکن طور پر اسکو فٹ کرنا ۔ خروج 25: 15 کہتی ہے کہ چوبیں صندوق سے الگ نہیں تھیں اسکا مطلب ہو سکتا ہے کہ عہد کے صندوق کے سوراخ سے ختم نہیں کی گئی تھیں ۔ یہاں پر دو ممکن جوابات ہے۔
1: جب صندوق کو رکھا گیا تھا تو چوبیں صندوق سے نکال لی گئی تھیں لیکن یہ صندوق کو بند کرنے کے لیے تھیں۔
2: چوبیں ہمیشہ صندوق کے سوراخوں کے ساتھ ہی تھیں لیکن وہ صرف صندوق کو منتقل کرنے سے پہلے باندھنے اور فٹ کرنے کے لیے تھیں۔
سوال: گنتی 5: 13-22 میں، اگر ان تمام نے اس پانی سے پیا تو یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ توہمات پرست ہیں؟
جواب: تمام کے لیے نہیں ، وہاں پر کوئی قدرتی وجہ نہیں تھی کیوں غلطی کی ہو گی اور معصوم لوگ یہ غلطی نہیں کریں گے خدا مافوق الفطرت سبب میں فرق پیدا کرتا ہے۔ ۔
سوال: گنتی 6: 2 میں، کے مطابق کیا عورت خدا کی نذیر ہو سکتی ہے؟
جواب: یقیناً گنتی 6: 2 وضاحت کے ساتھ عورتوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ بھی خدا کی نظر ہو سکتی ہیں۔
سوال: گنتی 6: 5 میں، اسوقت خدا کے نذیر کا سر نہیں منڈھوایا جاتا تھا اور پولس نے کہا کہ مرد کو لمبے بال نہیں رکھنے چاہیے ( 1 کرنتھیوں 11: 4) سر منڈھوانے والا مرد خدا کا نذیر ہو سکے گا؟
جواب: پہلی بات پولس معمولی زندگی کے بارے بات کر رہا تھا نہ کہ نذیر کے خاص عہد کے بارے میں۔ کیونکہ 1 کرنتھیوں کو لکھنے کے بعد پولس نے بذات خود نذیروں کی خاطر ادا کیا ( اعمال 21: 22-23) دوسری بات نذیروں کے عہد غیر یہودیوں کے بارے بیان نہیں کرتے تھے جس میں غیر یہودی مسیحی بھی شامل تھے۔
سوال: گنتی 1: 9 میں، خدا نے کیوں انکے ذمہ مقدس خدمت دی ہوئی تھی جو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے جبکہ گاڑی سب کچھ اٹھا سکتی تھی؟
جواب: خدا شاید دو وجوہات کے لیے یہ چاہتا تھا۔
عملی طور پر: چیزیں کھرچیں گئیں اور بغیر کسی اوزار کے اگرچہ انہوں نے لوگوں کے ذریعے حفاظت کے ساتھ پہنچایا تب اگر وہ بیلوں کی گاڑی میں رکھتے ہو سکتا ہے انہیں بوسیدہ راستوں سے گزرنا پڑتا۔
علامتی طور پر: یہ اسرائیل کے لیے ایک نمونہ ہو گا کہ یہ حصے کاہنوں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے وہ عزت اور بہتر رویے کے ساتھ کاہنوں کے ساتھ عبادت کرتے تھے۔ حتیٰ کہ جب ان کی عبادت کا اسلوب بہتر نہیں تھا۔ 1 سیموئیل میں جب خدا نے عزہ کو مار دیا اسوقت اس نے عہد کے صندوق کو چھویا تھا۔ جب یہ بیلوں کی گاڑی پر لے جایا جا رہا تھا۔
سوال: گنتی 8: 17-19 میں ،خدا نے لاویوں کے لیے اسرائیل کے پہلوٹھوں کا مبادلہ کیا؟
جواب: ممکن وضاحت کے لیے چار نکات کو تسلیم کیا گیا ہے ۔
1: خدا پیدا کرنے والا ہے وہ پہلوٹھوں اور دوسرے نمبر پر پیدا ہونے والوں اور تمام پیدا ہونے والوں پر دعویٰ کرنے کا حق رکھ سکتا ہے۔
2۔ خدا یہ کہہ رہا ہے کہ یہ زندگی اس بات کی یاد داشت ہے کہ خدا نے اسرائیل کے پہلوٹھوں کو بچایا وہاں سے نکلنے کے دوران جب اسرائیل کے سب پہلوٹھے مار دیئے گئے۔
3۔ ان کا زندہ رہنا اس طرح کی یاد دہانی ہے کہ خدا تمام جانوروں کے پہلوٹھوں اور انسانوں کے پہلوٹھوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسوقت لوگ جسمانی طور پر کسی بھی قربانی میں مارے نہیں جاتے تھے۔
4۔ بجائے اس کے کہ اسرائیل کے پہلوٹھے خدا کا کام ساری زندگی کریں خدا نے انکی جگہ پر لاویوں کو لے لیا۔
سوال: گنتی 8: 24 میں، کیا لاوی لوگ 25 سال اور اس سے زیادہ عمر کے بھی خدا کے مقدس خیمہ اجتماع کے کاموں میں حصہ لیتے یا تمام لاوی جو 30 سال اور اس سے زیادہ عمر کے مرد اس نسل سے جو خیمہ اجتماع کے کاموں کے لیے گنے گئے تھے حصہ لیتے جس طرح گنتی 4: 3 کہتی ہے ؟
جواب: یہ ہو سکتا ہے کہ لکھنے میں غلطی ہوئی ہو لیکن وہاں پر انہوں نے 5 سال تک زیر تربیت کام کیا ہے۔
سوال: گنتی 8: 24 میں ،کیا لاویوں نے خیمہ اجتماع کے کاموں میں 25 سال کی عمر میں حصہ لیا یا عزرا 3: 8 کے مطابق لاوی جو 20 سال کے تھے انہوں نے کام کیا؟
جواب: دونوں کیونکہ وہ مختلف چیزوں کے متعلق اشارہ کرتے ہیں کیا پہلا جواب نہیں ہے اور اب جواب۔
جواب نہیں: گنتی 8: 24 میں موسیٰ کے وقت لاویوں کے متعلق حکم دیا گیا اور عزرا 3: 8 کہتی ہے کہ کیا زربابل نے 20 سال کے لاویوں کو نامزد کیا تھا۔ اور بوڑھے خاص حالات اور خاص وقت کے لیے تھے۔ یہ جواب نہیں ہے کیونکہ اس کی وضاحت نہیں ملتی ۔
زربابل نے موسیٰ کی شریعت کو رد کیا تھا اور اس لیے یہاں پر بہت سادہ وضاحت ہے جو کہ اس کا تقاضا نہیں کرتی۔
جواب: ایک قربان گاہ کا مدد گار مختلف ہے ایک تعمیراتی کام کرنے والے سے گنتی 8: 24 میں لاویوں کے لیے جو 25-50 سال کے تھے ایک قانون تھا وہ جو خیمہ اجتماع میں کاہنوں کے ساتھ اسسٹنٹ کا کام کرتے تھے اور بعد میں ہیکل میں بھی۔ عزرا 3: 8 نے بیان کیا کہ زربابل نے تعمیراتی کاموں کی زیر نگرانی کے لیے بیس سال کے اور اس سے زیادہ عمر کے لاویوں کو نامزد کیا۔
سوال: گنتی 9: 15-21 میں، دن کا ابر کیسا تھا اور شام کو آگ کا ستون جس کی اسرائیلی قوم نے پیروی کی کیسا تھا؟
جواب: ظاہر ہے یہ خدا کے مافوق الفطرت نشان تھے جو سادگی کے ساتھ استعمال کیے گئے اور ظاہر طور پر انکو خدا کی موجودگی کا اطمینان ہوتا تھا اگرچہ اکثر اسرائیلی بے ادب تھے ۔ آج جب خدا ہمارے اندر گھر کرتا ہے ہمیں ظاہری طور پر اسکی موجودگی کے اسطرح کے نشان نہیں ملتے ہو سکتا ہے یہ کہنا آسان ہو اگر میں زیادہ معجزات دیکھتا تو میں بہت زیادہ تابعدار ہوتا۔ خیر اسرائیل نے بہت سارے معجزات دیکھے تھے لیکن پھر بھی وہ بے ادب ہی رہے تھے لوگوں کے اس ہجوم میں بہت سارے لوگوں نے بھی یسوع کو قبول کیا ہو گا لیکن کیا بعد میں انہوں نے اسکو قبول نہیں کیا ہو گا؟ اگرچہ یہ اکیلا ہی مافوق الفطرت نشان کچھ لوگوں کو قائل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
سوال: گنتی 10: 30-31 میں، موسیٰ نے حوباب کو کیوں کہا کہ وہ اسرائیل کی رہنمائی کرے ، اسوقت گنتی 10: 34 اور خروج 13: 21-22 میں کہا گیا ہے کہ خدا ابر اور آگ کے ستون میں انکی راہنمائی کر رہا تھا؟
جواب: یہ جواب ہو گا کہ شاید موسیٰ حوباب کے بارے میں سوچنے میں غلطی کر رہا ہو تو حوباب کی کیا ضرورت ہو گی جب خدا انکی رہنمائی کر رہا تھا۔تاہم شاید یہ مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہے خدا کی ان کے ساتھ رہنمائی بھی تھی لیکن حوباب پھر بھی ان کے لیے مفید تھا ۔ خروج 13: 21-21 ؛ گنتی 10: 34 ہدایت کرتے ہیں کہ ابر اور آگ کے ستون کا مقصد کیا تھا ۔ یہ آیات انکو بتاتی ہیں جب وہ چلتے تھے تو خدا ان کے رستوں میں رات کو روشنی مہیا کرتا تھا اور انکے راستوں میں انکی رہنمائی کرتا تھا۔
گنتی 10 : 30-31 حوباب کو نہیں کہا گیا تھا کہ وہ انکو بتاتے کہ انہوں نے کس طرف سفر کرنا ہے بلکہ صحرا میں انکی آنکھوں کے سامنے کہ چھاونی کہاں تھا۔
آگ کچھ لوگ انسانی عدالت پر بھروسہ کر سکتے ہیں اور خدا کی طرف نہیں دیکھتے دوسرے رہنمائی کی طرف دیکھ سکتے ہیں اور تمام انسانی مدد کو حقیر جانتے ہیں۔ ہمیں خدا سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے لیکن ہمیں یہ پہچاننا ضرور ہے کہ بعض اوقات خدا لوگوں پر عاقبت اندیشی بھیجتا ہے ہماری مدد کرنے کے لیے اور ہمیں عقلمند مشورے دیتا ہے ۔
سوال: گنتی 10: 33 میں، کیا عہد کا صندوق چھاونی کے آگے چلتا تھا یا اسکے درمیان میں جس طرح گنتی 2: 17 بتاتی ہے؟
جواب: ہر قبیلے کی اپنی ذاتی چھاونی ہوتی تھی جو ایک مرکز کا سامنا کرتی تھی اس لیے عہد کا صندوق درمیان میں تھا اور ہر قبیلے کی چھاونی کے سامنے تھا ۔ ( سوائے لاویوں کے جو درمیان میں تھے)
سوال: گنتی 11: 4-6 لوگ شدیدیت سے دلی طور پر چلائے اور شکایات شروع کر دیں میں حیران تھا کہ خدا کیوں لوگوں کو مار نہیں سکا تھا کیا اسکے کے پاس کچھ بَرے گوشت کے لیے تھے؟ 22 آیت میں موسیٰ نے خدا سے کہا اگر جانور تمام قوم کے لیے خوراک مہیا کرنے کے لیے ذبح کیے جاتے تو یہ کافی ہو گا میں جانتا تھا کہ موسیٰ نے یہ ناکامی کی حالت میں بولا تھا ۔ لیکن شاید یہ برے انکے لیے ذبح کیے گئے وہ جو اسکی دل آرزو رکھتے تھے ایسے ہی جیسے میں اسکو سمجھتا ہوں لوگوں کو گائے اور برے کا گوشت کھانے کی اجازت مل گئی تھی۔ اور انہوں نے ان جانوروں تک رسائی حاصل کی اسوقت انہوں نے قربانی دی مداخلت کی قربانیاں اور کفارے کی قربانیاں وغیرہ جبکہ وہ بیابان میں تھے۔ کیا میری اسوقت کے لحاظ سے سمجھ ٹھیک ہے ؟ کیا انہوں نے ان میں سے کچھ جانور ذبح کیے تھے یا بجائے اس کے وہ خدا کے بارے میں شکایت کریں ؟ میں یہ نہیں خیال کرتا کہ موسیٰ نے ان کی درخواست کو رد کیا ہو میں آپکے خیالات کو خوش آمدید کہتا ہوں اور آپ اپنی کسی بھی بصیرت کو مہیا کر سکتے ہیں؟
جواب: جبکہ ہم خاص طور پر اسکے متعلق نہیں جانتے ہم ان کے حالات کے متعلق کچھ مشاہدات کر سکتے ہیں۔
دانشمندانہ آب و ہوا جس سے دنیا کا وہ علاقہ ماضی کے طرح کس قدر ان دنوں میں تر تھا۔ لیکن اب یہ بیابان خشک تھا ۔ موسیٰ نے گنتی 11: 21-22 میں ہدایات کی یہ زمین اس تاب کے قابل نہ ہو گی۔ اون اور ریوڑ ہر ایک کی خوراک کے لیے ضروری ہے۔ قانونی طور پر انہیں خوراک کی ضرورت ہے تب زمین اور بھیڑ بکریاں ان کے لیے مہیا کی گئیں خدا نے انکے لیے من مہیا کیا مجھے یقین ہے کہ انہوں نے بھیڑ اور مویشیوں کو ذبح کرنے کے ساتھ من کا اضافہ کیا۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ انہوں نے من کے علاوہ کچھ اور چیزیں کھائیں تھیں۔ لیکن وہ صرف شکایات ہی کر رہے تھے ایسے جیسے ایک مقدمہ تھا لیکن وہ موجودہ صورت حال سے تھک گئے تھے ۔ اور بلکہ وہ ادب سے خدا سے انکی مرضی کے متعلق پوچھتے لیکن انہوں نے بے ادبی سے کہا کہ ہم کو کون گوشت کھانے کو دیگا ہم کو وہ مچھلی یاد آتی ہے جو ہم مصر میں مفت کھاتے تھے اور ہائے وہ کھیرے اور وہ خربوزے اور گندنے اور پیاز اور لہسن ، لیکن اب ہم نے اپنی جنسی خواہش کو کھو دیا ہے۔ ہم اس من کے سوا کچھ اور چیز نہیں دیکھتے ہیں ( گنتی 11: 4-6)
خدا گنتی 11: 10 کے مطابق ناراض نہیں تھا کیونکہ انہوں نے خدا سے کہا لیکن خواہ انہوں نے کہا کیونکہ انہوں نے کیسے کہا تھا یہاں پر ہمارے لیے ایک سبق بھی ملتا ہے جب ہمیں ضرورت ہوتی ہے اور ہم خواہش بھی کرتے ہیں یہ ہمارے لیے بہتر ہے کہ ہم خدا سے مانگیں۔ لیکن ہمیں یہ خیال رکھنا ہے کہ ادب کے ساتھ مانگنا ہے ۔
سوال: گنتی 11: 8 میں، کیا من کا ذائقہ روٹی کی طرح تھا جو تیل کے ساتھ بنائی گئی تھی یا خروج 16: 3 کے مطابق اس کا ذائقہ اس روٹی کی طرح تھا جو شہد کے ساتھ بنائی گئی تھی؟
جواب: بلا شرکت ان دونوں کا باہمی تعلق نہیں ہے خاص طور پر اس تیل کا ذائقہ من کو تیل میں پکانے کے بعد زیادہ لذیذ ہو گا ۔
سوال: گنتی 11: 16-25 میں، کیا ستر بزرگوں کا خیال خدا کا تھا یا خسر کا خروج 18: 14-27 کے مطابق ؟
جواب: بجائے اس کے کہ خدا موسیٰ کے ساتھ یہ خیال بیان کرتا خدا جانتا تھا کہ خسر اس کا حل دیکھ لے گا۔ اور موسیٰ کو تجویز دیگا ۔ اسوقت یہ ایک اچھا خیال تھا موسیٰ جانتا تھا کہ خدا نے اسکی منظوری دے دی ہے موسیٰ اس خیال کی پیروی کرنے کے لیے راضی تھا اس حقیقت سے قطع نظر موسیٰ نے پہلی دفعہ خسر کی سنی تھی نہ کہ خدا کی۔
اس پس منظر کی چھوٹی سی وضاحت آسانی سے بائبل کو ترک کرتی ہے ۔ لیکن میرا ایمان ہے کہ یہ ہمیں بے وقت سبق سکھاتی ہے جب ہم جانتے ہیں کہ کچھ ہمارے لیے بہتر ہے اور خدا ہمیں چاہتا ہے کہ ہم یہ کریں یہ مسلہ نہیں ہے کہ ہم نے براہ راست خدا سے یہ سنا ہو کہ ہم مسیحی ہیں یا غیر مسیحی۔
سوال: گنتی 11: 24 میں، اسوقت وہ اپنی چھاونی سے باہر ڈیرہ پر تھے گنتی 2 کے مطابق خیمہ چھاونی کے اندر کیسے ہو سکتا ہے؟
جواب: خیمہ نے عہد کے صندوق کا احاطہ کیا ہوا تھا۔ اس لیے گنتی 10: 33 میں اس کے متعلق دیکھتے ہیں۔
سوال: گنتی 11: 27-29 میں، کیوں اِلداد اور میداد کے ساتھ ایسی صورت حال پیش آئی؟
جواب: خواہ وہ آنے کے قابل نہیں تھے جو کہ بالکل سمجھنے کے قابل ہو گی یا وہ اپنی مرضی کے بغیر آئے تھے جو زیادہ گمان غالب ہے۔ اگر یہ صورت حال بد قسمتی سے ہوتی تو یہ یقیناً یوناہ اور بلعام کے مشابہہ ہوتی مزید معلومات کے لیے یوناہ کی کتاب کو دیکھتے ہیں۔
سوال: گنتی 11: 31 میں، کیا بٹیروں کا انبار زمین سے تین فٹ تھا یا وہ زمین سے تین فٹ اونچے اڑتے تھے؟
جواب: عبرانی لفظ کا مطلب خواہ یہ ہو سکتا ہے " کہ سطح کے اوپر" یا " سب سے اوپر" آج بٹیریں زمین پر کچھ فٹ کی بلندی پر اڑتے ہیں اور جال میں پکڑے جاتے ہیں۔
سوال: گنتی 11: 31-34 میں، خدا نے اسرائیل کو بٹیریں کھانے کو سزا کیوں دی اس نے یہ صرف ان کے لیے ثابت کیا تھا؟
جواب: زیادہ تر لوگ گوشت کھانے کر ترجیح دیتے تھے۔ خدا کی پیروی کرنے کی بجائے کون ان کو گوشت دے گا۔ خدا نے ان کو تمام گوشت دے دیا جسکو وہ چاہتے تھے۔ دوسروں کی عبرت کے لیے خدا نے ان میں سے کچھ کو مار دیا ہو سکتا ہے کہ موت زہریلی خوراک کی وجہ سے ہو ہم یقینی طور پر نہیں جانتے۔
نوٹ کریں ہر موسم بہار میں افریقہ کے سرخ سمندر سے بٹیریں ہجرت کر کے وہاں آتی تھیں۔ اگرچہ سخت آندھی ان کو مشرق سے لاتی تھی تو بٹیریں سینا پینسولیہ پر ہونگی۔
سوال: گنتی 11: 31-34 میں، خدا نے کیوں اسرائیل کو شکوہ شکایت کے لیے سزا دی تھی خدا نے اسوقت ان کو سزا نہیں دی تھی جب انہوں نے سال کے پہل سے ہی شکایات شروع کر دی تھیں خروج 16: 11-18)؟
جواب: جبکہ کتاب مقدس یہ نہیں بتاتی کہ ہم چار وجوہات کے اکٹھ کو نہیں دیکھ سکتے۔
1: پہلی دفعہ کی بے ادبی کی بجائے بے ادبی کو دہرانا اور جاری رکھنا بہت زیادہ سنجیدہ بات تھی۔
2: دوسری دفعہ وہ اسطرح شکایتیں کر رہے تھے یہ خدا کی اچھائی اور نگرانی کا بہت بڑا چیلنج تھا۔
3: کچھ واقعات دیکھنے کے لیے معنی خیز ہیں متی کے حکم کے بعد، سینا جبکہ خروج 16: 11-18 کیا انکے پاس موسیٰ کی شریعت کے احکام تھے ۔
4: شکایات صرف ایمان کی کمی کا باعث نہیں تھیں بلکہ خدا نے ان پر آخری سال میں ثابت کر دیا تھا اس جگہ کا نام قبروت ہتادہ رکھا گیا تھا جرصی لوگوں کی قبروں کے لیے۔ کیونکہ مرکزی موضوع یہ تھا کہ دلی طور پر خدا پر آمادگی کا حصہ بننا تھا آج لوگ گناہ کی طرف جا سکتے ہیں جو انکی موت امن اور سکون کے ساتھ ہوتی ہے ۔ یا یہ سنسی خدا کی طرف سے نہیں ہوتی اور حقیقت میں خدا بتا رہا ہے کہ انکی نفرت کیا ہے خدا اسکا ثبوت دے چکا ہے۔
سوال: گنتی 12: 1-6 میں، موسیٰ نے مصری عورت سے شادی کیوں کی تھی جبکہ خروج 34: 16 اور 1 سلاطین 11: 2 کہتے ہیں کہ وہ دوسری قوموں میں شادی نہیں کرتے تھے؟
جواب: وہ مصر سے نہیں تھی نہ کہ کوش سے اور موسیٰ کی کوشی عورت سے شادی کے بعد شریعت نافذ ہوئی تھی۔ خیر خروج 34: 11-16 بیان کرتی ہے کہ تم کنعانیوں ، یبوسیوں اور کوشیوں سے شادی نہ کرنا ۔ گنتی 12: 1-16 میں جب مریم اور ہارون اس کوشی عورت کے سبب سے ، جسے موسیٰ نے بیاہ لیا تھا بد گوئی کرنے لگے ۔ میرے لیے یہ انوکھی بات ہے کیسے یہ مسلمان کرتے ہیں یہ سوچ ظاہر کرتی ہے کہ خدا کے یہ اصول خدا کے پسندیدہ مردوں پر مت لاگو کریں۔
سوال: گنتی 12: 1 میں، کیا موسیٰ کی غیر اسرائیلی ایتھوپیا کی عورت سے شادی کرنا مناسب تھا؟
جواب: شادی کی یہ شریعت صرف ایماندار کو ہی نہیں دی گئی تھی ہم تصور کر سکتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتی تھی ورنہ وہ کیوں اپنی زندگی کو بیابان میں گزارنا پسند کرتی؟ اس صورت میں صرف کر رہی ہے نہ کہ خدا وہ جو لوگوں کے درمیان شادی کا بندھن ان کی نسلوں کے درمیان باندھتا ہے۔
سوال: گنتی 12: 1 میں، اگرچہ گورے اور کالے مسیحی شادی کرنا چاہتے تھے اور وہ جنوبی افریقہ میں رہتے تھے ۔ 1970 میں کیا انہیں حکومت کا مقابلہ کرنا چاہیے؟
جواب: سوال کے جواب سے پہلے ہمیں یہ یاد رکھنا ضروی ہے کہ خدا کی تابعداری سب سے اہم ہے تب غیر منصفانہ حکومت کے قوانین کی تابعداری یا ایک شادی کریں جسکو آپ چاہتے ہیں اس سوال کے جواب کے لیے تین چیزیں جسے ایک جوڑے کو اپنانا ہو گا۔
1: سب سے پہلے دعا کر کے یہ جاننا کہ واقعی یہ خدا کی مرضی کے مطابق ہے۔
2: اگر ایسا ہے تو بہت ہم ملک اس انسدادی شادی پر حرکت کرنے کے لیے راضی ہوتے ہیں۔
سوال: گنتی 12: 1 میں، کیا ایتھوپین عورت حقیقت میں ایک عربی خاتون ہے اسوقت عبرانی لفظ کوشی استعمال ہوتا ہے؟
جواب: میں نے ان ناموں کے ساتھ اسوقت کوئی بھی عربی قبیلہ نہیں پایا تھا وہاں پر ناموں کے ساتھ عیسیو ٹیمین قبیلہ تھا جبکہ یہ دور سے ہی ممکن ہے عورت ہو سکتا ہے کہ خواہ وہ دور سے ہی تعلق رکھتی ہو ( مشرق بابل) غالباً زیادہ تر قریب یہ ہے کہ وہ ایتھوپیا اور کوش سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ اصطلاح ہمیں اسکی وضاحت دیتی ہے ۔
سوال: گنتی 12: 1 میں، کیا وہ کوشی عورت صفورہ ہے؟
جواب: غالباً نہیں، جس طرح صفورہ مدیانی قبیلے سے تھی ۔ کہ وہ کوشی قبیلے سے تھی تاہم اگرچہ کالے مدیانیوں کو اپنا حصہ قبول کرتے تھے ہو سکتا ہے ممکن طور پر کہ صفورہ کالی تھی اس لیے وہ کوشی کہلاتی تھی۔
اگرچہ صفورہ کالی جلد والی تھی شاید گنتی 12: 1 میں عورتوں میں اسکا تذکرہ نہ ہوتا موسیٰ نے صفورہ سے دوسری شادی کی تھی مصر سے باہر اسرائیل کی رہنمائی کرنے کے لیے۔
سوال: گنتی 12: 3 میں، موسیٰ نے کیوں لکھا کہ وہ ایک حلیم انسان تھا؟
جواب: کسی نے یہ آیت وضاحت کے لیے لکھی تھی موسیٰ نے یہاں اپنے آپ کو بچانے کے لیے کیوں کوشش نہیں کی۔ کچھ ایمان رکھتے ہیں کہ یہ آیت موسیٰ کے ذریعے لکھی گئی تھی وہ حقیقی طور پر کہتا ہے کہ کیوں اس نے اپنے آپ کو نہیں بچایا تھا لوگوں کے پرانے ادب میں دوسری مثالیں بھی موجود ہیں۔ وہ جو تیسرا آدمی جس نے ان کے متعلق لکھا تھا وہ جولیس سیزر ہیں ( الیگزینڈر وار) ترسیس کا پولس ( کرنتھیوں11: 5؛ 12: 11-12) زیادہ تر یوحنا اور اسی طرح مرقس بھی اسی بارے لکھتے ہیں۔ تاہم دوسرے بہت سارے مسیحی یہ ایمان رکھتے ہیں کہ یہ بہت زیادہ گمان غالب ہے ۔ کہ یہ موسیٰ کے زمانے میں لکھی گئی تھی اور کاتب کے ذریعے موسیٰ کی زیر نگرانی لکھی گئی مزید وضاحت کے لیے خروج 11: 3 دیکھتے ہیں۔
سوال: گنتی 12: 14 میں، باپ کیوں اپنی بیٹی کے چہرے پر تھوکے گا؟
جواب: نہ ہی یہ حکم ہے اور نہ ہی حوصلہ افزائی ہے۔ زمانہ وسطہ میں کسی کی تحقیر کرنے کے لیے اس پر تھوکا جاتا تھا یہ آیت کہہ رہی ہےکہ ایک باپ اپنی بیٹی کے منہ پر تھوکے تو یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ باپ کے خیالات کے مطابق اسکی بیٹی کے خیالات کتنے ذلت آمیز ہوں گے خدا کے خیالات بھی مریم کے موسیٰ پر طنز کے لیے ایسے ہی تھے یعنی بہت بُرے۔
سوال: گنتی 13: 3 کیا 12 مخبر فاران سے آئے تھے یا قادس برنیع سے گنتی 20: 1 کے مطابق؟
جواب: یہ سوال دوسرے سوالوں سے مطابقت رکھتا ہے: کیا کیلیفورنیا کا گورنر کیلیفورنیا میں رہتا ہے یا سیکر منٹو میں اسی طرح قادس برنیع فاران کے بیابان میں ایک جگہ تھی۔ مزید وضاحت کے لیے گنتی 20: 1 دیکھتے ہیں۔
سوال: گنتی 13: 16 کے لیے موسیٰ نے ہوسیع کا نام یشوع رکھا اسوقت یشوع سے پہلے ہی یشوع کے طور پر نامزد کیا گیا تھا خروج 17: 9؛ 24: 13)؟
جواب: خروج 17 باب کا واقع یشوع کے نئے نام کی آگاہی دیتا ہے تاہم موسیٰ اور اسکے کاتبوں نے ظاہر کیا کہ یشوع کو نیا نام قبول کرنے کے بعد خروج 17 باب لکھا گیا تھا۔ گنتی 13: 16 یشوع کا نیا نام استعمال کرنے کے لیے بہتر تھا۔اسطرح پڑھنے والے اور اب پرانے نام کی بجائے نئے نام کے ساتھ زیادہ واقف ہوں گے۔ نئے عہد نامے میں اس طرح کی ایک مثال ہے متی شمعون کی طرف اشارہ کرتا ہے تین دفعہ شمعون پطرس کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اور یسوع نے پطرس کو تین دفعہ پطرس کے نام سے پکارا ہے۔
سوال: گنتی 13: 32 کنعان کیسے اپنے باشندے کھا جاتا تھاگنتی 13: 27 کے مطابق اسوقت یہ بہت اچھی سر زمین تھی؟
جواب: کوئی مسلہ نہیں یہ اسرائیل کے لیے ایک متناقض صورت حال تھی اس سے کسی کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے زمین زرخیز تھی ۔ تاہم لوگ اس سر زمین پر جنگ اور تشدد کے ساتھ رہتے تھے۔
سوال: گنتی 13: 32 کیسے اسرائیل کے مخبروں نے بتایا وہ کہتے ہیں کہ ہم نے وہاں پر بنی عناق کو بھی دیکھاجبکہ بنی عناق پیدائش 6 کے مطابق سیلاب میں مار دئیے گئے تھے؟
جواب: انہوں نے صرف یہ کہا کہ انہوں نے بنی عناق کو دیکھا تھا اور کیا لوگ کہتے ہیں کہ یہ سچ نہیں ہے خواہ
1: اسکا مطلب ہے کہ یہ استعارے کے طور پر ہے ۔
2: ان کی عناق کے متعلق یہ ایک بڑی غلطی تھی۔
3: وہ مخبر سچائی نہیں بتا رہے تھے لیکن انہوں نے معمول سے بڑھ کر بتایا تھا۔
سوال: گنتی 14: 15 میں، خدا نے اسرائیل قوم کو کیوں مارا تھا؟
جواب: تمام عقلمندوں کے متعلق خدا جانتا تھا خدا تمام اسرائیل کو نہیں مارنے والا تھا ۔ خدا نے اسرائیل کو مارنے کی دھمکی دی تھی کیونکہ خدا ان کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ کتنے خطرے میں رہ رہے تھے۔ خدا کی تابعداری آسان نہیں ہے۔ اس نقطے کے مطابق خدا صرف ان پر اپنا غصہ ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ خبردار ہوں اس پوائنٹ کے مطابق خدا کے فضل کی وجہ سے زندہ تھے نہیں کیو نکہ وہ اسکا حق رکھتے تھے۔
سوال: گنتی 14: 18 میں، کیا خدا باپ دادا کے گناہوں کی سزا ان کے بچوں کو دیتا ہے؟
جواب: بچے اپنے باپ داد کے گناہوں پر غلطی محسوس نہیں کرتے ( حزقی ایل 18: 4، 17: 20) تاہن بائبل بابل کے وقت کو لگاتار ظاہر کرتی ہے کہ لوگ اپنی زندگی میں اپنے گناہوں کے نتیجے میں گزر رہی ہے ۔ جس سے وہ ندامت محسوس نہیں کرتے ۔ وضاحت میں جس طرح بچے بڑھتے ہیں خواہ وہ اسکا انتخاب کرتے ہیں یا نہیں یا ان گناہوں میں حصہ لیتے ہیں یا نہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے والدین نے اسوقت گناہ کیا جب وہ چھوٹے تھے۔
سوال: گنتی 14: 20-23، 29 میں، کیا اسوقت خدا نے لوگوں کو معاف کر دیا کیوں اس نے وعدہ کی گئی سر زمین کو جانے کی اجازت دی ہو گی؟
جواب: خدا لوگوں کے گناہوں کو معاف کر سکتا ہے لیکن اگر وہ بہتر طریقے سے رہیں ان دونوں کی خاطر دوسروں کے لیے ایک مثال کے طور پر ہے۔
سوال: گنتی 14: 34 میں، کیوں خدا نے جاسوسی کے ایک دن کو ایک سال کے برابر تربیت دیا؟
جواب: کتاب مقدس یہ بیان نہیں کرتی تاہم چالیس دنوں تک اور چالیس دنوں کی بے ادبی کی یکسانیت کافی نرم مزاج دکھائی دیتی ہو گی۔ بعض اوقات اگرلوگ اسی عبادت کے ساتھ جڑے ہوں اور انہوں نے خدا کی خدمت کو پہلے ہی رد کر دیا ہو تو یہ صحیح دکھائی دیتا ہے کہ انہیں اسی طریقے سے اس مصیبت میں رہنا چاہیے۔
سوال: گنتی 14: 34-35 میں، اسوقت تمام لیکن اس چالیس سال کے عرصے میں انکے دو بالغ اس بیابان میں گر گئے تھے وہاں پر انکی ہڈیاں آج بھی موجود ہیں؟
جواب: اگر انہوں نے اپنے جسموں کو زیادہ گہرائی میں نہ دبا دیا ہو ان کے جسم گل سڑ گئے ہونگے یا جنگلی جانور اسے لے اُڑے ہونگے۔
سوال: گنتی 15: 5 میں، اسوقت شراب پینا بُری بات ہے تو انہوں نے خدا کو کیوں مے کی پیش کش کی؟
جواب: نہیں، پرانا یا نیا عہد نامہ بتاتا ہے کہ مے خوری غلط ہے بہت ساری آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ شراب پینا غلط ہے۔ مزید معلومات کے لیے تیمتھیس 5: 22 دیکھتے ہیں۔
سوال: گنتی 15: 16 میں، کیوں اسرائیلیوں کے لیے اور غیر اسرائیلیوں کے لیے ایک شرع تھی؟
جواب: عدالت میں نسلی امتیاز نہیں ہوتا تھا قتل ، چوری ، غلط گواہی کا قانون اور ایسے ہی اسرائیلیوں اور غیر اسرائیلیوں کے لیے برابر تھا۔ ایک غیر اسرائیلی گواہی اسرائیلی گواہی کے برابر شمار کی گئی تھی اور ایک عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے برابر تھی۔ اسطرح ایک مسلمان ممالک میں بھی یہی حقیقت ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ غیر اسرائیلی اسرائیل میں رہتے تھے۔ اور وہ مذہبی قوانین کی عزت بھی کرتے تھے لیکن وہ قربانی نہیں گذرانتے تھے ۔
سوال: گنتی 15: 32-36 میں، ءسبت کے دن لکڑیاں اکٹھے کرتے ہوئے آدمی کو کیوں مار دیا گیا تھا؟
جواب: کسی اور دن لکڑیاں اکٹھی کرنا صحیح تھا تاہم اسکا کام اسوقت خدا کی شریعت کی نفی کرتا تھا ۔ اور اس کا یہ رویہ حقارت کو ظاہر کرتا تھا کہ وہ اس دن لکڑیاں اکٹھی نہ کرے اس پر اس آدمی کو سنگسار کر دیا گیا تھا۔
سوال: گنتی 15: 35-36 میں، اس پیراگراف میں انوکھی بات کیا ہے؟
جواب: یہ عبرانی نقطے کو منظم کرتا ہے ۔
۔خدا نے موسیٰ سے کہا۔
۔۔کہ یہ شخص ضرور مارا جائے۔
۔۔۔ سارا اجتماع چھاونی کے باہر اسے سنگسار کرے۔
۔۔۔سارا اجتماع اسکو چھاونی سے باہر لے آیا۔
۔۔اور اسے سنگسار کیا۔
۔ خدا نے صرف موسیٰ کو حکم دیا تھا۔
سوال: گنتی 16: 5 میں، موسیٰ نے انکو کیوں بتایا تھا کہ وہ اپنے الزاموں پر بخور جلائیں اسوقت موسیٰ جانتا تھا کہ ندب اور ابیہو کے ساتھ کیا واقعات پیش آئے تھے؟
جواب: وہ جانتے تھے کہ ندب اور ابیہو کے ساتھ کیا واقعات پیش آئے تھے ۔ ایسے ہی موسیٰ نے کیا خیر انہوں نے بھی ایسا ہی کیا کیونکہ وہ دلی طور پر موسیٰ کی بر خلافی کر رہے تھے شاید موسیٰ رحم دل نہیں تھا یا ان کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتا تھا ۔ لیکن اگر وہ اپنے علیحدہ طریقے سے خدا کی عبادت کرتے تو موسیٰ نے انکو کہا کہ جاری رکھو اور ہم دیکھیں گے کہ خدا کی مرضی کیا ہے۔
سوال: گنتی 16: 13-14 میں، داتن اور ابیرام کی کیا شکایت تھی؟ خدا نے انکے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ اس سر زمین میں جائیں گے کہ جہاں دودھ اور شہد کی بہتات ہے ۔ لیکن گنتی 14: 29-34 نے اسکو واضح کیا کہ خدا انکی اور انکے بچوں کی راہنمائی نہیں کرے گا؟
جواب: لوگ یقیناً وعدے کا مطلب سمجھ گئے تھے کہ اسرائیلی وعدہ کی گئی سر زمین میں جائیں گے اور نہ ہی یہ ذاتی طور پر ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوں گے۔ جب انہوں نے وہاں جانا رد کر دیا تو خدا نے انکی رو گرادنی پر سزا دی اور ان لوگوں کے فیصڈلے پر عزت کے ساتھ اور مکمل طور پر سزا دی۔
اگر آپ نے اپنی مرضی سے خدا کے خلاف بغاوت کا انتخاب کیا ہے ہو سکتا ہے خدا آپ کو بعد میں عطا کرے کہ تم اپنے دل سے پشیمان ہو اور بعد میں خدا کے نزدیک چلے جاؤ۔ دوسری طرف ہو سکتا ہے کہ خدا نہ کرے اور نہ ہی خدا نے ایسا کرنے کا تقاضا کیا ہو۔
سوال: گنتی 16: 31 میں، کیا قورح اور اسکے 250 لوگ زمین نے نگل لئے یا 250 پیروکار جل کر مر گئے گنتی 16: 35؟
جواب: گنتی 16: 31 یہ ظاہر کرتی ہے کہ زمین نے قورح ، داتن، ابیرام اور انکے خاندان کو نگل لیا۔
گنتی 16: 35 ظاہر کرتی ہے کہ آگ نے دوسرے 250 لوگوں کو جلا دیا وہ جو قورح کے ساتھ منسلک نہ تھے۔
سوال: گنتی 16: 31-35 یہ کیسے ہوا کہ زمین نے قورح، داتن اور ابیرام کو نگل لیا اگرچہ وہ تھوڑے تھے؟
جواب: یہ اس لیے ہوا تھا کیونکہ خدا ہر کسی کو اسکی حیثیت کے مطابق مقرر کرتا ہے جو کوئی اپنی زندگی کا جسقدر بھی احاطہ کرتا ہے خدا اسکو مقرر کرتا ہے وہ انتخاب کرتا ہے وہ اپنے آپ کو پابند کرتا ہے کہ ہر کسی کو اسی طرح کی زندگی دے یہ بہت ہی چھوٹا سوال ہے۔ کہ خدا نے کیوں کنعان کے شیر خواروں کو مار دیا تھا اس کے جواب کے لیے یشوع 6: 21 دیکھتے ہیں۔
سوال: گنتی 16: 32 کیا قورح کے تمام آدمی مار دیئے گئے تھے یا صرف کچھ ہی گنتی 26: 11؟
جواب: تمام قورح کے آدمی جو قورح کے پیروکار تھے مار دئیے گئے تھے لیکن ایک جو قورح کا پیروکار نہیں تھا وہ نہیں مرا تھا۔ گنتی 26: 11 واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ کچھ قورح کی نسل سے جو انکے درمیان نہیں تھے اور انہوں نے بغاوت نہیں کی تھی اور وہ نہیں مارے گئے تھے۔ حقیقت میں سیموئیل نبی قورح کی نسل سے تھے۔ ( 1 تواریخ 6: 22-28)
سوال: گنتی 16: 37-38 میں، الزام لگانے والے باغی لوگ پاک کیسے بن گئے؟
جواب: گنتی 16: 39-40 جواب دیتا ہے کیوں خدا نےانکو انتخاب کیا وہ مقدس جانے جائیں۔
ابتدا: یہ خدا کی پیشکش تھی۔
استعمال: کانسی کے استعمال نے پوری قربانگاہ کو ڈھانپ لیا تھا۔
یاد دھانی: یہ ایک نشان تھا کہ اسرائیلی خدا کے پاس اپنے طور پر نہ آنے کی کوشش کریں وہاں پر 250 لوگوں کے لیے کوئی نشان نہیں تھا کیونکہ انہوں نے بہت سارے بُرے کام کیے تھے ۔ بجائے کسی بھی شخص کے تاہم انہوں نے سوچا کہ وہ اپنے طریقے سے خدا کے پاس جا سکیں گے یہ خدا کا رستہ نہیں ہے کہ بجائے کسی قربانی کے انکے سچائی کسی تقاضے کو پورا کرتی تھی ۔ لوگ آج بھی اسی طرح کے طریقے اپنا رہے ہیں۔
سوال: گنتی 16: 45-47 میں، خدا نے کیوں تمام اسرائیلیوں کو مارنا شروع کیا؟
جواب: پورا معاشرہ موسیٰ اور ہارون کے خلاف شکایات کر رہا تھا۔ پر خدا نے موسیٰ اور ہارون کی حفاظت کی ۔ خدا انکی حفاظت دوسرے طریقوں سے بھی کر سکتا تھا لیکن خدا کا اہم مقصد تھا کہ ان پر مافوق الفطرت وبا کو تیزی سے بھیجے تاکہ اسرائیلیوں کو ظاہری طور پر تابعداری سکھائے تاکہ انکے سخت دل خدا کے خلاف بغاوت نہ کریں۔
سوال: گنتی 17: 5 میں، خدا نے موسیٰ اور ہارون کے عصا کو اسرائیل کی سرگوشی کو روکنے کے لیے استعمال کیا کیسے انہوں نے گنتی 20: 2-5 کے مطابق اس سرگوشی کو جاری رکھا؟
جواب: ہارون کے عصا کے معجزے کا اثر انکی سرگوشی کو روکنے کے لیے گنتی 17 کے باب کے مطابق مختصر اصطلاح تھی۔ حقیقت میں اسرائیل گنتی 17: 12-13 میں مرکز سے زیادہ تر مخالف تھے۔
گنتی 20 میں جب اسرائیل نے بعد میں سرگوشیاں کی تھیں تو اسی طرح کا عصا ( استثنا 20: 8) ان سرگوشیوں کو روکنے کے لیے استعمال ہوا تھا۔
بدقسمتی سے ہارون کے عصا کے اچانک معجزے نے لوگوں کے دلوں کو اندر سے تبدیل نہیں کیا تھا اور نہ ہی انکی شکایات کو مکمل طور پر روک سکا تھا۔
سوال: گنتی 17: 8-10 میں ، کیسے کیسے ہارون کے عصا سے شاخیں ، کلیاں اور پکے ہوئے بادام نکلے تھے اسوقت وہ لکڑی بادام کے درخت کی نہیں تھی؟
جواب: خدا نے درختوں کو بڑھنے کے قابل بنایا اور اس سے بیج پیدا کیے اور یہ کام بھی خدا نے معجزاتی طور پر کیا تھا۔
سوال: گنتی 18: 1-2 میں، خدا نے ان لوگوں کو کیوں بنایا اور انکے بیٹوں کو انکی چیزوں کا ذمہ دار کیوں ٹھہرایا تھا؟
جواب: ہارون کا آبائی قبیلہ لاوی تھا اسکا مطلب ہے کہ لاوی کے قبیلے میں ہارون بھی شامل تھا اور اسکے بیٹے بھی پر انہوں نے خیمہ اجتماع کی توہین کی تھی۔ ہارون اور اسکے بیٹے اور اسکی نسل ہی صرف کہانت کی توہین کی ذمہ دار تھی یہ لوگ ہی صرف ان چیزوں کے ضامن تھے۔
کیا انہوں نے ذاتی طور پر ایسا کیا تھا لیکن وہی صرف عبادت گاہ اور کہانت کے خلاف توہین کے ذمہ دار تھے۔ لوگ ان کی اجازت کے بغیر خیمہ اجتماع تک نہیں پہنچ سکتے تھے ۔ اس لیے اگر وہ خیمہ اجتماع پع لاپرواہی استعمال کرتے ہیں اور دوسرے مقصد پر بھی تو وہ ضرور اپنے لاپرواہی کے ذمہ دار بھی ہونگے۔
سوال: گنتی 18: 2 میں، اس آیت کے متعلق عام بات کیا ہے؟
جواب: گنتی 18: 2 میں ایک لفظ بھی استعمال ہوا ہے جو وہاں پر آپ کو اکٹھا کرتا ہے۔ ویلیویو یہ لفظ لاویوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس سے زائد لغوی طور پر بڑھنے کے لیے یہ ہے کہ لاوی کا قبیلہ ۔۔۔۔۔۔ لاوی آپ کے ساتھ ہونگے۔
سوال: گنتی 19: 8 کاہن کیوں شام تک ناپاک تھا جبکہ وہ اسووقت خدا کی تابعداری اور بھیڑوں کی سرخ قربانیوں کی دیکھ بھال کر رہا تھے؟
جواب: یہاں پر کاہن کی ایک دلچسپ صورت حال ہے جو خداوند کی مرضی کے تابع پاک بن رہے ہیں۔ یہ نہیں کہا گیا تھا کہ کاہن گناہگار تھا یا خدا کاہن کے ساتھ خوش نہیں تھا۔ وہ صرف ناپاک تھا اور اسوقت کے لیے وہ مقدس چیزوں کے پاس نہیں جا سکتا تھا۔ وہاں پر ظاہر طور پر غیر مقدس رسومات کی نشاندہی کی گئی ہے اور ذاتی غلطیوں کی بھی۔
جب یسوع نے صلیب پر جان دی تو اسوقت وہ خدا باپ کی نظر میں ناپاک بن گیا تھا۔ اسوقت اس نے اپنے آپ کو تابعداری کے ساتھ ہمارے گناہوں کی سزا کے لیے دے دیا تھا۔ یسوع گناہگار نہیں تھا اور شیطان یسوع مسیح میں داخل نہیں ہوا تھا۔ کچھ مذہبی رہنما سکھاتے ہیں کہ یسوع مسیح سادگی کے ساتھ ناپاک ٹھہرایا گیا۔
سوال: گنتی 20: 1 میں، کیا قادس سین کے بیابان میں تھا یا قادس فاران کے بیابان میں تھا جس طرح گنتی 13: 26 کہتی ہے؟
جواب: سینا پنسیولا میں چار بیابان کے علاقے تھے۔
شور کا بیابان: شمال اور مغرب میں مصر کی سرحد اور مصر کے مغرب اور مشرق تک مصر کا دریا بہتا ہے اور ایلیم اسکے جنوب میں واقع ہے۔ پیدائش 16: 7؛ 20: 1؛ 25: 18؛ خروج 15: 22؛ 1 سیموئیل 15: 7؛ 27: 8۔
سین کا بیابان: یہ شمال اور مغرب میں واقع ہے اور ایلیم اور سینا کے درمیان واقع ہے۔ خروج 16: 1 ،کے مطابق۔ خروج 17: 1 کے مطابق اور گنتی 33: 11، 12 بھی سین کے بیابان کے متعلق بیان کرتی ہے۔
فاران کا بیابان: یہ شمال اورمشرق میں واقع ہے یہ سین کے کنارے شمال اور مشرق میں واقع تھا۔ اور قادس مغرب میں تھا ۔ پیدائش 21: 21؛ گنتی 10: 12؛ 12: 16؛ 13: 3، 26 ؛ استثنا 1: 1؛ 33: 2؛ 1 سیموئیل 25: 1؛ 1 سلاطین 11: 18۔
صین کا بیابان: شمال اور مشرق میں یہ بحیرہ مردار تک پھیلا ہوا ہے اور اعرادیہ مشرق میں اور قادس کا قصبہ مغرب میں واقع تھا۔ گنتی 13: 21؛ 20: 1؛ 27: 14؛ 33: 36؛ 34: 3، 4 ؛ استثنا 32: 51؛ یشوع 15: 1، 3۔
قادس صین اور فارن کے بیابان کی سرحد پر واقع تھا۔
سوال: گنتی 20: 10، 13 میں، خدا موسیٰ سے کیوں ناراض تھا اسوقت کیا خدا نے اسے جو کچھ بتایا تھا موسیٰ نے وہی کیا؟
جواب: موسیٰ نے صحیح کیا لیکن اسکا رویہ تھوڑا غلط تھا۔ اور اسنے دوسروں پر اپنے غلط رویے کو ظاہر کیا بجائے اسکے کہ وہ معجزے کے طور پر لاٹھی کو چٹان پر مارتا اسنے خدا کے رحم کی توجہ مانگی۔ موسیٰ ظاہر طور پر چٹان پر مارتا ہے ایسے ہی وہ غصے میں کہہ رہا ہے " اے باغیو سنو"
یہاں سیکھنے کے لیے ہمیں سبق ملتا ہے اگر ہم وہ کام کرتے ہیں جو خدا چاہتا ہے لیکن غلط رویے کے ساتھ کیا ہمارے ایسا کرنے پر خدا ہمارے ساتھ خوش ہوتا ہے۔
سوال: گنتی 20: 12 میں، کیا موسیٰ انکے آگے کنعان میں چلا کیونکہ وہ غیر ایماندار تھے یا باغی تھے ۔ ( گنتی 27: 12-14) اسکی مداخلت استثنا 32: 51-52 ، یا جلد بازی کے الفاظ ( زبور 106: 32، 33) ایک غیر ایماندار نے پوچھا) ؟
جواب: یہاں پر صرف ایک ہی واقع تھا مریبہ کے چشمے پر اور باقی چار آیات اسطرح وجوہات بیان کرتی ہیں ۔
گنتی 20: 12 بیان کرتی ہے کہ موسیٰ نے خدا پر یقین نہیں کیا تم بنی اسرائیل کے سامنے میری تقدیس نہیں کرتے ہو۔
گنتی 27: 12-14 کہتی ہے کہ موسیٰ نے خدا کے حکم کے خلاف بغاوت کی اپنی بڑھائی کے لیے۔
استثنا 32: 51 موسیٰ نے خدا کے خلاف گناہ کیا کیونکہ موسیٰ نے اسرائیل کے درمیان خدا کی تقدیس نہ کی۔
زبور 106-32-33 بیان کرتا ہے کہ انہوں نے خداوند کو مریبہ کے چشمے پر بھی خشمناک کیا اور موسیٰ بے سوچے بول اٹھا۔
تمام آیات بااصول پیغام دیتی ہیں اسرائیل نے موسیٰ کے خلاف لڑائی کی ( گنتی 20: 2-5 زبور 106: 33)، موسیٰ نے خدا کی فراہمی پر یقین نہیں کیا تھا۔ ( گنتی 20: 12) وہ بے سوچے بول اٹھا تھا ( گنتی 20: 10؛ زبور 106: 33) انہوں نے اسرائیل کے درمیان خدا کی تقدیس نہیں کی تھی۔ ( گنتی 20: 12؛ 27: 12-12؛ استثنا 32: 51)
یہاں پر کوئی سوال نہیں ہے یہ واقعات کیا تھے اور آخری تین پیراگراف اسکی عام طور پر یاد دلاتے ہیں گنتی 20 میں لوگوں نے ان کے متعلق کیا پڑھا تھا۔
سوال: گنتی 20: 16 میں، کیا فرشتے نے مصر کے باہر اسرائیل کی حفاظت کی خروج 3: 8 یا خدا بذات خود تھا؟
جواب: بہت ساری آیات کہتی ہیں کہ یہ خدا تھا جو ان کو مصر سے باہر لایا عبرانیوں میں گنتی 20: 16 کہتی ہے کہ خدا نے ایک فرشتے کو بھیجا اور جو ہمیں مصر سے باہر لایا جن آیات میں خدا کا نام نہیں بولا گیا اور ہو سکتا ہے کہ وہ فرشتے کی طرف اشارہ کرتی ہوں یا خدا کی طرف۔
اسکی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں طریقوں سے ٹھیک ہے ۔ ہو سکتا ہے وہاں خدا تھا اور اسکے فرشتے نے آگ کے ستون کو پیدا کیا اور بحیرہ مردار میں سخت آندھی چلائی۔
خدا اس میں کم سے کم دو طریقوں میں شامل تھا۔
1: فرشتہ خدا کے حکم کی مکمل طور پر تابعداری کر رہا تھا۔
2: خدا نے اپنے موجودگی کو وہاں پر مرتکز کر رکھا تھا۔ جس میں ہو سکتا ہے انکی بدسلوکی پر اور انکے گناہوں کے لیے سزا بھی شامل ہو۔
سوال: گنتی 20: 24 میں، کیا کوئی بائبل کی اضافی صداقت ہے کہ بلعام اچھا آدمی تھا؟
جواب: 1967 میں اُردن کی وادی میں بیراللہ آثار قدیمہ کا ماہر تھا۔ اس نے ایک سکول کے لڑکے کو لکھائی کی مشق کرتے ہوئے پایا جس نے بلعام کو بیرو کا بیٹا بیان کیا اور اس نے تین دفعہ اس کا بیان کیا۔ یہ ریڈیوکاربوف کی تاریخ 800/760 ق م تھی۔ جو پہلی دفعہ 1976 میں شائع ہوئی تھی۔
سوال: گنتی 21: 6، 8 میں، کیسے یہ سانپ جلانے والے تھے؟
جواب: اسکا مطلب یہ ضروری نہیں کہ وہ غصے میں سرخ یا چمکدار لال رنگ کے تھے بلکہ ان کے کاٹنے والا دانت آگ کی مانند نمدا تھے۔
سوال: گنتی 21: 9 میں، سانپوں کے ڈسنے سے اسرائیلی کیوں پیتل کے سانپ کی طرف دیکھتے تھے اسوقت یہ بت پرستی کے مشابہہ دکھائی دیتا تھا؟
جواب: خدا نے انکو حکم دیا کہ بلی پر لٹکے ہوئے سانپ کی طرف دیکھیں تو وہ سانپوں کے ڈسے ہوئے ذہر سے بچ جائیں گے تاہم بعد میں لوگوں نے اسکو بت پرستی میں تبدیل کر دیا انہوں نے پیتل کے اس سانپ کو نیہوشتان کے نام سے پکارنے لگے ۔ کیونکہ اسکی وجہ بت پرستی ہے حزقیاہ نے حکم دیا کہ اس سانپ کو ختم کر دیا جائے۔ 2 سلاطین 18: 4۔
پہلا لکھاری اس تردید کا جواب جانتا تھا وہ طرطولین تھا کتاب پانچ ایگنسیٹ مارسین بُک 2 سبق 22 صفحہ 314 ( 207 م) دوسری میں بیان کرتا ہے کہ دی لیٹر آف دی برنباس ( 100-150 م)سبق 12 صفحہ 145 اور فرسٹ اپالوجی آف جسٹن شہید ( 150 م) سبق 50 صفحہ 183 نے بھی اسکے متعلق لکھا۔ لیکن انہوں نے بظاہری طور پر اس بحث کے متعلق کوئی مشکل نہیں دیکھی۔
سوال: گنتی 21: 9 میں ، کیا یہ خدا کی لڑائی کی کتاب ہے؟
جواب: ہم صرف اس کتاب کو جانتے ہیں کہ بائبل میں اسکا ذکر ہے ۔ یہ کتاب ظاہر طور پر حقیقت میں ان تاریخی واقعات کی وضاحت کرتی ہے۔وہاں پر ذکر نہیں ہے کہ یہ خدا کا کلام تھا یا اسے خدا کا صحیفہ ہونا چاہیے۔
سوال: گنتی 21: 29 اور یرمیاہ 48: 46 کموس کون ہیں؟
جواب: کموس موآب کے بت ہیں 2 سلاطین 3: 27 بیان کرتی ہے کہ شیر خوار بچوں کی کموس کو قربانی دی جاتی تھی۔
سوال: گنتی 22: 1؛ 26: 3؛ 31: 12؛ 33: 48؛ 34: 15؛ 35: 1؛ اور 36: 13 میں، اس فقرے کے متعلق عام بات کیا ہے؟
جواب: یریحو کا یردن یہ فقرہ عام طور پر اس دریا کے بارے میں بیان کرنے کا رستہ ہے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ صرف بیابان کے لیے ہو کہ دریائے یردن کہاں تھا۔ لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ اس دریا کے لیے بہت پرانا نام ہے۔
سوال: گنتی 22: 5 کیا بائبل میں ہمیں بلعام کے آبائی قصبے فتور کی اضافی صداقت بیان کرتی ہے؟
جواب: ممکن یہ ہے شالمنیر II کی ایک نقشہ نگاری میں فیورٹ قصبے اور ساگر دریا کا ذکر کرتا ہے۔ جو مشرق کے کربمش میں یہ پترو کہلاتا ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ فتور ہی ہو مصری اس کو پیدرو کہتے ہیں۔
سوال: گنتی 22: 5-7میں، کیا بلعام ابتدا ہی سے خدا کا سچا پیغمبر تھا جس نے شوق سے غلط لوگوں کی رہنمائی کی تھی یا ابتدا ہی سے بت پرست تھا جس کے ذریعے خدا اس صورت میں بولا؟
جواب: کتاب مقدس بیان نہیں کرتی تاہم کیونکہ اس نے بعد میں شیطان کے ذریعے رہنمائی دی بلعام کا اور اسکے لوگوں کا دل خدا کے لیے نہیں تھا۔ اگر ایک سکول میں پڑھنے والا لڑکا 800/760 ق م میں لکھائی کی مشق کرتا ہے ۔ جو کھود کر نکالی گئی تھی اس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بلعام بت پرست تھا خدا نے جس کے ذریعے اسوقت کلام کیا۔
سوال: گنتی 22: 7 میں، خدا کسی کو کیسے نبوت دے سکتا ہے وہ جس نے غیبی علم کو جاننے کی مشق کی ہو؟
جواب: خدا نبوت دے سکتا ہے جو بھی وہ کروانا چاہتا ہے ۔ کتاب مقدس یہ نہیں کہتی کہ خواہ بلعام نے غیبی علم کی مشق کی ہو یا اگر اسنے پہلے نبوت دی تھی تو یہ ہو سکتا ہے کہ یہی رستہ تھا اگر بلعام نے سچے خدا کو جاننے کی کوشش غیبی علم کے ذریعے سے کی تھی تو خدا نے اسکو اجازت دی لیکن کیا اس نے لاعلمی میں کیا تھا۔ اور اسوقت یہ ٹھیک نہیں تھا، اگرچہ بلعام کو پہلے نبوت کی نعمت ملی تھی اور بعد میں گناہ نے اسکو بڑھانے اور اکسانے کی کوشش کی ۔ اس کی پیغمبرانہ نعمت غیبی علم کے ذریعے تھی۔ یہ خدا کی ایک مثال ہو گی جو اس طریقے سے ہماری نعمت کے بارے میں بات نہیں کرتا جب ہم گناہ کرتے ہیں۔ اسی طرح کی ایک مثال ہے جب یسوع نے دس کوڑھیوں کو پاک صاف کیا لوقا 17: 12-17 اور ان میں سے صرف ایک ہی یسوع کا شکریہ ادا کرنے کے لیے آیا تھا۔ یسوع نے اس سے پوچھا دوسرے نو کہاں تھے۔ لیکن یسوع نے ان کو نوعی حیثیت سے بیمار نہیں کیا تھا۔
سوال: گنتی 22: 7 میں، جب بلعام نے غیبی علم کے ذریعے اسرائیل کے علاوہ دوسرے لوگوں پر لعنت کی ، کیا اسکی لعنت نے ہمیشہ تک کام کیا؟
جواب: جن لوگوں نے بلعام کو اس کام کے لیے پیسے دئیے تھے ہو سکتا ہے کہ ان لعنتوں نے کام کیا ہو ۔ کتاب مقدس یہ بیان نہیں کرتی کہ اگرچہ انہوں نے یقینی طور پر کام کیا ہے یا نہیں کم سے کم اسرائیل اس سے تھوڑا پرے تعلق رکھتی تھی۔ بلعام جانتا تھا کہ اسکی یہ لعنتیں ناکارہ تھیں۔
سوال: گنتی 22: 12-17 میں، خدا بلعام کے ساتھ ناراض کیوں تھا جب اس نے بلعام کو جانے کی اجازت دی تھی؟
جواب: پیسوں کی خاطر بلعام چاہتا تھا کہ وہ ممکن طور پر خدا کے ساتھ بے ادبی کرے۔ خدا نے اسکو اجازت دی تھی لیکن خدا نے اسکو راہنمائی کی اجازت نہیں دی تھی۔ اگرچہ بلعام نے خدا کے حکم نامے کی تابعداری کی اور اسرائیل پر لعنت نہیں کی اس نے بلق کو نصیحت کی کہ وہ کیوں اخلاقی طور پر اسرائیل سے غلط ہیں۔ اور وہی خدا کے غصے کے ذمہ دار ہیں ( گنتی 31: 16-25)
سوال: گنتی 22: 22-33 میں، خدا بلعام کے ساتھ ناراض کیوں تھا اسوقت ظاہری طور پر بلعام خدا کا تابعدار تھا؟
جواب: سارا سبق پڑھنے کے بعد خدا کی خواہش کے مطابق تابعداری کی قسم کا پتہ چلتا ہے ۔ بلعام نے ایک کام نہیں کیا تھا جب پیغام لانے والے آئےتو بلعام نے انکو نہیں بتایا تھا کہ وہ چلے جائیں ۔ اور اس نے خود بھی ان کے ساتھ جانے کی خواہش نہیں کی تھی۔ کیونکہ اس میں خدا کی خوشی نہیں ہو گی بجائے اس کے حالانکہ بلعام جانتا تھا کہ کیا خدا یہ چاہتا تھا بلعام نے کہا کہ وہ ان کے ساتھ جانا چاہتا تھا۔ لیکن خدا نے بلعام کو رد کر دیا بلعام نے کوشش کی کہ وہ تابعداری سے دور رہے کیا خدا چاہتا تھا کہ راہنمائی کے بغیر اسکی بے ادبی کی جائے لیکن اس نے ایسا ہی کیا یہی وجہ تھی کہ خدا انکے ساتھ کیوں ناراض تھا۔
سوال: گنتی 22: 27-28 میں، کیا گدھی نا معفولی کی حالت میں باتیں کر رہی تھی ( مسلمان کہتے ہیں)؟
جواب: اگر ایک آدمی نے ایمانداری سے یقین کیا تھا تو خدا قادر مطلق ہے، خدا سب کچھ کر سکتا ہے ۔
ہو سکتا ہے مسلمان اس سے ناواقف ہوں کہ انکی اپنی احادیث میں کیا ہے کہ نبی نے کھڑے ہونے کے لیے کھجور کے درخت کے تنے کو استعمال کیا تھا۔ ( جب وہ خطبہ دے رہا تھا) جب منبر کی جگہ اسکے لیے تھی ۔ ہم نے سنا ہے کہ تنا حاملہ اونٹنی کی طرح چلا اٹھا جب تک نبی منبر سے نیچے نہ اتر آئے اور اس جگہ کو چھوڑ دیا گیا۔ ( بخاری والیم 2 کتاب 3 سبق 24 نمبر 41 صفحہ 19) اب میں ان واقعات پر یقین نہیں کرتا ، لیکن میں اسکو رد بھی نہیں کرتا کہ قادر مطلق خدا کے پاس ان واقعات کو کرنے کی طاقت ہے۔
سوال: گنتی 22: 34 میں، کیا بلعام نے صرف بولنے میں خدا کی تابعداری کی خدا نے بلعام کو بتایا کہ وہ کیا کہے؟
جواب: گنتی 22: 38 کے مطابق بلعام نے اسوقت تابعداری کی تھی تاکہ بعض اوقات بعد میں وہ شیطانی نصیحتیں کرتا کہ کیسے اسرائیل کے خدا کو دور کیا جائے۔
سوال: گنتی 22: 41 یہ حقیقت ہے کہ بعل کا مطلب " خدا " ہے کیا کسی خاص دیوتا کا نام نہیں تھا۔ جیسے ایک غیر ایماندار نے دعویٰ کیا تھا؟
جواب: یہاں پر یہ غلط معلومات ہے بائبل کے حصے سے ایگرٹیک ادب ایک بت کو خاص طور پر بیان کرتا ہے جسکا نام بعل ہے ایک خاص لکھائی میں کہا گیا ہے کہ بعل ایک جنگ نامہ ہے۔
سوال: گنتی 23: 10 میں، بلعام صادقوں کے لیے کیسے نبوت کرتا تھا یہ حقیقت میں اسکی تکمیل نہیں تھی؟
جواب: بلعام نے موآبیوں اور مدیانیوں کو مشورہ دیاکہ اسرائیل کو خدا سے دور کرنے کے لیے اپنی عورتوں کو ان کے درمیان بھیجیں تاکہ وہ ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کریں ( گنتی 31: 16) اسرائیلیوں نے بلعام کو قتل کر دیا گنتی 31: 8 اور یشوع 13: 22 کے مطابق۔
بلعام حقیقت میں نبی کی روح نہیں رکھتا تھا لیکن اسکی کی خواہش تھی کہ صادقوں کی طرح کرے۔ اسکے ذاتی گناہوں کی وجہ سے اسکی خواہش پوری نہیں ہوئی تھی۔ اسی طرح لوگ آج بھی سنجیدگی سے اچھی خواہش رکھ سکتے ہیں جنکو وہ پورا نہیں کر پاتے اپنی ذاتی غلطیوں کی وجہ سے۔
سوال: گنتی 20: 14 میں، بلعام نے کیوں نبوت کی کہ اسرائیل شیر کی مانند ہون گے جب تک وہ شکار کا خون نہ پی لیں اسوقت خون پینا حرام تھا؟
جواب: شیر ناپاک جانوروں کو مار کر اسکا خون پیتے تھے۔ دونوں ہی لوگوں کے لیے منع تھے اگرچہ وہ شیر نہ تھے معاملہ شیروں کی طرح رہنے کا نہیں تھے لیکن اسکا مطلب ہے اسطرح وہ مضبوط ہونگے اور وہ میدان جنگ میں شیر کی طرح تیز ہون گے۔
سوال: گنتی 23 : 19 میں، مورمنزم کی کور پر خدا کے تصور کے بارے میں کیا کہتی ہے کہ " کیا انسان خدا تھا خدا انسان کی طرح بن سکتا ہے" ؟
جواب: یہ مورمن تھیالوجی کا عکس ہے یہ کہتی ہے کہ
A: حقیقی خدا انسان نہیں ہے۔
B: حقیقی خدا کسی کا بیٹا نہیں ہے یا انسان کی نسل سے نہیں ہے خواہ وہ اس حصے پر حکمرانی کرے۔
مزید معلومات کے لیے1 سیموئیل 15: 29 میں دیکھتے ہیں اور اگلا سوال بھی ۔
سوال: گنتی 23: 19 میں، مورمن کا کیا رد عمل ہے؟
جواب: میں نے ایک مورمن آدمی کو بائبل کی بڑے عزت میں بات کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔ تاہم ، جب میں نے اسے یہ آیت پڑھتے ہوئے پایا اور میں نے اسکو کسی بھی قسم کی وضاحت نہیں دی تھی۔ اسنے کہا " خوب " " بہت خوب" جو ضرور غلط ہے۔ ہم نے زیادہ بات نہیں کی تھی لیکن میں نے محسوس کیا کہ میں نے اپنے کام کیا ہے۔ میں نے اسے بائبل کے درمیان فرق کو ظاہر کیا تھا کہ مورمنزم اس کے متعلق کیا سوچتے ہیں اور اب اس نے اسے بنانے کی خواہش کی تھی۔
میں نے دوسرے مورمنوں کے ساتھ بات کی تھی تب میں اس آیت کے متعلق یاد کر سکتا ہوں جیسے 1 سیموئیل 15: 29 نے ایک اعتراض کا بیان کیا ہے جس کا جواب ان تمام کے پاس نہیں تھا۔
تاہم، ایک مورمن مشنری جس کے ساتھ میں نے بات کی اس نے اسکا جواب دیا اس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ خدا انسان کی قسم کا نہیں ہے کہ وہ جھوٹ بولے اور نہ ہی وہ انسان کے بیٹے کی طرح ہے کہ وہ پچھتائے۔
ان نکات کے یہاں پر دو بڑے جوڑے ہیں۔
1: الفاظ " قسم کے" یہ عبرانی میں نہیں ہوتے۔
2: ناول وضاحت کرتا ہے " قسم کے" یہ الفاظ ہر ایک کے لیے یہودی ، مسیحی کے لیے ایمان ہوتے ہیں۔ اور بدعتی لکھاری بھی لکھتا ہے کہ مورمنزم 19 صدی میں شروع ہوئی تھی۔
3: اس وقت نہ عبرانی یا نہ یونانی ایماندار نہیں بول رہا کہ وہ اس طریقے سے اس آیت کو سمجھے ہوں گے ۔ تب اگر یہ صحیح تفصیل تھی تو یہ حفیہ کوڈ ہو گا جو صرف مورمنوں کو سمجھانے کے لیے خبردار ہوں اگر آپکو تھیالوجی کو جاری رکھنے کا حکم ہوا ہے تو آپ کو بیرونی زبان میں اس فقرے کی تشریح کرنا ہو گی ۔ جو اس طریقے کو جانیں گے تو کوئی بھی مقامی بولنے والا اس طریقے میں وہ اس زبان پہچان نہیں سکتا۔
سوال: گنتی 23: 10 میں، کیا ہم کو اس آدمی کے کہنے پر توجہ دینی چاہیے جس نے علم نجوم کی مشق کی ہو؟
جواب: جبکہ بلعام نے بعد میں بہت زیادہ گناہ کیے تھے اس وقت جب بلعام یہ بول رہا تھا کہ بلعام خدا کا کلام بول رہا تھا جو اس نے اسکے منہ میں دیا تھا۔ ( گنتی 23: 16) اور یہ صرف خدا کا کلام تھا جو اس نے اسکے منہ میں ڈالا تھا۔ ( گنتی 23: 34)۔
سوال: گنتی 23: 19 میں، کیوں یہ کہتا ہے کہ خدا پچھتاتا نہیں اسکا ذہن تبدیل ہوتا ہے جب 1 سیموئیل 15: 35 اور خروج 32: 14 بیان کرتا ہے کہ وہ کیا کرتا ہے ؟ ( ایک مسلمان نے یہ کہا)
جواب: خدا اپنی مرضی کا بروقت انکشاف کرتا ہے اور لازم ہے اور اسکی وضاحت بعض اوقات نظریہ تجسمیت کے مطابق ہوتی ہے۔
بر وقت: خدا نے باغیوں کی نسل کو بتایا کہ وہ ان کے ساتھ نہیں چلے گا ۔ وہ تمام مر گئے اور خدا موجودی نسل کے ساتھ گیا۔
لازمی: خدا نے بہت ساری دھمکیاں یا وعدے انکے ساتھ کامل ہیں۔
نظریہ تجسمیت: خدا وہ جو ازل سے ہے ، وہ پہلے ہی جانتا تھا کہ کیا وہ کریں گے اور وہ جانتا تھا کہ وہ کیا کرنے والا تھا۔ تاہم بعض اوقات یہ دیکھنا لوگوں کے لیے مشکل ہو جاتا ہے ، کہ وہ بیک وقتی طور پر اسے دیکھیں کہ لوگوں کی یہ یقینی خواہش تھی۔ یقیناً اگر خدا نے انکو بتا دیا تھا تو کیا وہ اسکو یقینی طور پر کریں گے اور کیا وہ یقیناً کرے گا اور ان کا انتخاب محدود ہو گا۔
ایک آدمی جو ان کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا یا اس تصور کی اسکو سمجھ نہیں آتی انہیں اس آیت کے بارے میں سوچ و بچار کرنے کی ضرورت نہیں پہلے خدا ان کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا با معنی طریقے کے ذریعے سے خدا لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کر تا ہے اس اصطلاح سے تمام لوگ سمجھ سکتے ہیں۔
سوال: گنتی 24: 7 اس وقت اجاج کیسے زندہ رہ سکے گا جبکہ اجاج تو بادشاہ ساؤل کے زمانے میں تھا؟
جواب: یہاں پر دو ممکن جوابات ہیں۔
دو باشاہ ایک ہی جیسے ناموں کے ساتھ: بادشاہوں کے نام پرانے بادشاہوں کے نام پر عام نہیں ہوتے بہت سارے برطانیہ کے بادشاہوں کی مثالیں جن کے نام ہنری تھے دو جنوبی اسرائیلی بادشاہوں کے نام یربعام تھے۔ دو فنیقی بادشاہ جن کے نام احرام تھے۔بہت سارے مصری فرعونوں کے نام تھیوٹامس اور ریمیزز تھے ۔ اس طرح سبول کے زمانے میں اجاج جس اجاج کا یہاں ذکر ہوا ہے اسکا جانشیں تھا۔ اگرچہ یہ سوال پوچھنے کے قابل ہے انگلینڈ کے بادشاہ ہنری کی بیویوں کو کیسے سزائے موت دی گئی ان کے پیدا ہونے سے پہلے۔
اجاج ایک چھوٹے فرعون کی طرح: فنیقی کارپس اَنسکارپشییم سیمی کاریم 3196 Iاجاج کے بارے میں مختلف وقت میں بیان کرتا ہے اور ان دو اجاجوں کے بارے میں اور جگہ کے بارے بیان کرتا ہے ۔ ہم عمالیقیوں کے بارے زیادہ نہیں جانتے ہیں اجاج نے تھوڑے عرصے کے لیے اعمالیقیوں کی حکمرانی کی تھی۔ فرعون کی طرح جس نے تھوڑے عرصے کے لیے مصر کی کی تھی۔
سوال: گنتی 24: 17 میں، کس کے متعلق نبوت کی گئی ہے؟
جواب: یہاں پر دو درخواستیں ہیں۔
جلد: موآب اور ادوم تباہی کے لیے داود بادشاہ یا یہوداہ کے قبیلے کے بارے میں پیشن گوئی کی گئی ہے۔
مسیح کا عقیدہ: غالباً یہ یسوع مسیح کا تازہ سایہ ہے اور یہوداہ کا بھی وہ جو آئے ہونگے اور انہوں نے انکی ساری اکٹھی فوج کو مار دیا۔ قدیم یہودی اور دوسرے بھی ایمان رکھتے ہیں کہ یہ نبوت مسیح کے لیے ہے ، بارکوبا جنہوں نے رومیوں کے خلاف بغاوت میں 135 ق م میں راہنمائی کی جو بارکوبا کہلائی گئی تھی یا " تارے کا بیٹا" کیونکہ یہ اس آیت کے مطابق ہے۔
جسٹن شہید وہ لکھاری تھا جس نے مسیح کے اس عقیدے کو ان خیالات میں شامل کیا۔ ( یہ تقریباً 138-165 ق م میں لکھا گیا)
ایتھناسیس ( 296-373 ق م) یہودی لکھای تارگم اونکلیوس اور المڈ یروشلیم میں تانیتھ 68: 4 ڈیباریم زیبا ( پہلا حصہ) پسکٹا سوٹراٹا 58: 1 بحیرہ مردار کے درمیان دمشق دستاویزات سی ڈ 7: 9-20) اور لڑائی کے طومار ( 1QM:7)
سوال: گنتی 24: 24 میں،جبار کیسے آئیں گے اور اشور کو دکھ دیں گے جبکہ اسور شہر ملک کی اندرونی جانب تھا؟
جواب: گنتی 24: 24 کہتی ہے کہ " اشور" نہ ہی اسور شہر کے قریب تھا فنیقی اور یونانی دونوں اسوریہ کی سلطنت میں کانٹا بنے ہوئے تھے ۔ فنیقیوں کا اخلاقی طور پر آپ کو ایک تصور دیتا ہوں کہ انہوں نے انڈیا کے ساتھ تجارت کی تھی۔
سوال: گنتی 25: 1 میں، یہاں پر ان الفاظوں کے انتخاب میں غیر معمولی بات کیا ہے؟
جواب: ہو سکتا ہے یہ لفظ استعمال کے لیے ہوں یا یہاں پر ان کی دہری باہمی رفاقت ہو وے ہیل کے مطابق " شروع کرنا" " جڑ" " ہلال" کا مطلب ہے ناپاک کرنا، گندہ کرنا، یا نے حرمتی کرنا۔
گنتی 25: 7-13 کربی اور زمری کو مارنے کے لیے کیا خدا نے فنیحاس کی تعریف کی؟
جواب: اس کے جواب کے لیے پانچ نکات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
1: لوگ خدا کی وعدہ کی گئی زمین میں گھسنے کی مہم کو سنجیدگی سے شروع کرنے والے تھے۔ فنیحاس نے ظاہر کیا کہ وہ خدا کی پاکیزگی کو سمجھتا تھا۔ انہی باتوں کے تابع بلعام نے خدا کی پاکیزگی کی اہمیت کو سمجھا تھا۔ اس لیے کہ بلعام نے انکے اسرائیل کے نقصان کے لیے موثر نصیحت کی تاہم بلعام اکیلا کربی اور زمری کے ساتھ مارا گیا گنتی 31: 8 ۔
2: اخلاقی جنسی تعلقات کے لیے موروثی خطا کا جرم ہے۔
3: یہ ممکن ہے کہ یہ اخلاقیات مذہبی تربیت کے ساتھ منسلک ہو سکتی تھی۔
4: ظاہر ہے کہ سارے ہجوم کے سامنے تمام جرم گستاخی کے لیے زیادہ سنجیدہ تھے۔
5: فنیحاس زیادہ چوکس نہیں تھا اسوقت جرم موروثی گناہ کی سزا تھا۔ کاہن کی جگہ فنیحاس مختار کی جگہ پر تھا فنیحاس اسرائیل کے لیے خدا کے قوانین کے تابع فرما تھا۔
سوال: گنتی 26 اور گنتی 1 میں، کیسے شمعون کے قبیلے سے تقریباً 60 فیصد لوگ مرے تھے؟
جواب: زیادہ تر قبیلوں کے تھوڑے لوگ مرے تھے جیسے کل 603،550 تا 601،730 گئے تھے۔ تاہم شمعون کے قبیلے سے 59،300 تا 22، 200 گئے تھے۔ غالباً اسکی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سارے ہو سکتا ہے اپنے راہنماؤں کے ساتھ زمری کے ساتھ ہی مر گئے ہوں۔ یہ واقعات بعل کی پوجا کے دوران وقوع پذیر ہوئے گنتی 25: 1-15۔
سوال: گنتی 26: 5-50؛ 57-62 میں، کیا ہمیں یہ نسب نامہ پڑھنا چاہیےجبکہ 1 تیمتھیس 1: 4 اور ططس 3: 9 کہتے ہیں کہ ہمیں ان نسب ناموں پر محدود نہیں ہونا؟
جواب: نسب نامہ کا مطالعہ تاریخی مقاصد کے لیے ہو سکتا ہے تاہم، ہم اس طرح کی حکمت ، درستگی، اور حوصلہ افزائی نہیں پاتے۔ہم بائبل کی دوسری قسم کی آیات پاتے ہیں۔
سوال: گنتی 26: 51 میں، یہ نمبر 601،730 کیسا ہے یہ زیادہ تر ایک جیسا ہے ۔ 603،550 کا مطلب ہے کہ چالیس سال کے اوپر کے لوگ جو آبائی سالوں میں گنے گئے تھے گنتی 2: 32؟
جواب: کتاب مقدس یہ نہیں کہتی کہ کیوں یہ نمبر زیادہ قریب ہے لیکن ایک دو وجوہات دیکھنے میں ایک جیسی ہو سکتی ہیں۔
انسان: بیابان میں گھومنا، جنگیں اور وباء کے ذریعے اسرائیل کی ہلاکت اور جبکہ ان کی آبادی بڑھی نہیں تھی۔
وجدان: اگر یہ نمبر عظیم تھا ہو سکتا ہے وہ سوچتے ہوں کہ اضافی چالیس سالہ بیابان میں گشت ان کے لیے اچھی تھی۔ کیونکہ ان کے پاس زیدہ جنگجو تھے۔ اگر یہ نمبر کافی نہیں تھا خواہ خدا کے پاس کافی سپاہی تھے لیکن پہلی دفعہ انکی ضرورت تھی یا ان کے پاس لڑائی کے لیے کچھ سپاہی تھے۔ یہ نمبر زیادہ تر انکے اثر کی تصویر کشی کرتا ہے کہ انکی تابعداری اور انکی سزا نے انکی مدد نہیں کی یا انکو جنگجو کی تعداد نے بیزار کیا تھا۔
سوال: گنتی 27: 5 میں، کیوں موسیٰ نے انکے باوجہ دعویٰ کو ٹھیک کرنے کی بجائے انکی خبر گیری کی؟
جواب: جبکہ ہم اس خاص صورت حال سے واقف نہیں تھے یہاں پر عام طور پر کم سے کم چار وجوہات ہیں ۔ کیوں یہ خدا کے پاس جانا اور دعا کرنا اچھا ہے۔
1: شاید موسیٰ نے یہ پہلے ہی محسوس کیا تھا کہ انہیں انکی میراث دینی چاہیے ۔ لیکن موسیٰ پھر بھی دعا میں ٹھہرا ہوا تھا کیونکہ اس نے محسوس کیا تھا کہ اس سے غلطی کا امکان تھا اور وہ غلط بھی ہو سکتا تھا۔
2: دوسرے لوگ عورتوں کے حصے کے بارے میں مختلف خیالات رکھتے تھے ۔ مثال کے طور پر اسلام میں بیٹیاں بیٹوں کی میراث سے صرف آدھے حصے کی مالک ہو تی ہیں۔ سورۃ 4: 11 کچھ کلچر میں عورتوں کا ساری وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا۔
3: بعض اوقات کوئی موسیٰ کو صحیح خیالات کی وجہ سے سند کر سکتا ہے لیکن کچھ وضاحت کے لیے خدا کی رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے۔ مثال کی طور پر صلافحاد اور اسکی بیٹیوں کو اور انکی نسل کو ہمیشہ کے لیے انکی میراث کی زمین دی جائے۔ گنتی 36: 6-9 کے مطابق انہوں نے قبیلہ کے ساتھ شادیاں کی تھیں۔
4: اگرچہ موسیٰ صحیح طور پر پہلے ہی جانتا تھا کہ کیا کرنا ہے وہ تمام وضاحت کو اچھے طریقے سے سمجھتا تھا۔ اور جانتا تھا کہ وہ اس معلومات سے آگاہ تھا۔ کہ وہ خدا کے پاس جانے کے لیے دعا میں ٹھہرنے والا ہے ۔ اور خدا کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ نہ صرف خدا کو اپنا مالک سمجھتا تھا بلکہ وہ جانتا تھا کہ خدا بہتر جانتا ہے۔ تب اسنے کیا لیکن اس نے دوسروں پر بھی ظاہر کیا وہ جو مختلف خیالات رکھتے تھے کہ موسیٰ نے صرف اس فیصلے کا نقشہ ہی تیار کیا تھا بلکہ اس کو پورا بھی کیا تھا۔
سوال: گنتی 28: میں، خدا کے حکم کی قربانی کا خلاصہ کیا ہے؟
جواب: وہاں پر واقعات اور حالات کے مطابق قربانیاں تھیں اور دئیے گئے وقت پر قربانیاں دی جاتی تھیں۔ گنتی 28 دئیے گئے وقت کی مناسبت کو محفوظ کرتا ہے۔ وہ ہیں
روزانہ: ( خروج 29: 28-32؛ گنتی 28: 3-8)
ہفتہ وار: ( احبار 23: 3 ؛ گنتی 28: 9-10)
ماہ وار یا نیاچاند: ( گنتی 28: 11-15)
فسح: ( احبار 23: 4-14؛ گنتی 28: 16-25)
ہفتوں کی عید: ( پینتکوست) ( احبار 23: 15-21؛ گنتی 28: 26-31)
نرسنگا پھونکنے کی عید: ( احبار 23: 22-25؛ گنتی 29: 1-6)
کفارے کا دن: ( احبار 16: 1-28؛ 23: 26-32؛ گنتی 29: 7-11)
مجمع کی عید: ( احبار 23: 33-39، 43؛ گنتی 29: 12-38)
بائبل نالج کمنٹری کو دیکھتے ہیں پرانا عہد نامہ صفحہ 248 مین ایک چارٹ کے ساتھ کیلنڈرانہ قربانیوں کی اچھی وضاحت ہے۔
سوال: گنتی 29: 16-39 میں، بائبل میں یہ پیراگراف کیوں خوشنما نہیں ہے؟
جواب: ہمیں خدا کے کلام کی عزت کرنی ہے اگرچہ ہم اس میں کوئی وجہ نہیں دیکھتے۔ اسکو پڑھیں کہ خدا ہمیں کیوں چاہتا ہے۔ ان نسلوں کا شاید مطلب ہے کہ پرانے عہد نامے کے یہودیوں سے کافی زیادہ مشابہہ تھیں وہ جو اسے پڑھتے تھے۔ تاہم 1 تیمتھیس 1: 4 بیان کرتا ہے کہ ہمیں ان بے انتہا نسب ناموں پر لحاظ نہیں کرنا ہے۔
سوال: گنتی 30: 1-5 میں، خدا نے کیوں اس عہد کا حکم دیا جبکہ ایک صدی بعد یعقوب 5: 13 بیان کرتا ہے کہ قس مت کھاؤ؟
جواب: یعقوب 5: 13 قسم اور حلف کی طرف اشارہ کرتا ہے نہ کہ تمام وعدوں کو پورا کرنا۔ گنتی 30: 1-15 زیادہ عام ہے جو وعدہ کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے خواہ یہ قسم کے ذریعے سے ہو یا نہ ہو۔
سوال: گنتی 30: 3-10 میں، کیوں بیان کرتا ہے کہ عورت کے وعدے اسکے باپ یا شوہر کی وجہ سے ختم ہو سکتے ہیں ( ایک مسلمان نے یہ پوچھا)؟
جواب: شادی شدہ عورتیں اور ایسی عورتیں جنکی ابھی شادی نہیں ہوئی اور غالباً وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں رہ رہی ہیں) یکے بعد دیگرے ان کے وعدے ان کے شوہر یا باپ کی وجہ سے ختم ہو سکتے ہیں۔ پرانے زمانے میں شوہر یا باپ ایک اہمیت کا حامل تھے۔ اور وہ پیسہ کمانے کے ذمہ دار تھے اور ایک وعدہ مالی طور پر مہنگا ہو سکتا تھا۔ تاہم بافلنگ بائبل 735 کے سوال و جواب صفحہ 75 بیان کرتا ہے یہ نوٹ کرنے کے لیے بہت اہم ہے کہ ایک بیوہ یا طلاق یافتہ عورت وہ جو اپنی ذمہ دار خود تھیں اس پر اس قسم کی کوئی بھی پابندی عائد نہیں تھی۔ یہ حکم عہد تسلیم کیا گیا ہے ۔ اگرچہ یہ عورتوں پر معمولی بات نہیں تھی بجائے عام وقت کے یہ مشیعت کی حقیقت پر عکس بندی کرتی ہے اور خدا اپنے لوگوں کی زندگیوں کی وضاحت میں شمولیت اور انکی وضاحت کرتا ہے۔
یہ خاندان میں باپ کی سربراہی کو ظاہر کرتا ہے اور ایک شوہر کی بیوی پر۔ عام طور پر مسلمانوں کو اس پر کوئی مسئلہ نہیں ہو گا اگر وہ یہ لانا چاہتا تھا اسلام میں یہ بیان کرنے کے لیے اسکو خوش آمدید کہتے ہیں۔
ایک بیوی اتنی جلد باز نہیں ہو سکتی یا کسی کو اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ابو دواد والیم 2 نمبر 2452، 2453 صفحہ 677-678 رمضان کے علاوہ ایک عورت اپنے شوہر کی اجازت سے روزہ رکھ سکتی ہے۔ ابن ماجہ والیم 3 نمبر 1761-1762 صفحہ 62۔
محمد نے ایک شوہر کو ملامت نہیں کی وہ جس نے اپنی بیوی کو دعا اور روزہ رکھنے کے لیے مارا ہو ابوداود والیم 2 نمبر 2453 صفحہ 677-678۔
لوگ انکی بیویوں کو بتاتے ہیں جب وہ نہاتی ہیں اگر اسکی کوئی بھی غسل کرتی ہے اور بذات خود جمعہ کے دن غسل کرتا ہے اور صبح کو جلدی جمعہ کی نماز کے لیے نکل جاتے سب کے چلنے سے پہلے آپ خطبہ میں شامل ہوتے اور امام کے قریب بیٹھتے تھے۔ اور توجہ کے ساتھ وہ خطبہ سنتے اور انہیں سُستتی سے بات کرنے کی عادت نہیں تھی۔ وہ ایک سال کے روزوں کا اعزاز حاصل کرے گا اور ہر رات کے لیے اور اسکے ہر اٹھنے والے قدم کے لیے دعا کرے گا۔ ابواداود والیم 1 نمبر 345 صفحہ 91 بیوی کے لیے کوئی اعزاز نہیں جسکی تفصیل یہاں بیان کی گئی ہو۔
ایک کو اپنے شوہر کے ساتھ اکٹھی میراث سے تحفہ نہیں دینا چاہیے ابودواد والیم 2 نمبر 3539 صفحہ 1006۔ یہ عام ہے کیونکہ ایک عورت میں حکمت اور ذہانت کی کمی ہوتی ہے ابو داؤد والیم 2 فٹ نوٹ 2991 صفحہ 1006۔
ایک بیوی اپنے شوہر کی رضامندی کے بغیر تحفہ نہیں دے سکتی۔ ابن ماجہ والیم 3 نمبر 2388 صفحہ 423۔
سوال: گنتی 31: 1-24 میں، مدیانیوں کے ساتھ جنگ ایک غیر تاریخی اور غیر فیصلہ کن نقاب اوڑھے ہوئے کہانی ہے۔ کیا موآبیوں کے ساتھ لڑائی ایک کفر کا اعلان کرتی ہے؟
جواب: اسرائیل مدیانیوں کے ساتھ لڑے کیونکہ جس ثانیہ کا گنتی 22: 4 اور 25: 14-18 میں ذکر ہے وہاں پر اس کے ثبوت کی وضاحت نہیں ملتی تاہم اندازاً تجویز کیا جاتا ہے کہ اگر قدیمی لوگ دوسری قوموں کے قریب بہت سالوں تک رہے ہیں خواہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں یا ان کے درمیان کچھ لڑائیاں ہوتی ہیں پر اسرائیلی اور مدیانی کبھی بھی دوست نہیں بنیں گے۔
سوال: گنتی 31: 1-24 میں، اخلاقی طور پر خدا کا بہتر حکم تھا کہ اسرائیلی مدیانیوں کا صفایہ کریں؟
جواب: اسرائیل مدیانیوں کے ساتھ لڑے کیونکہ اس واقعہ کی وضاحت گنتی 22: 4 اور 25: 14-18 میں ملتی ہے۔
خدا پاک ہے اور اسکی استقامت دونوں کے ساتھ اسکی سچائی اور اچھائی اور پاکیزگی برائی کو ختم کرتی ہیں۔ پیدائش 25: 1-4 کے مطابق مدیانی آدم کی اولاد تھے نہ صرف اسکے آباو اجداد ہی ابرہام کو جانتے تھے اور وہ خدا کے پابند بھی تھے ۔ لیکن انہوں نے جان بوجھ اسرائیلی مردوں کو گناہ کرنے پر اکسایا تھا۔
دنیا کے دوسرے حصے کے دوسرے لوگ مدیانیوں کی طرح برے نہیں ہو سکتے ہیں لیکن انہوں نے اس طریقے سے نہیں مٹایا تھا۔ تاہم مدیانی اسوقت زیادہ جانتے تھے۔ وہ ابرہام کی طرف سے آنے تھے ۔ اور اسکے ساتھ مزید علم کی ضمانت ملتی ہے ( رومیوں 4: 15؛ 5: 12 ؛ یوحنا 9: 41) لیکن خدا بھی اسکی زندگی میں عدل پر مبنی کام نہیں کرتا۔ خدا ہر چیز کو عدالت کے دن کے لیے ٹھہرائے گا لیکن جب تک کچھ لوگ مٹا نہیں دئیے جاتے ۔ جبکہ انہیں بڑھنا چاہیے اور دوسروں کو ایک وقت کے لیے نقشے سے مٹنا چاہیے۔
سوال: گنتی 31: 17 میں، کیوں مدیانی بچوں اور لڑکوں کو مارتے ہیں؟
جواب: یہ سوال اسوقت سے بہت مطابقت رکھتا ہے کہ کیوں خدا نے کنعان کے شیر خواروں کو مار دیا تھا۔ یشوع کی کتاب 6: 21 اس سوال کے جواب کے لیے دیکھتے ہیں۔ جس طرح اگلا سوال ہے۔
سوال: گنتی 31: 17-18 میں، کیوں مدیانیوں کے تمام لڑکوں کو مار دیا گیا اور کنواری عورتوں کو اور چھوٹی لڑکیوں کو زندہ رکھا؟
جواب: کتاب مقدس یہ نہیں بتاتی ہے کیونکہ شاید اسرائیل کے خاندان کا نسب نامہ مردوں سے شروع ہوتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ لڑکے معاشرے میں اس حساب سے بہتر نہیں ہونگے۔ اسوقت وہ بارہ قبیلوں میں سے نہیں تھے اور لے پالک انکے رواج میں شامل نہیں تھا۔
کتاب مقدس یہاں پر صرف واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ موسیٰ کا حکم کیا تھا۔ یہاں پر کوئی نشان نہیں ملتا کہ خدا نے اس کا ثبوت دیا ہے یا نہیں دیا اگلا سوال بھی دیکھتے ہیں۔
سوال: گنتی 31: 17-18 میں، موسیٰ نے کیوں حکم دیا کہ نوجوانوں عورتوں کو مختلف وجوہات کے لیے قیدی بنایا جائے؟
جواب: سب سے پہلے " مختلف وجوہات کے لیے" کیا یہ ایک ادارہ ہے جو کتاب مقدس سے نہیں ملتا یہ سپاہی اسرائیلی تھے نہ کہ مسلمان۔( کچھ امریکی غیر ایماندار اسکو ظاہری طور پر برا نہیں مانتے تھے) وہ عورتیں جو غلام بنائی گئی ہوں گی تاکہ مرد انکے ساتھ شادیاں کر سکیں اگر وہ اسکی خواہش رکھتے تھے، تاہم وہ عورتیں جو قید میں تھیں انکے شوہر بنے بغیر وہ مرد جنہوں نے انکے ساتھ مباشرت کی انکے لیے ہے کہ بائبل بتاتی ہے کہ سزا کے طور پر وہ مارے گئے تھے۔
سوال: گنتی 31: 18 کیوں وہ مرد حتیٰ کہ وہ شادی شدہ تھے انہوں نے اپنے لیے قیدی خواتین رکھیں جبکہ خروج 20: 1-4 اور استثنا 5: 18 میں لوگوں کو حکم ملا ہے کہ زنا مت کریں؟
جواب: شادی کرنا زنا نہیں ہے یہ سوال ایک قیدی عورت کی جائز شادی کو زناکاری کے ساتھ پریشان کرتا ہے۔ عورت کے ساتھ شادی خواہ وہ قید میں ہو یا آزاد اس سے بچے جائز تھے اور وہ باپ کے نام سے کہلاتے تھے اور وہ اسکے آبائی قبیلے کا حصہ تھے ۔ میراث کے حوالے سے زناکاری کا شک کرتے ہیں اور دوسرا مسلہ یہ ہے ایک بیوی جو رسمی طور پر قید میں ہے اسے بیوی کا سارا حق ملا ہے وہ ایک قیدی نہیں تھی۔
سوال: گنتی 31: 18 اور دوسرے پیراگرافوں میں کہ اسرائیلیوں کو کیوں اجازت دی گئی تھی کہ وہ قیدی عورتوں سے شادیاں کریں؟
جواب: کلیمنٹ الیگزینڈر ( 183-217 م) ستورمیٹا بک 2 سبق 18 صفحہ 367 اس رواج کو بہتر طریقے سے بیان کرتا ہے۔
"مزید" یہ قیدی عورتوں کے ساتھ باہمی رابطے روکنے کے لیے ہے ایسے ہی جیسے اسکو بے عزت کرنا لیکن اسکو اجازت تھی۔ یہ بیان کرتی ہے کہ چالیس دن اپنی خواہش کے مطابق سوگ منانے کے بعد اور اپنے کپڑوں کو تبدیل کرنے کے بعد یہاں آپ کے ساتھ آپ کی قانونی بیوی کے طور پر جڑ جاتی ہے۔ کیا آپ نے ضبط نفس کے ساتھ انسانیت کو وکٹھے دیکھا ہے ؟ ایک مالک اپنی قیدی دوشیزہ کے پیار میں گر گیا لیکن وہ اپنی خوشی سے اسکو خوش کرنے کی اجازت نہیں دیتا وہ ایک خاص وقت کے وقفے میں اپنی شہوت کا معائنہ کرتا ہے۔ اور مزید اسکے بالوں کی قید کو توڑ دیتا ہے بحکمیہ طور پر یہ شرمناک اور بیوقوفانہ پیار ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ اسے شادی کے لیے مائل کرتی ہے ۔ وہ اسکے راستے میں حائل ہو گا بعد میں اس عورت نے اسکی شکل کو بگاڑ دیا۔
سوال: گنتی 32: 1-2 میں، کیوں بنی روبن اور بنی جد وعدہ کی گئی زمین سے باہر ٹھہرے تھے؟
جواب: گنتی 34: 12 کی حدود اس کو واضح کرتی ہے یہ وعدہ کی گئی زمین سے باہر تھی ۔ عملی وجوہات یہ ہیں وہ دریائے یردن کے مشرق کی طرف ٹھہرے تھے۔
1: یہ زمین پہلے ہی مطیع تھی۔
2: انہوں نے دیکھا کہ یہ زمین مویشیوں کے لیے مفید تھی۔
3: مویشی اور وہ رضا مند تھے اگرچہ وہ وعدہ کی گئی زمین کے لیے دوسرے قبیلوں کے ساتھ لڑائی میں مددگار ثابت ہو سکتے تھے۔ خواہ انہیں اس زمین پر قابض ہونا چاہیے ۔ مزید معلومات کے لیے اگلا سوال دیکھیں۔
سوال: گنتی 32: 1-2 میں، کیا کسی اسرائیلی کو دریائے یردن کے مشرق کی طرف ٹھہرنا چاہیے؟
جواب: بائبل کہتی ہے کہ وہ وعدہ کی گئی سر زمین پر ٹھہرے تھے ۔ دوسرے قبیلوں کا ذکر کیا گیا تھا کہ اگر تمہاری میراث ناپاک ہے تو تم خدا کی میراث کے پار آ جاؤ ( یشوع 22: 19) مستقبل میں وعدہ کی گئی سر زمین میں قبیلوں کو زیادہ آدمیوں کی ضرورت تھی۔ کنعانیوں اور فلسطینوں کو شکست دینے کے لیے وہ اڑھائی قبیلوں کا مستقبل تھا۔ انہوں نے لگاتار ادوم ، عمالیقیوں، موآبیوں پر حملہ کیا تھا جب تک ان کی تمام نسلیں مار نہیں دی گئی تھیں وہ دوسری قوموں میں یکساں تھے۔ اور وہ مکمل طور پر اپنے خدا کو بھول چکے تھے۔ یشوع کی فتح کی کامیابی کے آخر کے قریب آڑھویں قبیلے نے دیکھا کہ دوسرے قبیلے ون کو نظر انداز کر رہے ہیں ( یشوع 22: 24-28) آج یہاں مسیحیوں کے لیے ایک سبق ہے ( 1 کرنتھیوں 12: 21-27 )بیان کرتی ہے مسیح کے بدن کے تمام اعضا کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے جب ہم وہاں نہیں ہوتے خدا چاہتا ہے کہ ہمیں وہاں ہونا چاہیے۔ وہاں پر ایک مسئلہ نہیں ہے لیکن وہاں پر دو مسلے ہیں۔ ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم خدا کے ساتھ شراکت کے منظر کو کھو دیتے ہیں اپنی نافرمانی کے ذریعے سے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ دوسروں کو ہماری مدد کی ضرورت ہے اور خدا نے اس موقع کو کھو دینے کا بھی تحفہ دیا ہے۔
سوال: گنتی 32: 13 میں، آخری چالیس سالوں میں کیا خدا اسرائیل سے ناراض تھا ۔ یا ایک منٹ کے لیے یہ موسوی سال کا پہلا مہینہ ہوتا ہے زبور 30: 5 بیان کرتا ہے؟
جواب: یہاں پر یہ فرق ہو سکتا ہے کہ خدا کا وقت کتنا لمبا ہو سکتا ہے وہ ناراض تھے۔ ہمارے وقت کے مقابلے میں آخری فتح کا وقت کتنا لمبا ہے ۔ حالانکہ وہ بے خوف و خطر ہے زبور 30: 5 " 60" سیکنڈ کے بارے میں بیان نہیں کرتا لیکن ایک منٹ ہوتا ہے۔ خدا کا غصہ اس کے لوگوں کی طرف خدا کے نظم و ضبط کا موازنہ صرف عارضی ہے۔ اسکی مدد انکے ساتھ ہمیشہ کے لیے ہے۔
سوال: گنتی 33: 4 میں، خدا نے کیسے مصری بتوں کو سزا دی؟
جواب: بت بذات خود بے جان ہوتے ہیں لیکن خدا نے ظاہری طور پر بتوں کی پوجا کرنے والوں کے لیے سزا کا اظہار کیا ایک خاص طریقے کے ذریعے سے خدا نے انکو سزا دی خواہ وہ بت کتنے ہی طاقت سے محروم تھے۔ خروج کی دس آفتیں خاص طور پر مصر کے دیوتاؤں کے لیے خاص نشانیاں ہیں۔
1: نیل میں خون اپس ، اسیس اور کعنم دریائے نیل کے دیوتا تھے۔
2: مینڈک دیوی ہیقیت جو بچے کی پیدائش پر ایک عورت کے ساتھ منسلک تھی اسکا مینڈک کا سر تھا۔
3: مچھروں کا ڈنگ مارنا یہ صحرا کا دیوتا تھا ابتدائی مصریوں میں عظیم تسلیم کیا جاتا تھا۔ اور دیوتاؤں کے قصے مصریوں میں مشہور تھے لیکن یہ برے تسلیم کیے جاتے تھے ۔ اسیسریس کو بعد میں مصری دیوتاؤں کے قصوں سے الگ کر دیا گیا تھا۔
4: مکھیاں ممکن ہے یہ سورج کے دیوتا کے ساتھ منسلک تھیں۔
5: مردہ جانور دیوتا ہیتھر کا گائے کا سر تھا اور دیوتا اپئیس کا بیل کا سر تھا۔
6: پھوڑے سیکھمت دیوی بیماری سے شفا دینے کے لیے تھی سونو وبا کا دیوتا تھا اور اسیس شفا دینے والی دیوی تھی۔
7: اولے نٹ آسمان کا دیوتا تھا۔
8: ٹڈیاں اسیسریس فصلوں کا دیوتا تھا اور فصلیں اگانے والا تھا۔
9: اندھیرا رے سورج کا دیوتا تھا۔
10: فسح دیوی اسیس بچوں کی حفاظت کرنے والی تصور کی جاتی تھی۔ کیونکہ فرعون کا بیٹا اگلے فرعون کی طرح دیوتا تصور کیا جاتا تھا۔
اس دور کے بعد مصریوں نے اپنے بتوں کی عزت کرنا کم کر دی زیادہ کلچر میں ایسا ہی ہوا۔ جب وہ ایک بت سے دعا کرتے انکی دعا کا جواب نہیں ملتا تھا وہ بتوں کو کوڑے مارنے لگے تھے۔
سوال: گنتی 34: 5 میں، کیسے مشرق جنوب میراث کی گئی زمین کی سرحدیں مصر کے دریائے نیل کے ساتھ لگتی تھی ؟
جواب: جملہ " مصر کا دریا عظیم دریائے نیل کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ یہ چھوٹی سی ندی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو مصر کو کنعان سے علیحدہ کرتی ہے ۔ بہت سارے نقشے اس دریا کا بیان کرتے ہیں یہ کوہ سینا پینسیولہ شمال مشرق کا حصہ ہے۔ وہاں پر میڈیٹیرینین سمنڈ میں خالی ہوتا ہے۔
سوال: گنتی 34: 11؛ استثنا 3: 17؛ اور یشوع 12: 3 اور یشوع 13: 27 کنرت کی جھیل کہاں واقع ہے؟
جواب: گلیل کی جھیل کا پرانا نام کنرت کی جھیل ہے ۔ کنرت کا مطلب " بربط" ہے اور گلیل کی شکل پرانے بربط کی طرح تھی۔
سوال: گنتی 34: B1، 15 میں، موسیٰ کنعان میں داخل ہونے سے پہلے وہاں سے گزرا اور اس نے کیسے اسرائیلیوں کو بتایا کہ بنی روبن کا قبیلہ، بنی جد کا قبیلہ اور منسی ( آدھے) کے قبیلے نے پہلے ہی دیرائے یردن کی مشرقی زمین کی میراث پائی ہے؟
جواب: دریائے یردن کنعان کی سرحد ہے۔ اسلیے روبن کی زمین، جد کی زمین اور منسی کے آدھے قبیلے کی زمین دریائے یردن کے مشرق کی طرف ہے۔ یہ کنعان سے باہر ہے موسیٰ نے خود دریائے یردن کے مشرق کے پہاڑ سے کنعان کو دیکھا تھا لیکن وہ دریائے یردن کو پار کرنے سے باز تھا۔
تھیالوجیکلی یہاں پر کچھ دلچسپ نکات ہیں ۔ خدا نے اسرائیل کو کنعان کی سرزمین دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ اسرائیلیوں کے 2/21 قبیلوں نے اس کے ارد گرد دیکھا اور سوچا کہ یہ زمین بہت اچھی تھی ۔ انہوں نے خدا کی وعدہ کی گئی زمین پر رہنے کا انتخاب نہیں کیا زمین اچھی دیکھائی دیتی تھی سوائے اس کے کہ اس پر زیادہ حملے کا اثر ہوا تھا۔ داود کے وقت کے بعد آپ نے ان قبیلوں کے متعلق زیادہ نہیں سنا ہے ان میں کچھ مارے گئے تھے۔ اور ان میں کچھ یکساں تھے کچھ اس علم کو ہی بھول گئے کہ وہ کون تھے ہو سکتا ہپے کہ خدا آج ہم سے کوئی وعدہ کرتا ہے۔ اور ہم اپنے ارد گرد کچھ جگہ کو رہنے کے لیے دیکھ سکتے ہیں ہو سکتا ہے کہ دیکھنے کے لیے کوئی اور بھی دعوت دی گئی ہو۔ کہ خدا کے وعدے کے ماتحت رہیں۔ تاہم خدا مستقبل کو جانتا ہے اور یہ خدا کے وعدے کے تحت زندگی کو محفوظ کرتا ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ کون ہیں۔
سوال: گنتی 34: 14؛ 1: 18-44 اور احبار 24: 10 اسرائیلی قبیلوں کا نسب نامہ باپ کی پیدائش سے بیان کیا جاتا تھا، اگرچہ یسوع کا انسانی باپ نہیں تھا تو وہ کیسے یہوادہ کے قبیلے کے ساتھ الحاق کرے گا؟
جواب: اس سوال کا جواب دینے سے پہلے واضح کریں کہ کیا آیات نہیں بیان کرتی گنتی 34: 14 نہیں بیان کرتی کہ قبیلے کا الحاق صرف باپ کے نسب نامے سے ہوتا ہے۔ یہ بیان کرتی ہے کہ کیونکہ روبن کے قبیلے کے خاندان ، جد کے قبیلے کے خاندان اور منسی کے آدھے قبیلے کا بیان کرتی ہے۔ اسطرح گنتی 1: 18-44 قبیلوں کی فہرستوں کے بارے میں اور مردوں کی مردم شماری کے بارے میں بیان کرتی ہے۔ احبار 24: 10 اس سوال کے متعلق براہ راست نہیں بتاتا۔ لیکن اسوقت بیٹا اسرائیلی ماں اور مصر باپ سے پیدا ہوا اور وہ بیٹا اس گروپ کا حصہ تھا تو یہ اس رغبت کا اشارہ ہو گا کہ وہ ایک اسرائیلی تسلیم کیا گیا تھا۔ یہ حقیقت میں ماں کے ذریعے دان کتے قبیلے کا تذکرہ کرتا ہے۔
دو مکمل کرنے والے جوابات: قبیلہ عام طور پر باپ سے الحاق کرتا تھا۔ تاہم کوئی ایک صورت حال ہے جو ماں کے ذریعے تسلیم کی گئی تھی یہ بھی باپ کی طرف سے جائز تھی۔
تمام یہوادہ کا نسب نامہ: یسوع کا کوئی انسانی باپ نہیں تھا سوائے یہودی نسب نامے کے۔ اسوقت مریم داود کے گھرانے سے تھی۔ ( یہوادہ کا قبیلہ) علم حیات کی روح سے یسوع کا تعلق یہوادہ کے قبیلے سے تھا۔ پرانا عہد نامہ ہمیں تین مثالیں دیتا ہے پرانے عہد نامے میں وہاں قبیلہ ماں کے نام سے الحاق کرتا تھا۔
عَتّی: یہوادہ کے قبیلے میں سیشان کے بیٹے نہیں تھے صرف بیٹیاں تھیں۔ سیسان نے اپنی بیٹی مصری نوکر یر یح سے بیاہ دی اور ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جسکا نام عتی تھا عتی کا نسب نامہ دوسرے اسرائیلوں میں شمار کیا گیا تھا۔ 1 تواریخ 2: 34-41۔
یائیر: یہوادہ کے قبیلے سے حصرون کا پوتا تھا۔ اور مکیر کی بیٹی تھی اور وہ منسی سے تھا 1 تواریخ 2: 21-23 میں یائیر ملک جلعاد میں 23 شہروں پر قابض تھا۔ یائیر کی ماں یہوادہ کے قبیلے سے تھی یائیر منسی کا بیٹا ہی کہلاتا تھا۔ گنتی 32: 4 اور استثنا 3: 14۔
برزلی کی بیٹی کے بیٹے: ایک تیسری مثال عزرا 2: 61 اور نحمیاہ 7: 63 وہاں پر کاہن کے بیٹوں نے برزلی کی بیٹیوں سے شادیاں کیں جو برزلی کے بیٹے کہلاتے تھے۔
یہوادہ سے جائز نسب نامہ: یہ ضروری تھا کہ یسوع یہوادہ کے قبیلے سے باپ کو قبول کرتا ۔ اگرچہ یوسف داود کی نسل سے نہیں تھا اور یسوع نے داود کے تخت کا دعویٰ نہیں کیا۔
استثنا 25: 5-10 ظاہر کرتا ہے کہ صحیح نسب نامہ حقیقی باپ کہ نسل سے شمار کیا جاتا ہے، اور نہ ہی بائیولوجیکلی باپ سے۔ استثنا 25: 6 بیان کرتا ہے کہ " اور اس عورت کا جو پہلا بچہ ہو وہ اس آدمی کے محروم باپ سے کہلائے تاکہاسکا نام اسرائیل سے مٹ نہ جائے۔ روت 4: 5-6 بیان کرتا ہے کہ وہ جو حقیقی باپ ہے میراث کا اثر اسکے ذریعے ہوتا ہے نہ کہ بائیولوجیکل باپ کے ذریعے سے۔ قبیلے کا الحاق زمین کی تقسیم کے لیے ضروری تھا۔ اور یہ تقسیم عام طور پر باپ کے ذریعے سے ہوتی تھی۔ تاہم جب وہاں پر باپ نہیں تھا گنتی 27: 1-11 میں انہوں نے خاص صورت حال میں یہ اجازت دی تھی۔
خلاصہ: بائیولوجیکلی طور پر یسوع یہوادہ کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔اور پرانے عہد نامے میں بعض اوقات قبیلے کا الحاق ماں سے ہوتا ہے۔ اور یسوع بھی اپنے سوتیلے باپ کے ذریعےیہوادہ کے قبیلے سے تعلق رکھتاتھا اور لاویوں کی شادی کا قانون یہ ظاہر کرتا تھا کہ اس کام کے لیے حقیقی باپ کا ہونا ضروری تھانہ کہ بائیولوجیکلی باپ کا۔
سوال: گنتی 15: 21 میں، کیسے اسوقت قتل کی خلاصی نہیں ہوتی تھی۔ اسوقت معافی کو مان لینے کے طور پر دوسروں کو جرم کرنے کی اجازت تھی؟
جواب: وہاں پر تورح میں بہت سارے جرم کرنے والوں کے حق میں موت تھی۔ تاہم بہت سارے ان جرم کے لیے ان خطاوں کا جرمانہ موت کی صورت میں اور ہوتا تھا۔ قتل کے اور خدا کے خلاف کفر بکنے کے لیے دو اعتراضات تھے۔
سوال: گنتی 35: 30 حالات کے ثبوت کے مطابق ایک آدمی قتل کا جرم دار ہو سکتا تھا؟
جواب: ہاں گنتی 35: 30 بیان کرتی ہے کہ اس کے لیے دو گواہوں کا تقاضا کیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ ان کے پاس آنکھوں دیکھا گواہ تھا۔ احبار 5: 1 بیان کرتا ہے کہ آنکھوں دیکھے گواہ کے لیے گواہی ضروری نہیں ہے لیکن ایک وہ جو اس کے مطابق کچھ معلومات رکھتا تھا اس نے دیکھا یا اس کے بارے میں کچھ جانتا تھا۔ مثال کے طور پر اگر ایک آدمی نے قاتل کے متعلق سنا اور اسنے شیخی کا عمل کیا یا دھمکی دے کر عمل کیا تو وہ آدمی گواہ ہو گا کہ انہوں نے کیا سنا اور اس نے اخلاقی طور پر اسکی تصدیق کی ہے۔
سوال: گنتی 35: 33 میں، جس ملک سے دھاندلی سےخون بہے گا یہ ملک صاف نہیں ہو سکتا آج ساری زمین ہی ناپاک ہے؟
جواب: انسان کے باایمانی سے خون بہانے سے یہ زمین پاک نہیں ہو سکتی تاہم خدا اس جگہ کو بھی پاک کر سکتا ہے۔ جہاں یسوع دھاندلی سے ہمارے گناہوں کی خاطر قتل کیا گیا تھا۔
سوال: گنتی 36 میں، کیوں عورتیں یہاں پر حصہ نہیں لے سکتیں؟ مثال کے طور پر اسلام میں بیٹیاں اپنے حصے کی مستحق ہوتی ہیں اگرچہ ان کا حصہ بیٹوں سے علیحدہ ہوتا ہے؟
جواب: چار نکات اس سوال کے لیے تسلیم کیے جاتے ہیں۔
صلافحاد کی بیٹی نے حصہ لیا: اپنے باپ کی طرف سے یہ صحیح تھا اور یہ بالکل خدا کی مرضی کے مطابق تھا۔ گنتی 27: 7-8 کے مطابق مزید معلومات کے لیے گنتی 36: 8 یہ ہر بیٹی کے مستقبل کے بارے میں بیان کرتی ہے۔ وہ جو اس میراث کی حصہ دار ہیں تاکہ وہ اپنے حصہ لے سکیں۔
میراث قبیلے سے قبیلے تک منتقل ہوتی ہے: یہاں پر گنتی 36: 9 خاص طور پر یہی موضوع ہے یہ موضوع نہ کہ صلافحاد کی بیٹیوں کی خوشحالی کے متعلق ہے۔
مکاشفہ: کیا بیٹوں نے میراث پائی تھی؟ لیکن انہوں نے اپنے ہی منسی کے قبیلے میں شادیاں کی تھیں۔ مستقبل میں تمام عورتیں جہنوں نے میراث پائی انکی شادیاں اپنے ہی قبیلے میں ہوئی تھیں۔
نئے عہد نامے میں: 1پطرس 1: 3-4 ظاہر کرتا ہے کہ وہ تمام جو ایمان رکھتے ہیں انکے لیے میراث بہت ضروری ہے تمام آسمان کی بادشاہی کی میراث ہمارے لئے ہے۔
ایک بات نوٹ کریں : اسلامی عقائد میں بیٹیاں صرف اپنے بھائی کی میراث دے آدھا حصہ لیتی ہیں سورۃ 4: 11 کہتی ہے کہ " اللہ" آپکو تمہاری اولاد کی میراث کے لیے رہنمائی کرتا ہے مرد کا ایک حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہوتا ہے۔ ( یوسف علی کا ترجمہ صفحہ 209)
خلاصہ گنتی 36: