بائبل سے ملاکی کی کتاب خصوصأ سوال

سوال: ملاکی 1:1کے مطابق ملاکی کی کتاب کب لکھی گئی تھی؟

جواب: ملاکی کی کتاب اسکے متعلق کچھ نہیں بناتی یہ تقریبأ 470 اور 460 قبل از مسیح کت درمیان لکھی گئی۔ تین وجوہات ہیں کہ کچھ وقت کیلئےہیکل دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ اسکی دیواریں بھی دوباری تعمیر ہوتی تھیں۔ ملاکی نے یہ الفاظ گورنر کیلئے استعمال کیےتھے جو پچھلی اسری کے وقت کو جانتا تھا۔

سوال: ملاکی 1: کے مطابق ملاکی کیا یہ نبی کا نام تھا یا صرف اسے پیغبر کہلاتے تھے؟

جواب: عقل مند مسیحی اس بات سے راضی نہیں ہیں

1۔ لفظ ملاکی کا مطلب پیغبر ہو سکتا۔اور اسکو پیغبر کے طار پر ملاکی میں استعمال کیا ھے۔(ملاکی 1:3) ذکریا، ابرام اور دوسرے نبیوں کے ناموں کی طرح کہیں بھی انفرادی تاحوں کی طرح یہ انجان ہیں۔  

2۔دوسرے فام جیسے داؤد کا ہے دوسرے فاموں کی طرح کسی بھی جگہ پر جانا نہیں جاتا۔یہ مختصر طور پر ملاکی ہو سکتا ہے ۔یہواوہ کہتا ھے کہ یہ میرے رسول ہیں۔ ملاکی 1:3 میں خدا ملاکی فام کو رسول کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

سوال: ملاکی 1:1 کے مطابق کیا ملاکی کی کتاب فرشتہ کے ذریعہ لکھی گئی؟

جواب: ؕملاکی کا مطلب رسول ھے۔ یونانی زبان میں جولفظ رسول کیلئے استعمال ہوا ھے اسکا مطلب بھی فرشتہ ھے تاہم اسکے متعلق کو ئی دوسری سچائی نہیں ملتی۔ تاہم ملاکی نام سوچنے پر مجبور کرتا ھے۔ کہ ملاکی ایک فرشتہ تھا۔  

سوال: ملاکی 1:1میں کیا ملاکی کے کاموں سے یہ ظاہر ہوتا ھے وہ اعلی درجے کا یہودی تھا۔  حجی اور ذکریا اسکی پیشن گوئی کرتے ہیں؟

جواب: نہیں کبھی نہیں ملاکی 2:1 کے مطابق وہ اعلی درجے کا یہودی نہیں تھا۔ بلکہ یہ حوالہ یہ ظاہر کرتا کہ غیر سنجیدہ عبادت گزار لوگ خدا کو پسند نہیں ھے۔ ملاکی 3 اور 4 میں دونوں اسکے اعلی درجے کو ظاہر کرتے ہیں۔  کہ انہیں کس قدر گہرا زخم ملا،نئے عہد نامے میں مکاشفہ کی کتاب ایسی ہی آواز دیتی ھے۔

جبکہ ذکریا اور حجی ملاکی کے وقت پوری نہیں ہوئی تھی مسیح اور لوگ دونوں ان پیشن گویئوں سے پہچانے جاتے تھے ۔جو ان سے تعلق رکھتی تھیں کچھ پیشن گویئاں جیسے ذکریا کی (ذکریا 12۔14) یسوع مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت پوری ہوگی۔  

سوال: ملاکی 1:1۔4 میں خدا نے یعقوب سے محبت اور عسیو سے کیسے نفرت کی؟

جواب: جواب کلیئے تین الفاظ پر غور کریں گے۔

لوگ نہ ایک بندہ،یہ حوالہ ملاکی کی سرزمین کو ظاہر کرتا ھے(ملاکی 3:1) اور اسکے غلط لوگوں کو بھی (ملاکی 4:1) یہ عیسو کے مرنے کے بعد دیر بعد لکھا گیا تھا۔ جب کرکٹس صفحہ 323 میں اس مضوع کو زیر بحث لاتا ہے

ڈگری آلو:

یہ ایک یہودی محاورہ ھے جو مساوات کے مقابل ھے یہ بیان تین کرتا کہ خدا عیسوکی نسل سے نفرت کرتا تھا لیکن یعقوب کے درمیان ڈگری آف لو کا فرق عیسو کو اس سے روکنا ھے۔ رومیوں کے خط میں سے ھم دیکھتے ہیں ( رومیوں 3:9) میں خدا اسکے متعلق زیادہ معلومات دیتا ھے کہ خدا کچھ لوگوں سے خاص بحبت رکھتا ھے وہ جو دوسروں سے محبت کرتے ہیں۔

معاہدے کی اصطلاح :یہ لفظ محبت اور نفرت معاہدے کت وقت ملے ہیں۔ وہ تین حوالہ جات ان جہگوںکےدیتا ھے جہاں پر محبت اور نفرت" محدود حکمرانی میں استعمال ہوتے ہیں۔  اس با اصول کا "انتخاب" اور " اختتام" معاہدوں اور اسکا استعمال پرانے عہد نامے کے ساتھ "محبت کے محبت کے معاہدے کے طور پر ہوا ھے، جسکا مطلب ھے،دوسری خوشی اور اور ابتدائی انتخاب ھے،

سوال: ملاکی 4:1 میں خدا نے کیوں عسیو سے مساوات کو چھوڑ دیا (ادوم) دوبارہ تعمیر سے؟

جواب:یہ ادوم قوم کی سزا کا ایک حصہ تھا۔

سوال: ملاکی 1:6۔8،12 میں بعض اوقات ایماندار کیوں خدا کو جلال دینے کیلئے فیل ہو جاتے ہیں، جیسا انھیں کرنا چاہیے۔

جواب: اسکے کم سے کم چار طریقے ہیں جنکی وجہ سے خدا کو جلال دینے کیلئے قبل ہو سکتے ہیں۔  

رویہ: خوشی عزت واقعات میں فیل ہو سکتے ہیں۔  اور وہ خدا کے مہیا کیا جانے پر وہ شک کرتے ہیں۔ایماندار خدا سے بہت محبت رکھتے ہیں اور دوسروں سے بھی ۔

الفاظ: وہ خدا کے نام کو جلال تین دے سکتے تھے وہ دوسروں سے اسکے متعلق کیا کہتے ہیں۔ خاص طور پر اسکی اشاعت بزی چیزوں کے متعلق بناتی ھے۔  وہ ایسا عارضی طور پر کرتے تھے معض اوقات وہ مودبانہ رویہ ظاہر کرتے تھے۔

عمل: ہو سکتا ھے کہ وہ تابعدار نہ ہوں۔ خدا ان سے یہ کام نہیں کروانا چاہیتا تھے۔

رومیوں 14:23میں لکھا ھے کہ جو کچھ وہ اعتقاد سے کرتے تو وہ گناہ۔

بے عملی: ایماندار یہ کام نہیں کر سکتے۔ خدا چاہیتا ےھے۔وہ ایسے کام ادب میں رہ کر کریں۔ یعقوب4:17کہتی ھے کہ جو کوئی بھلائی کرنا جانتا ھے اور بھلائی نہیں کرتا وہ گناہ کرتا ھے۔

سوال: ملاکی 1:10 میں خدا کیوں مزبح سے دور جانے اور دروازہ بند کرنے کلیئے کیا؟

جواب: خدا نے  دو دل والے لوگوں کو نظر انداز نہیں کیا تھا۔ اور انکی غیر سنجیدہ عطبادت اور قربانیوں کو تھی ۔لیکن یہ مییبریں خدا کو ناراض کرتی تھیں۔

سوال: ملاکی  1:11 میں کیوں ملاکی نے کیوں مجدوں کی وادی عبادت ذکریا؟

 جواب: اسکا مطلب بڑا ماتم تھا۔ پہلا عبرانی لفظ کا ترجمہہو سکتا ھے۔ہاں یقینأ ملاکی کہہ رہاب ھے کہ یہکاہنوں یہ واقعات یہودی کاہنوں کی بے ادبی کی وجہ سے انکے ساتھ ہوتے نہ صرف مجدوں کی وادی میں خدا کی عبادت کرتا تھا بلکہ وہاں قربانیاں اور شکر گزاریاں وہاں ہو گی۔ تمام یہودی اسکے متعلق جانتے تھے۔ کہ اس وقت قربانیاں صرف خدا کے کو ناراض کرتی تھی۔

سوال: ملاکی 1:13۔14میں خدا انکی عبادت سے کب تک ہو تا ھے؟

جب یہ بناوٹی اور دو دلی عبادت کرتے ہیں اور وہ صرف بہانے کی عبادت کرتے ہیں تو اس سے خدا اکتا جاتا ھے۔

سوال: ملاکی 2: 3 میں خدا انکے بچوں کو کیسے خراب کرسکتا تھا؟

جواب: یہاں تین راستے ہیں۔

فعل: خدا نے کسانوں کو بیج دیا تاکہ وہ اسے اچھے طریقے سے بیج سکیں اس وقت انہوں نے خدا کی طرف پورا دھیان نہیں دیا۔  

بچے: خدا انکے بچوں کو مار سکتا تھا۔  جیسا اسنے داؤد  کے ساتھ کیا اور بت سبع کے پہلے بیٹے کے ساتھ کیا۔ اور اسے ماردیا 2 سمویئل 12:14،18

عام طور پر:خدا مزور کو انکی محنت کا پھل انکی آنکھوں سامنے دیتا ھے۔

سوال: ملاکی 2: 6 لاوی خدا کے ساتھ سچائی اور امن کے ساتھ کیسے چلتے تھے۔ اس وقت لاویوں اور سیمن دھوکا دیا تھا اور قضبے کے تمام لوگوں کو بار دیا تھا۔

جواب: اس جواب کیلئے اور اہم الفاظ کو تسلیم کیا جاتا ھے۔

معافی:جب خدا کسی کو معاف کرتا ھے تو وہ ان تمام کو معاف مکمل طور پر کرنا ھے۔ اس میں انکے گناہ بھی شمار ہوتے ہیں۔  عمومأ ایسا نہیں ہوتا تھا۔ اسلیئے یہ صرف لاویوں کیلئے نہیں ھے لیکن دوسرے جیسے دوؤد کو خدا نے سچا پایا کیونکہ انہوں نے گناہ نہیں کیا تھا۔ لیکن خدا نے انکو سچا تسلیم کیا لیکن جب انہوں نے گناہ کیا تو خدا نے انکے گناہ کو معاف کیا ااور انکے گناہوں کو دھودیا۔  

زندگی: ایک وہ جو خدا کا بیٹا ھے اور اس میں قائم رہتا ھے وہ گناہ نہیں کرتا۔

1یوحنا 3: 6۔9

سوال: ملاکی 2: 8 میں کاہن اور خادم کیسے اسکی راہ سے منحرف ہوگے اور دوسروں کیلئے ٹھوکر کا باعث بنے۔

جواب: ریا کار اور کاہن دوسروں پر غلط اثر ڈالتے ہیں۔ کہ خدا ظاہری طور پر انکی تابعداری اور سچائی کو اہمیت نہیں دیتا۔ بغیر بھی وہ خدا کے کاہن تھے اور وہ خدا سے دور تھے ۔ جب تک انکی عدالت نیں ہوتی ھے اور ان لوگوں میں اضافہ ہوتا جارہا تھا جو خدا کی بجائے کاہنوں پر زیادہ یقین کرتے تھے۔  ضرورھے وہ ٹھوکر کا باعث بنے گے جب وہ کاہنوں کو ٹھوکر کھاتے ہوئے دیکھے گے۔

سوال: ملاکی 2: 8میں کیا ہم اس غلطی کا اعتراف کرتے ہیں جب ہم کاہنوں اور خادموں کو اس میں گرے ہوئے دیکھتے ہیں۔

جواب: نہیں ابتدائی مسیحی ایسی بہت ساری غلطیوں کا اعتراف پہلے کر چکیں تھے۔  اج ہم انکے لیے خاص طور پر کوئی معافی نہیں چاہیتے۔

یہودہ اسکریوتی: ان بارہ میں سے ایک تھا۔ جبکہ وہ ایک چور تھا۔  یوحنا 12: 6 یہودہ دوسروں کی طرح بدروحوں کو نکال سکتا تھا۔  اور انجیل کی منادی کر سکتا تھا۔  مقدس متی کے مطابق 10: 1،7،8

ایزبل: بہت سارے گہنگاروں کی رہنمائی مکاشفہ 2: 20۔23 میں ملتی ھے۔

دیترخیس: کلیسیاء کاراہنما تھا جو دوسروں کو قبول نہیں کرتا تھا۔ 3،یوحنا 9۔10۔

غلط رسول: جو پولوس کے اختیار کو نہیں قبول کرتے تھے 2 کرنتھیوں 11:5۔7۔

پپطرس بھی: ریا کاروں اور انکے بتوں کے مخالف تھا۔ جب پولوس رسول نے انکے خلاف ملامت کی گلتیوں 2: 11۔16

پولوس اور برنباس بھی: بھایئوں میں سے وہ جو خدا کو پسند کرتے تھے پولس اور برنباس کے درمیان مرقس کی وجہ کافی تکرار ہوئی۔ اعمال 15: 36۔41(اگرچہ 2 تمتھیس کاخط بھی اسکے متعلق بیان کرتا ھے۔ تاہم: لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ ایمان کی وجہ سے ٹھوکر نہ کھایئں آپ کا ایمان و امید خدا کی ہدایت کے مطابق ہو۔  نہ کہ لوگوں کی ہدایت کے مطابق غلط استاد غلط راہنمائی کرتے ہیں۔  لیکن ہمیں ان پر کوئی توجہ نہیں دیتی چاہیے (2 تمتھیس3: 15) ہمیں اپنے آپ کو بتوں سے دور رکھنا ھے 2 تھسلینیکوں 3: 6 وہ جو نیبوں تعلیمات کو قبول نہیں کرتے 2 تھسلینکیوں 3: 14۔15 لوع گوں کیلئے وہ خوشخبری کو سجنیدہ طور پر پھیلا رھے تھے۔  جہنوں نے خوشخبری کو بغیر کسی حسد اور لڑائی کے پھیلایا۔  اور پولس رسول نے اسکے بہت ساری مصبتیں برداشت کی ہیں۔  پولس اس کے لیئے خوشی مناتا ھے کیونکہ وہ خوشخبری کو صحیح طور پر پھیلا رہے تھے۔  فلپیوں 1: 15۔18

سوال: ملاکی 2: 9 میں خدا نے شاعرانہ انصاف کیوں کیا تھا۔  کہ اس نے کاہینوں کو لوگوں کی نظر میں کیوں حقیر بنایا؟

جواب: غلط کاہن خدا کے خادم لوگوں کے سامنے رسواء کرنے کا سبب تھے۔ سو یہ ٹھیک تھا کہ کاہنوں اور دوسروں کا رسوائی کے سپرد کرناچاہیے تھا۔  غلط کاہن دوسروں کیلئے ٹھوکر کا باعث بنتے ہیں۔ اسلیئے عین ممکن تھا ککہ وہ حقیر کیے جاتے اسلیے تاکہ دوسرے انکے کاموں کی طرف توجہ نہ دیں اور ٹھوکر کا باعث نہ بنیں۔

سوال: ملاکی 2: 10 کے مطابق خدا ہمارا باپ کیساھے

جواب: خدا ہمارا باپ اس صورت میں ھے جیسے ملاکی 2: 10 ذکر کرتا ھے کہ خدا ہمیں پیدا کرنے والا ھے۔  اسلیے یہ اشارہ خدا کی طرف ھے۔ جو تمام لوگوں کو پیدا کرنے والا ھے۔  

جبکہ " باپ" یعقوب کیطرف اشارہ کرتا ھے ۔ جو تمام یہودیوں کا باپ ھے۔  علاوہ ازیں یہ اشارہ ہمارے خالق کی طرف ھے۔  

سوال: ملاکی 2: 11 کیسے کچھ لوگوں نے غیر معبودوں کی بیوں سے شادیاں کیں۔

جواب: لکھاری کے تجربات کا مطلب ھے۔ مردوں نے ان عورتوں سے شادیاں کیں جو بتوں کی پوجا کرتی تھیں۔

سوال: ملاکی 2: 14۔16 کیا یہودیوں  نے اپنی بیویوں سے علیدہ تین ہونا چاہیے۔ یا انکی بت پرست بیویوں کو طلاق دینی چاہیے۔  جیسے عزرا 10:11۔44  اسکے بارے میں دلائل پیش کرتی ھے؟

جواب: ملاکی دو باب میں دلیل دیتا ھے ۔ کہ خدا چاہیتا ہے کہ آپ دوہیں ایک ہو جایئں،  کئی نوجوان لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دے کر انکے دلعں کو توڑتے ہیں۔  یہ کتنا مشکل ھے۔ یہ بچوں کیلئے بھی مشکل ہو سکتا ھے 1 کرنتھیوں 7:1،4 بچے عورت کے بدن سے پیدا ہوتے ہیں اسلیئے انہیں چاہیے کہ شادی شدہ ہو۔  چاہپیے اسکا شوہر غیر ایماندار ہو۔  

سوال: ملاکی 2: 17 کیسے لوگ اپنی باتوں سے خدا کو بیزار کرتے ہیں۔

جواب: کچھ دعا گو لوگوں کو خدا اسکا جواب دیتا ھے جیسے وہ اس پر یقین نہیں کرتے۔  وہ ہمورے ساتھ یا دوسروں کے ساتھ اچھا رویہ نہیں رکھتے۔  تا ہم دوسرے عبادت گزار سے خدا نے کہا کہ وہ تمام کے جواب نہیں دیگا کہ یہ ظاہری طور پر اسلیئے خدا کو بیزار کرتے تھے۔  یہاں پر تقریبأ 14 وجوہات ہیں۔  جسکی وجہ سے خدا دعا کرنے والوں کو جواب نہیں دیتا۔  

بعض اوقات لوگوں کو سمجھ نہیں آتا۔  کہ وہ کس کے لیے کیا دعا کر رھے ہیں۔  کیونکہ اسکی تقریبأ 12 وجوہات ہیں۔  

1۔ اپنی عیش وعشرت میں خرچ کرنے کلیئے یعقوب 4: 3۔  

اچھی چیزوں کیلئے درخواست  کریں ۔ متی 7: 11۔  

3 خدا کی مرضی انکے لیے نہیں ھے۔  مرقس 14: 36۔  

4۔ وہ سنتا ھے لیکن ہمیں انتظار کرنا پڑتا ھے۔  دانی ایل 10: 12۔14

5۔ ہماری دعایئں سادہ اور مقصد سے خالی ہوتی ہیں۔  متی 6: 7۔

6۔ ہمیں برگزیزہ ہونا چاہیے(  لوقا 11:5۔10، 18: 1۔7)

7۔ ہم بدی کو اپنے دل میں رکھتے ہیں۔  یا ہم شریر ہیں۔  امثال 15: 29 تو خدا ہماری نہیں سنتا۔  جب ہم خدا سے کہتے ہیں تو خدا ہماری نہیں سنتا۔  زکریا 7: 11۔ 14

8۔ ہمیں اپنے اپنے نفس پر قابو رکھنے کی ضرورت ھے۔  1پطرس 4: 7 یا ہمیں دو دلا نہیں ہونا چاہیے۔  یعقوب 1: 7،8

9۔ ہم نے گناہ کیا جیسے طلاق دی۔ ملاکی 2: 13۔

10 ہم خدا اور اسکی شریعت کو نظر انداز کرتے ہیں۔  زکریاہ 7: 13 امثال 28: 9۔  

11۔ ہم مسکنیوں کی گریہ زاری کو نظر انداز کرتے ہیں۔  امثال 21: 13۔  

12۔ ہمیں اپنی بیویوں سے عقلمندی سے بسر کرنا ھے۔  1 پطرس 3: 7۔

13 خدا نہیں سنے گا اگر وہ عبادت کریں گے تو خدا انکی نہ سنیں حزقی ایل 8: 18۔

14۔ انکے ہاتھ خون آلودہ ہیں۔  یسعیاہ 1: 15۔  

سوال: ملاکی 3: 1۔3 یہاں پر رسول کون ہیں۔

جواب: پہلا نبی یوحنا اصطباع ھے۔  اسے متی ظاہر کرتا ھے (متی 11: 10) اسور لوقا 7: 27 ایرینس نے (182۔ 188) میں لکھا یہ ہیریس کی کتاب کے صدف ھے ہیرس تک 3 باب 11 یہ بھی بناتی ھے کہ یوحنا اصطباع پہلا نبی تھا۔  خدا نے اسکے بعد ذکر کیا ھے اس عہد کا رسول یسوع مسیح ھے

سوال: ملاکی 3: 1 کیا یسوع ایک فرشتہ تھا۔  

جواب: نہیں عام طور پر اسکا مطلب سمجھنا آسان نہیں ھے۔  مسیح خدا کا پیغبر تھا۔  کچھ قیاس آرائی ملتی ھے کہ یسوع نے ایک رسول / فرشتہ کا ذکر ادا کلیا۔  روز مرہ کی صورت حال میں یسوع مسیح عبرانیوں کے خط کے مطابق فرشتہ نہیں ھے عبرانیوں 1: 5۔6 اورت عبرانیوں 2: 16۔17 ظاہر کرنا ھے کہ یسوع مسیحض کی انسانی فطرت تھی نہ کہ فرشتوں کی سی۔  

سوال: کیا ملاکی 3: 6 بیان کرنا ھے کہ خدا ہمیشہ نئے مکاشفات کو بیان کرے گا اور کچھ مورمن اسکے متعلق کیا دعوی کرتے ہیں؟  

جواب: مورمن اس قسم کے دعوے کرتے ہیں۔  کہ خد لا تبدیل ھے۔  اور اسی خدا نے اپنے مکاشفات کو صحیفوں میں استعمال کرتا ھے۔ اور وہ ایسا ہمیشہ کرتا ھے۔

راز کے طور پر: کس کو بھی خدا کے طریقے کار سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جیسے خدا خود تبدل کر سکتا ھے جو خود لا تبدیل ھے۔  خدا کی منسوب کردہ چالی یہ ھے کہ وہ تبندیل نہیں ہوتی (گنتی 23: 19) جو کبھی اپنے ارادوں کو نہیں بدلتا۔  اب کچھ مورمن نبیوں نے اس قسم کی عجیب تعلیمات دیں۔  مثال کے طور پر برمیگھم نے نئی تعلیم دی کہ" آدم ہمارا باپ اور خدا ھے۔  خدا صرف ایک ہی جوہمارے ساتھ ھے۔

اجبرل ڈسکسزوالیم 1 صفحہ 50۔ 51 کسی کو بھی اس عجیب تعلیم سے واجب نہیں ٹھہرانا چاہیے۔  برمگھم بھی اسمیں شامل ھے۔  اسکی تعلیمات کے پیچھے کچھ خیالات چھپے ہوتے ہیں۔  

سوال: ملاکی 3: 8۔10 میں لوگ کیسے خدا کو ٹھگتے ہیں جبکہ خدا کی تعلیمات میں قدرت پائی جاتی ھے؟  

جواب: ظاہر ھے کہ خدا کو پرستش اور قربانیوں اور اسکے نام کو جلال دینے سے ٹھگا نہیں جا سکتا اس نے ہمیں اجازت دی ھے۔  اور اسنے ہمیں آزادی دی ھے کہ اپنی مرضی سے انتخاب کریں۔  

تاہم خدا کو ٹھٹھو مینں نہیں اڑیا جا سکتا ھے۔ اور آخر میں بھی  انسان اپنے اعمالوں کے ساتھ خدا سے دور نہ ہوگا۔

سوال: ملاکی 3: 10 کے مطابق کیا آج ایمانداروں کو دے یکی دینی چاہیے۔

جواب: یسوع مسیح کے مرنے اور جی اٹھنے کے وقت مسیحی روح القدس کے ذریعے سے راہنمائی  لیتے تھے۔  نہ کہ شریعت سے (گلتیوں 5: 18) ہم کلیسوں 2: 14 دیکھتے تو ہم پر کوئی شریعت لاگو نہیں ہوتیاور ضرور ھے کہ ہم دے یکی دیں تا ہم جب ہم اپنی زندگیوں کومسیح کے لیے وقف کرتے ہیں تو بہت سارے مسیحی دے یکی دیتے ہیں۔ نہ کہ وہ شریعت کے ماتحت ہیں۔  لیکن محبت کے ساتھ وہ مسیح کلیئے شکرگزاری کرتے ہیں۔  

سوال: 3: 10 سلیکھاتا ھے ککہ کیا یہ چیزیں ہماری زندگی کے مالی دولت میں اضافہ نہ کریں گی؟  

جواب:نہیں ہوسکتا ھے ہماری مالی دولت یسوع کے ساتھ ختم ہو جاتی ھے۔  پولس اور دوسرے نبی بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ان میں سے کسی کے پاس بھی اس قسم کی مادی دولت نہیں ھے۔  جس کے متعلق وہ کہتے۔  

سوال: ملاکی 3: 14 میں کیوں کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ خدا کی خدمت کرنا لا حاصل ہیں۔  1 کرنتھیوں 1: 18۔ 26 بیان کرتا ھے کہ خد کی حکمت دیتاکلیئے بیوقوفی ھے اور ہمارے لیے ابدی زندگی ۔ خدا کی خدمت حکمت کی اصطلاح کا سرمایہ ھے جو ہم اپنے مستقبکل کیئے کر سکتے ہیں۔

دوسری بات یہ ھے کہ بیوقوف لوگ خدا کی خدمت دو دل ہوا کرتے ہیں۔

یعقوب 1: 6۔ 8 بیان کرتا ھے کہ دو دل لوگ خدا سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔  

سوال: کیا ملاکی 4: 1 اور عاموس 2: 9 ہلاکت کے بارے میں سکھیاتا ھے جیسے کچھ سیونتھ ڈے۔ایڈونٹسٹ کہتے ہیں؟

دیکھو وہ دن آتا ھے جو بھٹی کی مانند سوزان ہوگا تب سب معزور اور بدکار بھوکے کی مانند ہونگے اور وہ شاخ بن کچھ نہ چھوڑے گا۔  نہیں شاخوں کا مطلب ھے انکا نصیب نامہ نہیں ھے۔  اورجڑیں نہیں کا مطلب نیاہ کر دینا ھے۔  اور وہ دوبارہ کبھی بھی آباد نہیں ہو سکتے۔  

سوال: ملاکی 4: 2 میں آفتاب صدرقت کی کرنوں میں شفا کیسے ہوگی۔

جواب: وہاں پر شاعر کے خوبصورت تاثرات کی دو وجوہات ہیں۔  

انفرادی طور پر: خدا انکے گناہوں کو معاف کرے گا اور انکو شفا دے گا اور انکی ساری ناراستی کو صاف کرے گا۔  

تعاون : جب خدا کے لوگ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔  توخدا انکو شفا دیتا ھے۔  اور انکوخدا کی وعدہ کی گئ سرزمین دیتا ھے 2 تواریخ 7: 14

سوال: ملاکی 4: 3 میں کب اور کیسے ایماندار شریروں کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں گے۔

جواب: یہودہ بیان کرتا ھے کہ جب یسوع مسیح دوبارہ کریئگا تو نرسنگا پھونکا چایئگا اور مقدس لوگ اسکی پیروی کریں گے۔  تاہم نہ ملاکی 4: 3 نہ صرف یہودہ کہتا ھے کہ ایماندار کسی کو قتل کریں گے۔  ملاکی 4: 3 صاف طور پر کہتا ھے۔  کہ وہ ہمارے پاؤں کی راکھ ہونگے۔

سوال: ملاکی 4: 5۔ 6 ایلیاہ کون ھے؟

جواب: یہ یوحنا اصطباغی ھے۔یسوع مسیح کے مطابق متی 11۔14 اور متی 17: 12۔13۔  

سوال: ملاکی کیسے بچے اپنے باپ کی طرف اور باپ انے باپ کی طرف مائل تھے؟  

جواب: یہ واقع اسوت وقوع پزیر ہوا جب بہت سارے لوگوں  نے یوحنا اصطباغی کا کلام سننے کے بعد اقرار کیا۔  لوگ اپنے آباؤاجداد کے بناتے ہوئے راستے سے بدل گئے۔ وہ سوچتے تھے انکے بچے بھی ایسا ہی کریں گے۔ بدقسمتی سے کسی نے بھی یوحنا اصطباغی کی بات کو نہ سنا۔  جسکے متعلق لوقا 7: 29۔35 میں بیان کرتا ھے۔  

سوال: کیا ملاکی 4: 5۔6 موت کلیئے بپتسمے کی طرف اشارہ کرتا ھے مورمن یعقوب ٹالمج کے دعوے کی نمائندگی مورمن کی  بغاوت میں کرتا ھے؟

جواب: نہیں اسکی تین وجوہات ہیں۔  یہ آیت بپتسمے کا موت کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔یا کسی قانون کی طرف بلکہ یہ اشارہ یوحنا اصطباغی کی خدامت کی طرف ھے جو وہ یسوع راہ تیار کرتا تھا۔ تاکہ لوگ خدا کی طرف رجوع لایئں

2۔ تاریخ میں مورمن یا دوسروں نے موت کیلئے بپتسمے کے متعلق کوئی صداقت نہیں پائی۔  حتی کہ غلط مزہب برمنتھیسن کہلاتے تھے۔ پولس کے دنوں میں کرنتھیوں کی کلیسیاء میں یہ مزہب رائج تھے۔  

3۔ یہ یقین کرنا مشکل ھے۔  مورمن نے بپتسمے کو موت کلیئے تسلیم کیا ھے۔ مورمن کی بپتسمہ موت کلیئے ھے ایک پوشیدہ رسوم ھے۔  ہو سکتا ھے کہ جو مورمن کا خیال ہو، یوحنا ظاہر پرست لوگوں کو واضع کر رہا تھا۔  اور خوش نوسیی انکی طرف سے آرہی تھی جب یوحنا ان بپتسمہ دیتا تھا۔  

سوال: ملاکی میں سب سے پہلا طومار کا ھے جو آج بھی موجود ھے

جواب: بحیرہ متردار: سی/ قبل از مسیح) وہاں 2 کاپیاں 12 نبیوں کی جو بحیرہ متردار کہلاتی ھے اور (دی ڈیڈسی سکردل ٹرانسلیٹصفحہ 478۔ 479)

7604۔ملاکی پر مشتمل ھے 2: 10۔ 17،3:1۔24

7804۔ملاکی پر مشتمل ھے 3: 6۔7

نحل ہیور کاطومار اور وادی صراب کا طومار یہ ملاکی کو شمار نہیں کرتے۔  

ادوریل: بحیر متردار کے طومار کو محفوظ کیا ھے اور ملاکی کی آیات اسکے متعلق بتاتی ھے۔  ملاکی 2: 10۔17،3: 1۔24 اور ہم بحیرہ متردار کے مطلب کو تفیصل سے دیکھتے ہیں۔  

مسیحی بائبل کے طومار 350 سے پرانے عہد نامے پر مشتمل ھے جمیں ملاکی کی کتاب بھی شامل ھے۔  دو یہ ہیں ایک ویٹی کبن(325۔ 250م) اور دوسری سکندریہ(سی 450م) میں ان کتابوں میں 12 جھوٹے نبیوں کا ذکرھے یہ یسعیاہ سے پہلے تھے۔ ملاکی دونوں ادوار میں ویٹی کبن اور سکندریہ میں پوری ہوچکی تھی۔  

سنیٹکس؛(340۔ 350م) میں بھی ملاکی کی پوری کتاب شامل ہو چکی تھی

سوال: وہ کونسے ابتدائی لکھاری ہیں وہ جہنوں نے ملاکی کی طرف اشارہ کا۔

جواب: پی نانسس لکھاری ھے۔  جہنوں نے ملاکی کی آیاتکی پیروی کرتے ہوئے اسکی طرف اشارہ کیا۔  

کلیمنٹ آف روم: (98/97) ملاک کے بارے میں آدھا حوالہ دیتے ہیں ملاکی 3: 1 کلیمنٹ والیم1 لیڑٹوڈیگوجنٹ: (سی 130م) سبق 7 میں ملاکی کا حوالہ دیتا ھے ملاکی 3: 2

جسٹن مارٹر۔  (138۔165 م) میں ملاکی کا حوالہ دیا ھے ملاکی 1: 10 وغیرہ ٹراوف کے ڈائیلوگ کے ساتھ دی جو سبق 28۔ 41 صفحہ نمبر 208،215

جسٹن مارٹر(135۔ 165م) نے خدا کے ہولناک دن کے آنے سے پہلے ایلیاہ کے آنے کا ذکر کیا ھے۔  اور زکریامیں یہ غلط طور پر منسوب کیا گیا ھے۔  

ڈائلیوگ دو ٹراوف دی جیو سبق49 صفحہ 219جسٹن مارٹر بیان کرتا ھے۔ ڈایئلوگ ود ٹراؤف دی جیو ملاکی کے صحفیے میں کیا بیان کیا ھے۔

سبق 117 صفحہ 258

تفلس آف ان ٹچ: (168۔181/ 188م) ملاکی 4: 1 میں بیان کرتا ھے۔  ملاکی کو نبی کہنے کے طور پر تفلس ٹو آٹولکس بک 2 سبق 37 صفحہ 110

اپرین آف کائن: (182۔188م) اجینٹ پیرسس میں بک 4 سبق 10 میں ملاکی کا حوالہ دیتا ھے ملاکی 3: 10

کلیمنٹ آف سکندریہ: (193۔ 217/220) میں ملاکی کا حوالہ دیتا ھے ملاکی 1: 10، 11 کو نبی کے طور پر بیان کرنا ھے سٹرومٹیا بک 4 سبق 14 صفحہ 475 وہ ملاکی کا بیانکرتا ھے ملاکی2: 17 سٹرومٹیا بک 3 سبق 4 صفحہ 338

طرطولین(198۔ 220م) ملاکی کے بارے میں کہتا ھے ملاکی 1: 10، 14 ملاکی ایک نبی ھے۔

اون دی رسوریکچن آف دی فلچ سبق 61 صفحہ 217

ایلیپولٹیس: (225۔ 235/6) ملاکی کا حوالہ دیتا ھے ( ملاکی 4: 2) ملاکی ایک نبی ھے ٹر یٹیز اون کرائٹ اینڈ اینٹی کرائسٹ سبق 61 صفحہ 217

اوریجن ملاکی کا حوالی نبی کے طور پر دیتا ھے( ملاکی 3: 6) اوریجن ایگنیٹ سلیس ۔سبق 62 صفحہ 260

ساگیبرین: 248 سے اپنے مصائب کے 258م میں ایک کا رتھج کا بشپ تھا۔ وہ ملاکی کا حوالہ دیتا ھے۔ (ملاکی 2: 5۔ 7) ٹریٹیز 12 سکینڈ بک سبق 5 صفحہ 517 دوسری جگہ پر وہ ملاکی 1: 14، 2: 1۔ 2، 2:10، 4:1۔2 کا حوالہ دیتا ھے اور دوسری آیات میں بھی ہی بیان کرتا ھے۔  

ایڈمینٹس: (سی 300م) ملاکی کے بارے میں حوالہ دیتا ھے ملاکی 2: 10 (فرام دی سٹیو جینٹ) کی وہ ایک نبی ھے (ڈایئلوگ اون دی ٹریو فیٹھ دوسرا حصہ صفحہ 104۔

متھیوڈیس آف اولمپس ایندپتہ1(260۔ 312)

یہ بھی ملاکی کا حوالہ دیتا ھے 4: 6 جسکا یہ بھی حوالہ دیتا ھے

اوریشن اون دی سام سبق 1 صفحہ 394

الیگرینڈر  آف سکندریہ۔(313۔250م) میں ملاکی کو نبی کے طور پر حوالہ دیتا ھے ملاکی 3: 6 ایپی سینٹامس اون دی ایران ہیرسکس لیڑ 2 سبق 3 صفحہ 298

(303۔سی325م) یہ بھی ملاکی کا حوالہ دیتا ھے ملاکی 1: 10۔11 دی ڈی ورن اسپٹیوٹ بک 4 سبق 11 صفحہ 103 وہ بھی ایسی ہی آتات کا حوالہ ملاکی سے دیتا ھے۔  دی اپیی اپٹیٹوم آف دی ڈی ون انسیٹوٹ سبق 48 صفحہ 202

بنسا کے بعد: افسرات دی سیرن( 337۔ 345م) ایتھسز آف سکندریہ(331 م) یہ بارہ نبیوں کا تزکرہ کرتا ھے۔ پرانے عہدنامے کے ہیں 22 کتابوں کو اسمیں شمار کیا گیا ھے۔اور ایک کتاب میں 12 نبیوں کو شمار کیا گیا ھے۔ اینتھسز ایسٹر یٹر 39 سبق صفحہ 552

افرات دی سیرن: (337۔ 345م)

ہلیری آف پیوٹیری(367م)

افرام دی سیزن: (356۔ 378م)

ہیل آف کپیلوڈیکا: (357۔ 378م)

سایرل آف یروشلم: (سی 349۔ 388م) ملاکی کا نبی کے طور پر حوالہ دیتا ھے ملاکی 3: 1۔ 3،5) لیٹر 15 سبق 2 صفحہ 104

اممبروز آف ملین (370۔ 390)

جارجری آف نازیین: (330۔ 391م)

اپیوہنس آف ملامز (360۔ 403م)

روفنیس دی ٹرانسلیٹر (374۔ 406م)

جان کرسیٹوم (407م) ملاکی کا حوالہ دیتا ھے 3: 2۔3 ملاکی ۔ والیم 19 لیڑ ٹو دی فلپن تھیوڈر سبق 2 صفحہ 101

پیروم (373۔ 420م)

دی پیگیمن ہیرٹیک تھیوڈور آف مونبس(392۔423/ 429م) اسنے ملاکی پر ایک کمنڑی لکھی۔

آگسٹن آف ہیپو(338۔ 430م) اسنے حجی ذکریاہ اور ملاکی کا دی سیٹی آف گاڈ میں اکا بیان کرتا ھے دی سٹی آف گاڈ سبق 35 صفحہ 380 اور بک سبق 36 صفحہ 382۔

دی سیمی پیلمگن جان کیسن: (419۔ 430م)

گیسریٹس: واعظ کی تاریخ (سء 400۔ 439م)

سوال: ملاکی کتاب کا یونانی اور عبرانی کے ترجمے میں کیا فرق ھے؟

جواب: یہاں پر خاص طور سبق کے حوالے سے ایک مثال ھے۔  کہ اسکا فرق مبرائی مسیوریٹک ٹکیسٹ کے درمیان اور یونانی مسیٹوجنیٹ کے درمیان فرق ھے۔  اسکے عل؛اوہ اسکو دوسروں میں واضعنہیں کیا گیا۔

ملاکی1:1: ملاکی میرے نبی کا نام ھے عنابلہ" خدا کا نبی" (سیٹوجنیٹ) ملاسکی پر تھیسوڈور آ میپوسٹیا کی کمنڑی (ملاکی سبق 1صفحہ 398)  

ملاکی1: 1اسے قبول کرو میں تمہارے لیے دل سے دعا کرتا ہوں ۔

ملاکی 1: 3 اوراسکے پہاڑوں کو ویران کیا۔  اور اسکی میراث بیابان کے گیڈروں کو دے دی۔  اگرچہ ہر برباد تو ہو مایرویران جہگوں کو پھر آکر تعمیر کرینگے۔

ملاکی 1: 4 " شرارت کا علاقہ بمقابلہ شرارت کا ملک"

ملاکی 1: 5"حدود سے دور بمقابل"حدود سے آگے"  

ملاکی 1: 7 تم میری توہین کرتے ہو" بمقابلہ" اسے گندہ کرتے ہو"

ملاسکی 1: 7 " خدا کتے میز کی توہین بمقابلہ خدا کے میز کو وہ گندہ کرتے ہیں۔  یہ آپ پر واضع ہوتا ھے کہ آپ خدا کے میز کو حقیر جانتے ہو۔  

ملاکی 1: 10 آپ کے درمیان کو ھے جو دروازہ بند کرے گا اور تم میرے نزبح پر وبث آگ نہ جلاتے بمقابلہ اگر وہ آپ کے درمیان ہوتا تو ورنہ بند ہو جاتا۔  اور کوئی بھی اسکے مزبح پر کسی چیز کلیئے آگ میں جلائے گا۔  

ملاکی 1: 11 مثال کے طور پر مشرق و مغرب قوموں کے درمیان میرے نام کی تمجید ہوگی اور ہر جگہ پر میرے نام کے شکرانے اور میرے نام کی قربانیاں ہو گی۔  قوموں کے درمیان میرے نام کی تمجید یہوگی رب الافواج فرماتا ھے۔  بمقابلہ آفتاب کے طلوع سے اور غروب قوموں میں میرے نام کی تمجید ہو گی اسور ہر جگہ میرے نام پر بخور چلانیگے اور پاک ہو۔ گزرانگے۔  کیونکہ قوموں میں میرے نام کی تمجید ہوگی رب الافاج فرماتا ھے۔  اور ہر جگہ میرے نام سے پاک ہوکے گزرانیگے(طرطولین(198۔ 220م) جیو سبق 5 میں اسکا جواب ھے اور ایگنسٹ مارکون بک 3 سبق 22 بک 4 سبق 2 ملاکی 1: 12 اسکے ہدیے اور اسکے پھل بمقابلہ اور اسکی حقیقت کیا ھے۔

ملاکی 1: 13 " لوٹ مار بمقابلہ لوٹ کا مال۔  

ملاکی 1: 13 اور تم لائے بمقابلہ اگر تم لاتے۔  

ملاکی 1: 14 لنعت اس پر دغا باز بمقابلہ قادرمطلق اس پر اختتام کرتے تھے۔

ملاکی 1: 14 میں عظیم ہوں" بمقابلہ اور میرا نام مہیب ھے

ملاکی 2: 3 اور وہ تم کو اس کیلئے برداشت کرے گا بمقابلہ اور میں تم کو اپنی حضور سے نکال پھنکونگا۔ (سپٹجنیٹ سریہ)

ملاکی 2: 12۔" جواب" بمقابلہ وہ زندہ جواب دہندہ ھے۔ ملاکی 103 راہ کی درستگی بمقابلہ یعنی اسکے راہ میں خدمت

ملاکی 3: 4 لنعت( مسبورنیک  بمقابلہ "حجعرمکا سپٹجنیٹ تھیوڈور آف مسیپوسٹیا ملاکی کی کمنڑی میں سبقق 3 صفحہ 419

ملاسکی 4: 2۔3 اور تم گانے فانہ بچھڑوں  کی طرح کودو پھاندوں گے۔  اور تم شریروں کو پامال کروگے۔  بمقابلہ آپ جو ان بچھڑوں کی طرح انکے آگے جاوگے جاگیرداروں کی طویل آزاد کراؤ گے اور آپ شریروں کو پامال کرو گے بطمقابلہ آپ انکے آگے جاؤ گے( جیسے ملاکی کہتا ھے) اور وہ آپکی قبروں سے جوان  بچھڑوں کی طرح مادی دولت سے آزاد کراؤ گے اور آپ اپنے شریروں کو پاؤں ے پنجے سے روندوں گے( طرطولین 1998۔ 220م) (اون دی رسیوریشن آف دی فلش سبق 31) یہی بات آپ مارٹرجسٹن کے ڈایئلوگ وددی ٹرافو میں دیکھتے ہیں۔  ( جو تقریبأ 138۔ 165م) میں لکھا گیا سبق 117 اور ایٹریس( 182۔ 188م) ایگنیسٹ ہیرسس تک 4 سبق نے لکھا ھے۔

ملاکی 2: 3 وہ تمہیں اس میں لے جایئگا۔  بمقابلہ میں تمیں اسکے ساتھ پھینک دوں گا۔  

ملاکی 2: 12 " جاگو" بمقابلہ حتی

نوٹ کریں عبرانی بائبل میں مسیحی ملاکی کو کیا کہتے تھے۔  

ملاکی 4۔1۔6 یہودیوں کی وجہ سے ملاکی 3: 19۔ 24 تسلیم کیا جاتا ھے۔  

ملاکی 3: 1 راہ کی درستگی" بمقابل "خدا کے راہ میں خدمت"