یوایل
سوال: یوایل میں ہم کیا سیکھ سکتے ہیں ؟
جواب: یوایل ہمیں دو اہم مشکل ترین موضوع سکھاتا ہے کہ جسکا ہمیں زیادہ مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے: خدا کیسے نظام قائم کرتا ہے اور ہم اسکا ردعمل کیسے ظاہر کرتے ہیں " جب ٹڈی آتی ہے" یوایل اسکی پیشن گوئی کررہا ہے کہ ٹڈیوں کو کی فوج کر سرزمین پر حملہ آور ہوئی کیونکہ اسرائیل کے گناہ کی وجہ سے یہ صرف بیرونی فوج کے لشکر کشی کا تمہیدی عمل ہے یہ نتیجے کے طور پر یہ عمل آخری دنوں میں خدا کے دن کو ظاہر کرتا ہے، علاوہ ازیں خدا بعض اوقات لوگوں پر بربادی کا ایسا نظام پیدا کرتا ہے تاکہ وہ سابقہ بھیجی گئی آفت سے یا تباہی پر پشیمانی کا حوصلہ رکھیں۔
سوال: ہم یوایل نبی کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
جواب: ہم کتاب سے زیادہ معلومت حاصل نہیں کر سکتے یوایل کے نام کا مطلب ہے کہ یہواہ خدا ہے۔ یہ کوئی عام نہیں تھا۔ ایسے ہی اردگرد بارہ آدمیوں کا نام پرانے عہد نامے میں یوایل تھا ۔ تاہم ان میں سے یہاں یہاں کسی کو بھی نبی تجویز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہم ذاتی طور پر یوایل نبی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے سوائے اسکے کہ اسکا باپ فتوایل تھا۔
سوال: یوایل کی کتاب کی شہہ سرخیاں کیا ہیں؟
جواب: ظاہری طور پر یوایل کی کتاب کٹھن مشرقی سٹائل کی شہہ سرخیاں ہیں۔ آٹھ بائبل کمنٹریز اور بائبل کا مطالعہ شہہ سرخیوں میں کافی فرق واضح کرتا ہے لیکن جبکہ اونچی سطح پر ان شہہ سرخیوں کو قبول نہیں کیا جاتا۔ وہ چھوٹے حصوں کی دیکھ بھال کے لیے راضی ہیں۔
شاید کہ یوایلنے اسے سمجھا ہو: بہت جلدی۔ لیکن دلوں سے اسکی تفصیل کی خبرداری ہوتی ہے ۔ ترجیحاً لمبا اونچے ڈھانچے کا موضوع جیسے کوئی نوحہ۔ یہاں میری شہہ سرخی ہے
1۔ خدا کی پیروی کرنا جب ٹڈیاں آتی ہیں۔
۔۔1: 2-4 تم بوڑھو سنو۔
۔۔1: 5-7 تم مے کی متوالے جاگو
۔۔1: 8-10 خادم ماتم کریں جیسے ایک دلہن اپنے شوہر کے لیے ماتم کرتی ہے۔
۔۔ 1: 11-12 اے کسانوں تم خجالت اٹھاؤ۔
۔۔1: 13-14 اے کاہنو ٹاٹ اوڑھو اور ماتم کرو۔
۔۔1: 16-18 تمام ماتم کیوں کریں۔
۔۔1: 19-20 ہماری پوری توجہ: تباہی کے درمیان خدا کو پکارتی ہے۔
2 خداوند کے حضور صیون میں نرسنگا پھونکو خداوند کے آنے والے دن کے لیے۔
۔۔2: 1-11 لشکر کے سامنے نرسنگا پھونکو۔
۔۔2: 12-17 پورے دل سے روزہ رکھیں اور خداوند کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نرسنگا پھونکیں ۔
۔۔2: 18: 27 سال کی بحالی کے لیے جو ٹڈیاں کھا چکی ہیں۔
۔۔2: 28-32 خداوند اپنا روح ڈالیگا۔
3 آخرت اور اسکی بحالی
۔۔3: 1-16 آخرت میں یہوسفط کی وادی میں اسرائیل کے دشمن
۔۔3: 17-21 آخرت میں خدا ان کو معاف کردے گا اور برکت دیگا۔
سوال: یوایل کی کتاب بے کل کتنے ابواب ہیں؟
جواب: انگریزی بائبل تین ابواب رپ 20، 32 اور 21 آیات پر یہکے بعد دیگرے مشتمل ہے۔ تاہم دوسری بائبل کی کاپیوں میں 2: 28-32 کی آیات کو چیر پھاڑ کر کے علیحدہ باب میں شامل کیا ہے اس طریقے سے بائبل یہودی تانیق کو شامل کرتی ہے عبرنی بائبل انٹرلینر کا متن جے پی گرین سر سے لکھا گیا۔ اور کیتھولک یروشلیم بائبل میں ایسے ہی تین اور کچھ دوسری بائبل میں 4 ابواب ہیں۔ جبکہ آیات اور احکام دونوں صورتوں میں ایک جیسے ہیں ۔
سوال: بائبل میں یوایل کی کتاب کی جگہ کہاں تھی؟
جواب: یہ ہوسیع کے بعد اور عاموس سے پہلے عبرانی بائبل اور مسیحی موجودہ بائبل میں ہے۔ تاہم یونانی بائبل میں اسکی ترتیب کچھ یوں تھی ہوسیع، عاموس ، ملاکی اور یوایل ۔ وہ چیزوں کی واقع نگاری کی جگہوں کو ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم ہمارے پاس اسکا کوئی اچھا خیال موجود نہیں ہے، کہ یوایل کی کتاب کب لکھی گئی۔
سوال: یوایل میں، اس علاقے میں ٹڈیوں کی مصیبت کیوں آئی، اور وہ ٹڈیوں کی کیسی خطرناک مصیبت ہو سکتی ہے؟
جواب: ٹڈیاں ( سوڈان) کے صحرا سے آئیں تھی ہوا کے ساتھ اس کے پیچھے۔ وہ تن دن میں 1200 میل ہجرت کرنے کی قابلیت رکھتی تھی۔ یعنی 400 میل اک دن میں ۔ دن میں 14 گھنٹوں میں تقریباً 28 میل ایک گھنٹہ میں۔ خاص طور پر انہوں نے سیدھے ہجرت کی ۔ پرانے تاریخ نگار پیلنی قدرت پر دعویٰ کرتے ہیں تاریخ 1۔2۔12 کہ ٹڈیوں کی مصیبت نے دروازوں سے اندر داخل ہو کر سب کچھ کتر دیا۔ جبکہ ہو سکتا یہ حقیقت نہ ہو ۔ یہ بات آیاں ہے کہ یہ خطرہ ٹڈیاں لے کر آئیں۔
جب ٹڈیوں نے صومالیہ پر 1957، میں حملہ کیا اندازہ لگایا جاتا ہے وہاں پر 16٫000٫000٫000 حشرات 50 ٹن کے وزن کے ساتھ وہاں پر آئیں۔ خوارک ، زراعت اور ایمرجنسی کی تنظیمیں ٹڈیوں کی زد میں آ گئی وہاں اب متحدہ قومیں ہیں۔ ان علاقوں کو تڈیوں کی مصیبت سے حشراتی اور اچھی سپریوں سے محفوظ لیا گیا۔
سوال: یوایل 1 میں، مختلف گروہوں کے ایڈریسز کا ذکر کیا گیا ہے: بوڑھے مے کے متوالے، کاہن، کسانوں، خادموں اور تمام گناہ کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ یوایل کی کتاب مے خواری کی کتاب ہے ۔ آپ کیوں سوچتے ہیں کہ خدا نے کیوں خاص گروہوں کے ایڈریسز کا ذکر کیا؟ آج کی خط و کتابت کے گروہ کیا ہیں؟
جواب: دوسرے نبیوں کی طرحیوایل نے زیادہ وقت گانے میں نہیں گزارا۔ اور نہ ہی گانے کو صحرا سے آفت آنے کو روکا۔ اس کی بجائے پشمانی کے ساتھ اس ردعمل پر زور دینا ہے قریبی صحرائی فت کے بعد بوڑھے تعلیمات کے کام میں سو گئے تھے قوم اور نوجوان لوگ خدا کی پیروی کرتے تھے۔ کاہن ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو خدا کی تعلیمات نہ دے رہے ہوں ۔ ۔ یا لوگوں کو بت پرستی کی غلط تعلیم دے رہے ہوں کسان دوبارہ اپنی صحت کے ساتھ قابض تھے لیکن وہ انہیں اپنی مالی امداد نہیں دے رہے خدا نے کاہنوں کے لیے اور احبار کے لیے خیال کیا جاتا ہے کہ جب تمام معاشرہ خدا سے دور ہو رہا تھا۔ سیاسی طور پر مذہبی طور پر وہ تمام مالی حالات کے سلجھاؤ کے لیے اکھٹے بندھے ہوئے تھے۔
سوال: یوایل 1 باب میں، ہم کیسے خدا کا اسوقت ٹڈیوں کے آنے کا شکر ادا کرتے ہیں۔ 1تھِسلنکیوں 5: 18 کہتی ہے کہ تمام دی گئی چیزوں کے لیے شکرگزار ہو؟
جواب: رومیوں 8: 28 کہتی ہے کہ تمام چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لیے بھلائی پیدا کرتی ہیں۔ عبرانیوں 12: 5-8 کہتی ہے کہ خدا ایمانداروں کے لیے بھلائی کا انتظام کرتا ہے ۔ اگرچہ یہ ناخوشگوار وقت ہے آج ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ خبردار لوگوں پر موثر ثابت ہوں ایسا سبب بنیں کہ لوگ دیوتاؤں سے کنارہ کشی کریں۔
سوال: یوایل 1: 1 میں، یہ کب لکھی گئی؟
جواب: یہاں کوئی اندرونی یا بیرونی وقت کی معیاد کا ذکر نہیں۔ یہ وقت پیغام ہے یہ کتاب وقت پر انحصار نہیں کرتی۔ یہاں پر تین امکانات ہیں۔
1۔ نویں صدی ق م۔
تائر اور صدون کا ذکر یوایلکی کتاب 3: 4 میں اکٹھوں کا ملا ہے آٹھویں صدی کے ابتدا میں وہ اکٹھے تھے یوایل 3: 6 میں یونانی میں تھے لیکن بعد میں وہ یونان میں نہیں تھے۔ اینتھن اور سیارٹا لیکن وہ ابتدائی طور پر لائنیان یونانی تھے وہ جنہوں نے تجارت کے طریقہ کار کو موجودہ دور میں کنٹرول کیا۔ وہاں پر کوئی بھی اسوریا کے لوگوں کا یا بابل کے لوگوں کا حوالہ نہیں ملتا تاریخی دور میں جب دونوں ادار تاراری دوم کی موت کے ہفتہ میں تھے جو 782 ق م سے 745 ق م تک چلی۔ جب ٹگلاٹھ۔ پلیرزنے اپنا عہدے حکومت کو شروع کیا یہودہ اسوقت طاقت ور تھا۔ اور عزیاہ بادشاہ اسوریہ کے لوگوں کے رابطے کو ختم کرنے میں سب سے آگے تھا۔ اسوقت اسرائیل فلستیوں کی وجہ سے پریشان تھے۔
2۔ اسیری سے بہت پہلے ( 587-597 ق م)
2a۔ یہودیہ کے 10000 لوگ 597 ق م میں اسیر بنا لیے گئے تھے۔ اس سال یہودیوں کو غلام بنا لیا گیا۔ (یوایل 3: 6 میں دیکھیں)
2b۔ مستقبل میں یہودیہ پر رحم۔ یوایل 2: 12-20
2c۔ خداوند کا مذبح موجود تھا (یوایل 1: 13)
2d۔ یروشلیم کی اچانک تباہی۔
3۔اسیری کے بعد ( 587 ق م)
3a۔ یوایل اسرائیل کو یہودیہ کی بادشاہت کے لیے بُلاتا ہے یوایل 2: 27 اور 3: 16، اسلیے یہ ہو سکتا ہے کہ جنوبی سلطنت کی اسیری 722 م کے بعد ہو۔
3b۔ ب587 میں بہت زیادہ غلامی میں تھے۔
3c۔ کچھ خدا کے رحم کے وعدے یوایل 2: 12-20 میں ان افراد کے لیے دکھائی دیتے ہیں۔ نہ کہ انکی اولاد کے لیے۔
سوال: یوایل 1: 12 میں، آپ کیوں سوچتے ہیں کہ یوایل میں بوڑھوں کے ایڈریسز کو ختم کیا ہےکیا وہ صرف ٹڈیوں کی مصیبت کی وہ سے پریشان تھے؟
جواب: بہت سالوں سے یہ حکومت اور اسکے مذہبی لوگ بے ادبی کی راہنمائی میں تھے جب راہنما بے ادب ہوتے ہیں ۔ تو نہ کہ وہ اپنے پیروکاروں کو مشکلات میں ڈالتے ہیں ۔ لیکن دوسرے نتیجے کے طور پر بھی برداشت کرتے ہیں۔
تاہم، خاص راہنما اس قسم کے رہنما نہیں ہو۔ وہ ایسے والدین کے مشابہ ہوتے ہیں۔ جو ذاتی طور پر اپنے بچوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اور پرانے بزرگ اپنی نوجوان نسل مشکل میں پڑ جاتی ہے۔
سوال: یوایل 1 میں لوگوں کو مشکلات آ سکتی ہیں کیونکہ کچھ گناہوں کی وجہ سے خدا سے دور ہو گئے تھے تمام نے اس انجام کو برداشت کیا۔ کیا آپ ابدی و ظاہری تناسب کو بے جا طار پر سوچتے ہیں۔
جواب: اگر آپ دنیا پر صرف نظر دوڑائیں۔ نہ کہ یہ صرف برائیوں میں گری ہوئی ہے بلکہ یہ غیر منصفانہ بھی ہے۔ تاہم اسلیے خدا نے آخرت کو ہر چیز کے انصاف کے لیے بنایا۔ جو واقعات بھی ہمارے ساتھ اس دس سال کے عرصے میں ہوتے ہیں ہم اس دنیا پر بہت تھوڑا عرصہ گزارتے ہیں۔ اسکا موازنہ ہم ابدی زندگی سے کرتے ہیں جو مرنے کے بعد ہمیں حاصل ہوئی ہے۔
سوال: یوایل 1: 2b-3 میں، مسیحی بوڑھوں ست جسکا مطلب راہنما ہو سکتا ہے یا بوڑھے لوگ یا دونوں راضی نہیں ہیں ۔ کیسے دونوں راہنما یا بوڑھے لوگ غلطی کر سکتے ہیں؟ کیا آپ سوچتے ہیں یوایل 1: 2b-3 میں جواب دیا ہے؟
جواب: یقیناً وہ دونوں کو سرزنش کرتا ہے۔ تاہم، یوایل 1: 2b-3 میں انکے اس قسم کے آباؤ اجداد کا ذکر نہیں کیا۔ وہ اپنے حکموں کو اور اپنی ذمہداریوں کو اپنے کو بتاتے ہیں۔ یہ نشاندہی کرتا ہے کہ خواہ یہ بے فکر ہوں یا سیاست دانوں اور مذہبی راہنماؤں کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ جنہیں اپنی نوجوان نسل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
سوال: یوایل 1: 4 میں چار قسم کی ٹڈیوں کے بارے میں ذکر آیا ہے۔ جبکہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ عبرانی لفظوں میں اسکا کیا فرق ہے۔ اہم نقطہ یہ ہے کہ اس سزا کے چار طریقے ہیں۔ کیا دو چیزوں سے ہم خدا کے نظام کے متعلق سیکھ سکتے ہیں؟
جواب: خدا کی عدالت درست اور خدمت دونوں ہو سکتی ہیں جب لوگ پسیمان نہیں ہوتے تو خدا کی عدالت کئی طریقوں سے آ سکتی ہے۔
سوال: یوایل 1: 4 میں، کیوں خدا نے ٹڈیوں کی خوفناک آفت کو بھیجا اگر خدا اسرائیل قوم سے پیار کرتا تھا؟
جواب: ہو سکتا ہے شروع میں اسکا شک ہو کہ لوگوں کی خوشحالی خدا کی طرف سے زیادہ پاکیزہ نہ ہو۔ خدا چاہتا ہے کہ اسکے چنے ہوئے لوگ مالی طور پر خوشحال ہوں۔ لیکن خدا انکی تابعداری کی قدر کرتا ہے۔ اور انکی خوشحالی کو زیادہ طور پر قبول کرتا ہے ہمارے اچھے والدین ہو سکتا ہے کہ اپنے بچوں سے زیادہ پیار کریں اور جب انکے بچے تباہی کے راستے پر چل رہے ہوتے ہیں تو وہ صرف مزاحمت کیے بغیر بیٹھ جاتے ہیں۔
سوال: یوایل 1: 5 میں خدا فرماتا ہے کہ مے کے متوالو جاگو اور ماتم کرو کیونکہ انہیں نئی مے چکھنی ہے خدا نے کیوں بنیادی زمینی مرکز کا پیغام شروع کیا ہوگا۔ یوایل 1: 6-7 کیسے اسکے ساتھ مطابقت کرتا ہے؟
جواب: خدا لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتا ہے کہ وہ کہاں ہیں متوالوں کو قبول کرنا ضروری نہیں سمجھا سوائے اسکے کہ وہ کہاں سے زیادہ مے حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ تاہم تب وہ انکی ابتدائی باتیں لمبی اصطلاح کے بارے مین اور روحانی اصطلاح کے بارے میں کر رہا ہے۔ خدا جھوٹی اصطلاح کے انجام کی جلدی اصطلاح کرتا ہے۔ کہ وہ مے کشی نہیں کریں کے کہ یہ انکی خواہش ہے۔ حقیقت میں ہر کوئی بُری صورت اختیار کر چکا ہے ۔ وہ جو جن اُمیدی کی خوشنودی الکوحل پوری کر رہا ہے۔
سوال: یوایل 1: 11 میں، کسانوں کی دکھ دو واضح وجوہات کیا ہیں؟
جواب: مختصر اصطلاح کے مطابق یہ بُرا سال ہو گا۔ یوایل 1: 11 میں کہتا ہے کیونکہ تاک ، گندم، گیہوں کے کٹے ہوئے کھیت تیار ہو گئے ۔ لمبی اصطلاح کے مطابق اگر ٹڈیاں ہمیشہ کے لیے چلی جاتی اور دوبارہ واپس نہ آتیں۔ لیکن انکے درخت اور تاک تباہ ہو گئے تھے۔ زیتون کے درخت 1000 سال تک رہ سکتے ہیں۔ پرانے زیتون کے درختوں کو تباہ کریں۔ اور تمہیں نئی صدی کے نئے درختوں کا اسکی جگہ پر لگانے کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ صرف انکے لیے نہیں تھا ظاہری پیداوار جلدی ختم ہو گئی تھی۔ لیکن انکی پیداوار کا مطلب تھا تباہی، اسکا اثر بہت سالوں تک ان پر ہوتا رہا۔ یوایل 1: f12 کہتا ہے یقیناً بنی آدم سے خوشی جاتی رہی۔
سوال: یوایل 1: 13 میں، کسانوں کی فصلیں اور قربانیاں کیوں ناکام ہو گئیں؟
جواب: اگر وہاں فصلیں نہ ہوتیں تو وہاں پر ہر کوئی فصل کی قربانی کا ذریعہ نہ ہوتا۔ اگر وہاں پر کوئی بھیڑ اور مویشی خوراک کی وجہ سے نہ ہوتے انکی مدد کرنے کے لیے تو وہاں پر اس قسم کی کوئی بھی قربانی نہ ہو پاتی۔
کاہن اور احبار خوارک کی قربانی کے ذریعے سے دونوں کو سہارا دیتے تھے اور دوسرے لوگوں کو مالی امداد بھی دیتے تھے۔ اگر یہ دونوں چلے جاتے ہیں تو کاہن کا تصور کیا کرتا۔
سوال: یوایل 1: 13 میں، دو راستے کیا ہیں جو خدا کے گھر کے خزانے کو لوٹ سکتے ہیں؟
جواب: لوگ انکو خرچ کرنے میں ناکام ہو سکتے ہیں انہیں کیا کرنا چاہیے۔ جبکہ جسمانی طور پر کلام کے لیے بھوکے ہیں۔ اور وہاں پر بہت خوبصورت عمارتیں ہیں۔ اس خزانے کو خرچ کرنے کی بجائے مثال کے طور پر ڈاکوں سے لوٹ لیا۔ خاص طور پر یہ نشانہ منسٹریز کی طرف ہے کیونکہ وہ وہاں سے بے جا سونا پاتے ہین۔ اگر وہ زیادہ خزانہ غریبوں پر اور بائبل کی تعلیمات پر خرچ کریں تو ہو سکتا ہے کہ منسٹریز کی طرف کم نشانہ بنیں۔
بہت سارے عبادت گزار مشرقی جزیرے میں رہتے تھے جو آئرلینڈ میں انکو ڈاکو چھپے ہوتے ہیں۔ لیکن اگرچہ دؤبی اور آئرلینڈ ڈاکوں کو ختم کرنے کی ایک چابی ہے اور وہ واضح طور پر عابد لوگوں کو چھوڑ گئے کیونکہ وہاں پر ان پر حملہ کرنے سے انہین کوئی بھی خزانہ حاصل نہیں ہوا۔
دوسری بات۔ خدا پیسوں کو ناکافی ظاہر کرسکتا ہے کیونکہ یہ غلط چیزوں پر فضول خرچی کرنے میں یا دوسرے درجے کی چیزوں پر خرچ کرنے پر اہمیت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر یہ ترکیب کلیسیا کے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہے کیونکہ اسکی عمارتیں بے تحاشا ہیں اسکے علاوہ کلام کی تعلیم روح کے ذریعے لوگوں کو چھوتی ہے اور وہ خدا کی طرف آتے ہیں۔ نہیں ! اسکے متعلق سوچنے کے بغیر یہ کہ مقامی چیزوں پر پیسے خرچ کرنا آسان ہے۔ کہ یہ بڑا واضح ہو چکا ہے اور ہمیں اچھا محسوس ہوتا ہے اسکے علاوہ دوسری جگہ پر پیسے بھجینا ایک بڑی ضرورت ہے۔
سوال: یوایل 1: 8 میں، دلہن کیوں اپنے شوہر کی موت پر دکھی ہے؟
جواب: صیون جوان دلہن کی طرح ماتم کرے؛ منگیتر اپنے نئے شوہر یا منگیتر کی موت پر روتی اور چلاتی ہے ۔
سوال: یوایل 1: 14 میں، جبکہ خدا نے انکے لیے سزا کا انتظام کیا۔ ہم مسیحی ہونے کے ناطے لوگوں کو تعلیم دینے کا کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ چیزیں کیوں آئیں۔ اور انہیں خدا کو کیسا رد عمل دینا چاہیے تھا۔ ہم کیسے ایسا اپنی صداقت کے بغیر کر سکتے ہیں؟
جواب: حزقی ایل 33: 1-20 اور یرمیاہ 6: 17 میں چوکیدار ایک مثال تذکرہ ہوا ہے۔ اگر تباہی آ جاتی اور چوکیدار لوگوں کو آگاہ کرنے میں فیل ہو جاتا ہے۔ تو اس میں چوکیدار کی غلطی ہے۔ لیکن اگر چوکیدار آگاہ کرے لیکن کوئی بھی اسکی نہیں سنتا تب لوگ غلطی پر ہیں۔ انہوں نے چوکیدار کو اہمیت نہیں دی وہ جو اس کام کو کر رہا تھا۔
ہمیں دوسروں کو اپنے ساتھ موازنہ نہیں کرنا چاہیے لیکن یہ ظاہر کرنا ہے کہ وہ خدا کی مطابقت میں مختصر طور ہر گر گئے ہیں ہمیں یہ دعویٰ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے وہ جنہوں نے زیادہ غلطیاں کی تھی۔ وہ جن کی خلاصی ہوئی۔ لیکن تمام بدترین سزا پائینگے اگر وہ اپنے گناہوں پر پشیمان نہ ہوں اور خدا کے پاس آئیں۔
مثال کے طور پر ہم سمندری طوفان کترینا کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
ایک مثال طور پر، ہم سندری طوفان کترینا کو نشاندہی کر سکتے ہیں کہ جو سیلاب نیو آئرلین میں آیا ان دنوں میں وہاں جنسی رقابت کا میلہ تھا جو جنوبی تنزل کا وقت کہلاتا تھا۔ اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم جنسی تعلقات جو نیو آئرلین میں پیدا ہوئے دوسرے گنہگاروں سے بدتر تھے وہ جو نہیں آئے تھے۔ لیکن تمام گنہگار ہم جنسی اور مخالف جنسی تعلقات کا آکر نہ ہو گا۔ یہ عدالت کا بدترین آخر ہو گا جب تک وہ پشیمان نہ ہو کر خدا کے پاس نہیں آتے۔
سوال: یوایل 1: 15 میں، خداوند کا دن کس طرح ہو گا؟
جواب: خدا کا ایک دن کا عرصہ خواہ مختصر ہے۔ لیکن یہ ایک 24 گھنٹے سے لمبا ہے ۔ خدا کے دن سے آنے سے پہلے مسیح کا آنا ضرور تھا ( اعمال 2: 20) اور پھر خدا کا دوسرا دن تب آئیگا جب مسیح دوبارہ آئیگا لیکن مکاشفہ کی کتاب خدا کے اس دن کے شروع اور آخر کی صحیح طور پر تصدیق کرنے پر راضی نہیں ہے۔ لیکن مکاشفہ اس وقت کے متعلق بتاتا ہے۔
سوال: یوایل 1: 19 میں، یوایل کیوں خدا کو پُکارتا ہے؟
جواب: اسکا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یوایل خدا کو مدد کے لیے پُکارتا ہے اور نرمی کے لیے کہ خدا مصیبت کو نہ بھیجے۔ لیکن یوایل یہاں پر خدا سے سوال نہیں کر رہا ہے وہ صرف اس لیے خدا کو پُکار رہا کہ وہ اس مصیبت میں آکر کھڑا ہو جائے۔
سوال: یوایل 1 باب میں، اگر یوایل کی اس کتاب کی سوچ خدا کے انتظام کے متعلق کیا تھی اور ہم اس مشکل وقت کا ردعمل کیسے ظاہر کرتے ہین۔ یہ آج کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی تاہم یوایل کی کتاب آخرت کی نبوت سے بھری پڑی ہے۔ پہلے باب کی کچھ آیات اسکے متعلق چھوٹا سا اشارہ کرتی ہیں ؟
جواب: یوایل 1: 12 تجویز کرتا ہے کہ یہ اشارہ زیادہ تر مقامی واقع کی طرف ہوات ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ یقیناً اس قوم کی خوشی جاتی رہی ۔ یوایل 1: 15 میں خدا کے دن کو بیان کیا گیا ہے۔
سوال: یوایل 2: 1، 15 میں، لوگوں کو کیا کرنے کے لیے حکم کیا گیا تھا اور اس میں کیا فرق تھا۔ کہ وہ چلائیں اور ماتم کریں اور جاگیں اور ٹاٹ اوڑھیں اور 1 باب میں کیا صرف رونا تھا۔ یوایل 2: 1، 15 میں کیا یہ حکم معنی خیز ہے یوایل 1 میں حکم کے بعد؟
جواب: لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ نرسنگا پھونکیں۔ یوایل 2: 1-10 میں انہوں نے آنے والی مصیبت کے لیے اعلان کرتے تھے۔ یوایل 2: 15-17 میں ایسا کرتے تھےمختلف وجوہات کے لیے کہ وہ خدا کے مقدس اکٹھے ہوں اور پشیمان ہوں اور خدا سے کہیں کہ وہ ان کو معاف کریں۔ ہمیں آج ایسی ہی وجہ کے لیے نرسنگا پھونکنا چاہیے جیسے انہوں نے اسکے پیچھے پھونکا۔ ہمیں دونوں ایمانداروں یا غیر ایمانداروں کو خداکی عبادت کا علانیہ طور اعتراف کرنا چاہیے۔ ہمیں لوگوں اکٹھا کرنا چاہیے تاکہ وہ پشیمانہوں۔ تاکہ وہ انفرادی طور پر منظم ہوں تو تب خدا ہم پر مہربان ہو گا۔
سوال: 2: 1، 15 میں، یوایل لاگو کرتا ہے آج کیا جنہوں نے کوہِ مقدس کا نقشہ بیان کیا ہے؟
جواب: صیون خدا کے لوگوں کے مسکن کے نقشے کو بیان کرتا ہے جس میں آج کلیسیائیں قائم ہیں۔ یہ صرف اسکی نمائندگی کو نہیں بتاتا۔ یہاں کہیں بھی آپ رہتے ہیں یہ کہا گیا ہے اسکی سر زمین میں خدا کے لوگوں پر زور دیا گیا ہے۔
اسکا مطلب صرف اونچا پہاڑ نہیں کہ وہاں تمام لوگ سن سکیں۔ کیونکہ اس پر خدا مقدس میں نرسنگا پھونکنے پر زور دیا ہے۔ فلسطین میں کرمل کا پہاڑ صیون کے پہاڑ سے زیادہ اونچا تھا۔ لیکن یہ مقدس پہاڑ تھا۔ یہاں نرسنگا پھونکا گیا تھا۔
سوال: یوایل 2: 2-16 میں، وہ تمام لوگ اس سر زمین پر رہتے ہیں کانپتے تھے۔ کیونکہ خداوند کا دن آ رہا ہے خدا کے لوگوں کو کیاں کانپنا چاہیے؟
جواب: تابعدار ایمانداروں کو ان سے کانپنے کی ضرورت نہیں کیونکہ خدا ان کی حفاظت کرتا ہے ۔ اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ مشکلات کا سامنا نہیں کرینگے وہ صرف خدا میں مریں گے۔ وہ جو جانتے ہیں کہ بہتر ہے کہ انکو مرنے کے لیے اجازت دیں ۔ تاہم ایماندار بہت ساری دوسری وجوہات سے پریشان ہو سکتے ہیں غیر مسیحی دوستوں کے لیے۔
کچھ ایمانداروں کو ان کے لیے دوزخ سے خوفزدہ ہونا نہیں چاہیے۔ وہ صرف غیر ایماندار دوستوں کی دوزخ کے لیے خوفزدہ ہو سکتے ہیں۔
با ادب جگہ پہ:
مکاشفہ4: 18 میں ایمانداروں کو حکم ملتا ہے کہ وہ بابل سے نکل آئیں۔ برائی کا انتظام اس شہر کے ساتھ ساتھ پہاڑوں پر اسکے لیے دو وجوہات ہیں۔ اسلیے بابل کے گناہوں میں شامل نہیں ہوں گے۔ ویسے تو ایماندار غلط جگہ پر غیر ایمانداروں کے لیے مصیبتوں کو قبول کرینگے۔ جبکہ آج مفکر اس پر راضی نہیں ہیں۔ وہاں پر بابل کے لوگوں کا مستقبل کیا ہو گا۔ ہم تمام ان چیزوں پر جو برائی کی طرح لگتی ہیں رضا مند ہیں۔ بابل کے لوگ اس جگہ پر نہیں ہیں جہاں پر ایمانداروں کو ہونا چاہیے۔
سوال: یوایل 2: 6 میں، بعض اوقات لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔ جب چیزیں انکے لیے ویسی نہیں ہوتی جیسا وہ ان سے چاہتے ہیں بعض اوقات لوگ خفا ہو جاتے ہیں۔ جب چیزیں اپنی جگہ پر نہیں جاتی۔ بعض اوقات لوگ پاگل ہو جاتے جب چیزیں ان کی سوچی ہوئی جگہوں کے مخالف جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں لیکن یوایل 2: 6 ان کے متعلق کچھ نہیں کہتی۔ یوایل 2: 6 ان چیزوں سے دور جاتا ہے؟
جواب: لوگوں کے چہرے اس دکھ کو دیکھ کر زرد ہو گئے۔ یہ واقعہ کیا تھا، وہ روحانی تکلیف میں مبتلا ہو گئے۔ جیسے امیر لوگ ایک یا دو گھنٹے میں خوراک مہیا کرتے ہیں۔
سوال: 2: 6 میں، آج وہ کیا چیزیں ہیں جو روحانی لوگوں کو روحانی تکلیف میں مبتلا کرتی ہیں۔ یا جن سے انکے چہرے زرد ہو اجتے ہیں۔ ان آیات میں وہ صرف خفا، ناراض یا پاگل ہو جاتے ہیں؟
جواب: جنگ اور دہشت گردی آج روحانی تکلیف کی بڑی وجہ ہے ۔ لیکن سٹاک مارکیٹ میں زبردست تبدیلی لوگوں کو ایسا محسوس کرنے کے لیے اُکسا سکتی ہے۔ " یہ دنیا کا آخر ہے" ۔ 1930 کے بحران نے سٹاک مارکیٹ کے لوگوں کو توڑ کر رکھ دیا۔ کچھ بے وقوف لاگوں نے خود کُشی کر لی۔
سوال: یوایل2: 1- 11 میں کب خداوند کا دن وقوع پذیر ہو گا؟
جواب:مکاشفہ میں اس کا وقوع جب خدا کی عدالت کا آخر ہو گا یہ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ واقعہ 3: 50 میں بیان کیا گیا ہے۔
سوال: یوایل 2: 1-11 میں کیا یوایل باقاعدہ ٹڈیوں اور اسکے لشکر کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ یا آخری وقت کے بارے میں؟
جواب: جبکہ یوایل 1: 4 میں مقامی ٹڈیوں کی مصیبت کے بارے میں بات کی یوایل 2: 2 میں اس کی تصویر کو کچھ یوں واضح طریقے سے بیان کیا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ یہ بہت طاقتور اور برا لشکر ہے۔ یہ ایسے اس سے پہلے نہیں ہوا تھا۔
سوال: کیا یوایل 2: 1-11 کو مکاشفہ9: 1-11 کے ساتھ مطابقت کرتا ہے؟
جواب: یہ دونوں ایک ہی واقع کی خاص چیزوں کی طرف جا ٹڈیوں کی طرح دیکھائی دے رہی ہیں جو اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم، وہ تمام مختلف ہیں۔ کیونکہ یوایل میں جن ٹڈیوں کا ذکر ہے ( یوایل 2: 1-11) جنہوں نے کسی بھی سبز چیز کو نہیں چھوڑا جن کا اشارہ مکاشفہ 9: 1-11 میں ملتا ہے وہ تو کوئی شیطانی ربورٹ یا اڑنے والی مشینیں ہیں۔ جو کسی بھی پودے کو نقصان نہیں پہنچاتی ۔ لیکن یہ لوگوں کو مارے بغیر تکلیف کے ساتھ ڈنگ مارتی ہیں۔
سوال: کیا یوایل 2: 10 کو متی 27: 45 کے ساتھ مطابقت کی ہے ؟
جواب: نہیں وہاں صرف آخری وقت میں اندھیرا ہو گا۔ یہی اندھیرا یسوع کو مصلوب کرتے وقت پیش خیمہ تھا۔ تاہم، متی 27: 45 میں خدا اپنے لشکر پر نہیں گرجا تھا۔ عام طور پر ان چیزوں میں ہم اسکو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگر وہ اسمیں شمل ہیں یہ محسوس تو ایک جیسا ہوتا ہے لیکن یہ ہیں بہت مختلف اسلیے یہ پیراگراف بھی مختلف ہے۔
سوال: کیا یوایل 2: 10 کو مکاشفہ 8: 12 اور 16: 10 کے ساتھ مطابقت ہے؟
جواب: نہیں مکاشفہ 8: 12 بتاتی ہے کہ جب تیسرا نرسنگا آسمان پر پھونکا گیا تو آسمان کی روشنی کو صدمہ پہنچا۔ اور مکاشفہ 16: 10 بتاتا ہے جب بادشاہت پر پورا اندھیرا چھا گیا۔ تاہم، یوایل 2: 10 میں اندھیرے کو ٹڈیوں کی وجہ سے لیکن یوحنا 3: 9-10، عاموس 7: 1-6 اور یرمیاہ 18: 5-10 بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ خدا کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتا۔ اسکے مکاشفات لوگوں کو تبدیل کرنے کے لیے ظاہر ہوتے ہیں جب لوگ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔
سوال:یوایل؛ 2: 17 ا ماتم کا کیا مطلب ہے جو تبدیلی ان کے درمیان قربانی کو ظاہر کرتی ہے؟
جواب: یہ وہاں پر کاہن اور خادم جانوروں کی قربانیاں گذرانتے جو لوگ لاتے تھے۔ جب لوگ قربانیاں لاتے تو کاہنوں کو اجازت تھی کہ وہ ان قربانیوں میں شامل ہوں انکے خاندانوں کے لیے۔
سوال: یوایل 2: 17-18 میں، صیون میں نرسنگا پھونکنے کے لیے دو اہم وجوہات کیا ہیں؟
جواب:a (دو وجوہات خدا اپنے لوگوں کو صاف کرے۔ اور
b خدا کے جلال کے لیے۔ دوسرے لفظوں میں خدا کی میراث میں خدا کا نفرت انگیز اعتراض نہیں ہو گا ان لفظوں کے مطابق ۔
یہ ہم سے نمک اور دنیا کے چراغ کی طرح مطابقت رکھتا ہے۔ اس لیے ہمیں اس پیمانے کو نہیں چھپانا چاہیے۔ لیکن اسکی روشنی دینی چاہیے۔ روشنی سچائی کو ظاہر کرتی ہے۔ اور صداقت کو اور اسکے فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ غلطی اور کمزوری کے ساتھ۔
سوال: یوایل 2: 17 میں ماتم کا کیا مطلب ہے جو ان کے درمیان تبدیلی کو قربانی کو ظاہر کرتا ہے؟
جواب: کاہن ان کی قربانیوں کے درمیان جاتے تھے ۔ اس ماتم کا اشارہ کاہنوں کی وجہ سے ملتا ہے۔
سوال: یوایل 2: 20 میں، یہ لشکر کیا ہے؟
جواب: اس لشکر نے برائی کے ساتھ یروشلیم کا احاطہ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ یہ دوسرے درجے کی خوشحالی ہو (مکاشفہ16:12-16؛ 19: 19) کے لیے بچاؤ ہو۔ اور یہ دوسری تکمیل یسوع مسیح کے دور حکومت کے بعد ہے۔ ( مکاشفہ 20: 7-10 ۔
سوال: یوایل 2: 20 میں کیا بڑے شمالی لشکر اور " عفونت" کو حزقی ایل 30: 11-20 کے ساتھ اور مکاشفہ 16: 12-16؛ 19: 17-19 کے ساتھ مطابقت کرتا ہے؟
جواب: یہ مکاشفہ 16: 12-16 کے ساتھ رابطہ نہیں رکھتا۔ کیونکہ یہ مسیح کی دور حکومت سے پہلے ہے۔ بلکہ یہ اشارہ جوج وماجوج کی لڑائی کی طرف جو مسیح کے دور حکومت کے بعد ہونی ہے ملتا ہے جسکا حزقی ایل میں بھی ذکر ملتا ہے۔ ( حزقی ایل 39: 11-29 اور مکاشفہ 19: 17-19 میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے۔
سوال: یوایل 2: 25 میں ، کیسے خدا کی بحالی کی تکمیل کو خدا کے انتظام اور اسکی عدالت کے ساتھ موازنہ کرتا ہے؟
جواب: یوایل 1: 4 میں خدا کے انتظام اور عدالت کی تکمیل کو ظاہر کرتا ہے۔ چار قسم کی ٹڈیوں کے گروہوں کے ساتھ یوایل 2: 25 میں بحالی کی تکمیل کو برابر کرتا ہے کہ کیا کچھ ٹڈیوں کے چاروں گروہوں نے کھایا۔
سوال: یوایل 2: 25-27 میں خدا کا تعجب انگیز وعدہ کیا تھا جو اس نے صیون کے لوگوں کے ساتھ کیا؟ کیا یہ اشارہ یسوع مسیح کے دور حکومت کی طرف کرتا ہے یا آسمان کی طرف جبکہ ہم اسوقت زمین پر رہتے ہیں؟
جواب: یوایل 2: 25-27 اسکا تھوڑا سا سراغ مہیا کرتا ہے یہ کہتا ہے : اور اسکے بعد" کچھ اشارہ کرتا ہے جس نے تمام کاموں کو پورا کیا تھا۔ اسطرح اسکا اشارہ زمین پر دوسری دفعہ مسیح کی دور حکومت کی طرف ملتا ہے۔ یہ مصیبتوں کو ٹڈیوں کے ذریعے یا دوسرے ذرائع کے ذیعے سے اضافہ کرتا ہے۔ خدا ان تمام چیزوں کی بحالی بھی کر سکتا ہے جو ہم سوچتے ہین کہ خدا ایسا نہیں کر سکا۔ اس کمزور ترین سال کے لیے خدا خوشحالی کو بھی لا سکتا ہے اور لمبی زندگی بھی دے سکتا ہے۔ کیونکہ زمینی لمبی زندگی سے زیادہ اہم ابدی زندگی ہے جو فردوس میں ہے۔
سوال: یوایل2: 28-32 میں کیا یہ وقت روح کی معموری کا تھا جیسے پینتکوست کے دن میں ہوا اعمال2: 16؟
جواب: یہ واقعات خدا کے دن کو ظاہر کرتے ہین۔ اسکا جواب جاننے کے لیے آپ کو خدا کے دن کے متعلق جاننا پڑے گا۔ خدا کا دن اسوقت آئیگا جب یسوع المسیح اس دنیا پر آئیگا۔ اعمال 2: 28-32 کا یوایل 2: 28-32 سے ملتا ہے۔ خدا کا دن آئیگا جب یسوع مسیح زمین پر دوبارہ آئیگا۔ بہت ساری گواہیاں اسکو دو حصوں میں شمل کرتی ہیں ۔ وہ یسوع مسیح کے آنے سے پہلے معمور تھے اور اب وہ دوبارہ معمور ہوں گے جب یسوع مسیح دوبارہ زمین پر آئیگا۔
سوال: یوایل2: 30-32 اور متی 24: 29-30 میں، کیا یوایل موسیٰ، مسیح اور محمد کی پیشن گوئی کرتا ہے ۔ اسکی تعلیم صحیح طور پر سورج کی طرح روشن ہیں لیکن وہ تمام بدچلنی کی وجہ بعد میں اندھیرے میں ڈوب گئے۔ کیا یہ بہا اللہ کی تعلیم ہے اور نیو ایراء صفحہ 277-278؟
جواب: نہیں ، نہ صرف یسوع لفظی طور پر بادلوں پر آئیگا، ایسے میں اعمال 1: 9-11 ظاہر کرتا ہے لیکن قادر مطلق خدا سورج اور چاند کو بھی تاریک کر سکتا ہے اور وہ ایسا کرے گا۔ مثال کے طور پر کہنے سے آپ عیش و عشرت نہیں کرتے کیونکہ آپ حقیقت کو جاننا نہں چاہتے۔
سوال: یوایل 2: 30-32 میں بہا اسم اور بہا اللہ غلط مذہب ہیں۔ اور نیو ایرا کمنٹری صفحہ 277-278 بتاتی ہے ، کہ یوایل 2: 30-32 اور متی 24: 29-30 موسیٰ ، مسیح اور محمد کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ ان کی صحیح تعلیمات ہیں۔ واضح طور پر وہ ایک سورج کی طرح تھے لیکن بعد میں وہ بدی کی وجہ سے تاریکی میں ڈوب گئے۔ آپ کیسے اسکا رد عمل ظاہر کریں گے؟
جواب: یہ صرف ایک خیال ہے کہ تاریکی اور سورج اور چاند کا دعویٰ روحانی بدی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایسے ہی اعمال میں ذکر ملتا ہے (اعمال 1: 9-11) کہ خدا قادر مطلق سورج چاند کو تاریک کر سکتا ہے۔ اور وہ ایسا کرینگے۔ مثالی طور پر یہ کہنے سے آپ عیش و عشرت نہیں کرتے کیونکہ آپ حقیقت کو جاننا نہیں چاہتے۔
سوال: یوایل 2: 32 کو کیسے رومیوں 10: 13 کے ساتھ مطابقت کرتا ہے؟
جواب: رومیوں 10: 13 یوایل 2: 32 سے ملتا ہے جو تمام کچھ ظاہر کرتا ہے۔ اور گلتیوں کا خط بھی کہتا ہے کہ وہ جو خدا کے نام کو پکارتے ہیں وہ بچ جائنگے، یوایل 2: 31 دونوں سورج اور اندھیرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو یسوع مسیح کو صلیب دینے کے دوران ظاہر ہوا۔ یہ اندھیرا آخری وقت میں وقوع پذیر ہو گا۔ یوایل 2: 32 می اندھیرے کا ذکر ہوا وہ بھی ایسے ہی وقت کا اور اسی طرح کا ہے۔
سوال: یوایل 2: 32 کے مطابق ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ وعدہ عمدہ اور آرام دہ ہے جب تک آپ کلام کو آخر تک نہیں پڑھتے ۔ کیونکہ " زندہ خدا ہمارے درمیان موجود ہے۔ ایک انسان کے لیے زندہ رہنا یہاں پر کیوں مشکل ہے؟
جواب: تقریباً 50٫000 یہودیوں نے اسیری سے رہائی پائی۔ یسوع کے وقت بہت کم یہودیوں نے مسیح کو قبول کیا۔ اس خوشی کے بعد بہت سارے لوگ مسیحی بن گئے لیکن وہ اپنے ایمان کی وجہ سے مارے گئے۔
سوال: یوایل 2: 32 میں، ہم کیسے مسیحی کہلاتے ہیں ، نہ صرف مسیحی، بلکہ کیسے بچتے ہیں؟
جواب: خواہ ہم عفونت کی اذیت برداشت کریں یا نہ۔ لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اسکا آخر تک برداشت کریں۔
سوال: یوایل 3: 1-12 میں کب یہوسفط کی وادی میں عدالت وقوع پذیر ہو گی؟ جواب: یہ واقعات مسیح کی دوسری دور حکومت کے آخر میں وقوع پذیر ہونگے یہ مصیبت کے ہوں گے۔ ہم مکاشفہ کی کتاب میں ان کا سلسلہ دیکھتے ہیں۔ دی بائبل نالج کمنٹری: پرانا عہد نامہ 1319-1322 کافی کشادہ چارٹ ہے ان صحیفوں میں کافی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
سوال: یوایل 3: 1-12 میں مسیح کی پچھلی دور حکومت کے متعلق بائبل کی آیات ہیں۔ اور آنے والی دور حکومت کے متعلق کونسی ہیں؟
جواب: عقل مند مسیحی وہ جو مسیح کے دور حکومت پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ واقعات آسمان پر ہیں اور اسکا بیان دور حکومت کے آخر میں ملتا ہے اور یہ ایسے ہی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ یقین کرتے ہیں کہ ہماری کوتاہی دور حکومت کی چابی ہے لیکن اسکا تصور مختلف خیال کیا جاتا ہے کہ اس دور حکومت سے پہلے کیا ہوا اور اسکے بعد کیا ہوا ہے۔
اسکا ایک سادہ سا جواب ہم بائبل نالج کمنٹری پرانا عہد نامہ صفحہ1319-1322 سے بڑی آسانی سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ تمام واقعات کا ذکر کرتی ہے۔ سوال دوسری دور حکومت کا ہے۔ پچھلی دور حکومت کے واقعات کی پیروی کرتے ہیں۔ سارا کچھ مکاشفہ 20 میں ملتا ہے ۔ فرشتوں کا انصاف 1 کرنتھیوں 6: 3۔
بدی دوبارہ جاگے گی دانی ایل 12: 20؛ یوحنا 5: 29۔
مکاشفہ 20: 7-10 جوج و ماجوج کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کچھ خدا کے دوسرے حوالہ جات پر یقین کرتے ہیں جیسے حزقی ایل 38-39 میں پچھلی دور حکومت کا ذکر ہے۔ اور دوسرے دوبارہ دور حکومت پر کرتے ہیں۔
سوال: یوایل 3: 4 میں فلسطین کے لوگوں کے گناہ میں ٹائر اور سیڈن کے گناہ میں کیا فرق ہے؟
جواب: سیڈون نہ ہی دشمن اور نہ ہی اسرائیل کا دوست تھا لکین ٹائر داود اور سلیمان کا قریبی دوست تھا یقیناً ملکہ ایزبل ٹائر سے تعلق رکھتی تھی۔ جب شاہ بابل تباہ ہوا یروشلیم و ٹائر اور سیڈون کو تجارت سے کافی نفع ہوا۔
خدا نے ان دونوں شہروں کو اسی طریقے سے سزا دی۔ یوایل نے اسکی پیشن گوئی کی ٹائر کے تمام لوگ مر گئے تھے۔ اور مکدون کے سکندر اعظم نے 332 ق م میں ان کو غلام بنا لیا۔ اس نے 8000 لوگوں کو مار دیا اس نے بعد میں 200 شہروں پر قبضہ کیا اور 30٫000 لوگوں کو اسیر بنا لیا۔ سیلوسیڈ انطاکسIII 2003 ق م میں سیڈون کے شہریوں کو بعد میں اسیر بنا لیا تھا۔
سوال: یوایل 3: 6 میں یہودیوں کو یونانیوں کی سرزمین میں دوسری اسیری کے متعلق اشارہ ملتا ہے؟
جواب: نہیں ، وہاں پر چھیویں اور ساتویں صدی ق م محنتی غلاموں کی تجارت کا ذکر ملا تھا۔ موسیٰ سے تھوڑا سے پہلے یونانی یونان میں آئے۔
یونانی سکہ چھیویں صدی کے بعد فلسطین سے ملا تھا یہ پرسٹرٹس سے نکلا تھا۔ جو تقریباً دوسری اسیری ہو گا۔ عبرانی کے بہت سارے حوالہ جات سننے کے بعد نیو میں اسنے بابل کی دستاویزات کو اس میں شامل کیا اور اسی مواد کی روشنی میں اسکو شامل کیا اس کو مختصرطور پر خیال نہیں کیا جا سکتا کہ یوایل نویں صدی کے بعد یونانیوں کے متعلق کچھ نہیں جانتا ۔ یا یہ تصور کرنا کہ یونانی بندگاہ کے ذریعے سے کسی بھی غلام کی تجارت ہوئی ہو۔ یا بندرگاہ پر مشرقی غلاموں نے لوٹ مار کی ہو۔
ٹائر اور سیڈون اور فلسطین کے لوگ یونانیوں کو یہودیوں کے ہاتھ بیچتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ دور دراز بھیج دئیے گئے ہوں دراصل یہ سکندر اعظم کے بارے میں بتاتا ہے۔
سنکدر اعظم کے دور میں یونانی پہلے ہی مشرق وسطیٰ پر قابض ہو چکے تھے اس لیے وہ زیادہ دور نہیں بھیجے گئے تھے ٹائر کے تمام لوگ سکندر اعظم کے ذریعے بیچ دیئے گئے تھے، اس لیے وہ اس جگہ پر تھے کہ وہ خود بخود ہی یونانی ہاتھوں بیچ دیئے جائیں۔
سوال: 3: 4-8 ، میں، فونشیا کے لوگ یہودیوں کو غلاموں کی طرح کیوں بیچے تھے؟
جواب: وہ تاجر تھے اور وہ ظاہری طور پر کسی کو بھی غلام کی طرح بیچ اور خرید سکتے تھے۔ یویال اس کی نشاندہی کر رہا ہے کیونکہ فونشیا کے لوگ اور اسرائیل کے لوگ ہمیشہ سے اتحادی تھے اور پہلے بھی ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔
سوال: یوایل 3: 8 میں ہم اہل سبا کے متعلق کیا جانتے ہیں؟
جواب: یہ لوگ مغربی جنوب کے حصے عرب پنسیلویا میں رہتے تھے۔ اسکو موجودہ قوم کے مطابق یمن میں شامل کیا جاتا ہے سبا کی پرانی سلطنت وہیں قائم تھی۔
سبا کے مُلک کے حروف تحجی 28 میں یہ تقریباً چار قسم ایک حروف کو ظاہر کرتا ہے ان کے درمیان انڈیا کے 5 حروف تحجی ہیں۔ اور 5 الفاظ ایک جیسے ارامی زبان کے بھی ہیں۔ پرانے ایتھوپیا کے 18 حروف تحجی ہیں۔ اور لبنان کے 24 حروف تحجی ہیں اور تھیمویڈک کے 21 ہیں اور مصر کے 12 حروف تحجی ہیں۔
سوال: یوایل 3: 10 میں کیوں قومیں اکٹھی ہو کر اسرائیل کے خلاف جنگ کریں گی؟
جواب: یہ واقعات دو دفعہ وقوع پذیر ہوں گے یسوع مسیح کی دوسری دور حکومت اور اسکے بعد جوج ماجوج کی لڑائی۔ کیونکہ یہ لڑائی مسیح کے دور حکومت کے بعد اور پہلے ہو گی۔ کچھ مسیحی ایملینن ایسٹ کہلاتے ہیں۔ وہ یقین اکٹھے رکھتے ہیں۔
1000 سال مسیح کی دور حکومت کی علامت ہیں۔ اور جسکی جگہ آسمان پر ہے اور دو جگہیں عام طور پر دو بیانات ہیں اس جیسی دو بڑی جنگوں کے۔
سوال: یوایل 3: 10 کے مطابق ایسے محسوس ہوتا ہے یہ ملاکی 4: 3 کے خلاف ہے۔ کیا اسکا حکم یویل 3: 10 میں ہوا ۔ کچھ خدا ایمانداری کی تابعداری چاہتا ہے۔ کیا یہ احکام دوسرے مقاصد کو بھی بیان کرتے ہیں۔
جواب: یہ ایمانداروں کے لیے حکم نہیں ہے۔ بلکہ یہ قوموں کے درمیان ایک اعلان ہے یوایل 3: 9 قوموں کی مے خوری مقصد تھا کی وہ خدا کی عدالت کے لیے یہوسفط کی وادی میں اکٹھے ہوں۔ یوایل 3: 12-13۔
سوال: یوایل 3: 12 میں، کیا خدا عدالت کے لیے بیٹھا ہے یا وہ اسرائیل کے انصاف کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ یسعیاہ 3: 13 کیا کہتا ہے؟
جواب: خدا جسمانی جسم میں قید نہیں ہے۔ یہ دونوں تشبیحات ہیں۔ تاہم اگر خدا کے بیٹھنے میں فرق ظاہر کرتے ہیں تو ہر کوئی سنے کی جب خدا عدالت کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ کسی کی بھی طرف داری نہیں کرتا۔
سوال: کیسے یوایل 3: 13 کو یسعیاہ 63: 2-4 اور مکاشفہ 14: 14-20 کے ساتھ مطابقت کرتا ہے؟
جواب: یہ تمام آیات ایک ہی واقع کی طرف ہیں۔ سوائے مکاشفہ 14: 14-20 کے اسمیں کافی تفصیل ہے۔
مکاشفہ 14: 14-16 کے مطابق آدمزاد ( یسوع) ہے جو زمین میں انگور کے گچھے کاٹے گئے اور ان کو خدا کے قہر کے حوض میں ڈالا گیا۔ یسعیاہ میں 63: 2، 4 میں یسوع نے انکو اپنے قہر سے روند کر انے خون سے اپنے لبادے کو گندہ کیا ہے ۔ خدا کا قہر لوگوں کی جانب کہیں سے نہیں آتا۔ نہ ستاروں کی طرف سے بلکہ یہ زمین سے آتا ہے خاص طور پر گناہ جب زمین پر انسانوں کی زندگیوں میں بھر جاتا ہے اسکو انگوروں کے ساتھ تشبیح دیا گیا ہے اور آخر میں جو اسکے جوس کی پیداوار ہے وہ گنا آلودہ زندگیاں ہیں جو زمین پر خدا کے قہر کو لاتی ہیں۔
سوال: یوایل 3: 15 میں یہ کب وقوع پذیر ہوتا ہے؟
جواب: یہ اندھیرا اسوقت وقوع پذیر ہوا جب مسیح کو مصلوب کیا گیا اور مصیبت کے دوران سورج چاند دونوں تاریک ہو جانئیگے ۔ تاہم یوایل 3: 15 یہوسفط کی وادی میں جنگ کو یسوع مسیح کی 1000 سالہ دور حکومت کے بعد ہوئی اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سوال: یوایل 3: 16 میں، کیسے خدا صیون کی وادی سے نعرہ ماریگا اور یروشلیم سے آواز بُلند کریگا ۔ کیا خدا اپنے لوگوں کے لیے پناہ ہے؟
جواب: زمین پر پولیس والا بھی محافظ باپ کی طرح ہو سکتا ہے۔ اور خدا کیسے زیادہ سے زیادہ کر سکتا ہے۔ کیونکہ وہ قادرمطلق ہے تو وہ ایک حفاظت کرنے والے کی طرح ایک اچھا محافظ ہے۔
سوال: یوایل 3: 19 کیا وجہ ہو سکتی تھی جو خدا نے ان قوموں کی زندگیوں میں سزا دی؟
جواب: جب ایک قوم دوسری قوم پر چڑھائی کرتی ہے۔ تو خدا پہلی قوم کو سزا سکتا ہے۔ تاہم، یوایل 3: 19 میں خاص طور پر دوسری قوموں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جنہوں نے اسرائیل پر حملہ کیا خدا نے اُن پر عدالت کو قائم کیا۔ادومی مشرقی صحرا سے آتے تھے ۔ دونوں ممالک اور انکے لوگوں کا وجود زیادہ دیر نہیں رہا۔
سوال: یوایل 3: 19 میں مصر کب برباد ہو گا؟
جواب: یہ واقعات یوایل 3 میں آخری وقت میں وقوع پذیر ہوں گے۔
سوال: یوایل 3: 21 میں، میرا خیال ہے یہاں لوگوں نے اپنے گناہوں کی قربانیاں گزرانیں ، کیسے ان کی بخشش ہوئی اور خدا نے اب تک اسکو پاک قرار نہیں دیا؟
جواب: عبرانیوں 10: 1-4 بیان کرتی ہے کہ پرانے عہد نامے کی قربانیاں صرف ہمارے گناہوں کو ڈھانکتی ہیں لیکن اس نے اُنکے گناہوں کا کفارہ نہیں دیا اسکا اثر ان پر قائم رہتا۔ جب تک مسیح نہ آیا تھا اور کفارہ نہ دیا تھا۔ جب مسیح نے صلیب پر اپنی جان دی تو لوگوں کے گناہوں کی یقینی طور پر بخشش ہو گئی۔
سوال: یوایل 3: 21 میں، خدا یہوادہ کے خون کو کب پاک کرے گا؟
جواب: یہ واقعات آخری وقت میں ہوں گے جب یہودی خدا کی طرف دوبارہ آئینگے غالباً ایسے ہی واقعات کا ذکر ذکریاہ 12: 10-13، 1 میں آیا ہے۔
سوال: یوایل میں سب سے پہلے طومار جو آج بھی موجود ہیں؟
جواب: بحیرہ مردار کے طومار: ( سی ۔ ایل ق م) وہاں پر صرف ایک ہی کاپی ہے۔ یوایل کے درمیان بحیرہ مردار کے طومار، یہ 78Q4 (QXIIc4=) کہلاتی ہے۔ جو یوایل پر مشتمل ہے۔ 1: 10-20؛ 2: 1،8-23؛ 4: 6-21 میں دوسرے انبیاء اصغرکو بھی جمع کرنا ہے۔
نحل ہیور: انجیڈی کے قریب ایک غار ہے جو انبیاء اصغر کا ایک پرزہ ہے۔ یونانی (rXIIg Hev 8) جو یوایل پر مشتمل ہے۔ 1: 12-14؛ 2: 2-13؛ 3: 4-9، 11-14، 17، 19-20 ( کچھ بائبل میں ایک جیسے ہی ابواب ہیں) یہ 50 ق م میں لکھی گئی اور 50 م میں شائع ہوئی تھی بارِ کاکوبا کی رومیوں کے خلاف عداوت کے دوران چھپی ہوئی تھی۔ مسیح سے تھوڑا سا پہلے اسکی یہودیہ میں صلاح کی گئی ۔ اور قریب قریب میسوریٹک ٹیکسٹ کی شکل کی طرح اصلاح کی گئی۔
وادیِ مراتب: انبیاء اصغر کے طومار ہیں۔ (XII Mur) یہ 132 م سے ہیں۔ یہ یوایل پر مشتمل ہے۔
2: 20، 26-27؛ 3: 1-5؛ 4: 1-16 میں دوسرے نبیوں کو بھی شمار کیا۔ یہ میسوریٹک ٹیکسٹ کے مطابق ہے۔
علاوہ ازیں دی ڈیڈی طومار ، نحل ہیور، وادیِ مراتب نے ان آیات کو محفوظ کیا ہے۔ یوایل کے تینوں ابواب سے۔ 1: 10-20؛ 1: 12-14؛ 2: 1، 8-23؛ 2-13؛ 20، 26-27؛ 2: 28-32( = 3: 1-5 )؛ 3: 1-16؛ 3: 4-9، 11-14، 17، 19-20؛ 3: 6-21 (= میسوریٹک میں باب نمبر 4)
مسیحی بائبل کے طوماروں، جو تقریباً 350 م میں ملے ہیں۔ پرانے عہد نامے پر مشتمل ہیں اس میں یوایل بھی شامل ہے ان میں دو وٹیکنز ہیں ( 325-350 م) اور سکندریہ (450c م) ہیں۔ یسعیاہ سے پہلے چھے انبیا اصغر کی کتابیں موجود تھی۔ یوایل کی کتاب دونوں وٹیکنز اور سکندریہ میں مکمل ہوئی۔ ہم سیناٹکس سے محفوظ کی گئی کسی کتاب کو نہیں چھوڑتے۔
سوال: ابتدائی لکھاری کون ہیں جنہوں نے یوایل کی طرف اشارہ کیا؟
جواب: پری نائی سین لکھتا ہے کہ اس نے یوایل کی مختلف آیات کا حوالہ دیا ہے۔
جسٹن مارٹر ( 138-165 م) یوایل کا حوالہ دیتا ہے 2: 28f ڈائیلاگ ود ٹائپو دی جیو سبق 88 صفحہ 243۔
تھیفلس آف انٹچ ( 168-181/188 م) یوایل سے حوالہ دیتا ہے2: 16۔ تھیفلس ٹو آٹولیکس کتاب 3 سبق 12 صفحہ 115۔
ایرنیو آف لائنس (182-188 م) نبیوں کے ذریعے سے یوایل کا حوالہ اعمال میں دیتا ہے ۔ یوایل 2: 28، اعمال 2: 22-27 ایرنیو آگینسٹ ہیرس کتاب 3 سبق 12۔2 صفحہ 430۔
طرطولین (200-240 م) یوایل 2: 15 سے حوالہ دیتا ہے۔ آن فاسٹنگ سبق 16 صفحہ 113۔
اوریجن (225-254 م) یوایل نبی دی پرنسیپیز کتاب 2 باب 7 صفحہ 285۔ ۔ وہ بھی یوایل سے حوالہ دیتا ہے 2: 28 متی کی کمنٹری باب 18 صفحہ 428 ۔
نووٹین (250/254-256/7 م) نبیوں کے ذریعے یوایل سے حوالہ دیتا ہے۔ 2: 28 ٹریٹس کونسرنگ دی ٹرینٹی باب 29 صفحہ 640۔
آنانومس ٹرٹیس آگینسٹ نووٹین ( 258-248 c )
سائپرین آف کارتھج۔ ( 248-258 م) نبیوں کے ذریعے حوالہ دیتا ہے 2: 12، 13 لیٹر آف سائپیرین لیٹر 51 باب 22 صفحہ 333۔
میتھوڈیس آف اولمپس اور پترا (260-312 م) یوایل نبیوں کے ذریعے سے حوالہ دیتا ہے ۔ یوایل 2: 21-23 دی بینکویٹ آف دی ورجن ڈسکرس 10 صفحہ 350۔
آفٹر نیسیا
آفراہٹ دی سائیرین ( 337-245 م) دلائل کا انتخاب کریں۔
اینتھیس آف سکندریہ ( 331 م) ( اس نے بارہ نبیوں کا ذکر کیا ) اور تب پرانے عہد نامے میں 22 کتابوں کو شمار کیا اور 12 نبیوں کا حساب ایک کتاب میں کیا۔
ایتھنیس ایسٹر لیٹر 39 باب 4 صفحہ 552۔
افرائیم دی سائیرین ( 350-378 م)
بیسل آف کیپیڈوکا ( 357-378 م)
سائیریل آف سکندریہ
سائریل آف یروشلیم (c 349-386 م) یہ نبیوں کی کتابوں کا ذکر کرتا ہے بارہ اور دوسروں کا بھی۔ ملاکی 3: 8 ؛ یوایل 2: 28 میں بھی ایسے ہی حجی 2: 4 ایسے ہی ذکریا میں بھی 1: 6 میں ذکر آیا ہے پاسبانی لیکچر 16۔29 صفحہ 122۔
ایمبروز آف ملین ( 370-390 م)
گریگری نازینیزن ( 330-391 م)
پیسین آف بارسلونا ( 342-379/392 م) یوایل نبی کی طرف اشارہ کرتے ہیں ( لیٹر 3 باب 16۔2 صفحہ 58۔
گریگری آف ناسیا (c356-397م)
ڈیڈیمس دا بلائنڈ ( 398 م) یوایل کا حوالہ 2: 15-17 دیتا ہے کمنٹری اون ذکریاہ 12 صفحہ 305۔
سیریک بُک آف سٹیپ۔( لیبر گریڈم) ( 350-400 م) یوایل کا حوالہ دیتا ہے 2: 28 (اور اعمال 2: 17 )
سیریک ایڈیٹرز کا پیش لفظ صفحہ 4
روفِنس( 374-406 م)
جیروم (373-420 م)
جان کرسٹوم (-407م) نے یوایل کا ذکر کرتا ہے ۔ یوایل 2: 16 ۔ یوایل والیم 1۔9 کنسرنگ دا سٹیٹس ہیوملی 3۔9 صفحہ 358۔
دی پلیجن تھیوڈور آف مسوپتامیہ۔ (392-423/429 م) اس نے یوایل کی کتاب کی کمنٹری لکھی ۔ آگسٹین آف ہپو ( 388- اگست 28، 430م) اس نے سٹی آف گاڈ بُک میں عاموس، ملاکی، ہوسیع، یوایل، کا ذکر کیا۔ جان کیسن ( فادر آف سیمی۔ پیلے جینزم) ( 430-419 م) تھیوڈرٹ آف سائرس۔ (423-458 م)
سوال: یوایل کی کتاب میں عبرانی اور یونانی ترجمے میں کیا فرق ہے؟
جواب: دی اکسپوزٹرز بائبل کے مطابق کمنٹری والیم 7 صفحہ 235 LXX سپٹواجنٹ ،اور یونان ویلگیٹ ترجمہ ایم ٹی سے لیا گیا ہے۔ اور اس قسم کے دوسرے ۔ یوایل کی کتاب کا کچھ حصہ وادی مراتب سے ملا ہے۔ جو روایتی طور پر ایم ٹی سے ملتا ہے۔ مسیح سے تھوڑا سا پہلے اس میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے۔ 1: 5، 8، 18؛ 2: 12؛ اور 3: 1 میں ہوا ہے۔
اگرچہ یہ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے جبکہ میسورٹیک کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے۔ یہاں پر میسورٹیک ٹیکسٹ ان آیات پر غور کرتے ہیں 1: 1-1: 18۔
یوایل 1: 1۔ "فتوایل " بمقابلہ " بیتوایل"
یوایل 1: 10 " تباہی" بمقابلہ " سب کچھ ختم ہو گیا"
یوایل 1: 2 " بیٹے" بمقابلہ " بچے"
یوایل 1: 5" تمام مے کے متوالے" بمقابلہ " آپ تمام نئی مے کشی کریں"
یوایل 1: 5 " نئی مے کے لیے چلاؤ یہ تمہارے منہ سے چھین لئی گئی ہے" بمقابلہ " خوشی ان کے منہ سے چھین لی گئی ہے"
یوایل1: 7 " شیرنی" بمقابلہ " شیر کے بچے"
یوایل1: 7 "انجیر کا درخت " بمقابلہ " میرے انجیر کے درختوں کو توڑ ڈالا"
یوایل 1: 7 " تاکستانوں کو اجاڑ ڈالا" بمقابلہ" اور میرے انجیر درختوں کو توڑ ڈالا"
یوایل 1: 7 " انہوں نے میرے تاکستانوں کو اجاڑ دیا " بمقابلہ " میری مے کو تلاش کرو"
یوایل 1: 8 " دوشیزہ کی طرح ماتم کریں" بمقابلہ" اور زیادہ ماتم کریں جس طرح دلہن اپنے شوہر کے دکھ میں کرتی ہے"
یوایل 1: 9 " سب کچھ ختم ہو چکا" بمقابلہ "ختم کر دیا گیا"
یوایل 1: 9 "کاہنو ماتم کرو" بمقابلہ "خداوند کے خدمت گار کاہنو ماتم کرو"
یوایل 1: 10 "روغن کے درخت گئے " بمقابلہ " روغن کم ہو گیا"
یوایل 1: 11 "کسانوں شرمناک ہو کر دردناک آواز میں چلاو" بمقابلہ "کیونکہ کسانوں کے کھیت تباہ ہو گئے"
یوایل 1: 11 "اُنکے کھیت" بمقابلہ " انکے کھیت تباہ ہو گئے"
یوایل 1: 12 "انجیر کے درخت " بمقابلہ " انجیر کے درختوں"
یوایل 1: 12 "آدمزاد سے خوشی جاتی رہی" بمقابلہ " کیونکہ بنی آدم کے چہروں سے جاتی رہی "
یوایل 1: 13 "ٹاٹ اوڑھ کر رات گزاریں" بمقابلہ " ٹاٹ اوڑھ کر سوئیں"
یوایل 1: 15 "افسوس" بمقابلہ " افسوس افسوس"
یوایل 1: 15 "تباہی قادر مطلق کی طرف سے تھی " بمقابلہ " مصیبت پہ مصیبت"
یوایل 1: 16 "کیا روزی کو موقوف کردیا " بمقابلہ " تمہارا گوشت سٹر گیا"
یوایل 1: 17 "بیج ڈھیلوں کے نیچے سٹر گیا۔ غلہ خالی خانے میں پڑا خراب ہو گیا اور کھتے توڑ ڈالے گئے" بمقابلہ " نچھیا شروع ہو گئے انکے خزانچی خزانے تباہ ہو گئے اس نے مے کو ختم کر دیا"
یوایل 1: 18 "جانور کیسے کراہتے تھے گائے بیل کے پریشان ہین " بمقابلہ " ہم نے اپنے لیے کیا جمع کیا؟ اس لیے تمام مویشی ماتم کرتے ہیں "
یوایل 1: 18 " مصیبت" بمقابلہ " تباہی آتی ہے"
یوایل 2: 2"گہرا اندھیرا" بمقابلہ " دُھند"
یوایل 2: 2 " لوگ" بمقابلہ " لوگ پہاڑوں پر پھسل کر ماتم کریں گے"
یوایل 2: 3 "باغ عدن" بمقابلہ " بہشت کی روشنی "
یوایل 2: 4 "ڈوڑ " بمقابلہ "پیچھا کر"
یوایل 2: 6 "سب کے چہرے فق ہو گئے " بمقابلہ "انکے سب چہرے کالے ہوگئے"
یوایل 2: 8 "وہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے الگ نہیں لگتے وہ جنگی ہتھیاروں سے گزر جائیں گے"
یوایل 2: 11 "دہشت" بمقابلہ " جلال"
یوایل 2: 11 "یہ روکو" بمقابلہ " یہ مزاحمت کرتا ہے"
یوایل 2: 15 "بچوں اور شیر خواربچے جمع ہوں " بمقابلہ " شیر خوار جمع ہوں"
یوایل 2: 17 "اُمتوں کے درمیان ایک ضرب المثل ہے" بمقابلہ " اور دوسری قومیں حکومت کریں"
یوایل 2: 18 " رسوائی نہ ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا نے اپنے لوگوں پر ترس کھایا" بمقابلہ " کیا وہ رسوا نہ ہوئے تھے خدا نے اپنے لوگوں کو بڑھایا۔