حجی میں سے بائبل کے سوال
سوال: حجی میں ہم اس پیغمبر اور اس کتاب کے متعلق کیا جانتے ہیں؟
جواب: اس کتاب میں جو کچھ بتایا گیا ہے اسمیں حجی کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں جانتے ۔ اسکے نام کا مطلب ہے خوش وخرم یا تہوار اور وہ کچھ جو اس نے اور زکریا نے عزرا 5 باب ایک آیت اور چھ باب 14 آیت میں ذکر کیا ہے۔ اس سے کہ حجی کے نام کا مطلب تہوار ہے شاید حجی یہودیوں کی چھٹی کے دن پیدا ہوا تھا۔ ۔حجی کا حوالہ زکریا 8 باب 9 آیت اور عبرانیوں 12 باب 26 میں ہے۔ صرف پچاس ہزار یہودی پانچ سو اڑتیس قبل مسیح واپس آئے انہوں نے ہیکل کی تعمیرشروع کی یا دو سالوں تک اور پھر کام روک دیا۔ اور اب اٹھارہ سال بعد ابھی تک ہیکل کا کام رکا ہوا تھا جو تعمیر نہ ہوئی تھی۔ پہلا پیغام نئے چاند کے تہوار پر گنتی 10 باب 10 آیت میں ہے ۔ خدا کے لوگوں کو ترغیب دیتا ہے جہنوں نے اپنا نقطہ نظر کھو دیا تھا۔ حجی میں ہم خدا اور اسکے لوگوں کے بارےکچھ سیکھیں گے۔ لیکن تعلیمات کی سچائی کتاب کا بڑا مرکز نہ ہے۔ بڑا نقطہ بنایا گیا ہے۔
حجی اور زکریا ہم عصر ہیں اور ان دونوں پیغمبروں کے سٹائل میں دلچسپ متضاد ہے۔ حجی کا سٹائل ہے عام سادہ فہم منتظم اور سیدھا سادا مقابلہ جو علامتی اور روح پرور ہے زکریا کے۔ لیکن خدا مختلف قسم کے انداز استعمال کرتا ہے۔
دو سواکیس چھوٹے پیغمبروں کے بارے میں حجی اور زکریا کا بیان سختی سے ہے جو خدا کے خون کے چھڑسے کاپننے والوں کو ظاہر کرتا ہے۔ جسکا مشن ان لوگوں کے اپنے دلوں کو جن پہ ان کا حق ہے واپس بلانا ہے۔
سوال: حجی میں مین پوائنٹ کیاہے؟
جواب:حجی کی کتاب اس وقت کے بارے بتاتی ہے جو بہترین نہ تھا اس میں دو چھوٹے پوائنٹ ہیں۔
پہلا: لوگ اپنے گھروں کی عمارتیں بنانے میں تو سرگرم تھے لیکن خدا کی ہیکل کو بنانے میں اپنی دلچسپی کو نظر انداز کر چکے تھے۔ سابقہ نیبوں کی طرح حجی ان کو ان چیزوں ( کاموں) کے بارے جو انہوں نے غلط کی تھیں ملامت نہیں کررہا وہ ان کو برائی کے بارے میں ملامت کررہا ہے۔ انہوں نے دنیاوی خیالات میں اپنے آپ کو پھنسا لیا ہے جبکہ خدا کو نظر انداز کررہے ہیں۔
دوسری بات: انہیں اس بات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ پچاس ہزارغریب یہودی اس طرح کی اچھی ہیکل جو سلیمان نے اپنے سونے اور اڑھائی ملین یا بہت سی دوسری چیزوں سے بنائی تھی نہ بناسکتے تھے۔ ہمیں اس بات سے خوش ہونا چاہیے کہ ہمیں خدا کی مرضی کو پورا کرنے کا موقع مل رہا ہے اور ہمیں بیرونی سج دھج کو نہیں دیکھنا چاہیے۔
سوال: حجی میں کتب کی آوٹ لائن کیا ہے؟
جواب: حجی کا مطالعہ تین سطحوں پہ کیا جا سکتا ہے ۔
1 : عمارت خدا کے گھر کی۔
2۔ خدا کی طرف رجوع یا، جب حالات اچھے ترین ہوں پہلا باب اس بات پہ توجہ دلاتا ہے کہ جب خدا کے لوگ خدا کیلئے بہترین نہ ہوں یعنی اسے اچھا وقت نہ دیتے ہوں اور دوسرے نمبر پہ دوسرا بات ظاہر کرتا ہے کہ جب نتائج بہترین ثابت نہ ہوں ہم بے حوصلہ رہتے ہیں۔ عبدیاہ کے بعد حجی پرانے عہد نامہ کی سب سے چھوٹی کتاب ہے۔ اور اسکی اوٹ لائن بڑی واضح ہے۔ حجی کے چار نظریات تھے۔
حجی 1: 1-15 پہلا پیغام ۔ تاخیر کا خاتمہ اور اب خدا کے گھر کی تعمیر (29 اگست 520 ق م) حجی 1 باب ایک آیت سے گیارہ آیت تک مشتمل ہے خدا کا ضبط اپنے برگزیدہ لوگوں کیلئے۔
حجی 2 باب 1سے 9 آیت تک خدا کے گھر کی عظمت (21 ستمبر 520 ق م) حجی2باب 1 اسے4 آیت ہاں ہیکل اتنی اچھی دکھائی نہ دیتی تھی۔ جتنا اس کو جاتا رہا تھا۔
حجی 2 باب 5 سے 9آیت: خدا کی روح موجود رہتی ہے۔ لیکن خدا ایک بار پھر زمین وآسمان کو ہلائے ا۔
حجی باب 2 آیت 10 سے 19: خدا اس کو برکت دے سکتا ھے جو ایک گھاٹی کی طرح ہو اکتوبر 17۔ پانچ سو بیس قبل مسیح)
حجی2باب 10 سے15آیت: مقدوسیت لگنے والا مرض نہیں ھے ناپاکی ھے؟ کوئی فطری امید ان لوگوں کیلئے
حجی 2۔ 16۔ 19 خدا سلیمان سے وعدہ کرتا ہے کہ خدا اپنے لوگوں کے ذریعے اسے کچلے گا۔ حجی 2۔ 20 تا 23 دوبارہ لعنتوں کا آنا(دسمبر 18 520 ق م۔
حجی 2۔ 20 تا 22 غیر قوموں سے کچلنا۔ حجی 2۔ 23زربابل یہویکین کی نسل اور انگوٹھی کی مہر ہے۔
سوال: حجی میں 1: 1 حجی کب لکھی گئی؟
جواب: اس کے مطابق جو کچھ حجی میں لکھا تھا!یہ 520 قبل مسیح ہوگا۔ س درست تاریخ بابلیوں کی تحریریں اور ایران کی تحریریں ھیں جیسا کہ بابلی کرونکل ہے۔ جو ہر واقعہ کی دوست تاریخ واضع کرتی ھے۔ حجی بابلہ اور ایران کی حکومت کے زیر سایہ تھا۔ تاریخ بابلی کیلنڈر کے مطابق تھی نہ کہ پرانے عہد نامہ کے کیلنڈر کے مطابق ۔ اس کی طرح جو اسکے زیر حکومت رہتا ہو۔ حجی بھی غیر معمول ہے اس کے بارے جو اس نے بیان کیا ھے سکول کے ڈھلنے کے بارے جس سے دارا بادشاہ نے بھی اس ختم ہونے والہ حکومت سے سیکھا تھا۔ صفحہ2۔
سوال: حجی 1۔1 میں اس وقت دنیاوی واقعات ہوئے؟
جواب:538 قبل مسیح پچاس ہزار یہودیوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت ملی جب (افسویرس) سارس نے بابل کو فتح کیا۔ 538 قبل مسیح یہودیوں نے 2 سال تک ہیکل کیلے کام کیا اور پھر بند کر دیا۔
530 قبل مسیح سارس جنگ میں مارا گیا۔
522 سے 530 قبل مسیح کیمبیس 11 نے ایران (فارس) پر حکومت کی۔ وہ جابر حکمران تھا جس نے اس بادشاہت کو برباد کیا۔ اس وقت فارس حکومت میں بالکل امن تھا۔ (پکیس فارسیہ) سوائے مصر کی سرکشی کے جس کیلئے کیمبیس نے فلسطین کی فوج کو منسوب کرنے کیلئے اس کی طرف سفر کی۔ فوج کے ہیڈ کواٹر کی طرف۔
522۔ 521 قبل مسیح کیمبیس دھوکے سے مارا گیا۔ اور فارس میں پھر بغاوت ہو گئی آرٹیکسرلکسز( ایک دغاباز جس نے سات مہینے حکومت کی جسکو آج کل تاریخ دان اور یونانی نقلی سمر دس کہتے ہیں۔ اس نے عزرا میں 4۔7۔23 میں عمارت کو روکنے کیلئے خط لکھا۔ 522۔521۔486 قبل مسیح داراجبری حکمران بنا دغا باز کو قتل کرنے کے بعد۔ وہ سائی تھینز اور یونانیوں کے ساتھ لڑا اسے مارتھن میں 490 قبل میں شکست ہوئی۔ (آستر اسکی ملکہ تھی) 520 قبل مسیح میں حجی اور زکریا نے اپنی پیشنگویئاں کیں۔
519 سے 518 قبل مسیح ایرانی فوج نے فلسطین کی طرف سفر اور مصر کو فتح کیا۔ 486۔ 465/464 قبل مسیح زیریکس (قتل ہوا) (بالکل رہاس سورلیس کی طرح عزر 6۔4 میں اور آستر) 464۔ 336قبل مسیح آرٹریکس( نے دغا بازی کو مٹا دینے کی کوشش کی اور وہ اسی نام کا کہلایا) 445 ق م نحمیاہ یروشلم میں شہر دیوارتعمیر کرنے آیا۔
سوال: کیا ہیکل کی تعمیر غیر ملک لوگوں نے روکا یا ان لوگوں کی مردہ دلی کا واقع ہوئی حجی 2۔ 1 میں اس کے الٹ ایک واقعہ عزرا 231۔ 7۔4 بتاتا ہے؟
جواب: دونوں کا ایک کردار تھا۔یہاں واقعات کا تسلسل ہے۔ 1۔ 538 قبل مسیح سارس ایک قانون بناتا ہے؟ جسمیں یہودیوں کو اجازت مل جاتی ہے کہ وہ اپنے گھروں کو جایئں اور ہیکل تعمیر کریں۔ 2۔ 536۔ قبل مسیح میں یہودیوں نے ہیکل کی بنیاد ڈالنا شروع کردی۔
3۔ یہودی دشمن (سامری۔آمونیٹس۔ عرب اور دوسرے) نے بادشاہ کو ایک خط لکھا۔ (جسکا ٹائٹل آرٹیکسریکسز) لیکن جسے نئے تاریخ دان نقلی سمردس 522 سے 521 قبل مسیح پکارتے ہیں۔ ) اس نے ایک فرمان جاری کیا کہ ہیکل کی تعمیر روک دی جائے۔
4۔ 520 قبل مسیح میں (عزرا 1۔ 5) خدا حجی کو استعمال کا کہ وہ لوگوں کو ہیکل کی تعمیر روکنے سے ملامت کرے تاکہ اسے دوبارہ تعمیر کرنا شروع کریں۔ پھر یہودیوں نے تعمیر کا کام شروع کردیا۔
5۔ دشمنوں نے اپنے اٹھارتی کے عہدے داروں سے دوبارہ تعمیر کے بارے سوال کیا۔
6۔ یہودیوں نے اس خط کا اشارہ دیا جو دارا کو سارس بادشاہ کی طرف سے فرمان ملا تھا۔ اور تلاش کے بعد وہ خط مل گیا۔ ستمبر 19۔ 1 اور دانیل 68 کہتے ہیں۔ کہ فارسیوں کے قوانیں منسوخ نہ ہوتے تھے۔
7۔ ہیکل تقریبأ 516 قبل مسیح مکمل ہو گئی تھی۔ دیکھیں جب کریٹک نے 319 میں مزیدمعلومات کے بارے میں پوچھا۔
سوال: حجی 2۔ 1 میں وہ خدا کا گھر بنانے کو نظر انداز کر رہے تھے آج ہم بھی خدا کے گھر کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ پہلا پطرس اور 2 باب 5 آیت کہتی ہے کہ خدا کا گھر عمارت نہیں ہے۔ لیکن ہم ہیں اس کا گھر ہیکل ہمیں کسطرح خدا کے گھر کو نظر انداز کرنا ہے؟
جواب: میں جب سوچتا ہوں کہ مسیحیوں کو ہر کام سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے ہم بغیر سوچے یہ کر سکتے ہیں۔ ایک طریقہ انکی خوشی کھونے کا ہے جو کسی چیز کی عمارت بنانے کا ہو سکتا ہے ۔ لیکن ایک دوسرا ہو سکتا ہے زیادہ سادہ طریقے سے حاصل کرنے کا پس وہ کسی اور چیز کا مرکز بنا ہو۔ یا یہ میوزک ہو سکتا ہے عمارتوں کی تعمیر یا کوئی بھی علم جو کہ خدا کی فرمانبرداری کر رہا ہو ان کی بُلند ترین خواہش سے لمبا۔
سوال: حجی 1: 1-3 میں لوگ کیا غلط کر رہے تھے؟
جواب: یہ وہ نہ تھا جو وہ برائیاں کر رہے تھے لیکن انہوں نے خدا کی خدمت کی بجائے اپنی خواہشات اور تعلقات کو پہلے نمبر پر رکھا ہوا تھا جیسا کہ حجی 3: 1 میں رکھا گیا ہے۔
سوال: حجی 1: 2-4 میں تم کیوں خدا کے لوگوں کو کبھی جوش و خروش اور افسردگی کے بارے سوچتے ہو ؟
جواب: یہ کم از کم چار وجوہات ہو سکتی ہیں۔
خدا پر بھروسہ کا کھو جانا اس کے کام کرنے میں ترقی کرتے رہنا جو کہ ان کی منزل کو پانے والے ہیں۔
انکی خدا کے ساتھ محبت کا پژمردہ ہو جانا اور دوسرا جو کہ اسے آگے بڑھنے کے لیے متحرک کرتا ہے۔ وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ کوشش سخت محنت یا اسکی قربانی جو اس کام کے لیے ہو اس منزل کے لیے اُسے قیمتی بناتا ہے۔
اُمید کو ترک کر دینا اور اپنی ترقی سے بھی حوصلہ ہار جانا۔ وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہمیشہ منزل بناتے ہیں جسکے بارے میں وہ سوچتے ہیں کہ وہ اسکی آمد سے متوقع ہیں۔
اپنی رویا کو کھو دینا وہ تبدیل ہو چکے ہیں اور کسی اور کنزل کی طرف سفر کرنا چاہتے ہیں شاید اپنے جزبات کی تسکین کے لیے۔
سوال: حجی 1: 2-4 میں لوگ عموماً ٹال مٹول کیوں کرتے ہیں لوگ خدا کی مرضی کو پورا کرنے کے لیے ٹال مٹول کیوں کرتے ہیں؟
جواب: لوگوں کی ٹال مٹول کچھ کرنے سے انکار نہیں ہے۔ نہ ہی یہ کوئی بہانہ ہے اچھے وقت تک اسے ملتوی کرنے کا۔ زیادہ وقت ایسا کچھ ہوتا ہے جو کہ زیادہ اچھا نظر آتا ہے یا رب بوہتا محنت طلب نئیں لگدا۔ اور اس طریقے سے حاصل ہوتا ہے کہ کچھ اہم کام کیے جائیں۔
بہت سے کام آج کل بہت تیزی سے نظر آتے ہیں کہ ان کے لیے ڈیڈ لائیز بن چکی ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں بہت اہم ہیں لیکن ارجنٹ نہیں ہیں کیوں وہ یڈ لائن نہیں رکھتے۔ جامع پریس پبلشڈ ایک بہت اچھا کتابچہ ہے اس پہ وہ ارجنٹ کا جابر کہلایا وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب کس طرح اہمیت کا دشمن ہے۔
ایک دوسری تاخیر کی قسم بے کسی کا تجزیہ کرتی ہے یا فیصلہ کرنے میں تاخیر، ایک خاص فیصلہ جس کا کرنا بے آرامی کا سبب تھا ۔
بے حد تک تاخیر اچھی نہیں جسکا فیصلہ کمی کی تصویر ہو یا اسکی بنیاد کا کوئی مواد نہ ہو۔
دوسرے بے حد تاخیر کا اکثر کہنے پہ انتظام ہوتا ہے میرے پاس تمام مواد نہ ہے تحریری طور پر اپنے پاس مواد کبھی نہ ہو گا۔ لیکن اگر آپ کے پاس کافی مواد ہو گا ایسا کہ ملایا ہوا مواد غالباً کبھی بھی فیصلے کی تبدیلی کا سبب نہ ہو گا پھر اب تمہیں فیصلہ کرنا چاہیے۔
متی 33: 6 کہتی ہے کہ پہلے آسمان کی بادشاہی کی تلاش کرو کبھی کبھی لوگ نہیں جانتے کہ خدا ان کے لیے کیا کرنے کا خواہشمند ہے کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی زیادہ اہم چیز ہے۔ لیکن حقیقت میں خدا کی خدمت سے بڑھ کر کوئی چیز اہمیت نہیں رکھتی۔
سوال: حجی 1: 2-4 میں کس طرح کی کچھ رعایت ہے جو مسیحیوں کو ملتی ہیں خدا سے پوری طرح لگاؤ ہوتے ہوئے جب ٹال مٹول کرتے ہیں؟
جواب: یہاں دس تنظیمیں ہیں میں پہلے ہی دہ یکی دیتا ہوں ( پر ویکھو لوقا 21: 1-4 ؛ 2 کرنتھیوں 8: 2-3) ہمیشہ اتنی تفریح ہونی چاہیے۔ پر ویکھو 2 کرنتھیوں 1: 8-9 ؛ فلپیوں 3: 14؛ 1کرنتھیوں 3: 12-15؛ اتے 1کرنتھیوں 9: 23-25)
اگر میں ہر شے خدا کو دے دوں تو میرا خاندان بھوکوں مر جائے گا ( پر ویکھو1تیمتھیس 5: 8؛ امثال 31: 21-25)
مجھے میرے کردار سے زیادہ آگے نہیں نکلنا چاہیے۔ ( ویکھو عبرانیوں 11: 24-26؛ 11: 37؛ 1 تیمتھیس 6: 9-10)
یہ مجھ سے چھپ نہیں سکتی ( ویکھو 1 سلاطین 10: 19؛ ابرہام اور لوط نے غلبہ پایا)
میںکچھ یقین دہانی چاہتا ہوں کہ میرا خاندان محفوظ رہے گا۔ ( ویکھو حزقی ایل 24: 18؛ ایوب 1: 2-3؛ بمقابلہ 42: 12-13 ) پہلے خدا کو جاننا ، میں سچائی سے بہت دور جا چکا تھا خدا مجھے استعمال کرے۔ میں خدا کی رضا سے دور جا چکا تھا( ویکھو یوحنا، پطرس، 2 کرنتھیوں 2: 5-10)
چلتے ہوئے میں اپنے آپ میں اتنا مکمل نہیں ہوں ۔ (ویکھو خروج 34: 1)
اس ہفتے خدا کو خاص طریقے سے عزت دیں۔ کچھ پائیں جو خدا چاہتا ہے کہ تم کرو۔ تم اس بات کو ملتوی کر رہے ہو اب اسے کرنا شروع کرو۔ لیکن اسے ملتوی کر رہے ہو اور ایسا کرنے سے اب رک جاؤ۔
سوال: حجی 1: 2-4 ؛ یوحنا 1: 6-7 ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح تعلق رکھتے ہیں؟
جواب: یوحنا 1: 6-7 کہتی ہے کہ اگر ایک آدمی جانتا ہے کہ خدا ان کے بارے کیا کہتا ہے کہ وہ کریں تو ایسا نہیں کرتا تو وہ گناہ ہے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں کہ لوگ کیوں عام طار پر ایسا لیٹ کرتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ وہ بہت تھکے ہیں۔ دوسرے بات بہت سی چیزیں ہیں ۔ اگر اس خصوصی طور پر نہیں کرتا پھر وہ اسے بالکل نہیں کرتا سارے بہتر کام کو کسی دباؤ کے تحت۔
میل ملاپ کی کمی جو ہمارے آرام کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس ڈیڈ لائن کو نہ دیکھیں۔
اپنے آپ کو اجازت دیں۔ اس کا آغاز کریں۔
( زمین رپ کوئی حجی کو بولنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ سوائے حجی کے ) فوراً نتائج کو نہ دیکھیں جسی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
ہم صرف چاہتے نہیں، ہم کافی خوشی اور فائدے کو نہیں دیکھتے۔ ضود ضبطی کی کمی جو یہ کر رہی ہے جو آپ کو بہترین لگتا ہے چاہے آپ اس کو پسند کریں یا نہ کریں کامیابی کی کمی کا خوف۔
سوال: حجی 1: 3-4 میں، تم کیوںسوچتے ہو کہ خدا نے پہلے سزا دی اور بعد میں وضاحت کی کب وہ اکثر متضاد کرتا ہے؟
جواب : خدا سرکش یا جاہل کو نشانوں کے ذریعے تنبیہ کرتا ہے اور پھر سزا دیتا ہے اگر وہ توبہ نہ کریں تو۔ لیکن یہاں نافرمانی کی دو بُری وجوہات ہیں نشان اور دیر کرنا۔ لوگ پہلے ہی جانتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ ان کو نشان نہ دکھائے جاتے تھے یا اسے کھلم کھلا نہ چاہتے ہوئے بھی کرنا پڑتا تھا۔ لیکن ان کے منصوبوں کو دیر سے مکمل ہونے دیا جاتا تھا۔ خدا نے ان کو بُرے نتائج دکھائے کیونکہ وہ پہلے ہی جانتے تھے کہ انکو کیا کرنا چاہیے۔
خدا نے نافرمانوں کے لیے سزا کو مقرر کر دیا۔ انہوں نے اپنے کاموں کے لیے اپنے آپ کو مسروف بنا لیا کہ انکے پاس خدا کے لیے وقت نہ تھا۔ اس لیے خدا نے انکے کاموں میں سے برکت کو نکال لیا۔
سوال: حجی 1: 4 میں پینلڈ ہاوس کیا ہے؟
جواب: کچھ سکالروں کا خیال ہے یہ ایک مہنگا اور آرام گھر تھا جسکے دروازے پر کا حاشیہ لکڑی کا تھا۔ دوسرے کہتے ہیں اس کا مطلب صرف ایک چھت کے ساتھ مکان کا ہے لیکن اگر اس کا مطلب بعد میں یہ ہوا پھر یہ جگہ بائبل میں صرف کیوں ہے جہاں لکھاری نے ضرورت محسوس کی کہ وہ اسے ایک چھت کے ساتھ کمرہ کہے۔
سوال: حجی 1: 5، 7؛ 2: 15، 18 ( دو دفعہ) ہم اپنے طریقوں کو کیسے سوچ کر بدل سکتے ہیں؟
جواب: ہم خدا سے دعا کے ستھ یہ کہنا شروع کر سکتے ہیں کہ وہ ہمیں ہماری چھپی ہوئی کمزوریاں دکھائے اسی طرح وہ ہمارے چھپے ہوئے گناہ یاد دلائے۔
ہم سٹاک کر سکتے ہیں اگر ہماری خواہشات ، خیالات اور منصوبہ جات ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔ اور ہمارا خاندان خدا کی طرف ہے اور زیادہ یسوع کی طرف ڈھلتے جائیں یا دور ہوتے جائیں۔
ہم سوال کر سکتے ہیں اگر کوئی چیز لازمی ہے ہم انہیں کیے بغیر چھوڑ رہے ہیں۔ محض معمولی چیزوں کے لیے عام طور پر۔ ہم کچھ مشورہ دے سکتے ہیں ہمارا وقت جہاں ہم نے سربراہ کے طور پر یا برتر کے طور پر ہوں پیسے اور کوشی یا جہاں ہمارا دل ہے۔
سوال: حجی 1: 5-7، 11، 16-17 میں، خدا کبھی کبھی اپنے لوگوں کے برکت کا انتخاب نہیں کرتا؟
جواب: اس سوا ل کا جواب برا سبق ہے اس کتاب کا یعنی حجی کا جب خدا کے لوگوں کو ان کی مرضی کے مطابق عزت نہیں مل رہی ہوتی ارو انکی مکمل تابعداری نہیں ہو رہی ہوتی تو خدا ایسے حالات کا انتظام کرے گا جس سے انکی فرمانبرداری کو حوصلہ ملے۔ بالکل ہم پنے بچوں کے نظم و ضبط کے لیے ایسا ہی کرتے ہیں نظم و ضبط ایک ہمیشہ کی جسمانی سزا نہیں ہوتی۔ سزا کی قسم خدا استعما ل کرتا ہے یہاں لوگوں کے لیے ان کو بُلا کر کبھی کبھی لوجیکل نتائج کا اصول" اپنایا جاتا ہے۔
سوال: حجی 1: 9-11 میں، اس پہرے کا نامعمول کے مطابق کیا خدوخال ہیں؟
جواب: یہ ایک خواندگی کا آلہ ہے جو چیا سم کہلاتا ہے
حجی 1: 9a-b خدا نے ان کو ضبط دیا ۔
۔۔ حجی 1: 9c۔eکیونکہ خدا کا گھر برباد ہو چکا تھا۔
۔۔ حجی 1: 10a آپ کے لیے۔
حجی 1: 10b-11خدا نے انہیں منظم کیا۔
سوال: حجی 1: 10-1 میں شبنم کا ذکر کیوں ہوا بجائے بارش کے؟
جواب: بحالی کے موسم گرما اپریل تا اکتوبر تک اسرائیل میں کوئی بارش نہ ہوئی۔ لین غیر معمولی شبنم ۃوا کے ذریعے سمندری خطہ سے آئی۔ اس کے لیے شبنم بہت ضروری تھی گرماتی فصل کے لیے۔ خدا نے خشک سالی بھیجی نہ کی شبنم کیونکہ اس کا گھر ویران پڑا تھا۔ اس نےلوگوں کی یادداشت کو کمک کے لیے وجہ جو سزا کی ہے، اس میں ابہام کا استعمال کیا ہے۔
یقعوب 4: 17 کہتا ہےکہ ایک راستباز کی دعا میں قوت ہے اس کے لیے وی ایک مثال ایلیاہ کی پیش کرتا ہے جسکی وجہ سے بارش نہ ہوئی۔ ان لوگوں کی دعا جو بارش کے لیے تھی کچھ نہ کر سکی کیونکہ یہ خدا کے ساتھ مکمل وابستگی نہ تھی۔ یعقوب 1: 7-8 کہتی ہے کہ دا دلا آدمی یہ نہ سوچے کہ اُسے خدا سے کچھ ملے گا۔
سوال: حجی 1: 13 ؛ 2: 4 کہتی ہے میں تمہارے ساتھ ہوں " خدا کہتا ہے حجی 2: 5 اور 2: 19 بھی خدا کی ایسی ہی تعمتوں کا وعدہ کرتی ہیں یہ سب کے لیے بہترین رحمت کس طرح ہے؟
جواب: ایلیاہ جانتا تھا جواب 1 سلاطین 19: 11-13 خدا نے اسے فطرت میں مختلف قوتیں دکھائی تھیں لیکن ایلیاہ جانتا تھا کہ خدا کی حضوری ان میں نہ تھی اور ایلیاہ نے خدا کی حضوری کو بُلایا۔ جب ہم مطمن نہیں ہوتے ظاہر چیزوں میں لیکن ہم اپنے آپ کو خدا کی حضوری میں دے دیتے ہیں خدا ہمارے ساتھ وہاں ہوگا۔ اس کا وعدہ ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہو گا بہت قریب سے ذاتی طور پر یہ بہترین وعدہ سب کے ساتھ ہے۔
سوال: حجی 1: 14 میں، خدا کیسے کسی روح کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے؟
جواب: خدا ان بُری طاقتوں کو ختم کرتا ہے جو اسکی روح کو مدہم کرتی ہے وہ ان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے اسے نیا محبت بھرا دل عطا کرتا ہے۔ انکی اُمید کو بلند کرتا ہے اور اپنی رویا اسے دیتا ہے خدا دونوں طرح کی کمک منفی اور مثبت جو ضروری ہو عطا کرتا ہے۔
حجی کے وقت انہوں نے 23 میں عمارت شروع کی اس نے انہیں وقت دیا کہ وہ پہچانیں اور فصل کی کٹائی ختم کریں جس میں جَو، انگور اور انار تھے۔
وہ محسوس نہ کر سکتے تھے انکے پاس بہت سے ذرائع تھے لیکن عزرا 6: 8، 9 کہتی ہے کہ بادشاہ دارا نے بھی انہیں پیسے دئیے عزرا 6: 15 کہتی ہے یہ 4 سال بعد ختم ہوا۔
سوال: حجی 2: 1 میں، بچے ہوئے لوگوں کے متعلق کیا فرمان ہے جو بامعنی ہو جو ابھی باقی تھے؟
جواب: سلیمان کے وقت اسرائیل ڈیڑھ بلین سے زیادہ تھے، لیکن اس وقت صرف پچاس ہزار یہودی گھر واپس آئے یہ چند منفرد آدمی تھے جن کے پاس ہیکل تعمیر کرنے کے لیے بہت کم ذرائع تھے ۔ ایک خاص نقطہ ان کا رویہ تھا جب وہ ان کی ہیکل سے جسے وہ بنائیں گے منعکس ہو گا۔
ایک شرعی تفسیر: حجی ، زکریاہ، ملاکی صفحہ 37 کہتی ہے کہ بچے ہوئے لوگ چنی ہوئی کمیونٹی کے نہ تھے لیکن معنی خیز لوگوں کی آبادی بابل سے واپس آ گئی تھی۔
سوال: حجی 2: 1-4 میں، ایک خواہش کبھی کبھی کامیابی کے لیے ناکام ہوتی ہے ٹال مٹول کے ذریعے؟
جواب: کبھی کبھی لوگ ٹال مٹول کرتے ہیں کیونکہ انہیں بالکل مزید ناکامی کا خطرہ مول نہی لینا چاہیے۔ بالکل آزادنہ کچھ کام جو خدا ہم سے چاہتا ہے کہ ہم کریں اگر انہیں ٹھیک طریقے سے نہیں کرتے عاجزانہ طور پر اور فرمانبرداری سے اور خدا کی مدد پر بھروسہ کریں توہم ناکام ہونے سے بچ جائیں گے کم از کم دنیا کی نظروں میں۔
حجی کے وقت لوگوں نے اپنی آسودگی کے وقت کو کامیابی کے لیے جج کرنے کو ترک کر دیا اور حجی کے اصرار پر انہوں نے کسی طرح سے تعمیر شروع کی۔ دوسرے پیغام کے موقع پر 17 اکتوبر 520 ق م عیدکے ساتویں دن خیمے دو طرح سے نشاندہی کرتے ہیں۔
1۔ یہ ٹھیک 440 سال پہلے 960 ق م جس ہیکلکو سلیمان نے مخصوص کیا جو اس 1 سلاطین 6: 38 اور 8: 2 میں بنائی ۔
2۔ یہ ایک مہینہ لیٹ تھے اس لیے وچ کچھ نتائج دیکھ سکتے تھے پہلے ہی۔ عزرا 3: 10-13 میں فرمایا گیا ہے کہ کچھ لوگ رو پڑے اور کچھ خوشی سے چلا اٹھے ان میں کچھ بزرگوں کو پہلی ہیکل کی یاد آ گئی غالباً ۔آیا کہ یاد آئی یا نہ آئی نئی ہیکل انکی کامیابی ہو گی۔ اس بات پر انحصار کرتے ہوئے کہ آیا آپ لوگوں سے جج ہو رہے ہیں یا خدا کے معیار پہ۔
سوال: حجی 2: 1-4 میں، لوگوں نے کس طرح مناجاتیں کیں جب حالات اُسی طرح اچھے نہ ہو رہے تھے جسطرح ان کے تھے؟
جواب: عزرا 3: 10-13 کہتی ہے کہ کچھ لوگ خوش ہوئے لیکن دوسرے چلائے۔ اگر آپ چرچ صرف دکھاوے کے لیے آتے ہیں پہلے یا بعد میں یا تو آپ مایوس ہونگے یا اس کام کو ترک کر دیں گے جہاں ہر شے صرف دکھاوا ہے۔ یہ دکھاوے سے زیادہ متصل ہو گا۔
سوال: کیا حجی 2: 1-4 میں خدا کی مایوسی کو دکھا تا ہے جس حصے میں یہ ظاہر کیا گیا ہو کہ ہیکل سلیمان کی ہیکل کی طرح خوبصورت نہ ہے؟
جواب: کسی طرح سے بھی نہیں ۔ یاد رکھیں سلیمان نے بھی ایک پیاری ہیکل بنائی یہ لوگ نمونے کے طور پر یہ پیاری ہیکل نہ بنا رہے تھے۔ ایک سادہ اور خالص ہیکل بن رہی تھی۔
سوال: حجی 2: 1-4 میں کبھی کبھی فطری طور پر مختلف منسٹریوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے لیکن جب ہم کو نہیں کرنا چاہیے اور کسے ہمیں کرنا چاہیے؟
جواب: یرمیاہ 45 باب میں باروک کا صحیفہ ایک کامل یقین رکھنے والا تھا یرمیاہ کی منسٹری میں یرمیاہ آئندہ کی صدیوں میں ایک معمور پیغمبر تھا ۔ لیکن اس کے وقت میں ایک واحد آدمی بھی توبہ کرتا ہوا نظر نہیں آتا ہمیں نتائج کا جائزہ نہیں لینا ہے۔ پیسوں کی رقم نہیں لی جاتی یا چمک۔
لیکن ہم دیکھ سکتے ہیں اور دیکھنا چاہیے اس پر اگر وہ حقیقت میں مضبوط ہیں اور مشق میں اور آیا کہ جو کچھ خدا نے مسیحیوں کو کرنے کو کہا ہے وہ کر رہے ہیں یا نہیں۔
سوال: حجی 2: 1-4 میں، اس ہیکل کو کسی چیز کی کمی نہ تھی لیکن یہ سلیمان کی ہیکل کی طرح کی رب کی مرضی نہ تھی۔ کس طرح کچھ مسیحی خدا کی تنبیہ کو لے رہے ہیں۔ لگاؤ کس طرح خدا کی خوشخبری کو اپنا فوکس کھوتے ہوئے اپنی خوشخبری پر؟
جواب: ڈینومینیشن اور مسیحی تنظیمیں دو طرح کے مقاصد رکھ سکتی ہیں پہلی قسم کا مقصد خدا گروپ کے لیے خواہش کرتا ہے۔ دوسری قسم اضافی مقاصد کی جو لوگں نے ایجاد کی ہیں۔ سلیمان کے وقت کے لوگ بھروسہ کر سکتے تھے کہ خدا ہی سچا دیوتا ہے کیونکہ یروشلیم میں عظیم ترین ہیکل تھی جو بہترین اور اردگرد سے سونے سے سجی ہوئی تھی یہ سب غلط وجوہات تھیں جن سے مطمن ہوا جائے۔ یہ ایک اچھی منزل تھی جو ہیکل کی سج دھج تھی۔ لیکن یہ نئی ہیکل تھی جو سج دھج سے دور ہو رہی تھی سونے سے شاندار بلندی سے اور دوسری چیزوں سے۔ جونہی ہم اس کی بہت بڑی خوبصورت فنی تعمیر دیکھتے ہیں۔ یورپ کے کتھیڈرل توں ہمیں اٹھارہویں صدی کا مشنری وقت یاد آ جاتا ہے ۔ ایک حیرانی کی بات جو کہ ہو چکی تھی پیسے اور کوشش اصل چرچ بنانے کی بجائے ختم ہو گئے ہوں جیسا کہ زیادہ بشارت اور شاگردیت سے۔
ہم سوچ سکتے ہیں کہ خدا کی بہت خدمت کرنے میں سج دھج کی ضرورت ہے اور ہم کریں گے اگر ہم اپنی قوت اسکی خدمت میں صرف کر یں گے۔ لیکن ہم یسوع سے جدا ہو کر کچھ نہیں کر سکتے جیسا کہ پولس نے سکھایا ہے 2 کرنتھیوں 12: 10b میں۔ جب میں کمزور ہوتا ہوں پھر ہی میں مضبوط ہوتا ہوں۔
سوال: حجی 2: 4 میں، کیوں اشارہ دی گیا کہ بزرگ نام یشوع کو مضبوط ہونے کا اور کس طرح مسر سے بارہ نکلنے کا اور اسی طرح رہنےکا حجی 2: 5 کیسے یہ حکم حقیقی طور پر قیمتی وعدہ تھا؟
جواب: خدا ایک ہی استعارہ استعمال کر رہا ہے جو اس نے یسوع کو یسوع کی کتاب میں بتایا۔ اور ہمیں جرات مل سکتی ہے یہ یاد کر کے کہ خدا نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے اور ماضی میں اپنے لوگوں کے ساتھ ۔ سطحی طور پر خدا اُسے صرف کم دے رہا تھا کہ وہ مضبوط ہو جائے لیکن خدا بالواسطہ کہہ رہا تھا کہ خدا اسے بہادر بنا سکتا ہے پرانے یشوع اور موسیٰ کی طرح اور ہارون کی طرح۔ جس نے نبی اسرائیل کو مصر کی غلامی میں خوراک دی اور فرعون کی فوج کو شکست دی کسی مدد پہنچنے کے بغیر بنی اسرائیل کو کسی طرف سے بھی جو سوائے خدا کے تھی۔ ایک طرف سے یشوع کے ساتھ نہ اس کا باپ یہودک بابل کی گرفتاری میں گیا۔ ( 1 تواریخ 6: 15)
سوال: حجی 2: 5 اور یسعیاہ 41: 10 میں، خدا نے لوگوں کو بتایا کہ نہ ڈریں کون سی چیز ہے جو ان کو پریشان کر سکتی تھیں؟
جواب: جب کچھ دنیاوی چیزیں بہت سی ہیں جو ان کو دور لا سکتی ہیں یہ کم از کم تین طرح کی ہو سکتی ہیں۔
اردگرد کے لوگوں کا خوف : سامری ، امونی اور عربی کوش نہ تھے جو نحمیاہ کے وقت ہیکل کو تعمیر کر رہے تھے اوہ نہ ہی وہ حجی کے دور میں ہیکل کو تعمیر ہوتا ہوا پسند کرتے تھے۔
خوف کہ خدا ان کو واپس نہ لے جائے گا: 70 سال پہلے لوگ بہت نافرمان ہو گئے تھے جن کو خدا نے بابل کی اسیری میں دے دیا تھا۔ صرف چند فیصد لوگ واپس آئے۔ یہاں کچھ سوال ہو سکتے ہیں؟ اگر خدا مزید ان کو روکنا چاہتا۔ خدا کا وعدہ ان کے ساتھ تھا حجی1: 13؛ 2: 4 اوریسعیاہ 41: 10 ان کے لیے قیمتی تھا۔ اگر ایک مسیحی آج گرتا ہے مرد یا عورت خدا ن کو جو آج برگشتہ ہو جاتے ہیں اگر خدا ان کو واپس لے جاتا ہےتو وعدہ جھوٹا ہوتا ہے اور پھر آج بھی یہ خراب ہے ابھی تک درحقیقت اگر کوئی توبہ کاتا ہے تو یہ روح القدس کی تحریک ہوتی ہے کہ وہ توبہ کریں اس سلسلے میں وہ انہیں واپس لے آتا ہے۔
خوف تھوڑی سی قوت کا قیامت کے وقت کا: خدا نے یہودیوں کو بتایا کہ وہ ایک بار پھر زمین و آسمان کو ہلائے گا سمندر اور خشک زمین کو حجی 2: 6 میں ایک دفعہ پھر یاد دلایا گیا ہے خروج 19: 16 میں جب خدا نے موسیٰ کے زمانے مین چیزوں کو ہلایا یسعیاہ 41: 1 کہتی ہے کہ اس لیے خوف نہ کھاؤ کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ حوصلہ نہ ہارو میں تمہارا خدا ہوں میں تمہیں طاقت دوں گا اور تمہاری مدد کروں گا۔ میں تمہیں اپنے دائیں ہاتھ سے سنبھالوں گا۔ ( این آئی وی)
حجی 2: 6-7 میں، زمین و آسمان کب ہلائے جائیں گے؟
جواب: جب یسوع زمین پر موا سورج تاریک ہو گیا۔ متی 27: 45-46 ؛ مرقس 15: 33 ؛ لوقا 23: 45 اور زلزلہ آیا ( 27: 51-52) غیر مسیحی فلسطینی تاریخ دان تھالز (52 م) نے ریکارڈ کیا کہ اندھیرے کا تعلق یسوع کے مصلوب ہونے سے تھا۔ زمین زلزلے کے ایڈیشن میں یسوع کی مجوت ان مردہ لوگوں میں جانا اور زندہ ہونا نے حقیقت میں ہر چیز کو روحانی طور پر ہلا دیا۔
سوال: حجی 2: 7 میں، کون حقدار ہے پوری قوموں کا؟
جواب: کچھ ابتدائی عبرانی گرائمر اور پھر دو خیال۔ عبرانی لفظ خواہش ( ہمدت) ایک واحد مونث ہے (u،ba) ایک جمع کے طور پر آئے گا۔ خواہش جمع ہے ( حمادت) کا جو کہ ایک ہی طرح کے حروف علت رکھتا ہے۔ عبرانی درحقیقت حروف علت کے بغیر لکھی گئی۔
والٹ قیصر بائبل دے ہارڈسینگ وچ صفحہ 341-342 میں اشارہ کرتا ہے کہ جب واحد جمع کی ضرورت ہوتی ہے ایک ملتی جلتی تعمیر کا حوالہ دیتا ہے ساؤل کو جب اسرائیل نے خواہش کی1 سیموئیل 9: 20 میں ایک میل بت تیموز کے لیے۔ ایک اور خواہش ایک عورت کی ہے دانی ایل 11: 37 میں۔ واحد شکل میں ۔ دانی ایل 9: 23 اتے 10: 11، 19 اب یہاں تین خیالات پیش کیے جاتے ہیں۔
1۔ خواہش کی جاتی ہے کہ ایک مسیحا ہے: ابتدائی مسیحی نے اس کو اسطرح پیش کیا ہے ۔ جب سے ساؤل کو مادہ شکل کا حوالہ دیا گیا۔ تیموز اور دانی ایل نے اسے سابقہ قرار دیا یہ کچھ نہیں ہے یسوع کے حوالہ کے لیے۔ یہ متن حجی مکمل طور پر پر درست قرار دیتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جب یہ ہیکل اس وقت تک نظر نہ آتی تھی سابقہ کی طرح یہ بہتر ہو گی کیونکہ یسوع اس نئی ہیکل میں داخل ہو گا ( ایک طرف یسوع کے وقت کی ہیکل ہیرودیس کی ہیکل کہلاتی تھی۔ اس لیے نہیں کہ ہیرودیس نے نئی ہیکل کی عمارت بنائی تھی لیکن اس لیے کہ اُس نے اس کو مقرر کرنے کے لیے پیسے دیے تھے۔
2۔ دولت ایک خواہش قوموں کا خزانہ: یہ بات واحد مادہ اسم کی پیروی کرتی ہے۔
3۔ لوگ تمام قوموں کے یہ خواہش کرنے آئیں کہ وہ ایک قوم بن جائیں۔
سوال: حجی 2: 7 میں، آپکا کیا خیال ہے کہ قوموں کی خواہش مشنری ہے یا نہیں؟
جواب: سکالروں کے مختلف خیالات ہیں۔
ہاں: کچھ یہودی ربی اور جیروم اسے مشنوں کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔
نہیں: تقریباً تمام قوموں کی خواہش تقریباً مشنری نہیں ہے۔
دونوں: دونوں کے لیے واحد لفظ آئے گا اس لیے یہ واحد خواہشات ہیں/ دولت لیکن یہ کہتی ہے یہ آزادی کھونے اور دونوں دولتوں ور مسیحا کا حوالہ دیتی ہے۔ یہ سوال باقی ہے دوسرے سکالروں سے۔
سوال: حجی 2: 7 میں، ی گھر کب عظمت سے معمور ہو گا؟
جواب: اس کا تعلق خدا کے بیٹے یسوع کا ہیکل میں داخل ہونے سے ہے جب وہ زمین پر آ۴ے گا۔
سوال: حجی 2: 9 میں، آپ کیوں سوچتے ہیں خدا نے کہا کہ وہ یروشلیم میں امن قائم کرے گا ؟
جواب: یروشلیم امن و سلامتی کا گہوارہ رہا ہے لیکن مسیحا امن کا شہزادہ خدا اور انسان کے درمیان صلیب پر امن قائم کرے گا۔
سوال: حجی 2: 3، 7، 9 میں، ہیکل کی عظمت کیسے سلیمان کی عظمت سے زیادہ ہو گی؟
جواب: یسوع اس ہیکل میں آیا کچھ چیزیں زیادہ تعلق رکھتی ہیں شان دار ہونے سے مادی اشیاء جیسے سونا۔ جبکہ خدا مادی اشیاء سے زیادہ لوگوں سے تعلق رکھتا ہے۔
سوال: حجی 2: 9 میں، بڑے ہرودیس نے اسے کس طرح استعمال کیا؟
جواب: عظیم ہیرودیس نے ذکر کیا کہ اسے 60 فٹ کم کر دیا جائے۔ سلیمان کی ہیکل سے اور اس طرح اچھی نہ ہو۔ اس نے یہ اسوقت کہا جب اس نے اپنی تقریر کی کہ اس نے یہودیوں کا تعاقب کیا ہیکل کو نئے سرے سے تعمیر کریں اس کی پہلی شکل میں اس لیے ہیکل زیادہ عظمت پائیں (جوزفس انٹی کواٹیز یہودیاں کی کتاب 15 باب 11-1 صفحہ 334)۔
یہ نہ تھا کو خدا کا مقصد تھا جب اس نے کہا کہ اسکی عظمت اج سلیمان کی ہیکل سے زیاد ہ ہو۔
غیر روحانی کوشش منسٹری کو کامیاب بنانے کے لیے حقیقت میں ایک منسٹری کو رجسٹر کروانے کے لیے اس مقصد میں کامیاب ہوا جا سکتا ہے۔
سوال: حجی 2: 11-14 میں، یہاں کیا اشارہ ہے صاف اور نا صاف کے متعلق؟
جواب: کوئی صفائی کو خالص پن سے سوچ سکتا ہے اور نا صفائی کو گندگی کی طرح۔ ایک نذر کی ہوئی چیز کا ایک عام چیز کے ساتھ ٹکراؤ دونوں کو آلودہ کردے گا۔
پھر خدا نے حجی کو بتایا کہ اس کے لیے تمام لوگ آلودہ ہو گئے ہیں۔ صرف تین درخواستیں ہیں جس میں ہم یہ پیرا سیکھ سکتے ہیں۔
پیرا۔
1۔ تم بری یا اچھی چیزوں کو اکٹھا برابر گن نہیں سکتے ہو۔ اور سوائے ان چیزوں کے جو خدا کی نظر میں نا ہموار ہیں کچھ لوگ انہیں خطا کے کیالات کہتے ہیں کسی شریر بھوت کے خیالات۔بزرگوں کے قصوں تک شریر خیال جو کہ ایک بُرا کام ہے اُسے اچھے کام کے برابر کر دیا جائے۔ ( جیسا کہ ایک حصہ دیا جا رہا ہو ایک غریب کو لوٹ کا)
2۔ ہم اسے باہر نکال سکتے ہیں لیکن صرف خدا ہی پاکیزگی دے سکتا ہے خارج کرنا پھیل جاتا ہے۔ ضرب المثل کا اس کے ساتھ مقابلہ ہوتا ہے کہ جس طرح مردہ مکھی عطر میں ہو۔ مقدس چیزیں یا لوگ زیادہ لوگوں یا چیزوں کو اچھائی میں بدل نہیں سکتے لیکن خدا ہے جر چیزوں اور لوگوں کو مقدس کرتا ہے۔
3۔ خدا اکثر مجموعی الیکشن کرتا ہے کسی قوم یا لوگوں کے ساتھ بے شک قوم میں کچھ لوگ حق پرست بھی ہو تے ہیں، خدا اقوام کو مجموعہ سزا دیتا ہے کیونکہ زیادہ لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ راستباز لوگ غلطی پر ہوتے ہیں لیکن اس زندگی میں وہ دوسروں کی خطاوں کیوجہ سے پھنسے ہوتے ہیں۔ جو ان کی خطاوں کا نتیجہ ہوتا ہے جس طرح ڈونلڈ کیمپبیل نے اسے اسطرح کہا ہے۔
کام اور پرستش گناہ کو تشفی نہیں دیتے لیکن گناہ کام اور پرستش کو بے فائدہ بنا دیتا ہے۔دیکھیں بلیور بائبل کمنٹری صفحہ 1155 مزید معلومات کے لیے۔
سوال: حجی 2: 15 میں یہ ہیکل 520 ق م یا اندازاً 536 میں تعمیر ہوئی۔ جیسا کہ عزرا 3: 8-13 یا یہ دارا بادشاہ کے زمانے میں ( 521-486 ق م) تعمیر ہوئی جیسے کہ عزرا 4: 24 میں ہے؟
جواب: اوپر دیا ہوا کچھ سچ ہے کام اس وقت شروع ہوا ۔ جب یہودی پہلی دفعہ 538 ق م میں واپس آئے۔ تاکہ ایک مسودہ لکھا گیا اس کام کو روکنے کے لیے۔
کم پھر دوبارہ شروع ہوا اٹھارہ سال بعد 520 ق م۔
دیکھیں بحث حجی 1: 1 ، جس میں بادشاہوں کی مکاری اور بحث حجی 1: 2 میں ہیکل کو بنانے کے واقعات کے نتائج۔ ( دیکھیں کرٹیکس نیں آکھیا صفحہ 214-215، 319 مزید معلومات کے لیے)
سوال: حجی 2: 15 میں عبرانی غیر معمول ہے لغوی قول اس دن سے اس دن تک ہماری زندگی کیسی ہو گی اس دن سے ان دنوں تک؟
جواب: لوگوں نے غالباً نچلے درجے کے روحانی معیار کو محسوس کیا صرف چند لوگوں کے واپس آنے کو اور لوگوں پہ یہ واضح تھا کہ ہیکل پہلے کی طرح اچھی نہ بنے گی۔ ان کے پاس مالی امداد کی بھی کمی تھی لیکن خدا نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ رہے گا۔ وہ انکو اس دن سے ہمیشہ تک برکت دیگا جیسا کہ ایک پاسٹر کہے گا جب کوئی اس کےکام کے بارے میں اس سے پوچھے۔تم ان کو بتا سکتے ہو کل سے بہتر آنے والے کل سے کم۔ ہمیں اُمید توقع سے رہنا چاہیے کہ ہم مسیح میں زیادہ بڑھیں گے خدا کی خوشی امن اور سلامتی میں ہر دن بڑھتے جائیں گے۔
سوال: حجی 2: 10-19 میں، خدا کیوں آلودہ کرنے کا اشارہ دیتا ہے کہ آلودگی ایک مضر عادت ہے اور پاکیزگی نہیں ہے؟
جواب: جیسا کہ ڈونلڈ کیمپل نے کہا کہ کام اور پرستش گناہ کو ختم نہیں کرتے لیکن گناہ کام اور پرستش کو آلودہ کر دیتے ہی۔
بلیور بائبل دی تشریح صفحہ 115 اگر خدا چاہتا ہے کہ لوگ اس کی طرف واپس مڑنے کا حوصلہ کریں اس سطح پر وہ اس آواز کو پسند کرنے کا حوصلہ اس سطح پر وہ اس آواز کو پسند کریں گے جس سے وہ بالکل درست جگہ حاصل کر کے اس کے الٹ چلیں گے جو وہ گناہ کرتے تھے انکو بتانے کی بجائے کہ وہ مقدس چیزوں کے درمیان ہیں اور اس طرح وہ مزید پاکیزگی کو پائیں گے خدا ان کو بتا رہا ہے کہ کوئی چیز پاک ہوتے ہوئے اپنی ارد گرد کی چیزوں کو پاک نہیں کر سکتی۔
خدا ان کو کیا بتا رہا ہے کہ فطری طور پر بتدریج ان کو کوئی اُمید نہ ہو گی صرف خاتمہ اس طرح ہے کہ ہر ایک چیز خالی ہونے کے بعد خاتمے کی طرف جا رہی ہے لیکن سنبھالتے ہوئے بھی یہ قبضے سے باہر ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ خدا ہے اور خدا اکیلا اپنی عظمت میں ہر چیز کو اقتدار میں رکھتا ہے جو اپنی پاکیزگی اور عظمت لائے گا اس جگہ میں حجی 2: 5-10 میں۔
جیسا کہ چیزیں برباد ہوتے ہوئے مالی یا روحانی طور پر خدا اپنے وعدوں کو جاری رکھے ہوئے ہے کہ پھر بھی وہ خدا کے قوی ہاتھ میں ہے حجی 1: 5-11 میں اس اشارہ سے ( حقیقت میں اوپر الفاظ عبرانی میں) خدا ان کو حجی 2: 15-19 کے مطابق ان کو رحمتوں کا دکھانے والا ہو گا۔
سوال: حجی 2: 23 میں، انگوٹھی کی مہر کی اہمیت کیا ہے؟
جواب: یہاں کم از کم تین مطلب اس بات کے متعلق ہیں عام طور پر انگوٹھی کی مہر بادشاہ کی اتھارٹی کی نشاندہی کرتی ہے۔ فرعون نے اپنی انگوٹھی اتاری اور یوسف کو دے دی پیدائش 41: 42 اختیارات کی اتھارٹی اور حکمرانی کی تقسیم مسیحا ایک مہر رکھے گا۔ وعدہ کہ مسیحا آئے گا پاک روح ہمارے مستقبل کا ورثہ ہو گا۔ ( این آئی و ی سٹڈی بائبل صفحہ 1404)
یہویاکن پر لعنت کی واپسی: یہویاکن کو بتایا گیا تھا کہ اگر وہ خدا کے دائیں ہاتھ کی مہر بھی رکھے گا خدا اسے گرائے گا یرمیاہ 22: 24-25۔ زربابل کو نہ صرف مہر دی گئی بلکہ اسے خدا کی مہر کی طرح بننے کا کہا گیا۔
سوال: حجی 2: 23 میں، زربابل کو مستقبل کے لیے کیسے چنا گیا ؟
جواب: زربابل کو گورنر بنا دیا گیا جسکی نگرانی میں یہ ہیکل دوبارہ تعمیر کرنا تھی لیکن اس کی اس عزت سے بڑھ کر اور زیادہ کیا تھا۔
متی 1: 12-13، 16 ظاہر کرتی ہے کہ زربابل کی نسل یوسف جو کہ یسوع کا قانونی باپ بنا تھا۔
ایک طرف سے زربابل نال ایک تصدیق شدہ اکیڈین نام ہے زربابلی کا مطلب ہے بابل کے آباواجداد ۔
سوال: حجی نے تعلیمی چالوں کو کیسے استعمال کیا؟
جواب: حجی بہت زیادہ استعمال نہیں کرتا ۔ س کا پیغام سادہ اور سیدھا زکریاہ، سلیمان، یسعیاہ کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ اس کے ذریعے یہاں اُس نے جو کچھ ستعمال کیا ہے۔
ردھم: حجی 1: 6 ہیمس ٹکیر خطا کار۔
حجی 1: 10 آل کِن۔ علیکم۔
حجی 2: 6: آہٹ۔ میٹ ۔
قیاسم: حجی 1: 9-11۔
اینتھیسزز: حجی 1: 6 روزی کمانا۔ تاکہ وہ اسے اپنے بٹوں میں غاروں میں اپنے ساتھ رکھیں۔
ڈائیلاگ سٹائل: جیسے کہ ملاکی۔ حجی 1: 4-5، 9؛ 2: 11-13۔
کم وچ دھرائی:یہ وہ ہے جو خدا کہتا ہے یا اس سے ملتا جلتا 26 ٹائم 38 آیات وچ روح x3 حجی 1: 14۔
دو یا چار اکٹھے: لیکن 3 اور 5 بڑے نہیں)
حجی 1: 11 کھیت اورپہاڑ: مے اور تیل ، انسان اور مویشی۔
حجی 2: 2 : زربابل اور یشوع۔
حجی 2: 6 دھرتی اور آسمان سمندر اور خشک زمین ۔
حجی 2: 22 غیر ملکی بادشاہت اور آسانی پیدا ہونا ۔
حجی 2: 22 بگیاں اور انکے ڈرائیور، گھوڑے اور انکے سوار۔
سوال: حجی میں وہ ابتدائی تحریریں کیا ہیں جو آج بھی قائم ہیں؟
جواب: بحیرہ مردار دے طومار: ( ·C·Β·Ι·c)یہ ایک کاپی دو حصوں پر مشتمل ہے۔
ایک حجی کی کاپی تھی بحیرہ مردار کے طوماروں میں ۔ ( بحیرہ مردار کے طوماروں کا ترجمہ صفحہ 479 )
77Q4 ( bΙΙX Q4=) جو حجی پر مشتمل ہے ۔1: 1-2؛ 2: 2-4 ۔
80Q4 (eΙΙX Q4=) حجی 2: 18-21 پر مشتمل ہے۔
تاہم بحیرہ مردار کے طوماروں کا ترجمہ صفحہ 479 80Q4 کہتا ہے کہ تقریباً سارا اس پر مشتمل ہے سوائے زکریاہ کے ۔
نحل ہیور ایجنڈی کے قریب ایک غار ہے جو کہ یونانی میں انبیاء اصغر کا حصہ رکھتا ہے۔ (grΙΙX Hev 8) یونانی بائبل صفحہ 34 کی تحریر کے مطابق ایہہ 50 ق م کے درمیان لکھی گئی اس کو بارکوبا کے وقت چھپا دیا گیا جب وہ روم کی تابعداری سے منحرف ہوا۔ یہ یونانی توریت کی دہرائی ہے جو یہودیہ میں بنائی گئی تھی اور یہ تقریباً میسورٹیک کے متن سے ہے۔
وادی مراتب دے طومار (ΙΙX Mur) سی 132 م سے ہیں۔ ایہہ حجی 1: 1-2، 12-15؛ 2: 1-8، 10، 12-23 اور اسی طرح دوسرے انبیاء اصغر پر مشتمل ہیں حجی میں یہ میسورٹیک سے ملتی ہے سوائے دو الفاظ کے۔
بحیرہ مردار کے طومار اورنحل ہیور، وادیِ مراتب سب میں درج ذیل آیات حجی توں 1: 1-2، 12-15؛ 2: 1-8، 10، 12-23 دو الفاظ میں کم ازکم ہر آیت کا حصہ سوائے، 1: 3-11؛ 2: 9، 11۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں بحیرہ مردار کے طومار۔
مسیحی بائبل دی تحریر، تقریباً 350 م سے پرانے عہد نامے پر مشتمل بشمول حجی کے ان میں سے دو ویٹی کن (325-250 م) اتے الیگزنیڈر ( سی 450 م) جہاں انبیاء اصگر کی بارہ کتابیں رکھی گئیں۔ یسعیاہ سے پہلے۔ حجی دونوں میں ویٹی کن اور الیگزنیڈر میں مکمل ہے ۔
سینٹیس (340-350 م) کے پاس بھی ایک مکمل کتاب ہے۔
سوال: ابتدائی لکھاری کون ہیں جنہوں نے حجی کا حوالہ دیا ؟
جواب: بائبل نےحجی کا حوالہ دیا عزرا 5: 1؛ 6: 14 اتے عبرانیوں 12: 26 حجی 2: 6 زکریاہ وچ حجی کا ایک عام اشارہ ملتا ہے زکریاہ 8: 9۔
یونانی بائبل توریت اقرار کرتی ہے صفحہ 138، 146، 147، 147: 12 اتے 148 حجی اتے زکریاہ کے ساتھ۔
پرانے فرانسیسی لاطینی باشندے زبور نویس زبور 111، 112، 146 اتے 147 حجی اور زکریاہ سے۔
نقلیں جس میں، 1 ایسدراس 6: 1؛ 7: 3؛ 2 ایسدرس 1: 40 حوالہ دیتا ہے حجی سیراک (متبرک) 4: 11 حوالہ دیندا اے حجی 2: 23 دا۔
باریک بینی کرنے والےابتدائی لکھاری جنہوں نے حوالہ دیااور اشارہ دیا حجی میں سے آیات کا۔
ایکس لیٹر آف برنباس ( 10-150 م) باب 16 صفحہ 147 طاہر کردا اے حجی 2: 10 پر یہ ایک مبہم اشارے کی طرح ہے جو یہاں سامنے نہیں لایا گیا۔
کلیمنٹ آف الیگزینڈر ( 193-217-220 م) حجی کا حوالہ دیتا ہے: 6 اسی طرح صحیفہ سٹرومیٹا کتاب 3 باب 6 صفحہ 391۔ کوڈ کرتا اے انسٹریکچر کتاب 2 باب 3 صفحہ 248۔
ٹرٹولین ( 200-240 م) اشارہ دیندا اے۔ پوری کائنات کا ہلایا جانا حجی 2: 6 اتے عبرانیوں 12: 26-27۔ مونوگرامی باب 16 صفحہ 72 ۔
اوریجن ( 225-254 م) حجی 2: 6 کا حوالہ دیتا ہے حجی اِن اوریجن کے خلاف سیلس کتاب 7 باب 30 صفحہ 623۔
سائپرین آف کارتھج ( سی 246-258 م) حجی سے بذریعہ نام حوالہ دیتا ہےصحیفہ 12 وچ تیسری کتاب 20 میں۔
ابتدائی باریک نبیوں کے بعد۔ ( 325 م)
اتھانا سی ایس آف الیگزینڈر ( 331 م) نے 12 پیغمبروں کے بارے ذکر کیا ہے)
پھر اس کے بعدپرانے عہد نامے کی 22 کتابوں کا ذکر کیا، پھرپیغمبوں کو 12 ہوتے ہوئے ذکر کیا۔
اتھانیسس ایسٹر لیٹر 39 باب 4 صفحہ 552۔
افرائیم سائرین ( 350-378 م)
باسِل آف کیپی ڈوسیا 357-378 م)
سائرل آف یروشلیم ( سی 349-386 م) نے کتابوں کو جو پیغمبروں کی ہیں ذکر میں لایا ہے دونوں بارہ اور دوسروں کو۔
میکاہ 3: 8 جیساکہ میکا ،یوایل 2: 28 جیداں کہ یوایل، حجی 2: 4 جیسے کہ حجی میں زکریاہ 1: 6 جیساکہ زکریاہ میں کیٹیچٹیل لیکچرز ۔ لیکچر 16: 29 صفحہ 122۔
گریگری نازین زن ( 330-391 م)
سائرک بکی آپٹپس ( لائبر گریڈیم) ( 350-400 م) نےحجی 1: 6 ، ممرا 7 صفحہ 78۔
روفینس ( 374-406 م)
جیروم ( 373-420 م)
جان کرائیسوسٹوم ( 407 م)
پیلاجن ہیرٹک تھوڈور آف مسوپتامیہ ( 392-423/429 م)
آگسٹین آف ہیپو ( 388- اگست ، 28، 430 م)
جان کیسین ( پیلاگیانزم دا پیو) ( 419-430 م)
سوال: حجی میں یونانی اور عبرانی توریت کت درمیان ترجمہ میں کیا اختلافات ہیں؟
جواب: میسورٹیک ٹیکسٹ میں پہلا فقرہ ہے۔
اور دوسرا یونانی توریت ہے جب تک ہکہ نوٹ نہ کیا گیا دوسروں کو یہاں صرف دو فرق ہیں جو چھوٹے سے ہیں ۔ 2: 1؛ اتے 2: 3 میں میسورٹیک ٹیکسٹ اور وادی مراتب ایک تفسیر کے مطابق صفحہ 17 اور بیٹی اٹ آل لیس گروٹس دی مرابہ ایٹ 184۔
حجی 1: 1 " ساتھ" بمقابلہ " ہاتھ کے ذریعے"
حجی 1: 2 " آتےہوئے ( bo) میسورٹیک " بمقابلہ " آگیا ہے ( ba) یونانی ترجمہ ( این آئی وی وی)
حجی 1: 2 " یہوداہ کاگورنر" بمقابلہ " یہوداہ کے قبیلے کا"
حجی 1: 8 " لانا" بمقابلہ "کاٹنا" ( عبرانی شبد یونانی توریت اس کی بنیاد پر رکھی ہے صرف ایک لیٹر کا فرق ہے)
حجی 1: 9 " قبضہ " بمقابلہ " ہونا"
حجی 1: 9 " کیوں" بمقابلہ اس لیے"
حجی 1: 11 " دھرتی پر قحط " بمقابلہ " دھرتی پر تلوار"
حجی 1: 11 " تمہارے ہاتھ" بمقابلہ " اُن کے ہاتھ"
حجی 1: 12 " تب" بمقابلہ " اور"
حجی 1: 12 " اُن کا خدا" بمقابلہ " ان کو"
حجی 1: 13 " پیغام دیا " بمقابلہ "پیغام دینے والوں کو کہا "
حجی 1: 14 " بقیہ لوگ" بمقابلہ " سب لوگوں کا بقیہ"
حجی 1: 14 " آیا" بمقابلہ " میں داخل ہوا"
حجی 2: 1 " میں سےمیسورٹیک " بمقابلہ " نوں وادی مراتب کے طومار ( ایک تفسیر صفحہ 17 اتے ( بینٹ اٹ آل ) لیس گروٹس دی مرابہ ایٹ 184۔
حجی 2: 2 " بقیہ" بمقابلہ " سب کا بقیہ"
حجی 2: 3 " (اوٹو) میسورٹیک) "بمقابلہ " ( ایٹو) وادی مراب دے طومار۔
حجی 2: 4 " مضبوط ہو جاؤ یشوع " بمقابلہ " اوہ یشوع اپنے آپ کومضبوط کر لئے"
حجی 2: 4 " مضبوط بنو۔ زمین کے لوگ" بمقابلہ" اپنے آپکو مضبوط کرو دھرتی کے لوگو"
حجی 2: 5 " لفظ کہ آپ سے وعدہ کرتا ہوں جب تم مصر سے واپس آئے پس میری روح " بمقابلہ " میری روح"
حجی 2: 6 " ایک دفعہ نور" بمقابلہ " ایک دفعہ اور دیکھیں ایک تفسیر تشریح آن حجی ملاکی صفحہ ( 41-42)۔
حجی 2: 9 " طاقتور خدا" بمقابلہ " طاقتور خدا ور روح آرام میں رہے قبضہ میں رہنے کو ہر کسی کو بچانے کے لیے ان تمام کو جنہوں نے ہیکل کی بنیاد ڈالنے کے لیے چندہ اکٹھا کیا۔
حجی2: 14 " اور اسی طرح ہر کام" بمقابلہ " اور اسی طرح تمام کام"
حجی 2: 14 "کٹے ہوئے" بمقابلہ " اپنے ابتدائی بوجھوں کی وجہ سے کاٹے گئے"
فوراً مقام حاصل کیا وہ اپنے کاموں اور سخت محنت کی وجہ سے گرفتار ہونگے اور تم سے نفرت کی گئی ان سے نفرت ہوئی جو انصاف تقسیم کرتے تھے شہر کے دروازوں پر "۔
حجی 2: 22 " تخت کے تحت بادشاہی" بمقابلہ " بادشاہووں کے تخت"۔
حجی 2: 22 " اسکے بھائی کی تلوار" بمقابلہ " اسکے بھائی کے خلاف چلتی ہوئی تلوار"
حجی 2: 23 زربابل میرا خادم شیل ٹیل کا بیٹا" بمقابلہ " زر بابل کی ٹیل شیل کا بیٹا میرا خادم"
حجی 2: 23 " انگوٹھی کی مہر" بمقابلہ " مہر"