استثنا سے بائبل کے سوالات وجوابات
سوال۔ استثنا میں، اس کتاب کا مرکزی نقطہ کیا ہے؟
جواب۔ یہ کتاب موسٰی کی پچھلی تین کتابوں میں شریعت کا خلاصہ ہے۔ اس میں کم تفصیل ہے بہ نسبت احبارکے۔ اور خروج اور گنتی کی کتابوں کی نسبت کم تاریخی پس منظر ہے۔ یونانی اور انگریزی میں نام یونانی الفاظ سے آتا ہے " ثانوی شریعت"لیکن یہ شریعت کے اختصار کے طور پر سوچنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔
سوال۔ استثنا 1:6،9،14؛استثنا 15:2، 5؛11: 27 میں، موسٰی نے لوگوں کو کیوں بتایاکہ وہ گواہ ہیں جو 40 سال گھومتے ہوئے ان کے سامنے ہواتھا، چونکہ گنتی 14:29۔30 اور گنتی 26:64۔65 کہتی ہیں کہ وہ تمام بیابان میں مرجایئں گے؟
جواب۔ جواب میں چار نقاط خیال کیے جاتے ہیں۔
اندازٲ سات سال تک، لوگوں کو 40 سال تک بیابان میں آوارہ گھومنے کی لعنت دی گئی۔
گنتی 26:64۔65 نے کہا صرف وہی فوج میں مردم شماری میں گنے گئے وہ تمام مرجایئں گے۔
گنتی 1429: ۔30 نے صرف وعدہ کیا پچھلی مردم شماری میں جن آدمیوں کو گنا گیا وہ موعودہ سرزمین میں پہنچنے سے پہلے تمام مرجایئں گے، سوائےیشوع اور کالب کے۔
پس لعنت سے مستثٰی کردیا جو 20 سال سے کم تھے ﴿ جو مردم شماری میں نہ گنے گئے﴾ ، لاویوں کے تمام عمر کے مرد اور عورتیں ۔ ان میں سے زیادہ سابقہ واقعات کے شخصی گواہ کے طور پر زیادہ رہیں گے۔ 40 سال کے بعد پیدا ہونے والے لوگ، دوسرے درجے کے گواہ شروع ہونگے، اپنے والدین اور کمیونٹی سے سکھتے ہوئے۔
سوال۔ استثنا1:6 میں موسٰی نے تعلق جوڑا"یہ ہے جو خدا نے کہا "پس، "میں"آیت 8 ،میں خدا ہے۔ جب موسٰی نے دہرانا ختم کیا جو خدا نے 8 آیت کے آخر تکاور 9 آیت شروع سے کہااور آگے "میں" موسٰی کی طرف اشارہ ہے۔
سوال۔ استثنا 1:13 میں، کیا لوگوں نے اپنی قاضی چن لیے، یاموسٰی نے خروج18: 25 میں انکومقرر کیا؟
جواب۔ ایک مطابقت یہاں مدد کر سکتی ہے۔ کیا یو۔ایس کا صدر کابینہ کے عہدوں کیلئےلوگوں کو نامزد کرتا ہے یا سینٹ ان کی تصیق کرتا ہے؟ دونوں ٹھیک ہیں۔ بائبل لوگ، لوگوں اپنے قاضی ہونے کلیئے آگے لائے، اور موسٰینے ان آدمیوں کو منتخب کرلیا۔ موسٰی نے، ہوسکتا ہےہر ایک آدمی کو جو آگے لایا گیا، چن لیا، لیکن اس نے ایسا لازمی نہ کیا۔
سوال۔ استثنا 1:22۔ 23 میں، ایک سب کچھ جاننے والے خدا کے پیروکاروں کو تمام سرزمین میں، جاسوس کیوں بھیجنا پڑے؟
جواب۔جواب کیلئے، دو امتیازی نقاط ہیں؟
1۔ موسٰی شاید سوچنا ہو کہ یہ ایک اچھا خیال ہے، کیونکہ خدا ہمیں خود کو کئی چیزیں سیکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ وہ ملک میں داخل ہونے کلیئے بہترین طریقہ جاننے کلیئے کنعان کی جاسوسی کر سکتے تھے اور انکی فوجوں کی متعلقہ طاقت کی بھی جاسوسی۔
2۔ تاہم خدا نے کبھی بھی انہیں جاسوسی کلیئے نہیں بھیجا۔ لوگ موسٰی کے پاس یہ تجویز لے آئے، اور موسٰی نے آیت 23 نیں صرف خیال کیا کہ یہ ٹیک ہے۔ تاہم، یہ ایک مصیبت بدل گئی، کیانکہ جب انھوں نے کچھ مشکلات دیکھیں، وہ اپنا ایمان کھو بیٹھے۔ انہوں نے ایمان نہ کھویا کہ خدا وہاں ہے قدرے انہوں نے یہ ایمان کھویا کہ خدا ان کی حفاظت کریگا۔ یہاں آج مسیحیوں کلیئے دو کلیدی اسباق ہیں۔ پہلا، کسی صورتحال کو عام طور پر پرکھنا وہ ایک اچھی چیز ہے۔ تاہم اگر فیصلہ کرنے کیلئے پرکھنے کلیئے ایک مقصد ھے آیا کہ خدا پر بھروسہ کرنا، خواہ خدا کی فرمانبداری نہ کرنا، پرکھنا بزات خود ایک برائی ھے کیونکہ اس سے بری تحریکیں جنم لیتی ہیں۔
دوسرا کلیدی سبق قیادت کے ساتھ برتاؤ۔ موسٰی یہاں کوئی برے خیالات نہیں رکھتا، اور وہ شاید بت خبر ہے کہ چھپا ہوا خیال کچھ لوگوں کیلئے کہ جاسوس بھیجنے کا فیصلہ وہ مانیں یا نی مانیں جب کوئی کسی عجیب درخواست کلیئے پوچھتا ہے جو نقصان دہ ثابت نہ ہو، بجائے سرگرمی سے منظوری کرتے یا انکارکرتے، یہ بہترہے کہ پہلے سمجھا جائے کہ کیوں۔
سوال۔ استثنا 1:26 ۔43 میں، چونکہ خدا چاہتا تھا کہ اسرائیلی فورٲ کنعان میں چلے کایئں، اور ان کے پہلے انکارکے بعد، خدا ان کے ساتھ غصے کیوںہو گیا جب انہوں نے جانے کا فیصلہ کیا؟
جواب۔ رومیوں14:23 واضح طور پر استثنا 1:26۔ 43 میں بیان کیے گئے اصول بیان کرتی ہے ،"جو کچھ اعتقاد سے نہیں وہ گناہ ھے" پہلے اسرائلیوں نے خدا پر اعتقاد کی کمی کی وجہ سے انکار کردیا۔ ۔ بعد میں انہوں نے جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اپنے آپ پر بھروسہ کرتےتھے۔ خدا کو ان کے جانے میں کوئی سروکار نہیں تھا یا نہ ہی کوئی مخصوص وقت، جیسے وہ اس کے فرمانبردار ہوتے۔
اگر تمہیں اس سوال سے کوئی مشکل ہے جواب پڑھنے سے پہلے، تو مندرجہ ذیل کو یاد رکھنا چاہتے ہو۔ کچھ لوگ کام کرنے یا نہ کرنے پر توجہ دیتے نہیں تاکہ خدا کو پسند آجایئں۔ یہ نقطہ کو ضائع کررہا ھے۔ خدا نہ صرف یہ چاہتا ھے کہ ہم اسکی الگ حد تک فرمانبرداری کی کوشش کریں ،بلکہ اس کو پکارنا اور خدا کے پاس کھینچ لے آنا اور اسکی فرمانبرداری کرنا۔ رومیوں 14 کچھ مثالوں کلیئے پرھیں تو آپ یہ صرف سمجھ سکتے ہیں اگر آپ یہ اصول سمجھ جایئں۔
سوال۔ استثنا 1:28، 2:10 ؛9:2 میں، عناق کی اولاد﴿ عناقیم﴾ امیم اور رفائیم کون ہیں؟
جواب۔ عناقیم ایک آدمی کی اولاد ہیں، جس کا نام عناق تھا۔ عناقیم ایک قبیلے کا کا نام ہے جس کے مرد خطرناک جنگو، شاید ان کے قداور طاقت کی وجہ سے۔ چونکہ کمانیں ان جیسی طاقتیور تھیں، اور انکی پہنچ اور قوت لوگوں کلیئے قابل قدر لڑائی خوبیاں تھیں جو تلواروں اور ڈنڈوں سے لڑتے تھے، یہتین متعلقہ قبیلے بہت خطرناک جنگو پیدا کرتے تھے، استثنا31:3 پر مباحثہ، مزیہ معلومات کیلئے دیکھیں۔
سوال۔ استثنا 1:39 میں، خدا کے علم سے کیا مراد ھے حساب کتاب کی عمر کیا مراد ھے؟
جواب۔ حساب کتاب کی عمر ایک تصور ھے جب بچے ایک عمر کی حد تک پہچتے ہیں جس سے پہلے وہ خدا کے سامنے اپنے انتخاب کلیئے جواب دہ ہوتے ہیں۔ کوئی آیت اشارہ نہیں کرتی کہ یہ عمر ہر بچے کیلئے وہی ھے۔
خدا کے انساف کے اصولات کے تین مظاہرے اس عبادت میں ہیں۔
1۔ خدا لوگوں کی عدالت ان کے علم کی بنیاد پر کرتا ھے، اور چھوٹے بچے جو انتخاب نہیں کرتے کہ کیا صیح ھے، جہالت سے باہر ہیں۔ اس طرح انکی عدالت نہیں ہوگی۔ یہاں شریعت نہیں وہاں گناہ حساب میں نہیں لایا جاتا﴿رومیوں 4:15؛ 5: 12﴾
2۔خدا لوگوں کی عدالت اس بیناد پر نہیں کرتاجو وہ منتخبت نہیں کر سکتے۔ ایک دوردراز علاقے میں ایک عورت گناہ کلیئے اسے سزا نہ دی جائے۔ ﴿ استثنا 22۔ 25۔ 27﴾ اسی طرح، نوجوان جو اچھے اور برے کی تمیز کرتے ہوں، لیکن جماعت میں انکی آواز نہ آئے یا اس کا فیصلہ نہ آئے تو بیابان میں مارنے کی سزا نہ جائے۔
3تاہم ، اس زندگی میں لوگ اکثر دوسرے کے گناہوں کی سزا بھگتتے ہیں۔ بچھوں تک 40 سال تک بیابان میں رہنا پڑا۔ تاہم،خدا روا عدالت ہر ایک کا انصاف کریگا۔
سوال۔ استثنا 2:4۔ 8 میں، اسرائیلی ادومیوں کو شکست دینے میں کیوں ناکام رہے، حالانکہ اسرائیلی بہت طاقتور تھے؟
جواب۔ اسرائیلی کبھی بھی ان سے نہ لڑے اور تم کسی کمزور قوم کو شکست نہیں دیتے جب تم ان سے لڑنے سے انکار کررو۔ یہ کہیں نہیں کہا جاتا کہ ادومیوں سے نہ لڑیں اور انہوں نے فرمانبرداری کی۔
سوال۔ استثنا 2:4۔ 7 میں، خدا نے اسرئیلیوں کو کیوں بتایا کہ وہ ادوم میں سے ہو کر گزریں، چونکہ گنتی 20:14۔ 21 اور استثنا 2:8 سے ظاہر ھے کہ وہ کبھی نہ لڑے؟ کیا خدا پہلے ہی نہیں جانتا تھا؟
جواب۔ جواب کیلئے تین نقاط خیال کیے جاتے ہیں۔
1۔ خدا ہر چیز کے بارے جانتا ھے جو ہمارے ساتھ ہونے والی ھے﴿ زبور 139: 16، یسعیاہ 46:10؛ 41:22۔ 23؛ 42:9؛ 44:7،1۔ یوحنا 3:20﴾
2۔ خدا نے موسٰی یہ اخکام دینے کلیئے بتایا۔
3۔ وہ تقریبٲ ادوم میں سے گزرے، اور وہ گزریں اگر ادومی انہیں گزرنے کی اجازت دیں۔ جیسے گلیسن آرچر نے اشارہ کیس اگلے سوال میں ایک مختلف جواب یہ کہ وہ شاید ادوم میں تھے جب انہوں نے ادومیوں سے درخواست کی، اور ادوم کے نواح سے گزرے، پس، آخر کاروہ تقریبٲ ادوم میں سے گزرے
سوال۔ استثنا 2:4۔ 7 اور گنتی 20:14۔21 میں، کیا اسرائیلی ادوم کے اردگرد سے گئے، یا ادوم میں سے جیسے استثنا 2: 4۔ 7 کہتی ھے؟
جواب۔ استثنا 2:4۔7 نے کبھی نہیں کہا کہ وہ ادوم میں سے گزرے قدرے، ان کے ادوم کی سرحد تک پہنچنے سے پہلے، اسرائیلیوں کو بتایا گیا کہ وہ تقریبٲ ادوم میں سے گزاریں، اور یقین کرنا کہ ان کو جنگ کیلئے نہ بھڑکانا۔
دونوں گنتی 20 ظاہیر کرتا ہے کہ ادومی ان کو ادوم سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اور ادومی اپنی فوجوں کو حرکت میں لائیں گے۔ پس اسرئیلی ادوم کے گرد سے گزرے بعض اوقات لوگ کچھ کرنے کر سکنے کے قریب ہوتے ہیں، اور جب کوئی فوج ان کے خلاف آتی ھے تو لوگ بجائے اسکے کچھ نہ کچھ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
اگلا سوال بھی دیکھیں
گلیسن آرچر ایک مختلف جواب دیتا ھے ۔ اگر تم اپنا سفر جاری رکھو، تو وہ تقریبٲ ادوم میں ہوتے جب ادومیوں کے ساتھ باتوں پر گفتگو کررہے تھے۔ پھر وہ ادوم کے بارڈر کے ساتھ سے گزرتے پس ایک سمجھ میں وہ قریب سے گزرے اگرچھہ آسان راستے سے نہیں وہ گزرنا چاہتے تھے۔
سوال۔ استثنا 2:7 میں، کیا اسرائیلیوں کو کسی چیز کی کمی نہ تھی، یا بڑبڑانے کیلئے حالات خراب تھے جیسے خروج 16: 2۔ 3 اور گنتی 11:4۔6 میں؟
جواب۔ حالات قابل براداشت تھے، اس وقت خواراک کافی تھی پانی تھا اور کپڑے تھے۔ تاہم ، جیسے آج، صورتحال بڑبڑانے والیب تھی یا نہیں یہ تقریبٲ بڑبڑانے والے پر منحصرھے یا صورتحال پر ھے۔ ایمانداروں کیلئے،پولئس فلیپوں 2:14 میں حکم دیتا ھے کہ ہمیں بغیر شکایت یا بحث کے کے ہر کام کرنا ھے۔
سوال۔ 2:9۔12، 22،37 میں، اسرائیلی موآبیوں اور عمونیوں پر فتح کیوں نہ پاسکے؟
جواب۔ ایک سادہ وجہ کیلئے کہ خدا نے اسرائیلیوں کو لڑائی سے منع کیا۔ اس طرح وجوہات، خدا نے یہ حکم دیا کہ موابی اور عمونی اسرا۴یلیوں سے متعلقہ تھے، اسرائیلی کنعانیوں پر توجہ دیتے تھے، اور تمام سرزمین کی لڑائی میں ایک بھی جنگو حتٰی کہ نہ مرا کہ ان کو کسی راستے سے بھی قبضہ کرنے کا نہیں بتایا تھا۔
سوال۔ استثنا 2:1۔ 12 میں، کنعان کی زمین "انکی میراچ کی زمین"کیسے تھی"حالانکہ وہ اس داخل بھی نہ ہوئے؟
جواب۔ دریائے یردن کے مغربی زمین موعودہ زمین تھی وہ ان میراث تھی مجموعی طور پر، استثنا شاید آخر میں لکھی گئی اور 2 قبائل پہلے دریائے یردن کے مشرقی زمین پر قابض ہو چکے تھے۔
سوال۔ استثنا 2:19 میں، کیا خدا نے اسرائیلیوں کو عمونیوں کی سرزمین نہ دی، یا موسٰی نے اسے انہیں دی یشوع 13:25؟
جواب۔دونوں درست ہیں عمونی انکی سلطنت کا حصہ تھی، نسلی حصہ اور وہ حصہ جو انہوں نے فتح کرکے حاصل کیا۔ دونوں آیات سے پہلے، اسرائیلیوں نے دوسرے حصے پر قبضہ کرلیا۔ پس، استثنا 2:19 حاص طور پر اسرائیلیوں کو بتانے کیلئے لکھی گئی کہ اسرائیلی اس زمین پر قبضہ نہ کریں، جس پر عمونیوں نے حال ہی میں اور حقیقت میں قبضہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ، دریائے یردن کے مشرقی کنارے کی سرزمین کنعان کا حصہ نہ تھی۔ اسرائیلیوں نے اسکو فتح کیا اور اس پر قبضہ کر لیا، لیکن خدا نے انکو کو دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ آج بعضاوقات ہم چیزیں حاصل کر سکتے ہیں جنھیں خدا نہیں چاہتا کہ ہم انہیں بعد کے پچھتاوے کیلئے دیکھیں۔
سوال۔ استثنا2:30 میں، خداوند نے حسبون کے بادشاہ ہیحون کو کیوں سخت کردیا؟
جواب۔شاید ایک ایسی وجہ سے جیسے خدا نے فرعون کے دل کو سخت کردیا خروج 7: 22 پر بات چیت دیکھیں۔
سوالۛ استثنا3:11 میں، لبسن کے بادشاہ عوج کا پلنگ کتنا لمبا تھا؟
جواب۔ یہ تقریبٲ سے فٹ تک لمبا تھا۔ پلنگ کیلئے عبرانی لفظ، یہاں ابسقور ہے یہ اس پلنگ یا بستر کی طرف اشارہ کر سکتا تھا یہاں اس نے رات گزاری تھی، یا یہ "قبر کا بستر" ہو سکتا ھے، ﴿حقیقتٲ مقبرہ﴾ یہاں اس کا جسم آرام کرتا۔
سوال۔ استثنا 3:11 میں، بادشاہ عوج کا پلنگ لوہے کا کیسے ہو سکتا ہے، حالانکہ ان کے پاس خام لوہے کو تیار کرنے کیلئے طریقہ کار نہیں تھا؟
جواب۔ دی نیو جینواسٹڈی بائبل ﴿صفحہ 245﴾ کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ تمام پلنگ لوہے کا بنا ہو﴿ جو قدرے بے آرام ہو گا﴾۔ بجائے اسکے پلنگ لوہے سے منڈھا تھا، مصری آرائش کی چیزیں اور چھریاں بنانے کیلئےشہابیوں سے لوہا استعمال کرتے تھے کم ازکم 3000 قم تک۔
سوال۔ استثنا 3: 12۔ 17 میں جد، روبن اور منسی کا آدھا قبیلہ یردن کے مشرقی طرف کیوں رہتا تھا، حالانکہہ لوگ کنعان میں رہتے تھے؟
جواب۔ سادہ سی بات ہے کیونکہ انہوں نے وہاں رہنے کیلئے انتخاب کیا۔ کلام اس کو منظور کیے بغیر ان انتخاب کو تحریر کرتا ہے۔ تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ ان کا انتخاب کوئی عقلمندی نہ تھی۔
آج بعض اوقات، اگر ایماندار کچھ کرنا چاہیں جو کھلے طور پر نافرمانی نہ ہو، لیکن یہ مکمل طور پر ہمارے کرنے کیلئے خدا کی مرضی نہیں، خدا ہمیں اپنے بے عقلمی کے انتخاب کرنے کیلئے آزادی کی اجازت دیتا ھے، اور اکثر اس کے نتائج دیکھنے میں آئے ہیں۔
سوال۔ استثنا 4: 2 میں ، کیا خدا کا کلام جو دیا گیا حکلم میں شامل ہوتا ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے استثنا کے بعد بائبل میں کوئی کتاب نہیں ہونی چاہیے؟
جواب۔ نہیں آیت خاص طور پر لوگوں پر ایک پابندی ہے نہ کہ استثنا کی کتاب میں کسیحکم کا اضافہ یا کمی ہے۔ یہ مزید مکاشفہ بھجینے کیلئے خدا پر کوئی پابندی نہیں ہے
سوالۛ۔استثنا 4: 10۔ 15 میں کیا خدا نے پہاڑ پر، جواب میں موسٰی کو دس احکام دیے، یا کوہ سینا پر جیسے خروج 19:11 کہتی ہے؟
جواب۔یہاں دو متبادل جوابات ہیں۔
مترادفات۔ دونام تبادلے کے طور پر، استعمال ہوئے ہیں، اسی طرح موسٰی کے سسر کے دونام یترو اور رعوایل ہیں۔ اکثیر النام ان جگہوں میں بہت عام ہیں جہاں کثیرالزبان اور کثیر النہزییں ہیں۔
علاقہ۔ حورب ہو سکتا ہے صرف کوہ سینا میں شامل ہو گیا ہو۔ یہ ہوسکتا ہے علاقے یاسطح مرتفح کی وجہ سے نام ہو، نہ صرف چوٹی کی وجہ سے۔
سوال۔ استثنا 4: 12 میں، کیا لوگوں نے خدا کی شکل نہ دیکھی، یا کیا موسٰی نے خدا کی شکل دیکھی گنتی 4:12؟
جواب۔ دونوں موسٰی نے خدا کی شکل دیکھی ﴿ شاید مسیح کی تجسم سے پہلے کا ظہور﴾ لوگوں نے کوئی شکل نہیں دیکھی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ساول ترسی کے ساتھ دمشق کے راستے پر یسوع کی آواز سنی جبکہ اس کے ساتھیوں کو صرف آواز سنائی دی۔
سوال۔ استثنا 4: 16۔ 18 میں، کیا اس حکم نے لوگوں یا جانوروں کے تمام کھودی مورت یا تراشی صورت سے منع کیا ہے؟
جواب۔ بالکل نہیں، کیانکہ وہاں عہد کے صندوق پر کربیوں کی مورتیں تھیں خروج 37: 8۔9 میں۔ موسٰی کو بھی پیتل کا ایک سانپ بنانے کا حکم دیا گیا گنتی 21: 4۔9۔ سلیمان کی ہیکل میں بھی کروبی تھے1 سلاطین 6:23۔ 27 ہیکل میں، کروبیوں کی کئی دوسری تصاویربھی نقش کی گئی تھیں۔ 1سلاطین 6: 39 ،32،35۔پرستش کے اجسام کے طور پر شبیہوں کا استعمال منع کیا گیا۔ غیر اقوام دونوں بزات خود مجسموں کی پاجا کرتی تھیں اور اپنے مجسموں کی شبیہوں کے ذریعے غیر اقوام کے دیوتاؤں کی پرستش کرتی تھیں۔
سوال۔ استثنا 4:20 میں، مصر ایک بھی کیوں ہے؟
جواب۔ یہ کمازکم تین مختلف طرح سے ایک بھٹی تھی۔
1۔ مصر ایک خشک، گرم مقام، فلسطین سے زیادہ گرم تھا۔
2۔ بھٹی ختم کر سکتی ھے، جلا سکتی ھے اور ناپائیدار چیزوں کو تباہ کر سکری ھے۔
3۔ دھاتوں کو صاف کرنے کلیئےمفیدہیں اور میل کو نکالنے کلیئے مفیدہیں۔ آج کچھ تجربات بھٹیوں کی طرح ہیں۔ یہ تجربہ کسی انسان کو تباہ کر سکتا ھے، اور کسی دوسرے شخص کو خالص کرسکتا ھے، کسی شخص کے دل میں" سونے" کو صاف کرتے ہوئے۔
سوال۔ استثنا 4:20 میں، مصر، "لوہے "کی بھٹی کی طرح کیوں ہے، حالانکہ 1447 قم لوہے سے پیشتر کا زمانہ ہے، اور ان کے پاس لوہا نکالنے والی کوئی بھٹی نہ تھی؟
جواب۔ علم آثار قدیمہ ظاہر کرتا ہے کہ مصر میں 3000 قم تک لوہے سے بنا سامان تھا۔ تاہم، لوہے کے ساتھ کام کرنا مشکل اور بہت مہنگا تھا، کیونکہ لوہے کو پیتل یا تابنے کی نسبت زیادہ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی تھی، یہ آیت لوہے سے بنی بھٹی کی طرف اشارہ نہیں ھے، بلکہ قدرے لوہے کو پگھلانے کلیئے تعمیر شدہ بھٹی ہے۔
سوال۔ چونکہ استثنا 4: 25۔ 26 نے کہا وہ بالکل تباہ ہو جایئں گے اگر انہوں نے بتوں کی پاجا کی اور انہوں نے بتوں کی پوجا کی، وہ بالکل تباہ کیوں نہ ہوئے؟
جواب۔ آپ اس سے بالکل آیت پڑھ کر اس کا جواب تلاش کرسکتے ہیں، استثنا4: 27۔ خدا یہودیوں کو بطور لوگ تباہ کریگا، اور ان کو قوموں میں تتربتر کریگا تاہم، یہاں تباہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ بالکل تباہ۔ استثنا 4:28۔ 29 ،25۔ 27 آیات کو یہ کہہ کر قابل انتخاب بناتی ہے کہ پھر اگر وہ خداوند کو ڈھونڈیں جنہوں نے ایسا کیا، واپس آیئں گے یہودیوں کی ثقافت کے لحاظ سے مشاہدہ کرتے ہوئے یہودیوں میں ان کے بابل پہنچنے سے پہلے، اور انکے بابل سے واپس آنے کے بعد ایک بہت بڑا فرق تھا۔ چونکہ ان کے بابل سے واپسی سے تمام میں متواتر کو تاہیاں تھیں، وہ بتوں کی پوجا کرنے کی آزمائش میں نہ گرے۔ اگر کوئی کام نہیں ہوگا، توبعض اوقات یہ کسی شخص یا لوگوں کے گناہ کے علاج کلیئے ولم تناہی کا واقعہ لاتا ہے
سوال۔ استثنا 4:41 میں، کیا عبرانی میں لفظی وضاحت ہے کہ "مشرق کی طرف"کا مطلب ہے سورج زمین کے گرد گھومتا ہے؟
جواب۔ نہیں ۔حتٰی کہ آج بہت بڑا عالم سائنسدان بھی سوعج کا طلوع ہونا اور غروب ہونا ہی بولتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا نے روزمرہ کا بول استعمال کیا ہے تشرع کسی سائنسدان کے خیال کی توثیق نہیں کرتی، مزید کہ کو۴ءی سائنسدان کو آج اس کے شعبے سے نکال دیا کیونکہ اس نے کہا کہ وہ سوارج کے غروب ہونے سے لطف اندوز ہورہا تھا۔
کیونکہ بائبل کی کوئی آیت کسی سائنسدان کے خیال سے یا تو متفق ہوتی ہے یا غیر متفق ہوتی ہے، آیت کو ضروری ہے کہ ہماری دنیا کے متعلق کچھ بطور حقیقت دعویٰ کرے، جیسے پیدائش میں کچھ آیات کرتی ہیں۔
سوال۔ استثنا 5:6۔ 21 میں، یہ خروج 20: 2۔ 17 کی محض ایک توضیح کیوں ہے، کونسا بالکل خدا کا کلام ہے؟
جواب۔ مختصر ج۳واب یہ ہے کہ استثنا 5:6۔ 21 لوگوں کلیئے ایک یادداشت تحریر کرتی ہے اور موسٰی نے یہاں تشریح کی ہے۔ یہ ہو سکتا ہے ہم ظاہر کرنے کا یہ طریقہ ارادتٲ ہو جو اس کا مطلب ہے کہ مسائل، نہ کہ بالکل کلامطویل جواب اضتلافات ظاہر کرتا ہے اور جواب پر غور کرنے کلیئے چار نقاط دیتا ہے۔
اختلافات۔ خروج میں بمقابلہ استثنا
یاد رکھیں﴿20:8﴾ بمقابلہ مشاہدہ کریں۔۔۔۔ جب خداوند خدا نے تم کو حکم دیا تھا﴿5:12﴾
نہ تمہارے جانور﴿20:10﴾ بمقابلہ نہ یترابیل، نہ تمہارا گدھا یا کوئی بھی تمہارا جانور ﴿5:13﴾
﴿غائب﴾ ﴿20:10﴾ بمقابلہ ﴿5:14﴾ اضافہ اس طرح تمہارے موکر اور نوکر انیاں آرام کریں، جیسے تم کرتے ہو۔"
تمام 20:11 کا بمقابلہ 5: 15 کا تمام
﴿غائب﴾ ﴿20:12﴾ بمقابلہ جیسے تمہارے خداوند خدا نے تمہیں حکم دیا۔۔۔۔ اور تیرا بھلا ہو۔
بھر۔۔۔۔ بیوی ﴿20: 17﴾ بمقابلہ بیوی۔۔۔۔ بھر یا زمین"﴿5:21﴾
ایک جیسے احکام۔ ان تمام میں کوئی فرق نہیں جو مانیں جایئں ۔
استثنا 5: 6۔ 21 ہوسکتا ہے بالکل وہی ہو۔
استثنا بھی ہو سکتا ہے وہی کلام ہو۔ یہ ہو سکتا ہے بالکل موسٰی کی توضیح کا کلام ہو۔ تاہم، کوئی مسئلہ نہیں، اگر یہ بالکل موسٰی کا کلام نہیں۔ حوالہ دینے کا پرانا تصور بشمول دونوں ہوبہو نقل اور جو ہم تشریحات کہتے ہیں۔
جو ہم سیکھ سکتے ہیں۔ یہ مطلب دے رہا ہے کہ خدا چاہتاہے کہ لوگ اس کے کلام کو ہوبہو کلام کی نسبت زیادہ یاد رکھیں۔
سوال۔ استثنا 5: 9 میں، خدا ناانصافی کی سزا تیسری اور چوتھی پشت دیتا ہے انکو جو خدا سے نفرت کرتے ہیں کیا خدا منصف ہے؟
جواب۔ بائبل سکھاتی ہے کہ خدا کے تمام راستے انصاف کے ہیں﴿استثنا32:4، زبور 29:4﴾، لیکن پہلے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ عدل کیا ہے، ہمیں چار اصطلاحات کی تعریف کرنا پرتی ھے۔
انصاف۔ خدا راستبازی کے کاموں کا بدلہ دیتا ہے جسکا اس نے وعدہ کیا ہے اور خدا نافرمانی کی سزا دیتا ہے جیسے اس نے وعدہ کیا ہے۔ خدا کا انصاف کوئی پراسرار،ناقابل فہم چیز نہیں بلکہ یہ اسکے کلام، بائبل میں بیان کیا گیا ہے۔
منصفانہ۔ منصفانہ کا مطلب ہے دونوں کہ ہر کسی سے ایک جیسا سلوک کیا جائے اور یہ کہ خدا ہمیشہ ہر کسی سے ایک جیسا سلوک کرے۔ خدا منصفانہ نہیں ہے، نہ ہی خدا بائبل میں ایسا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، جیسے متی 20: 1، 16، استثنا 5:9؛ رومیوں 9: 10۔ 18 اور دوسری آیات ظاہر کرتی ہیں۔ یوحنا 19 :11 اور 2 پطرس 2:21 ظاہر کرتی ہیں کہ وہ جو زیادہ علم رکھتے ہیں ان زیادہ سختی سے عدالت ہوگی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہر کسی کو ایک ہی مقدار میں علم نہیں دیا گیا، جو کہ غیر منصفانہ ہے۔ پھر بھی خدا عادل ہے اور خدا اس کا حساب بھی لیتا ہے ﴿رومیوں 4:15؛5:12﴾ کئی انسانوں میں انصاف کے تصوررات مختلف ہیں، اور اگر انصاف پر تمہاری تجویز کسی غیر منصفیت کی اجازت نہیں دیتی، تو یاد رکھیں کہ خدا نے صرف اپنی عادل ہونے کی تعریف کے مطابق عادل ہونے کا وعدہ کیا ہے، جیسے بائبل میں ظاہر کیا گیا ہے، اور نہ کہ کسی خاص انسانی تعریف سے۔
خطا/جوابدہی۔خطا/ قصور کسی انسان کا جزبہ / جوش ہو سکتا ہے، لیکن یہ یہاں خطا کی قسم پر بحث نہیں کی گئی۔ یہاں خطا، جوابدہی ہے، خدا کے انصاف کے تقاضے کے مطابق، خدا کے غضب کے نیچے ہونے کے مطابق۔ یہاں بڑا اور چھوٹا گناہ ہے ﴿یوحنا 19: 11﴾ ہر شخص اپنے گناہ کا جواب دہ ہے، ہم اپنی نسل کے گناہوں کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ﴿حزقی ایل 18، استثنا 24: 16﴾ ، اور ہم اپنے بچوں کی خطا نہیں بانٹتے﴿حزقی ایل18:20﴾
نتائج۔ کسی ایک شخص کے اعمال کی وجہ سے کئی برکات، لعنتیں اور دوسرے نتائج موروثی ہوتے ہیں اور دوسرے تک جاتے ہیں۔ جب ایک ماں تمباکو نوشی ، شراب نوشی، خراب خوراک کھانے، یا کوکین اور دوسری منشیات میں غرق ہو جاتی ہے یا باز رہنے کا انتخاب کر سکتی ہے، تو بچہ میں نتائج ہوتے ہیں۔ نتائج کا اگلی نسل میں جانے کی کچھ مثالیں ہیں، کوئی مسیحی والدین میں پیدا ہوا، تو بچہ پیدائش کے ساتھ ہی، بہت آلودہ علاقے میں، کسی خامی/ نقص کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، اور ایسے بچے یا پیدائش کے بعد قتل کردیے جاتے ہیں یا اسقاط کردیے جاتے ہیں۔
نتائج بے انصاف معلوم ہوتے ہیں، اور وہ خدا کو بے انصاف ظاہر کرتے معلوم ہوتے ہیں اگریہ مختصر ہے توزمینی زندگی ساری جہاں ہے۔ ساٹنیٹفک امریکن کے کوئی رسمی ایڈیٹر ایک وجود پرست (AGNOSTIC) جسکا نام مارٹن گارڈنر تھا، نے اپنی کتاب میں ایک گہرا نقطہ بنایا، دی وئزآف آفلوسوفیکلبنکرویز۔ اس نے کہاکہ اگر تم انصاف پر ایمان رکھتے ہو ﴿ اور اس نے کیا﴾، تو پھر تمہیں زندگی کے بعد میں بھی ایمان رکھنا ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں، کہ اس زمین پر زندگی بہت بے انصاف ہے، کہ اگر ہر کوئی انصاف حاصل کرتا ہے، تو موت کے بعد ایک وقت ضرور ہوگا جب انصاف حق کے مطابق ملے گا، ہم مسیحی اسے روز عدالت کہتے ہیں۔
اب خدا کے انصاف پر سوال کے جواب کلیيے استثنا 6: 4۔ خدا عادل ہے، لیکن منصفانہ نہیں۔ لوگوں کے انجام موروثی ہو سکتے ہیں، لیکن گناہ نہیں۔ لیکن خداکی تمجید ہو کہ وہ عادل نہیں بلکہ رحمدل بھی ہے۔
سوال۔ استثنا 5:15 میں، کیا اسرائیلی سبت کو قائم رکھتے تھے کیونکہ وہ تو مصر میں غلام تھے، یا کیا خدا نے اس کا حکم دیا کیونکہ اس نے چھ دنوں میں آسمان اور زمین کو پیدا کیا جیسے خروج 20:11 کہتی ہے؟
جواب۔دونوں وجوہ درست ہیں۔ تخلیق میں خدا کے مندرجہ ذیل کام کی وجہ خروج 20:11 میں دی گئی ہے۔ ایک اضافی وجہ، کیونکہ وہ میں غلام تھے ﴿کوئی سبت نہ تھا﴾استثنا 5: 15
یہ تین مختلف تحاریک کیلئے کرنے والے کاموں کی ایک انسانی مثال پر غور کرنے کلیئے مفید ہو سکتی ہے۔ ہم ایک انسان کو بتا سکتے ہیں کہ گپی نہ بنے کیونکہ یہ وہ ہے جو خدا حکم دیتا ہے۔ ہم دوسرے انسان کو بتا سکتے ہیں کہ گپی نہ بنے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے خدا کیلئے انکی محبت اور احترام کی وجہ سے۔ ہم کسی تیسرے انسن کو بتاسکتے ہیں کہ گپی نہ بنے دوسروں سے محبت کی وجہ سے۔
اس پر مختصر یہ ،کہ مسیحی خدا کے کردار کی بیناد پر اچھائی کرنے کیلئے سر گر کر سکتے ہیں، ان کے اپنے گزرے تجربات کی بنیاد پر یا دوسروں کے، خدا اور دوسروں کی موجودہ محبت کی بنیاد پر، یا مستقبل کی امید کی بنیاد پر۔ اوپر والی تمام تحاریک شاید مل کر مضبوط ترین تحریک ہے۔ دو وجوہات کیلئے کچھ چیزیں یاد رکھ سکتے ہیں۔ ایک تخلیق کیلئے " ابتدائی" وجہ، اور دوسری آنیوالے کفارے کیلئے۔
سوال۔ چونکہ استثنا 5: 17 اور خروج 20: 13، "تو خون نہ کرنا" یہاں سزائے موت کیوں ہے؟
جواب۔ خدا نے کبھی نہیں کہا کہ " تو خون نہ کرنا" قدرے خدا کے حکم دیا"تو خون نہ کرنا" ﴿خروج 20: 13، استثنا 5:17﴾ ۔ یہ نہ صرف عبرانی سے ہی نہیں دیکھا جاسکتا، بلکہ متن خود یہ ظاہر کرتا ہے، جیسے اسرایئلیوں کو بعض جرائم کیلئے لوگوں کو پھانسی دینے کا متعارف کروایا، جیسے خروج 21:12۔ 17 مزید برآں خروج اور استثنا دونوں میں جنگیں خاص ماحول ٹھہرئی جاتی تھیں۔ عہد جدید میں، ہمیں اپنے دشمنوں سے محبت کرنے کا کہا گیا ہے﴿ لوقا 6:27۔ 36 اور متی 5: 43۔ 44 ﴾ اور شخصی طور پر ہمیں بدلہ نہیں لینا چاہیے، جیسے رومیوں 12:17۔21 سکھاتی ہے۔ تاہم، اسکو برابرا کرتے ہوئے، بالکل اگلا باب سکھاتا ھے کہ سرکار کی ذمہ داری ھے"کیونکہ وہ تلوار بے فائدہ لیے ہوئے نہیں اور خدا کا خادم ہے کہاسکے غضب کے موافق بدکار کو سزا دیتا ہے" جیسے رومیوں 13:4 سے ظاہر ہے۔
سوال۔ استثنا 5:21 دس احکام کا آخری حکم کیوں ہے،﴿مبنیہ طور پر﴾ سکھاتے ہیں کہ بیویاں مردوں کی جایئداد ہیں؟﴿ایک مسلمان نے دعویٰ کیا﴾
جواب۔یہ آیت یہ نہی سکھاتی کہ بیویا مردوں کی جایئداد ہیں یہ کہتی ہے آدمی اپنے کی بیوی یا جایئداد کا لالچ نہ کرے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیوی ایک جایئداد ھے۔
دوسری طرح سے، میں کمازکم ایک مسلمان کا جایئداد ہوں جب وہ امریکہ آیا اور اسے اپنی جایئداد ظاہر کرنی تھی، اور اس نے اپنی بیوی فہرست میں شامل کر دی۔ تمہارے وضاحت کرنے کے بعد " قرآن میں عورتیں آپکی دایئں ہاتھ کی جایئداد ہیں، شاید ہم مندرجہ ذیل کونسی احادیث سے بیان کرتے ہوں۔
جب ایک آدمی کو عورت دی جاتی ہے یا نوکر یا کوئی مویشی، تو وہ اس کے ماتھے پر رسی باندھے اور اللہ سے دعا کرے۔ ابن ماجہ والیم 3 نمبر 1918 صفحہ 157۔
عورتوں سے اچھا سلوک کرو، کیونکہ وہ پالتو جانوروں کی طرح ﴾ ہیں ﴿اوان﴾ اور ان کے لیے کوئی چیز قبضہ میں نہ رکھو" الطبر والیم 9 صفحہ 113۔
﴿دوسرے مسلمان علما طبری سے متفق نہیں ہیں کہ عورتوں کو اپنے لیے کوئی چیز رکھنا منع ھے﴾
سوال۔ استثنا 6:4 میں، چونکہ خدا " ایک"ہے، تو تثلیث کے بارے کیا خیال ہے؟
جواب۔ یہاں عہد عتیق میں ایک کے لیے استعمال ہونے والے کچھ الفاظ ہیں۔
چاڈ۔صاف مطلب ہے "ایک" اور کم استعمال ہوا ہے۔
استثنا۔ ایک، ہر ایک، ہر کوئی، عورت۔
اوئیش ۔ ایک آدمی یا کوئی شخص ۔﴿ عہد عتیق میں بہت عام ﴾ ۔
اچاڈ۔ جسکا مطلب ہے "متحدہ، مشابہ، تنہا، اور اکٹھا"﴿ عہد عتیق میں بہت عام﴾ استثنا 6:4 میں استعمال کیا لفظ ،اچاڈ، ہے۔ پس، کوئی اسکا ترجمہ " متحدہ" کر سکتا ہے اگرچہ" ایک" وسیع ہے اور مزید بہتر ترجمہ ہے ۔ یہ لفظ پیدائش 2: 24 میں بھی استعمال کیا گیا ہے کہتا ہے مرد اور بیوی ایک تن ہونگے۔ استثنا 6:کہتی ہے ایک ہی خدا ہے۔ پیدائش 1: 5 کہتی ہے شام اور صبح ایک دن تھے۔"
اس لفظ کے معنی کی ایک مثال ایک اتحاد جو کئی حصوں سے بنا ہو خروج 26: 6،11 میں، جہاں پچاس گھنڈیاں پردوں کو جوڑتی ہیں پس خیمہ " ایک" ہو جایئگاحزقی ایل 37:17، 19،22 بھی دو چھڑیوں کی بات کرتی ہے جو جڑ کر "ایک" ہو جاتی ہے یہی لفظ استعمال ہوا ھے۔
سوالۛ استثنا 6:4 میں ،یہ دل، جان اور طاقت کیوں کہتی ہے؟
جواب۔ کلام نہیں کہتا، بلکہ ہم مندرجہ ذیل کو دیکھ سکتے ہیں۔
1۔ تصور کریں کہ بائبل نے کہا ہم اپنی جان سے صرف خدا سے محبت کریں۔ ہمیں خدا کے لیے اپنی ذمہ داری کرنی ہے، لیکن سپردگی کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں خدا کے لیے کوئی جزبہ/ روگ یا محبت میں کوئی بے وقوفی کرنی ہے۔
2۔ تصور کریں کہ بابئل نے کہا ھے کہ ہم اپنی پوری طاقت سے صرف خدا سے محبت کریں ہمیں خدا کے لیے اپنی ذمہ داری نبھانی ہے اور خدا کی خدمت میں سخت محنت کرنا ہے، لیکن سپردگی کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں خدا کے لیے کوئی غلط جزبہ/بیماری یا کوئی دیوابگی کرنی ہے۔
3۔ تصور کریں کہ بائبل نے کہا ہے اپنے پورے دل سے صرف خدا سے محبت کریں۔ ہمیں خدا کے ساتھ ایک گہرے رشتے کے لیے ایک بڑی خواہش ہوگی، اور اپنے آپ میں بھروسہ ختم کیے بغیر اور سرگرمی کے کوئی بھی کام کرتے جایئں تاکہ اس فرمانبرداری رہیں اور اسکی خدمت کرتے رہیں۔
جتنی کوشش کر سکتے ہیں کریں، ہم ان تمام تینوں عناصر کے بغیر خدا سے مکمل محبت نہیں کرسکتے۔ ایک چوتھے عناصر کے لیے، مرقس 12: 30 پر سوال دیکھیں۔
سوال۔ استثنا 6: 7، 20 میں بجائےن بچوں کو سکھانے اور"ان کے ذہن نشین کرنا" کیا ہمیں اپنے بچوں کو اپنے لیے فیصلہ کرنے کے لیے ترقی نہیں کرنے دینا چاہیے؟
جواب۔ تعلیم، ذہن نشین کرنا نہیں اور صرف بطور والدین ڈھیلے ہوں لیکن اپنے بچوں کی حفاظت کے بارے تعلیم میں نہیں، مسیحی والدین سست ہیں اگر وہ اپنے بچوں کو خدا کے بارے تعلیم نہیں دیتے۔ ہمارے بچے ذمہ داری ہے ہم خدا کے سامنے جواب دہ نہیں ہونگےکہ ہمارے بچے آزادانی فیصلے کریں، لیکن ہمیں یہ جواب دینا ہوگا کہ ہم نے اپنے بچوں کیسے پروش کی ہم نے انہیں کیا سکھایا۔ امثال 22: 6 کہتی ھے اپنے بچے کی اسکی راہوں میں تربیت کہ یہاں اسے جانا ہے۔ افیسوں 6:4 والدوں کے لیے ایک حکم ہے کہ اپنے بچوں کی خداوند کی تربیت اور ہدایت میں تربیت کر۔ متی 19:14میں یسوع نے کہا بچوں کو میرے پاس آنے دو، اور انکو منع نہ کرو۔
سوال۔ استثنا 6:8۔9 میں، کیا ایمامداروں کو اپنے ماتھوں اور ہاتھوں پر شمیا ﴿یہودیوں کا کلمہ ﴿سن اے اسرائیل﴾ باندھنا چاہیے﴿ استثنا 6:4﴾؟
جواب۔ اگلا سوال دیکھیں کہ کیسے جانا جاتا ہے کہ جب آپ کوئی لفظی ترتیب بدلنا اور ضابطہ پرستی کے طور پر بات رہے ہوں۔
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ کوئی اسرائیل میں اس عبارت کو لفظی ترتیب بدلنا سمجھنا ہو جہاں تک کہ فریسیوں کا دور آگیا۔ ہمارے پاس کوئی ایسی تحریر نہیں کہ موسٰی یا یشوع نے خود یہ کیا ہو۔
دوسری طرح سے، مسیحی آج اکثر آرائش کی چیزیں اپنے گھروں میں رکھتے ہیں جن پر بائبل کی آیات ہوتی ہیں۔ یہ شریعت پرستی نہیں بلکہ یہ خواہش کہ اپنے دلوں میں خدا کا کلام رکھنا۔
سوال۔ استثنا 6: 8۔9 میں، چونکہ ایمانداروں کو ضررورت نہیں کہ وہ با۴بل کی آیات کو اپنے ماتھوں پر ناندھیں، آپ کیسے بتا سکتے ہیں اگر آپ کسی عبارت کی تفسیر لفظی ترتیب بدل کر رہے ہیں؟
جواب۔ اگر آپ اس عبارت کو لفظوں کی ترتیب بدل کر لینے والے ہیں۔ تو آپکو یکساں رو ہونا چاہیے اور ساری عبارت اسی طرح لینی چاہیے۔ استثنا 6: 6 کہتی ھے کہ کلام ہمارے دلوں پر ہونا چاہیے اور چونکہ آج کل سرجری کرکے دل کھول دیا جاتا ہے۔۔۔۔
سنجیدگی سے، اس سوال کا جواب کہ کیسے کسی عبارت کی تفسیر کی جائے، جاننے سے پہلے، یہ ہم ھے کہ دعایئہ صیح سوال پوچھا جائے۔ صیحح سوال یہ ہے، کہ" کیسے خدا نے اور انسانی مصنف نے ایمانداروں کے لیے مد نظر رکھنا کہ عبارت کی تفسیر کریں" یہاں کوئی پانچ حصوں والا امتحان ہے جیسے آپ کو اپنی کسی بھی عبارت کی تفسیر پر اطلاق کرنا چاہیے اس سوال کے جواب کے لیے ۔
1۔ کیا میری تفسیر ملتی جلتی ہے، یا میں ایک طرح سے عبارت کی تفسیر کررہا ہوں اور ایک حصہ کی دوسری طرح سے؟
2۔ کیا میری تفسیر عبارت کے حصوں کو بے معنی بناتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو کچھ میری تفسیر میں غلط ہے۔
3۔ کیا میری تفسیر آیت کے متن کی روشنی میں قابل فہم ہے عبارت سے پہلے اور بعد میں؟
4۔ کیا اس عبارت کے متعلق اور ان سچایئوں کے بارے جو باقی کلام میں خدا نے کہا ہے میری تفسیر ملتی جلتی۔ تاہم، ذہن میں رکھیں کوئی عبارت ایک سچائی کے علاوہ زیادہ پر بھی مشتمل ہو سکتی ہے۔
5۔ آخر کار یہ اہمیت کی کمی کا امتحان ہے۔ دیکھیں کہ کیسے خدا نے بائبلی مسیحیوں کی رہنمائی کی دونوں ابتدائی اور جدید کی۔ اس عبارت کی تفسیر کرنے کے لیے۔
سوال۔استثنا 6: 20 میں، بیٹوں کو کیوں سکھایا جاتا ہے اور بیٹوں کو کیوں نہیں؟
جواب۔ یہاں فرض کیا جاتا ہے کہ تمام بچوں کو سکھایا جائے، بیٹوں اور بیٹیوں کو بھی، استثنا 6:7 میں۔ عبرانی میں، عام طور پر آدمی مرد کو لوگوں میں ترجیج دی جاسکتی ہے، اور بیٹوں کو عام طور پر ترجیج دی جاسکتی ہے۔ ایک آئیکل جو" آج مسیحیت"میں ﴿میگزین کا نام﴾ 1997/ 10/27 صفحہ 35 میں چھپا۔ وہاں"بچوں" کے بارے کوئءی عبرانی لفظ نہیں ہے۔ صرف "بیٹوں" کے لیے ایک لفظ اور ایک لفظ " بیٹیوں" کے لیے۔ جب ایک عبرانی مقرر بیٹوں اوت بیٹیوں دونوں کے بارے بالتا ہے تو وہ " بیٹوں " کا لفظ استعمال کرتا ہے۔
سوال۔ استثنا 7:1 میں، کنعان میں سات اقوام کی اندازٲ کتنی آبادی تھی کون اسرایئلیوں سے زیادہ تھے؟ اگر اسرایئلیوں نے کنعان کے تمام لوگوں کو ماردیا تھا، کیا سابقہ آبادی کے ساتویں حصہ کی نسبت زمین کم ہوتی؟
جواب۔نہیں ۔جواب کے لیے تین نقاط ہیں۔
1۔ اسرئیلی لوگ کنعان متحدہ آبادی سے کم تھے۔
2۔ وہاں فلسطین بارش کثرت سے ہوتی تھی، پس زمین مزید لوگوں کو مدد دے سکتے تھی۔ ملین ﴿پچیس لاکھ﴾ بائبل کے زمانے اسرائیلی آج کے 5 ملین ﴿50 لاکھ﴾ اسرائیلیوں سے کم تھے
3۔ یہاں یشوع کے زمانے کی آبادی کی مقدار ہے 40% + پر اندازہ لگایا گیا۔
|
علاقہ |
آبادی |
|
کنعان ﴿فنیلیوں کے علاوہ﴾ |
800k |
|
آشر کے مغربی حصے میں فنیکی |
315k |
|
جنوبی کنعان ﴿عمالیقیوں کے علاوہ﴾
عمالیقی یردن کے پار اموری عمونی+ موآبی+ادومی |
888k
110k 340k 209k |
ان مقداروں کے ذریعہ معلوم کرنے کے لیے اگلا سوال دیکھیں۔
سوال۔ استثنا 7:1 میں، پچھلے سوال میں آبادی کی مقدار کا ذریعہ کیا ہے؟
جواب۔مجھے کوئی علمی ذخیرہ نہیں ملاجو آبادی کی تفصیل کے اس لیول کو توڑ دے، پس سابقہ تفصیل میرے اپنے ابتدائی اندازوں کا ایک خلاصہ ہے۔ یہاں میرے اعداد ہیں۔ یاد رکھیں کہ عدد کسی خاص قصبے کے قریب آبادی نہیں ھے بلکہ جو اندر رہتی ہے اس کے قصبے میں۔ لیکن قدرے قصبے کی آبادی جو اردگرد دیہاتی علاقے میں تھی۔
شمالی کنعان 1155
|
10
15 10 10
30
15 10 15
10 10
10 15 |
ارقاتا کناہ
مزیفوتھ امیم نہاریہ ﴿پورٹ﴾ عظیم سڈون 4000ق م چھوٹا سڈون ﴿پورٹ﴾ سمائرہ ٹرائپولی ﴿پورٹ﴾ یائر ﴿پورٹ﴾ 1900ق م اولازا﴿ارتھوشیا﴾
عزا ریرفاتھ 1600 ق م
|
10 15
15 15 10
10
10 10 10
20
20 10 |
ابڈن آپکو ﴿رپورٹ﴾
ایکسیف ایکزب اہلب
امبی
ارداتا باٹوٹا بیتھ امیک
بیرائیٹس ﴿بیروت﴾ بیبلوس ﴿پورت﴾7000ق م ہمون
|
مشرقی آشر کی سرزمین 85
|
10 10 5 5 5 |
کرمل رحب﴿3150قم﴾ شارون شمگونہ زیرار
|
10 5 10 15 5 |
آفک آروبوتھ بیٹن ڈور ہیلکتھ |
نفتالی کی سرزمین 180
|
ایبل بیتھ۔معکہ عدامی۔نکب بیتھ رناتھ بیتھ۔ زمیش ﴿شمال﴾ این ہزور ہماتھ ہیزور﴿1175کرس﴾ ہکوک آئرن |
10 10 10 10 5 10 40 10 10 |
جانوح قاوش کنرتھ3000ق م مڈون میروم میروز رمتھ زر |
10 10 10 1 10 5 10 5 |
زبولون کی سرزمین 115
|
بیت لحم﴿شمال﴾ چیسولوتھ ڈیبراتھ ہناتھون ہیروسیھ |
10 10 10 15 10 |
جات ہیفر نحلل سارڈ رمون شمرون |
15 10 10 10 15 |
حمون حتی 35
|
بعل جاد اجون |
10 5 |
لیش مزف |
15 5 |
شمالی بسن 50
|
رفک اشتاروتھ |
10 10 |
گولان کرینم |
15 15 |
آشکار کی سرزمین 115
|
بیتھ شان بیتھ ہیجان اینڈور ہیروڈ جبنیل |
25 10 10 10 15 |
جیریل یوکنیم اوفر شونیم |
10 10 10 15 |
منسی کی سارزمین 128
|
اپیل ملوح بیزک دوتن ابلیم قیدش مگیڈو 3500ق م |
5 10 15 15 5 18 |
شیلوہ جیرار تعانخ۔1500ق م۔ تھبیز ترضاہ رنعانیم |
10 510
10 10 5 |
افرائیم کی سرزمین 132
|
ایفک اتاروتھ بعل ہنرور بیتھ حورن ﴿زیریں﴾ جیزر3000ق م﴿ایکرس﴾ لبناہ مکمیتھتھ |
10 15 5 12
15
10 5 |
نعاروتھ پراتھن سعالبیم شیلوہ
تپاہ
تمناہ سیراہ رسرزیراتھن |
10 5 5 10
10
10 10 |
جنوبی کنعان
بنیمین کی سرزمین 172
|
|
|
|
|
|
عی اناتھوتھ بہورم بیروتھ بیت ہگلاہ ہیتھ حورون﴿زیریں﴾ بیت ایل 2000ق م این روجل این شمیش جباہ جبیحہ جبعون |
12 5 5 5 5 5
10
5 5 5 10 20 |
یریحو7000ق م یریمشلم3000ق م کیفرہ کیریاتھ جیرم مکمش رمزیاہ
نوب اوفرا رامہ رماریم
شالشاہ |
10 25 5 10 5 10
5 5 5 5
5 |
دان کی سرزمین 230
|
امرنا اینٹبی پیڑس 3000ق م بینی بیرک
بیتھشمیش 2200ق م ﴿جنوبی﴾ چیسلون ایلرون 50ایکر ایلٹیکاہ اشتول جاترمون جیولوروتھ |
10
10 10
20 10 40 10 10 10 10 |
جبتھون
جبنیح ﴿جبنیل﴾ یاقا﴿جوفا﴾4472ق م
لوڈ اونو تپاہ تمناہ یپوینح زورہ |
10
10
10
10 10 10 10 10 10 |
اموری سلطنتیں 120
|
ازکاہ ڈیبر350 ق م اگلون حربون |
10 15 25 20 |
یروتھ لاکس3100 ق م لبنہ میکدش |
2 23 15 10 |
یہوداہ کا حصہ/سائمن کا حصہ 352
|
ادلام انب ایفک آش اشدود اشقلون 2850 ق م بعلاہ بیرسبع بیت لحم﴿جنوبی﴾ بیت اگلین 2200ق م بیت پیلٹ بیتزد1750ق م بیتھل کرمل نمک دا شہر﴿قمران﴾ ایلٹولڈ ایزم این جڈی این رمون اشتھو ایتم جات غزا جیڈور جیرار جبیح |
5 5 10 2 15 25 2 10 1
15 5 10 5 5
5 5 5 5 5 5 5 25 25 5 5 5 |
حفرشاول جوکتھیل جاتر جوتھ کائن کبنریل کیلاہ لحی میڈمنا
موئن مصدا مکمتھتھ مزپہہ مولادہ
ناٹوفاہ رماہ رفتہ شاروہن سوکوہ تمر ٹیکوء تل ابومتیر زنوہ زینن زکلاگ زف |
5 5 5 5 5 5 5 2 5
5 5 5 5 5
5 5 5 10 5 5 5 2 5 5 10 5 |
عمالیقی 110
|
ابرونہ ارد اروئر بینی یاکن ﴿اوس﴾ بیٹ پیلٹ ازیون جیبر ﴿اوسس﴾حور حجداد﴿اوسس﴾
حورماہ |
5 10 10 5 10
5 5
10 |
جوٹنتھہ﴿اوس﴾ قوش برینع موسیروتھ موؤنٹ سیر تمر
رہوبوتھ تمنا بائی ابکلاتھ ﴿اوسس﴾ |
5 15 5 10 5
5
5 |
سوال۔ استثنا7:1میں، موسیٰ نے کیسے کہا کہ وہ اس دن دریائے یردن کے پار جایئں گے، کیونکہ اس وقت 24 گھنٹے تقریبٲ زیادہ عرصہ ہے؟
جواب۔دن کے لیے عبرانی لفظ ،یوم، کا معنی کوئی عرصہ ہو سکتا ہے، جیسے خداوند کا دن ایک دوسری مثال کہ خداوند کا دن آرہا ہے فورٲ مسیح کی واپسی سے پہلے، جو 24 گھنٹوں سے زیادہ ہوگا۔ یقینٲ یردن کو 24 گھنٹں میں بھی پار کر سکتے تھے، اگرچہ پار کرنیوالے لوگوں کی قطار بہت وسیع تھی۔
سوال۔ استثنا7: 6 میں، خدا نے اسرائیلیوں کو کیوں چنا؟
جواب۔ جواب کا ایک حصہ استثنا 7 :7۔ 9 میں دیا گیا ہے۔ وجہ یہ نہیں کہ وہ ایک طاقتور اور عجیب لوگ تھے۔ قدرے وجہ یہ تھی کہ خدا کی محبت اور ابراہام کا چناؤ تھا، اور پھر اضحاق اور یعقوب کو چنا۔ کئی دفعہ لوگوں میں اچھے نتائج ہوتے ہیں۔ کیوں دوسروں نے جو ان کے سامنے کیا۔ کیا دوسرے لوگوں کے نتائج اچھے ہونگے کیونکہ جو باتیں تم کرتے ہو؟
سوال۔استثنا 7:10 میں، خدا کیوں کچھ واپس لوٹانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے، خاص طور تے چونکہ ہم اپنے آپ کا بدلہ لینے کا نہیں سوچ رہے؟
جواب۔ ہمیں بدلہ نہیں لینا، اس وجہ سے نہیں کہ اس کا کبھی حق نہیں، بلکہ اس وجہ سے کہ وجہ ، منصف ہے جو موزوں سزا منظور کرتا ہے۔ اگر جدا کسی کو سزا دیتا ہے جس نے غلطی کی اور بالکل دوسرے کو نظر انداز کردے وہی غلطی کی ہو یا اس کے برابر گناہ کیا ہو، تو یکساں رو نہیں ہوگا جو خدا نے بائبل میں اپنے انصاف کےبارے ظاہر کیا ہے۔ اگلا سوال بھی دیکھیں۔
سوال۔ استثنا 7:10 میں دیا گیا ہے کہ خدا منصفانہ طور تے سزا دیتا ہے، تو خدا ہر حالت میں کیوں چاہتا ہے کہ کوئی سزا حق کے مطابق دی جائے؟
جواب۔ کیا خدا ہر ایک کو، ہر چیز کے ساتھ جنت الفردوس میں جانے دے گا؟ انہوں نے جنت الفردوس میں جانے کے لیے اور ہمیشہ تک خدا کے ساتھ رہنے کے لیے کیا نہ کیا؟ اور یہ بھی کہ جنت الفردوس کس طرح کی ہوگی؟
تصور کریں ہٹلر، ٹیمرلین، سٹالن اڈی ایمن، یا کوئی دوسرا"عظیم" قاتل توبہ نہیں کرتا، جنت الفردوس سے دور ہے؟ خالص جگہ کس قسم کی ہوگی؟ اگر جنتالفردوس خدا کی پرستش کے لیے عظیم ترین جگہ ہے خدا لوگوں کو ان کی مرض کے خلاف ہمیشہ کے لیے جنت الفردوس میں رہنے کے لیے مجبور کررہا ہے کیا آپ تصور کر سکتے ہیں؟ میں نہیں کر سکتا۔
سوال۔ استثنا 7:14 میں ،چونکہ خدا اسارئیلی عورتوں سے بانجھ پن ختم کردیگا، میکل﴿2 سمویئل 6:20۔ 23﴾ حنہ﴿ 1 سمویئل 1:2، 5۔ 8﴾ اور الیشبع﴿ لوقا1:7﴾
کے بارے کیا خیال ہے؟
جواب۔ میکل لازمٲ بانجھ نی تھی، یہ تقریبٲ داؤد کے اس کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات کی وجہ تھی۔ حنہ اور الیشبع دونوں اپنی زندگیوں کچھ حصے تک بانجھ تھیں لیکن خدا نے انکی بانجھ زندگیوں کو لیا اور انہیں ایک خاص نعمت بنادیا۔ بعض اوقات جب خدا ہمیں کچھ عجیب سینے والا ہوتا ہے، جیسے بچے، تو ہمیں اسکے وقت کا انتظار کرتا ہے۔
سوال۔ استثنا 7:19، خروج 13:14، خروج 15:8، 12، 16، خروج 31:8، زبور 91:4، حبقوق 4:13، کیا یہ ثابت کرتے ہیں کہ خدا کی انگلیاں ہاتھ، بازو نتھنے، پر، پنکھ اور آنکھیں ہیں؟
جواب۔ نہیں، یہ خدا کا انسانی شکل میں اظہارہے۔ خروج 8:19 پر بات چیت، جواب کے لیے دیکھیں ۔
سوالاستثنا 8:2 وچ، کیا واقعی سب کچھ جاننے والا ہے؟
جواب۔ ہاں، کچھ بھی ، جو واقع ہو چکا ہے، جو ہو رہا ہے یا جو ہونے والا ہے خدا سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ خدا شروع سے آخر تک ھانتا ہے، ﴿یسعیاہ 46:10﴾۔ ہماری زندگی کا ہر ایک دن خدا کی کتاب میں لکھا ہوا ہے جبکہوہ ایک بھی وجود میں نہ آیا تھا۔ ﴿ زبور 139:16﴾ کس نے ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہمیں چنا﴿ رومیوں 9:10۔ 23، 8:29، افسیوں 1:4 خدا ہماری سب راہوں کو جانچتا ہے﴿ امثال 5:21﴾
یوحنا 21: 17 میں، پطرس نے یسوع سے کہا کہ یسوع سب کچھ جانتا ہے۔ اور یسوع نے اس خیال کو درست نہ کیا۔ 1 یوحنا 3:20 کہتی ہے کہ خدا ہر چیز جانتا ہے۔ تاہم، کوئی مفروضی نمونہ کو ضروری چیز نہیں۔ مثلٲ، اگر سور اڑ سکتے تو آسمان سبز ہوتا؟ کلام اس کے متعلق خاموش ہے کہ خدا ہر مفروضی تفصیل کو جو ہر ممکنیت کی ہے کو جانتا ہے۔
سوال۔ استثنا 8:4، 29:5 میں، اسرائیلی لوگوں کے کپڑے اور جوتے کیسے نہ گھسے؟
جواب۔ کپڑوں اور جوتوں کے لیے یہ فطری بات نہیں کہ وہ چالیس تک بیابان کی دھوپ میں رہتے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا نے ایک طریقے سے مافوق الفطرت نعمت دی۔ دیکھنے میں یہ حیران کن بات ہے کہ خدا نہ صرف چند معجزات کرتا ہے، بلکہ وہ لاکوں چھوٹے چھوٹے معجزات بھی کر سکتا ہے۔
سوال۔ استثنا 8:7 میں ،کیا فلسطین موسیٰ کے بارے کی نسبت زیادہ خشک ہے؟
جواب۔ ہاں۔ تاریخی زمانے میں، موسم بہت تبدیل ہو گیا ہے۔ مثلٲ موسمی سائنسدان کہتے ہیں زمانہ وسطٰی کے آخری حصے میں ایک"قرون وسطٰی کا گرم عرصہ" ہے انہوں نے 1340م میں، لیکیفورنیا میں اس کا خشک سالی میں ژبوت دیکھا ہے۔ ﴿فطرتی تاریخ، ستمبر 1996﴾۔ 1000 م کے بعد گرین لینڈ میں خود کاشت کیے گئے۔ ایک دوسری مثال، آب وہوا کے متعلقہ ماہرین کا ہکنا ہے کہ تقریبٲ 4000 ق م سے پہلے " سہارا" صحرا،صحرا نہیں تھا۔
سوال۔استثنا 8:9 میں، تانبے کی پہاڑیاں، جنکا وعدہ اسرائیلیوں سے کیا گیا، وہ کہاں ہیں؟
جواب۔بحیرہ مردار کے جنوب میں 20 میل﴿33 کلومیڑ﴾ دور کئی لوہے کی بھٹیاں اور تابنے کی دھات کی میل پائی گئی ہے۔ تابنے کے کچھ ذخائر ابھی تک سطح پر ظاہری ہیں۔ کیلکولتھک زمانہ﴿4500۔ 3100 ق م﴾ کے شروع میں بیرسبع میں تابنے کے کار کن رہتے تھے۔ کچ دھات جنوب میں 60 میل سے دور ملی۔ فلسطین میں تابنے کا قدیم ترین برتن یریحو سے ملا﴿ 4500۔ 4400 ق م س﴾۔
سوال۔ استثنا 9: 1 میں، انہوں کب دریائے یردن پار کیا؟
جواب۔ " اس دن" کا مطلب ہے اس وقت، نہ کہ 24 گھنٹے کا دورانہ۔
سوال۔ استثنا 9:3 میں، کنعانی کہاں تیزی سے تباہ ہوئے، یا وہ آہستہ آہستہ تباہ ہوئے جیسے استثنا 7:22 میں ہے؟
جواب۔ اسرائیلیوں نے کنعان پر تیز رفتاری کر لیا۔ یہ اس لیے ہوا کیونکہ خدا نے تیزی سے کنعانیوں کو تباہ کر دیا، اس سے پہلے اسرائیل نے کئی دفعہ قبضہ کیا جس میں تریحو اور عجلون کی وادی شامل ہے، استثنا9:3 یہ نہیں کہتی کہ ہر کنانی قوم تیزی سے ٪100 ہوگی۔ درحقیقت، ہر کوئی کتاب پڑھنے والا دیکھے گا کہ استثنا کہ 7: 22 استثنا 9:3 یہ کہتے ہوئے قابل بناتی ہے کہ تمام کنانی تیزی سے تباہ نہیں ہونگے،
سوال۔ استثنا 9:18 میں ، کیا موسٰی نے حقیقتٲ روزہ رکھا، حتٰی کہ بغیر پانی کے چالیس رات دن تک؟
جواب۔ یہ ایک عام روزہ نہیں تھا، جیسے کہ یہ فطری طور پر ناممکن ہوگا، تاہم، جب ہم جنت الفردوس میں ہونگے تو ہمیں زمینی چیزوں کی ضرورت نہیں ہوگی، اور جبکہ خدا موسٰی کے ساتھ تھا، خدا، موسٰی کو بغیر کھانے کے بھی، زندہ رکھنے کے قابل ہے۔
سوال۔ استثنا 9:28 میں، خروج32:31۔ 35 اور گنتی 14:11۔ 19 میں، کیا موسٰی کا نقطہ قانونٲ مکمل تھا؟
جواب۔ہاں۔ خدا نے موسٰی سے یہ کہا اسطرح موسٰی خدا کے کردار ک صحیح فہم کو دو طریقوں سے ظاہر کر سکتا تھا۔
1۔ موسٰی نے بڑی سنجیدگی سے خدا کے کلام کو لیا، اور موسٰی نے خدا کو اسکے عدل سے جانا، اس کے پاس اسرائیلیوں کو تباہ کرنے کے لیے مکمل حق تھا۔
2۔ موسٰی نے خدا کو "یاد دلانے" کے لیے خدا کے وعدوں اور وفاداری کو مزید جانا کہ وہ ان گردن کش کو لوگوں کو تباہ نہیں کرے گا۔
یہاں ایک نقطہ ہے جس سے ہم خدا کے ساتھ اپنی گفتگو کے بارے سیکھ سکتے ہیں۔ اپنی دعاؤں میں، یہ اچھا ہے کہ ہم خدا کے کئے ہوئے وعدوں پر کھڑے ہوں۔
سوال۔ استثنا 10:3 میں، کیا عہد کا صندوق بیابان میں 40 سال آوارہ پھرنے کے بعد بنایا، یا 40 سال پہلے، جیسے خروج 25:10۔ 12، اور 37: 1 اشارہ کرتے ہیں؟
جواب۔ یہاں دو نتائج ہیں۔
1۔ استثنا عام طور پر، جس میں باب 10 شامل ہے ان کے سفر کا ایک جامع خلااصہ ہے۔ یہ کہتا ہے کہ عہد کا صندوق پتھر کی تختیوں کے دوسرے سیٹ سے بنایا گیا، یہ نہیں کہتا کہ کتنا عرصہ پہلے یہ عہد کا صندوق بنایا گیا۔
2۔ عہد کا صندوق کوہ سینا کے پہلے کے بعد بنایا گیا خروج 19 میں ۔ ایکسپوزیڑز کمنڑی والیم 3 صفحہ 83ذکر کرتی ہے کہ جب استثنا 10:1 کہتی ہے، "اس وقت"تو اس کا اشارہ دعا کے وقت کی طرف ہے استثنا 9:25۔ 29 میں، نہ کہ بعد کا وقت جب باب 10 لکھا گیا۔
سوال۔ استثنا 10:3 میں، کیا موسٰی نے عہد کا صندوق خود بنایا، یا کیا خروج 37:1۔ 9 میںبضلی ایل نے بنایا؟
جواب۔ موسٰی نے صندوق بنانے کے لیے بضلی کو ہدایات دیں۔ کسی رہنما کا یہ کہنا غیر معمولی نہیں کہ اس نے کچھ کیا﴿ کوئی اہرام بنایا یا جزیہ اکٹھا گیا﴾، جب یہ اس کی ہدایت میں کارکنوں نے کیا۔
سوال۔ استثنا 10:6 میں ، کیا ہارون موسیرہ کے مقام پر فوت ہوا، یا جور کے پہاڑ کی چوٹی جیسے گنتی 20:28 اور گنتی 33:37۔ 38 کہتی ہیں؟۔
جواب۔یہاں دو مختلف جوابات ہیں۔
موسیرہ کا علاقہ۔ یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ کوہ موسیرہ، بلککہ عام طور پر موسیرہ اور کوہ حور۔ جبکہ ہارون کوہ حور پرخاص طور پر مرا، یہ موسیرہ کے علاقے میں ہے۔ " بہت سی تلخ " جگہیں۔ لفظ موسیرہ کا مطلب ہے کڑواہٹ/تلخ، اور یہ با۴بل کے باہر کوئی مشہور جگہہ نہیں ہے۔ یہ کوئی بے نام جگہ ہو سکتی ہے اور اسرائیلیوں نے تقریبٲ موسیرہکی نسبت زیادہ دیا ہے۔ مثال کے طور پر، عرب میں دو جگہیں ہیں جو بلکل اکٹھی قریب ہیں جن کو نخلا کہتے ہیں۔ ایک مکہ سے باہر طائف کی طرف اور دوسری مکہ کی وادی سے باہر اعراق کے راستے میں ۔ اسرائیل میں دو قصبے جن میں ہر ایک کا نام بیت شمیش اور بیت لحم۔
سوال۔ استثنا 10: 6 میں، کیا اسرائیلیوں نے بنی یعقان میں خیمے لگائے اور پھر موسیرہکے مقام پر، یا پھر پہلے موسیرہ اور پھر بنی یعقان کے مقام پر، جیسے گنتی 33:37۔ 38 کہتی ہے؟
جواب۔ مسیحیوں میں دو مختلف جوابات ہیں۔
دو مختلف مقامات۔ موسیرہ اور میسروت مختلف مقامات ہیں۔ نام ملتے جلتے ہیں، لیکن عبرانی میں کانسونینٹ مختلف ہیں۔ گنتی 33 اور استثنا 10 خروج کے دوران مختلف ہیں، جب وہ اسی عام علاقے میں واپس گئے ۔
ایک مقام اور ایک ہی علاقہ۔ موسیرہ علاقہ تھا اور میسروت حقیقی مقام تھا، جبکہ ہارون خاص طور پر کوہ سینا پر مرا، یہ موسیرہ کے علاقے میں تھا۔
سوال۔ استثنا 10:12میں، اس کا کیا مطلب ہے کہ " خدا کی راہوں میں چلنا"؟
جواب۔جزوی طورپر، اس کا مطلب ہے، خدا کے قوانین کی فرمانبرداری کرنا، وہ کام کرنا جو خدا واضح طور پر کرنے کے لیے کہتا ہے، اور ان کو نہ کرنا جن کو خدا واضح طور پر نہ کرنے کے لیے کہتا ہے۔ تا ہم، اس کا مطلب ہے اس سے زیادہ کچھ کرنا۔ ہمیں خدا کو جاننا تلاش کرنا ہے، خدا کے نزدیک جانے کے لیے، اور تلاش کرنا ہے کہ کونسی چیز خداوند کو خوش کرتی ہے خدا کی راہوں میں چلنا اتنا اسان ہے کہ ایک بچہ اسے کر سکتا ہے۔ اور اتنا سخت کہ ایک بہت راستباز اور عقلمند ترین و بالغ شخص کے لیے چناؤتی ہے۔
سوال۔ استثنا 10: 17 میں، چونکہ خدا الٰوں کا خدا اور خداوندوں کا خداوند ہے، کیا ایک خدا کی نسبت کوئی اور ہو سکتا ہے؟
جواب۔ نہیں اور ہاں۔ نہیں، اس میں کہ صرف ایک سچا خدا تھا، ہے اور ابد تک ہو گا۔ ہاں ایک خدا علاوہ کئی جعلی بناوٹی خدا ہیں۔ جبکہ ان کے اردگرد کی اقوام کئی قومی اور دوسرے دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے، اسرائیل کا خدا ان کے برابر نہ تھا۔ وہ ایسا خدا تھا جو تمام اقوام، بتوں اور وہم پرستی پر بھی اوپر تھا۔ دوسرا یہ کہ، اگر کوئی کسی بت،یا کسی بدروح سے خوف زدہ ہوتا تو ان کو جاننا چاہیے کہ بدروح ایک حقیقی خدا سے زیادہ خوف زدہ ہو سکتی ہے بہ نسبت اس کے کہ ایک ایماندار کو بدروح سے خوف زدہ ہوتا ہے۔
سوال۔ استثنا 11:25 میں، چونکہ کوئی اسرائیلیوں کے خلاف کھڑا نہیں ہوتا کیونکہ عجیب خدا اسرائیلیوں کے دشمنوں میں دخل اندازی کرتا، تو بعض اوقات کیسے اسرائیل کے دشمناں نے اسرائیلیوں کو شکست دی؟
جواب۔ استثنا 11:22 ایک بہت اہم لفظ "اگر"سے شروع ہوتی ہے، اور استثنا 11:23۔ 25 کی ساری عبادت دوسرے اہم لفظ سے" تب" سے شروع ہوتی ہے یہ کسی شطیہ وعدہ کی کئی مثالوں میں سے ایک مثال ہے، اور جب شرائط نہ ملتی ہوں، تو کوئی ضمانت نہیں کہ یہ سچ ہو گا۔
پہلی عبادت خدا کے شرطیہ وعدے کے سیاق وسباق میں تھی۔ جب شرائط پوری نہیں ہوتیں، تو وعدے کی پابندی نہیں ہوتی۔
سوال۔ استثنا 11:26۔ 28 میں، خدا نے ان کے سامنے لعنت کیوں رکھی، چونکہ خدا ان سے محبت کرتا ہے؟
جواب۔ خدا مختلف طریقوں سے لنعتوں کو استعمال کرتا ہے۔ لعنتیں یاد دہانی کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے، تاکہ لوگوں کی توجہ ،بطور ضابطہ حاصل کی جائے، بطور سزا اور تباہ کے لیے۔ کیونکہ خدا جو کچھ بھی بولتا ہے کسی کو پار لگانے کے لیے، تو لعنتیں بھی نظمو ضبط پر عمل درآمد کرانے، سزا دینے، عدالت کرنے اور غضب کے لیے خدا کے طریقے ہیں۔
سوال۔ استثنا12:3 میں انہوں نے مقدسوں درختوں کے جھنڈوں کو کیوں جلادیا؟ میرا خیال ہے درخت اچھے تھے۔
جواب۔ درخت بذات خود نہ اچھے ہیں اور نہ برے ہیں۔ تاہم، جب درخت بت پرستی میں استعمال ہوتے تھے، تو درخت ان لوگوں کے لیے ایک برے مقصد کے لیے ایک ہو جاتے تھے۔
سوال۔ کیا استثنا 12: 15، 22 یہ کہتی ہے کہ اسرائیلی بعض اوقات پاک جانوروں کے ساتھ ساتھ ناپاک جانور بھی کھا سکتے تھے؟
جواب۔نہیں۔ قدرے، یہ کہتی ہے کہ رسمی طور پر پاک اور ناپاک لوگ، پاک جانور کھا سکتے تھے۔
سوال۔ استثنا12:16، 23۔ 25 میں اور احبار 17:11۔ 12 میں ، آج بھی خون کھانا منع ہے؟
جواب۔پیدائش9:4 پر بات چیت لکھیں اور مزید جواب کے لیے پیدائش9:12 بھی دیکھیں ۔
سوال۔استثنا 13:1۔ 16 اور استثنا 18:10۔ 12 میں ،کیا ہمیں اج جادوگروں، عالموں اور ان تمام کو جن کو عہد عتیق میں کرنے کا کہا گیا ہے اج بھی قتل کرنا چاہیے؟
جواب۔ نہیں۔ جواب میں تین نقاط کو سوچنا چاہیے۔
1۔ سرکار کی تفتیش۔ حتٰی کہ اسکے پیچھے ،تم نہ صرف اسے اپنے ہاتھوں میں سکتے ہیں نہ کسی کو شخصی طور پر کسی مشکوک کو مار سکتے ہیں۔ استثنا 13:14 نے کہا قصبہ مکمل بنایا جائے﴿ قیاسٲ سرکاری﴾ پہلے تفتیش کی جائے۔
2۔ صرف مزہبی حکومت کے تحت۔ اسرائیلی ایک مزہبی حکومت کے تحت رہتے تھے ان کے لیے جو خدا کی موعودہ سرزمین میں رہتے تھے توریت شرعی قوانین کا جموعہ تھا۔ جب خدا ترس یہودی، جیسے دانی ایل ،یوناہ، حزقی ایل اور نحمیاہ اسرائیل سے باہر رہتے یا سفر کرتے، تو وہ وہاں کسی مزہبی حکومت کے تحت نہیں ہوتے تھے، انہوں نے جادوگروں، بت پرستوں یا دوسروں کو نقصان پہچانے کی کوئی کوشش نہ کی تھی۔
3۔ آج۔ ہم کسی "مزہبی حکومت " کے تحت نہیں رہتے۔ جبکہ کچھ لوگ جیسے غیر رسمی لوگوں نے ایک مزہبی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی، نئے عہد نامے میں ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے۔ پس آج مسیحیوں کو بدفعل جنسی گناہگاروں ہم جنس پرستوں بت پرستوں بدعتی اور اسی طرح کے اور کسی کو نقصان نہیں پہچانا چاہیے ۔ جبکہ قاتل چور اور دوسرے مجرموں آج سزا دینی چاہیے یہ سرقار کا فعل ہے وہاں کوئی مسیحی مداخلت نہیں ہونی چاہیے ۔ تاہم آج ہمیں خود بھی یہ چیزیں نہیں کرنی چاہیے ۔
سوال۔ استثنا 14:21 میں، چونکہ اس جانور کو کھانا غلظ ہے جو پہلے ہی مر گیاہو، تو یہ ۔اجنبیوں کو بیچنا کیوں جائز ہے؟ حتٰی کہ غیر اسرائیلی جو اسرائیل میں رہ رہے ہوں خون نہیں کھا سکتے احبار 17:10، 12 میں۔
جواب۔ اس جانور کا کھانا جو جغیر خون بہے مرگیا ہو ایک کم سنجیدہ مکروہ ہے بہ نسبت خون کھانے کے۔ جبکہ احبار 17: 10، 12 کہتی ہے کوئی شخص جو خون کھاتا ہے مار دینا چاہیے۔ احبار17:15 کہتی ہے کہ وہ شخص جو مردہ جانور کھاتا ہے جس جانور کا خون نہیں بہایا گیا اپنے آپکو غسل دے اور کپڑے دھوئے اور وہ شام تک ناپاک رہے گا۔
سطحی طور پر یہ آیات دقیانوسی معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن وہ ایک نقطہ پر مشتمل ہیں جو آج کے متعلقہ ہے۔ مسیحیوں کو ہر ایک کو ایسے ضابطے کے قوانین رکھنے چاہیں۔ جو کچھ کام کرتے ہوں قتل چوری، زناکاری وغیرہ ۔ تاہم، جبکہ دوسری چیزیں جو گناہ ہیں، یہ ٹھیک ہے دوسروں کو اجازت دینی چاہیے جو ایسا کر کے گناہ کے مرتکب ہونا چاہتے ہیں۔ مثلٲ جبکہ شراب پینا کوئی گناہ نہیں، اور متولا ہونا گناہ ہے یہ ٹھیک ہے کسی مسیحی کے لیے ایک پنسار سٹور پر کام جو شراب بیچتا ہے۔
سوال۔ استثنا 14:22۔ 25 میں، کیا پہلوٹھا جانور روپوں کے ساتھ دے سکتے، یا وہ نہیں دے سکتے تھے، جیسا گنتی 18: 17 کہتی ہے؟
جواب۔ جواب کے لیے پانچ نقاط سوچنے کے لیے ہیں۔
1۔ گنتی 18: 14 کہتی ہے ہر قسم کا پہلوٹھا روپوں کے ساتھ کفارے کے لیے الگ کر لیا جائے۔
2۔ روپوں کے ساتھ کفارہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم رقم اداکرواور جانور رکھو۔
3۔ گنتی 18: 17 اس کو یہ کہتے ہوئے قابل بناتی ہے کہ بیل بیل کا پہلوٹھا، بھیڑ کا یا بکری کا روپوں کے ساتھ کفارہ نہیں دیا جا سکتا۔
4۔ استثنا بیل بھیڑ یا بکری نہیں کہتی کہ روپوں کے ساتھ کفارہ دیا جا سکتے ۔
5۔ استثنا 14:24۔ 25 کہتی ہے کہ اگر فاصلہ کافی دور ہو، تو کوئی "جانوروں کا تبادلہ کر سکتا ہے جس کا مطلب ہے جانور بیچ کر، روپے لے کر، یروشلیم جانا اور پھر اس رقم کے برابر کا جانور خریدنا۔
سوال۔ استثنا 14:26 اور خروج 29:40 میں، کیا مضبوط، الکوحل مائع جائز ہے، یا یہ بادشاہوں کے لیے زیبا نہیں ﴿ امثال 20:1﴾ اور صرف ان کے لیے جو مرنے کو ہیں جیسے امثال 31:4۔ 7 کہتی ہے؟
جواب۔ چونکہ الکوحل لوگوں کے پینے کے لیے جائز تھی، لیکن متوالے ہونے کے لیے، عام ماحول کے تحت، کتنا زیادہ موزوں ہے یہ ان لوگوں کے لیے جو مرنے کے قریب ہیں بطور سکون آور دوا استعمال کی جائے۔ الکوحل﴿شراب﴾ کاہنوں کے لیے نہیں تھی جب وہ خیمہ اجتماع میں داخل ہوتے﴿احبار10:8۔ 10﴾ اور بادشاہ کسی اعلٰی میعار کے لیے پہنچنے چاہیے، جیسے امثال 20:1 تجویز دیتی ہے۔
سوال۔ استثنا 15:1۔3 میں، چونکہ ان کو ہر سات سال بعد اپنے اسرائیلی بھایئوں کے تمام قرضے معاف کرنا ہوتے تھے، غیر اسرائیلی لوگوں کے قرضے کیوں معاف نہیں کیے جاتے تھے؟
جواب۔ اپنے ساتھی اسرائیلیوں کے قرض معاف کرنا ترس سے باہر تھا۔ کلام نہیں کہتا کہ غیر اسرائیلیوں کے قرض کیوں نہیں معاف کیے جاتے تھے، لیکن اسکی وجہ دیکھنا مشکل نہیں۔ چونکہ اسرائیل میں اسرائیلیوں کی اپنی تھی، اجنبیوں کے جنکے قرضے اس لیے قائم رہتے تھے کیونکہ کاروباری وجوہات تھیں یا کرائے کے مزدوروں کی وجہ تھے۔ اجنبی ہمیشہ اپنے لوگوں میں واپس جا سکتے تھے۔
سوال۔ استثنا 15 میں، پرانا عہد نامہ کیسے دوسرے قدیم قوانین سے موازنہ کرتا ہے؟
جواب۔ جبکہ ایک غلام چھ سال کے بعد آزاد ہو جاتا تھا استثنا میں، کوئی غلام حمورابی مجموعہ قوانین کے مطابق تین سال بعد آزاد ہو سکتا تھا۔ لیٹ اشتر کا بابلی مجموعہ قوانین کہتا ہے کوئی غلام اپنے قرض کی جگہ دو دفعہ خدمت کرنے کے بعد آزاد ہو کر جا سکتا تھا یا اپنی قیمت کی دوگنی اداکرکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بالکل فائدہ مالک کو ہوتا تھا ۔
سوال۔ استثنا 15:1۔ 11 کا خروج 23:10۔ 11 سے کیسے تعلق ہے؟
جواب۔ " سات سال" یا یوبلی کا سال، دو طرح ایک ہی ہے یہ ایسا سال تھا جب کھتیوں میں ہل نہیں چلائے جاتے تھے، قرض معاف ہو جاتے تھے اور غلام آزاد ہو جاتے تھے۔
سوال۔ استثنا 15:4 میں، اسرائیلیوں میں کوئی کنگال کیوں نہیں رہنا چاہیے، چونکہ استثنا 15:11 کہتی ہے کہ غریب ہمیشہ ان میں ہونگے؟
جواب۔ خدا نے انکو ایک ذمہ داری دی تھی کہ اسرائیلیوں میں تمام غرباء کی دیکھ بھال کریں۔ تاہم، خدا جانتا تھا کہ ہر کوئی اپنی ذمہ داریاں نہیں پوری کرے گا اور یہ کہ تمہارے درمیان ہمیشہ غریب رہیں گے۔
بائبل مثالی مقاصد اور حقیقت پسندی دونوں کی کتاب ہے، ہمیں اعلٰی نصب العین اور حقیقت نگاری بھی رکھنی ہیں۔ اگر کسی کے مقاصد ہیں لیکن وہ حقیقت کو نہیں چھوتے، تو انکی مثالیت بہت مفید نہیں ہے۔ حقیقت کو دیکھتے ہوئے اور نصب العین نہ رکھنا بھی مفید نہیں۔
سوال۔ استثنا 15:12۔ 13 میں، بائبل پرستانہ کیوں دکھائی دیتی ہے اور ہمیشہ مرد کی زبان استعمال ہوئی ہے؟
جواب۔ عبرانی میں، مرد/ عورت کا استعمال نہیں ہوا، جیسےلوگ بعض اوقات انگریزی میں he/she استعمال کرتے ہیں۔ انگریزی کی طرح بعض اوقات وہ "he" استعمال کرتے تھے جس کا مطلب"he"یا "she" ہے۔ ایک مثال، عبرانی اور انگریزی دونوں میں، استثنا 15:13 کہتی ہے"he" جب سیاق و سباق واضح طور پر نر/ مادہ ہے استثنا 15:12 میں۔
سوال۔ کیا استثنا 15: 12۔ 18، خروج 21: 26 کی تردید کرتی ہے؟
جواب۔ خروج 21:26 کہتی کہ کوئی غلام آزاد ہونے کا حق رکھتا ہے اگر مالک اس کی آنکھ تباہ کردے یا اس کا دانت توڑ دے۔ استثنا 15:12۔ 18 کہتی ہے کہ عبرانی غلام ہر سات سال بعد آزاد ہوں۔ یوبلی کے سال کے دوران۔ صرف عبرانی غلاموں کے سوا، جو اپنے مالکوں سے محبت کرتے ہوں اور اپنی مرضی سے اپنی پوری زندگی غلام رہنا چاہیں۔
اگر بعد میں مالک ان کی آنکھ تباہ کردے یا ان کا دانت توڑ دے، اچانک، تو غلام کو حق ہے کہ آزاد ہو جائے، لیکن ان کو ایسا کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ یہ قانون اس بات میں دلچسپ ہے کہ جبکہ مالک کے لیے سزا نرم معلوم ہوتیہو تو یہ ختم کرنے میں کار گر رہے تمام مقاصد میں غلاموں سے برا سلوک کرنے پر۔
سوال۔ استثنا 16:5 میں، کیا فسح کے برے کی قربانی مسکن پر دی تھی یا گھر میں جیسے خروج 12:7 کہتی ہے؟
جواب۔ مصر میں، مسکن سے پہلےیا ہیکل سے پہلے، فسح کا برہ گھر میں قربان کیا گیا بعد میں مسکن تھا، پھر برہ وہاں ذبح کیا جاتا تھا۔ بعد میں جب موعودہ سرزمین میں رہا ئش پزیر ہوگئے تو یہودی یروشلیم میں عیدد فسح مناتے تھے۔
سوال۔ استثنا 16:16۔17 میں، مردوں کو کیوں ظاہر کیا گیا ہے اور عورتوں اور بچوں کا کیوں ذکر نہیں کیا گیا؟
جواب۔ تین بہتر وجوہات۔
1۔ استثنا 16:21 صاف کہتی ہے کہ ایسا نہ کرنا، اور انہوں نے فرض کیا کہ اس کی فرمانبرداری کریں جو خدا نے کہا۔
2۔ سچے خدا کے لیے درخت قربانی کا حصہ نہیں ہیں۔
3۔ استثنا 12:3 ظاہر کرتی ہے کہ یسرتیں دوسرے دیوتاؤں کی پرستشکا حصہ ہیں۔ درخت بعل اور کچھ یونانی دیوتاؤں کی پرستش میں نمایاں تھے۔
تیسری وجہ یہ کہ خاص طور پر اہم ہے۔ اگر کوئی ایسی سرگرمی کی جائے تو یہ غیر اقوام کے مزہب کا ایک حصہ ہے، اور یہ ہوگا۔
﴿ا﴾ آپ کے لیے غیر قوم کے دیوتاؤں کی پرستش کے لیے آزمائش
﴿ب﴾ دوسروں کے لیے غیر قوم کے دیوتاؤں کی پرستش کی آزمائش، یا
﴿ج﴾ ظاہر ہوگا کہ تم غیر قومکے دیوتاؤں کی پرستش کررہے ہو۔
تو پھر ایسا مت کریں۔
سوال۔ استثنا 17:6، استثنا 19:15 اور گنتی 35:30 میں، کسی قتل کی سزا اس وقت نہ سنانا جب تک دویا زیادہ انسانی گواہ موجودہ نہ ہوں کیا یہ غلط ہے؟
جواب۔زنا کاری کے لیے دو چشم دید گواہ کم دکھائی دیتے ہیں۔ عبرانی گواہی کی اصطلاح کے لیے دو نقاط زیر بحث ہیں۔
1۔ احبار 5:1 ظاہر کرتی ہے کہ ایک گواہ صرف جرم کا چشم دید گواہ نہ ہو۔ ایک گواہی اس کی جو ثبوت کو جانتا ہو جو کسی شخص کو بے گناہ یا گناہ گار ثابت کر سکے۔
2۔ "گواہی" کے لیے لفظ کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے ثبوت کے ساتھ ساتھ شخص بھی مثلٲ خروج 22:13 میں مردہ جانور کے حصے بھی گواہ ہو سکتے ہیں۔
سوال۔ استثنا 18:10 میں اس کا کیا مطلب ہے کہ "تمہارے بچے آگ میں نہ چلوائے جایئں"؟
جواب۔ یہ کنانیوں کی ایک رسم تھی کہ اپنے پہلوٹھے بچے کو آگ میں قربان کر کے ماردیا جائے، جیسے استثنا 12:31 بیان کرتا ہے۔
سوال۔ استثنا 18:10 میں، جادوگروں اور عالموں کو زندہ رہنے کی کیوں اجازت نہیں؟
جواب۔ کچھ کے لیے، یہ ان لوگوں کے لیے ایک سجیندہ سزا معلوم ہوتی ہے جو دوسروں کو طبعی نقصان تو نہیں پہچائتے۔ تا ہم، وہ دوسروں کو جہنم کی طرف رہنمائی کر کے روحانی نقصان پہچاتے ہیں۔ پس، عہد عتیق میں مزہبی حکومت کے تحت، سزا وہی تھی جو بت پرستوں کے لیے بھی تھی۔
سوال۔ استثنا 18:10 میں، کیا مافوق الفطرت سے رابطہ کرنا منع ہے۔ جس سے بائبل میں انبیاء اختلاف رکھتے تھے، جیسے ایک دہریے نے دعویٰ کیا؟
جواب۔نہیں۔ یہ دو وجوہات کی وجہ سے بے ہو دہ ہے۔
1۔ حتی کہ اگر وہاں"تمام"مافوق الفرت رابطہ پابندی ہوتی، یقینٲ کوئی کلام کا طالب علم سمجھے گا کہ خدا اس نے تمام دعاؤں پر پابندی لگار رہا ہے۔
2۔ تمام مافوق الفرت رابطے کے خلاف کبھی پابندی نہیں تھی جیسے دہریے نمایاں طور پر تصور کی روحوں بدروحوں اور فرشتوں سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کریں، جبکہ فرشتے خدا ترس لوگوں پر ظاہر ہوئے جیسے دانی ایل، یہ فرشتہ تھا جس نے رابطہ قائم کیا، نہ کہ انسان۔
سوال۔استثنا 18:17۔ 18، استثنا33:1۔2 اور استنا 34:10۔11 میں کیا یہاں محمد کی پیشن گوئی کی گئی ہے، جیسے کچھ مسلم دعویٰ کرتے ہیں؟
جواب۔ نہیں استثنا 18:15۔ 18 کہتی ہے کہ خدا ایک نبی برپا کرے گا، جس کی وہ سنیں گے، ان کے درمیان سے موسٰی کی طرح، ان کے بھایئوں میں سے۔ کیا یسوع ایک نبی تھا؟ کیا بہت یہودیوں نے یسوع کی سنی؟ کیا یسوع یہودیوں میں سے تھا؟ کیایسوع یہودی تھا؟ مسلمانوں کو اس سے متفق ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ آیت محمد کی نسبت یسوع پر زیادہ موزوں آتی ہے یہاں چند مزید نقاط ہیں۔
﴿ا﴾ استثنا33:1۔2 کہتی ہے"خداوند" اور مسلمان محمد کو اپنا خداوند نہیں کہتے۔﴿علوی مسلمان اور دوسرے گلٹ گروپس محمد کو خدا خیال کرتے ہیں لیکن وہ اعتراض کے قابل نہیں۔
﴿ب﴾ استثنا 34:10 یہ کہ " چونکہ بعد میں اسرائیل میں موسٰی ک طرح نبی برپا نہیں ہوا"۔ قبر کا یہ کتبہ لکھا گیا، شاید یشوع نے لکھا، یسوع کے آنے سے بہت پہلے
﴿ج﴾ استثنا 34:10 ذکر کرتی ہے"روبرو" اور محمد نے کبھی نہیں کہا کہ اس نے براہ راست اللہ سے اس کا کلام حاصل کیا۔ بلکہ فرشتوں کے ذریعے﴿سورة2:97﴾۔ یسوع نے براہ راست خدا باپ سے بات کی بمطابق یوحنا1:18 اور دوسری عبارات۔
﴿د﴾ اگلی آیت، 34:11 کہتی ہے کسی دوسرے نبی نےپر جلال معجزات نہیں جیسے موسٰی نے کیے۔ محمد نے قرآن میں معجزات نہیں کیے سوائے ایک کے جو مبینہ طور پر یروشلیم میں مسجد کی زیارت کی ﴿ جس کی وہاں موجودگی اس وقت ثابت نہیں ہو سکتی﴾ اور چاند کے دو ٹکڑے کر دینا﴿ جسکو کسی نے نہیں دیکھا﴾
﴿ر﴾ خود قرآن میں، سورة 29:27 کہتی ہے کہ نبوت اضحاق اور یعقوب ست آئی ہے قرآن کے یوسف علی کے ترجمے میں کہا جاتا ہے"ہم نے ﴿ابرہام﴾ اضحاق اور یعقوب کو نبوت اور وحی دی اور اسکی اولاد میں۔۔۔۔"جبکہ ابرہام کے گرد قوسین یوسف علی کے ترجمے میں ہے سارا لفط ابرہام، عربی میں نہیں ہے، اور یوسف علی نے ابرہام کو شامل کرنے کی ضرورت محسوس کی مسلمانوں کے خیال کے مطابق خدا کا کلام ہے۔
﴿س﴾ آخر کار، یسوع کے رسول پطرس نے کہا یہ یسوع میں پوری ہوئی اعمال 3:22۔ 26 میں ۔پطرس رسول جاننے کے لیے عظیم مقام ہوگا۔
1۔ یا تو، یسوع نے کسی فریبی کو اجازت دے بڑی غلطی کی جیسے پطرس کو تقریبٲ 2000 سال تک لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے جو خدا کی پیروی کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اور خدا نے لوگوں کو سچائی بتانے کے لیے کوئی انگلی نہ اٹھائی۔
2۔ یسوع جانتا تھا کہ وہ کیا کررہا ہے جب اس نے پطرس کو منتخب کیا تھا، اور خدا نے کچھ بھی درست نہ کیا کہ درستگی کی ضرورت ہی نہ تھی۔
3۔ یایا کوئی اور، پطرس نے وہ نہ کہا اور اعمال کی کتاب پہلی زائد بائبلی سے اعمال کی کتاب خراب تھی ہم اسے یسوع کی طرف اشارہ ہے جو کہ تقریبٲ 138 م کی ہے۔
یہاں ہمارے پاس ابتدائی ترین یونانی مسودات ہیں، اور انکی تواریخ اعمال 3:22۔ 36 ویٹی کینس 325۔ 350م
سینائی 340۔ 350 م
بوہیرک کوپٹک تیسرہ/چوتھی صدی
اسکندری 450 م
ساہڈک کوپٹک تیسری/ چوتھی صدی
افریئمی ریسکرپٹس پانچویں صدی
بیزی کینٹا برگ جینس پانچویں، چھٹی صدی
یہاں ہمارے پاس تراجم ہیں جو دوسری زبانوں میں ہیں ان آیات کے
ارامی 5 ویں صدی
جارجین5ویں صدی
لاطینی ولگیٹ چوتھی سے 5 ویں صدی
ایتھوپیائی چھٹی صدی۔
سیریئن پیشٹا چوتھی سے 7ویں صدی۔ ابتدائی کلیسائی بانیوں نے اس آیت کا ذکر کیا یسوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان میں سے کچھ یہ تھے۔
جسٹن شہید تقریبٲ 114 م میں پیدا ہوا، اگرچہ کچھ کا خیال ہے کہ 110 م میں اس کی فرسٹ اپالوجی 138 م کے درمیان لکھی گئی اور اسکی وفات 165 م میں واضحی طور پر، اس کو اس نبوت کو یسوع مسیح کی طرف حوالہ دیتے ہوئے پڑھنا پڑا اس سے پہلے یہ لکھی جاتی۔
ایرینیس نے 182۔ 188 م میں لکھی۔
طرطولیاں 220۔ 222 م۔
اوریجن 225۔ 254م۔
آرچیلیئس ﴿262۔ 278 م﴾ بھی استثنا 18:15 پر بات چیت کرتا ہے۔ یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ کیسے یہ یسوع مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے ڈسپیوٹیشن وڈ مینز سبق 43 صفحہ 219 کرائسوسٹوم 407 م۔
کسی مسلمان کو نہ صرف یہ کہنا ہو گا کہ جسٹن غلط تھا، بلکہ تمام نیا عہدنامے کے مسودات تحریر شدہ ہیں پطرس غلط کہہ رہا ہے۔
مجموعی طور پر، دوسری زبانو میں تراجم بہت ابتداء میں ہوگئے تھے، اوپر تواریخ یا پہلے تراجم کی توراریخ نہیں، بلکہ صرف ابتدائی ترین مسودات کی جو آج موجود ہیں۔ یہ قابل قدر ہیں کیونکہ وہ آزادانہ ترسیل کا ایک سلسلہ ہے، جسے لوک یونانی مسودات پر بطور ایک موازنہ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ ان مسودات کی افریقہ سے ایشیاء تک ترسیل کا سلسلہ میں تمام متفق ہیں کہ ۔
سوال۔ استثنا 18:20۔ 22 میں، آپ کیسے بتا سکتے ہیں کہ کوئی نبی جھوٹا نبی ہے؟
جواب۔ بائبل دو وجوہات دیتی ہے اور دو خوبیاں ظاہر کرتی ہے۔
1۔ اگر وہ دوسرے دیوتاؤں کی پرستش کرنے میں پیروی کرتے ہیں، یا خدا کے بارے نبوت یا تعلیم دیتے ہیں کہ خدا نے حکم نہیں دیا۔ استثنا 18:20۔ 21،1یوحنا4:1۔3 یرمیاہ 6:13
پہلی خوبی اگر کوئی نبی خدا کے بارے اپنی تجویز بتاتا ہے کہ خدا کیا چاہتا ہے، نبوت کرنے کے بغیر ، اس کی تجاویز غلط ہو سکتی ہں صرف کسی کے بارے۔ مثال کے طور پر، داؤد کے بارے میں ناتن کا کلام دیکھیں1 توراریخ 17:2۔ 4
2۔ اگر کوئی نبی کوئی پیشن گوئی کرتا ہے وہ غلط ہے استثنا 18:21۔22۔
دوسری خوبی۔ اگر کوئی نبی کوئی شرطیہ نبوت کرتا ہے اور شرائط تسلی بخش نہیں ہیں کسی شخص اور قوم پر عدالت اور تباہی کی نبوتیں ہمیشہ شرطیہہیں نہ کہ توبہ کرنے والی۔ مثال کے طور پر یوناہ 3:1۔ 10 دیکھیں۔
سوال۔استثنا19:19 میں، کیاکسی جھوٹےگواہ کو سزا دینا شدید نہیں، اسی سزا کے ساتھ جو جھوٹے ملزم کو دی جارہی ہے؟
جواب۔بالککل نہیں۔ کوئی شخص اپنے الفاظ سے مار سکتا ہے بالکل اسی طرح جیسے آسانی سے اپنے ہاتھوں سے مار سکتا ہے۔ یا تو انہوں اپنے ہاتھ استعمال کیے یا کمینہ پن، عیاری استعمال کی اور قانونی نظام، جھوٹے ملزم کو مرنا ہوگا کمازکم قابل کے ساتھ ان کے اپنے ہاتھوں سے۔ مغروب کی شہرت یوں کی توں رہتی ہے۔ الفاظ مارنے سے کسی شخص کی شہرت تباہ ہو جاتی ہے جیسے ان کے جسم/ بدن مارے جاتے ہیں۔
حوالے کے لیے حموربی بابلی مجموعہ قوانین ببھی کہتا ہے کہ کوئی جو دوسرے کو جھوٹا الزام لگاتا ہے اسکو جان سے مارنا چاہیے۔
سوال۔ استثنا 19:21، احبار 24:20اور خروج 21:22۔ 24 میںبائبل کیوں کہتی ہے" آنکھ کے بدلے آنکھ"؟
جواب۔ عہد عتیق کے تین حوالہ جات عدالتی قانون کا ایک حصہ ہے۔ تاوان کی ادائیگی اور سزا جرائم سے مقابلہ کرنا ہے۔ نہ زیادہ اور نہ کم۔ نئے عہدنامے کی ایک آیت میں یسوع ایمانداروں کو بتا رہا ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ کی بجائے ایک دوسرے کو معاف کرو اور رحم کرو۔ یہاں چار جگہیں ہیں۔
خروج 21:22۔ 24 شرعی عدالت کا ذکر کرتی ہے بشمول کوئی عدالت، جب کوئی آدمی کسی عورت کو مارے ایسے کہ وقت سے پہلے اسکے پیدائش ہو جائے۔
احبار 24:20 میں دوسروں کو زخمی یا مارنے کے لیے عدالت کا ذکر ہے۔ تاہم، غیر ارادی نقصان پہچانتے ہیں۔
استثنا 19: 21 جھوٹے گواہ کا ذکر کرتی ہے جس کے ساتھ وہ کرنا چاہیے جس کے جھوٹ بولنے سے جو کسی کو نقصان ہوا۔
یسوع نے متی 5:38 میں کہا کہ جبکہ تم ، سن چکے ہو "آنکھ کے بدلے آنکھ"۔۔۔۔۔ ہمیں شریر آدمی کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ دوسرا گال کردینا ہے۔ طرطولیان"فائبو بکس اگینسٹ مارکیون"میں کتاب 2 سبق18 ﴿ 207/208 م﴾ پہلا شخص تھا جسکو ہم جانتے ہیں اس سوال کے جواب کے لیے، اور اس نے اپنے قاریئوں کو یاد دلایا کہ اس قانون کا مقصد تشدد کو روکنا ہے وٹ یو نئو مائٹ ناٹ بی سو۔220مس انڑپریٹیشن آف بائبل ٹیکسٹس ایکسپلینڈ صفحہ 62۔ 63 کہتی ہے کہ یہ ندلے کی حد مقرر کرتا ہے۔ پولیس کے جغیر کسی معاشرے میں، اصل عمل کی نسبت بدلہ زیادہ شدید نہیں ہونا چاہیے۔ کسی جرم کی سزا جو غریب کے لیے ہو وہی سزا امیر کے لیے بھی ہونی چاہیے۔
لوگوں کو انصاف کے متعلق سیکھنا طاہیے اس سے پہلے وہ سیکھ سکتے تھے کہ رحم اور معافی کیا ہے۔
سوال۔ استثنا 19:21 میں، بائبل مقدس،"آنکھ کے بدلے آنکھ"کے بارے سکھانے کے لیے محبت کرتی کیوں نظر آتی ہے؟
جواب۔ جبکہ یہ انصاف کی طرف اشارہ کرتا ہے اور نہ کہ محبت، تم کو انصاف کو سمجھنا ہے اس سے پہلے آپ انصاف کی جماعت کر سکتے ہیں۔ اگر آپ واضح نہیں کرتے کہ غلط باتوں کی سزا سنجیدہ ہے، تو ان باتوں سے معافی کی ودر ناممکن ہے۔ پچھلے سوال کو دیکھیں کہ یہ حکم کیوں دیا گیا۔
فرض کریں کہ لوگوں کو کبھی نہیں بتایا گیا کہ "آنکھ کے بدلے آنکھ"اور عہد عتیق کی تین عبارات یہاں یہ ذکر کیا گیا ہے موجود نہیں ہے۔
خروج 21:22۔ 24 میں، تو پھر یہ کہ بچوں کو مارنا یا اسقاط کرنا، سنجیدہ نہ ہوتا۔
احبار 24:20 میں تو یہ معجزانہ طور پر کسی بالغ کو زخمی کرنا صرف ایک چھوٹا مسئلہ ہوتا۔
استثنا 19:21 میں کوئی گواہ جس نے کسی کو بے انصافی سزا سے بچانے کے لیے جھوٹ بولا۔ اسے سزا نہ دی جائے۔
کوئی معاشرہ جس میں انصاف ہو اور محبت بھی ہو تو یہ ایک حقیقتٲ پیارا معاشرہ ہے اس معاشرے کی نسبت جو انصاف کے تصور کے بغیر ہو اسکی کوشش فضول ہیں۔بدقسمتی سے، بعد کا جو کچھ لوگ سوچتے ہیں وہ معاشرہ ہو سکتا ہے۔
سوال۔ استثنا 20:1۔ 15 میں، خدا نے جارحانہ جنگ کرنے کی کیوں اجازت دی؟
جواب۔ یہ کنعانیوں اور غیر کنعانیوں کو مخصوص نہیں کرتی۔ اسرائیلیوں کو، مدیانیوں، عمونیوں، اسوریوں اور دوسروں کے ظلم وستم کو ختم کرنے کے لیے جنگ کرنے کی ضرورت تھی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرانے عہد نامے میں خدا کوئی جنگ کا مخالف نہیں تھا، اور اسی طرح، وہ تمام کو مارنے کے خلاف نہیں تھا، جیسے جائز وجوہات کے لیے پھانسی، نئے عہد نامے میں رومیوں 13:4۔
سوال۔ استثنا 20:16۔ 18 میں، کیا اسرائیلیوں نے ہر ایک سشمن کو ماردیا، یا کیا انہوں آئیندہ کے لیے کچھ رکھ چھوڑے جیسے استثنا20:11۔ 14 کہتی ہے؟
جواب۔ آیات11۔ 14 اور 16۔ 18 کے درمیان آیت 15 ہے آیت 15 کہتی ہے پہلے واقع ہونے والی آیات ان شہروں کے لیے ہیں جو ان سے جہاں وہ رہتے تھے دور تھے۔ آیت 16 کہتی ہے کہ مندرجہ ذیل موعودہ زمین میں کنعانی شہر تھے۔
سوال۔ استثنا 20:17 میں، چونکہ خدا جانتا تھا کہ حتی ﴿=جبیونی﴾ فلسطین میں اسکی ہیکل کے وفادار نوکر بن جائینگے، تو خدا نے کیوں کہا کہ ان کو یہاں سے نیست ونابود کر دیں؟
جواب۔ یہ ایک دلچسپ معاملہ ہے جہاں خدا کا مکاشفہ کیوں، اسکی خواہش سے مختلف ہے، پھر بھی خدا کے مکاشفے نے حکم دیا کہ ایک حصہ ہے جہاں اسکی خواہش ظاہر ہو رہی ہے۔
1۔ نہہی حتیوں کو اور نہ ہی اسرائیلیوں کو بتایا گیا، "فکر مند نہ ہوں، حتی چھوڑ دیئے جایئں گے"۔ کے ساتھ امن تلاش کرنے کے لیے اپنی پریشانی پر عمل کیا۔
2۔ پھر خدا کی دور اندیشی نے اسرائیلی رہنماؤں کے حصے پر ایک غلطی سے ظاہر کر دیا ،جبیو نیوں کو چھوڑنےکی ترغیب دی۔
3۔ جبیونیوں نے دھوکا اور جھوٹوں کا استعمال کیا، لیکن خدا اپنی مرضی پوری کرنے کے لیے اچھے ذرائع استعمال کرنے میں پابند نہیں۔
4۔ بعد میں تاریخ میں، جبیونی ہیکل کے وفادار نوکر بن گئے۔
ایک دوسرے، بہت ملتے جلتے معاملے سے واقف ہونا چاہیے آج کے استعمال کے لیے۔ خدا کی خواہش ہے کہ سب نجات پائیں۔ خدا جانتا ہے کو برگزیدہ ہیں۔ پھر ببھی خدا﴿سچائی سے﴾ ہر ایک کو خبردار کرتا ہے کہ انہوں نے یسوع کو ردکیا تو وہ جہنم میں جایئں گے۔ ایک طرح سے، برگزیدوں کو کچھ فکر نہیں، کیونکہ وہ خدا کے بچے بن جایئں گے۔ دوسری طرح سے، خدا نے نہیں کہا کہ برگزیدے کون ہونگے۔
اگرچہ، فکر کے لیے، برگزیدگی کی فکر کرتے ہوئے اور آزاد وسیلے ک لیے یہ ہے کہ دوسرے تمام کنعانیوں کو کام کرنے سے کچھ روکا نہیں کیا جو جبیونیوں نے کیا۔ پھر بھی، کوئی تحیر نہیں کہ کوئی دوسرے کنعانیوں نے یہ کرنے کی کوشش کی۔ یا حتی کہ کوشش کرنے کی خواہش کی۔
مندرجہ ذیل پر گفتگو دیکھیں پیدائش20:3۔6، خروج 33:5۔6، یرمیاہ 15:6،یوناہ 3۔ 4، یوناہ 3:10، اور یوناہ4:1۔ 2مزید معلومات کے لیے۔
سوال۔ استثنا21:15۔16میں، چونکہ ایک باپ کو اپنی جایئداد میں سے ایک چھوٹے بیٹے کو نہیں دینی چاہیے اور قدرے بڑے بیٹے کو، ابرہام، اضحاق اور یعقوب نے ایسا کیوں کیا؟ داؤد نے سلیمان کو کیوں اگلا بادشاہ بنایا اور نہ کہ ایڈونجہ کو نہیں
جواب۔ جیسے ابرہام کے لیے، اضحاق اور یعقوب کے لیے، استثنا 21:15۔ 16 میں حکم اس وقت آیا جب وہ مر گئے۔ جو حکم خدا نے ابھی نہیں دیا لوگ اسکو پورا کرنے کے ذمہ دار نہیں ۔
داؤد کے مسئلہ میں، قانون شخص جایئداد پر لاگو تھا، اور سلطنت کوئی شخص جایئداد نہیں، اگرچہ کچھ شہنشاہ اور بادشاہ تاریخ میں ہو سکتا ہے ایسا سوچتے تھے۔
سوال۔ استثنا 21:15 میں، خدا ﴿مبینہ طور پر﴾ کیوں یہ سکھاتا ہے کہ کوئی آدمی ایک بیوی سے پیار کرے اور دوسری سے نفرت کریں؟ کیا بائبلی خدا سے یہ انصاف ہے؟ ﴿ایک مسلمان نے دعوٰی کیا﴾
جواب۔ یہ کوئی الگ تعلیم نہیں دیتی۔ استثنا 21:15۔ 16حقیقتٲ کہتی ہے"اگر کسی آدمی کی دو بیویاں ہوں، اور وہ ایک سے محبت کرے اور دوسری سے نہ کرے، اور دوسری سے بیٹے پیدا ہوں بلکہ پہلوٹھا اس بیوی سے پیدا ہو جس سے وہ پیار نہیں کرتا، جب وہ اپنی جایئداد کے متعلق وصیت کرے تو اسے پہلوٹھے کا حق اس بیوی کے بیٹے کو نہ دے جس بیوی سے وہ پیار کرتا ہےیہ ترجیح دیتے ہوئے کہ وہی اس کا پہلوٹھاہے، اس بیوی کے بیٹے کو جس سے وہ پیار نہیں بھی کرتا"۔ پس اگر کوئی آدمی ایک بیوی سے پیار کرتا ہے مگر دوسری سے نہیں تو آدمی اس بیٹے کو حصہ نہیں دے سکتا جو پہلوٹھا نہ ہو اس کو پہلوٹھے کا حق نہ دے۔ خدا ایک کثیر الازدواج آدمی کو یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ ایک بیوی سے پیار کرے بہ نسبت دوسری کے۔ تاہم، شاید یہ مسلمان اس میں محمد کے رویے کی وضاحت کر سکتا ہے۔
جب سودہ بوڑھی ہوگئی تو وہ خوف زدہ ہوگئی کہ محمد اسے طلاق دے دے گا، پس اس نے اپنی باری عائشہ کو دے دی۔ ابوداؤد والیم 2 نمبر 2130صفحہ 572۔ ایک دوسرے مسلمان نے ایسا ہی کیا۔ ایک آدمی کی کئی سالوں سے ایک بیوی تھی، جس سے اسکے بہت سے بچے پیدا ہوئے، اس نے" اسے تبدیل"کرنے کا ارادہ کیا﴿ماجہ کے الفاظ کا چناؤ﴾ لیکن اس نے اسے رکھے رکھا جب وہ راضی ہوگئی کہ وہ اس کے ساتھ اپنی باری ترک کرے۔ ابن ماجہ والیم 3 نمبر 1914صفحہ 188۔
سوال۔ استثنا 21:15۔ 17 میں، چونکہ پہلوٹھے کا حق، پہلوٹھے بیٹے کو ملتا ہے ، پیدائش 27 میں یعقوب کو کیوں پہلوٹھے کا حق ملا اور عیسو کو نہیں؟
جواب۔ پہلے دو حقائق جو کہ جواب کا حصہ نہیں ہیں اور پھر جواب۔یعقوب نے پیدائشی حق خرید لیا پیدائش 25:24۔ 34۔یعقوب اپنے باپ کو اضحاق دھوکا دینے میں بھی غلط تھا کہ یہ اسے دے۔ پیدائش 27۔
جواب یہ ہے کہ یعقوب اور عیسو 400 سے زائد سال پہلےتھے جب خدا نے استثنا 21:15۔ 17 میں یہ حکم دیا۔
سوال۔ استثنا 21:18۔ 21 میں، شریعت اتنی سخت کیوں ہے کہ ایک باپ کو اجازت ہے کہ نافرمانی پر اپنے بیٹے ک