1 کرنتھیوں
سوال: 1 کرنتھیوں 1 :1 میں ، کرنتھس کا شہر کس کی مانند تھا ؟
جواب: پولس کے وقت میں یہ بہت بڑا شہر تھا ، انطاکیہ اور سیسلے کے درمیان سارے مشرقی مدیانی علاقے کے لیے تجارت کا مرکز تھا ۔ کرنتھس کی آبادی تقریبا 650٫000 لوگوں پر مشتعمل تھی ، جن میں دو تہائی اسیر تھے ۔ یہ بدکار ی میںناموری رکھتا تھا ، یونانی مکمل طور پر فاسق زندگی بسر کرتے ہوئے بُری اصطلاح رکھتے تھے۔ یہ لغوی طور پر " کرنتھیوں " کے لیے تھا ۔ وہاں چرچ نے کچھ سنجیدہ اخلاقی اور تعلیمی مسائل کو برداشت کیا ۔ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ ہم محض ابتدائی مسیحیوں کی مانند بننا چاہتے ہیں ، سچائی کا معاملہ یہ ہے کہ ہم درست طور پر کرنتھیوں کی مانند بننا نہیں چاہتے ہیں ۔
98/97 عیسوی میں ، روم کے کلیمنٹ نےکرنتھیوں کی کلیسیا کو خط لکھا ، بنیادی طور پر اُنہیں سرزنش کرتے ہوئے کہ وہ اُن چند چیزوں کو نہ کریں جنہیں پولس نے اُنہیں پچاس سال قبل کرنے کے لیے کہا تھا ۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 1 :3 دکھاتا ہے کہ یسوع خدا باپ ہے جیسے کچھ یکتائی پینٹیکوسٹل کہتے ہیں ؟
) کا مطلب خواہ " اور " یا "ہموار" kaiجواب: یہ سچ ہے کہ یہاں یونانی لفظ (
ہو سکتا ہے۔ اگرچہ 3 آیت دونوں میں سے ایک طریقے کی طرف جا سکتی تھی ، 1 کرنتھیوں 1 :4 خدا( باپ) اور یسوع کے درمیان امتیاز کو دکھاتی ہے ۔ مزید تفصیلات کے لیے رومیوں 1 :7 پر کی گئی بحث کو دیکھیے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 1 :9 میں ، کیوں خداوند نے ہر ایک کو یسوع مسیح کے ساتھھ شراکت میں نہ بُلایا؟
جواب: خداوند سب آدمیوں کو نجات کی پیشکش کرتا ہے ( طیطس 2 :11 ) ، 2 کرنتھیوں 1 :8 ، 1 پطرس 4 : 17اور اعمال 2 :38 میں سب کو اِس کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے ۔ ہمیںسب کے لیے زندگی کے کلام کو پیش کرنا ہے ( فلپیوں 2 :16) ۔ بہر حال ، خدا آزاد وسیلے کے ذریعے خدا کے مقصد کو اپنے لیے رد کرنے کے طور پر لوگوں کا انتخاب کرتا ہے ( لوقا 7 :30) اور اُ ن نتائج کو برداشت کیا جو اُن کی اپنی کوتاہیاں تھیں ( یرمیاہ 17 :4)۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 1 :10 دکھاتی ہے کہ فرمانبردار مسیحی آزادانہ سوچ رکھتے ہوئے تقسیم ہوتے ہیں ، جیسے یہواوہ ویٹنس والے سکھاتے ہیں ؟
جواب: نہیں ۔ پولس کی آزاد خیالی کو گوارا کرنے والی دو مثالیں فلپیوں 3 :15 اور رومیوں 14: 1 ۔ 10 ہیں ۔ یہواہ وٹنس کے آیت بہ آیت جواب صفحہ 92۔ 94 نشاندہی کرتا ہے کہ جے ڈبلیوز کو آزاد خیالی سے بچنے کے حکم دئے گیے ہیں ۔۔۔ کونسل سے سوالات کرتے جسے خداوند کی طرف سے ظاہری تنظیم کے ذریعے مہیا کیا گیا م " اور " آزاد خیالی کے خلاف لڑنے کے لیے " ( وا چ ٹاور میگزین 1/15 /1983 صفحہ 22، 27 )
مورمنز کے لیے ، مورمن نبی عزرہ ٹافٹ بینسن ، جب وہ مورمن شاگرد تھا ، کہا ، " جب ایک نبی بات کرتا ہے ، سوچ پوری ہوتی ہے ۔"
سوال: 1 کرنتھیوں 1 :10 ۔ 13 میں اور 1 کرنتھیوں 3 :3 ۔ 7 میں ، جبکہ دو خالص مسیحی ہر ایک خدا کے ساتھھ تعلق رکھتا ہے ، وہ کیسے ایک دوسرے کے ساتھ انقسام رکھ سکتے ہیں ؟
جواب: یہاں تک کہ خالص مسیحی ، جو خد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور روح القدس اُن کے اندر سکونت اختیار کرتاہے ، وہ اب بھی گناہ اور گناہ آلود فطرت رکھتے ہیں ۔ ا،س کی صادق مثال کے لیے ، اعمال 15 : 36 ۔41 کو پڑھیے ۔
بہر حال ،یہاں تک کہ ہماری کوتاہیوں سے نفرت کرتے ہوئے ، خداوند پھر بھی مسیحیوں کو استعمال کرتا ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 1 : 14۔ 16 میں پولس کو یقینی طور پر یاد نہیں تھا کہ کتنے بپتسمہ یافتہ تھے ، تو کیا یہ ثابت کرتا ہے کہ پولس کے الفاظ یہاں کلام نہیں تھے ؟
جواب : نہیں ، کیتھولکس بعض اوقات اِس آیت کی طرف بائبل کے قدامت پسند پروٹیسٹنٹ نظریہ کو جھوٹا ثابت کرنے کے طور پر اشارہ کرتے ہیں ، لیکن یہ آیت درحقیقت اِسی سہارا دیتی ہے ۔
الہام کا مکینیکل تحریری قیاس کہے گا کہ بائبل واحد طور پر خدا کا کام ہے ، یہاں انسانی جزو نہیں ہے۔ ا،س طرح ہم اِس آیت کے ساتھ مکینکل تحریری نظریہ کو صاف صاف غلط ثابت کرتے ہوئےمتفق ہو سکتے ہیں ۔
بائبل کا قدامت پسند نظریہ 2 پطرس 1 :21 ( این کے جے وی)میں دیا گیا ہے" کیونکہ نبوت کی کوئی بات آدمی کی خواہش سے کبھی نہیں ہوئی بلکہ آدمی روح القدس کی تحریک کے سبب سے خدا کی طرف سے بولتے تھے ۔" اِس طرح کلام خدا کا کلام ہے جس کا اُس نے مصنفوں کے ذریعے انتخاب کیا ۔ کلا م انسانی مصنفوں کے اجزاء کو بھی رکھتا ہے جیسے خدا نے اُن کی نگرانی کی جو اُنہوں نے لکھا ۔ اس طرح جبکہ کلام اصل رسم الخط میں غلطی سے مبرہ ہے ، آپ اب بھی پطرس کے انداز ، پولس کے انداز ، لوقا کے انداز کو دیکھ سکتے ہیں ۔
اہم نقطہ یہ ہے کہ ہمیں ایسا نہیں کہنا چاہیے کہ ، " میں اس طرح کلام کو حاصل کروں گا ۔۔۔۔" ،کیونکہ میں "۔۔۔۔" ۔ بلکہ ، ہمیں کلام کو حاصل کرنے کے لیے اِس طرح تلاش کرنی چاہیے کہ یہ اپنے آپ کو پیش کرے جیسے اِسے لیا جانا چاہیے۔ یہاں وہ ہے جسے پطرس نے پولس کے بارے 2 پطرس 3 :15 ۔16 (این کے جے وی) میں لکھا ۔
"۔۔۔۔چنانچہ ہمارے پیارے بھائی پولس نے بھی اُس حکمت کے موافق جو اُسے عنائت ہوئی تُمیں یہی لکھا ہے ۔ اور اپنے سب خطوں میں اِن باتوں کا ذکر کیا ہے جن میں بعض باتیں ایسی ہیں جنکا سمجھنا مُشکل ہے اور جاہل اور بے قیام لوگ اُن کے معنوں کو بھی اور صحیفوں کی طرح کھینچ تان کر اپنے لیے ہلاکت پیدا کرتے ہیں ۔"
مزید تفصیلات کے لیے رابرٹ ایم ۔ زنس کی طرف سے رومانزم کو دیکھیے ۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 1 :16 اور اعمال 16 :15 ستفناس کے خاندان کو بپتسمہ دیتے ہوئے شیر خوار بچے کے بپتسمہ کے لیے مدد دیتا ہے ؟
جواب: نہیں ۔ ستفناس کا سارا گھرانہ 1 کرنتھیوں 16 : 15 میں منتقل ہوا تھا ، اور شیر خوار بچے منتقل نہیں ہو سکتے ہیں ۔ ایک خاندان میں ہمیشہ شیر خوار بچے شامل نہیں ہوتے ہیں ۔ بہر حال ، بچے جن کی عمر 6 سال ہوتی ہے وہ مسیح کے پاس آنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں ، اور میں نے اِس طرح کا ایک معاملہ سُنا ہے جہاں چار سال کا بچہ جانتا تھا کہ کیا ہو رہا تھا ، اور اُسے ایماندار کے طور پر بپتسمہ دیا گیا تھا ۔ میں نے اِسے چارسال کے عمر کے بچے سے سُنا ہے ، جو اب جوان ہے اور وکیشن بائبل سکول کا اُستاد ہے۔
اگرچہ خالص مسیحی ایماندار کے بپتسمہ کے مقابلے میں شیر خوار بچے کے بپتسمہ پر متفق نہیں ہیں ، سب کو متفق ہونے کے قابل ہونا چاہیے کہ 1 کرنتھیوں 1 :16 اور اعمال 16 : 15 میں " خاندان" ثابت نہیں کرتا یا غلط ثابت کرتا ہے کہ شیر خوار بچے کا بپتسمہ عملی ہے ۔ کُلسیوں 2 : 11 ۔12 پر کی گئی بحث کو بھی دیکھیے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 1 : 17 میں ، کیا پولس پانی کے بپتسمہ کے خلاف تھا ؟
جواب: نہیں ، پولس بپتسمہ کو سہارا دیتا ہے ، جبکہ اُس نے کِر پس ، گُیس اور ستفانس کے خاندان کو بپتسمہ دیا ۔ پولس کا مطلب تھا کہ اُس وقت کچھ مسیحی ایسا کہتے ہوئے غلط تھے کہ، " وہ پولس کے تھے" پولس خوش تھا کہ وہ ایسا نہیں تھا جس نے ذاتی طور پر اُن اشخاص میں سے کسی سے بپتسمہ لیا تھا۔ ابتدائی کلیسیا میں ، ٹرٹولین (200۔ 240 عیسویٰ) ڈی کورونا باب 3، ( صفحہ 94) یہ صاف صافپانی کے بپتسمہ میں پانی کا ذکرکرتا ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 1 : 17 میں ، کیا ہمیں پانی کے بپتسمہ کی مشق نہیں کرنی چاہیے ، کیونکہ یہ گُزر چُکا ہے ، جیسے کہ غلطی کے طور پر بیش تر قسمت رکھنے والے سکھاتے ہیں ؟
جواب: نہیں ۔ پچھلے سوال کے جواب کو دیکھیے ۔ اضافی طور پر ، دونوں 1) یہاں 33 عیسوی میں مسیح کی قیامت اور 52 عیسوی کے درمیان فرق قسمت کے ہونے کا تصور ، اور 2 ) یہ تصور کہ بپتسمہ گزر چُکا ہے ، یہ مکمل طور پرابتدا پر پندرھویں صدی کے وسط تک تمام کلیسیائی تحریروں میں غیر حاضر تھا۔ اِس کی بجائے ، ٹرٹولین (200۔220 عیسوی) میں ڈی کورونا باب 3 ، صفحہ 94 میں بپتسمہ کا ذکر کرتا ہے ، صاف طور پر پانی میں غوطہ لینے کے طور پر ۔
ایک لمحے کے لیے اییک مسیحی کو ڈھونڈنے کا تصور کیجے جس نے یسوع کو آقا کے طور پر محبت کی ، لیکن پورے پُرانے عہد نامے کی قُربانیوں کی مشق کی اور پُرانے عہد نامے کے ہر شفا خانےکے قانون کو مانا ۔ اگر کسی شخص نے آپ کو بتایا، کہ یہ بڑی ڈیل نہیں ہے ۔ یہ عام ہے ، جیسے اُس نے محض ابھی تک قسمت کے نئے کلام کو حاصل نہیں کیا ۔ آپ اُس کے لیے کیا کہیں گے ؟
اب ہمارے آسمان پر جانے اور فرشتے کو ہمیں بتانے کو تصور کیجیے، " آپ لوگوں نے نئی قسمت کے بارے کلام کو حاصل نہیں کیا جو تقریباً 100 عیسوی میں شروع ہوا۔ تقریباً 1099 سالوں کے لیے ، مسیحیوں نے سوچا کہ وہ قسمت میں رہ رہے تھے جو درحقیقت صرف 100 سال لمبی تھی ۔ یہ بڑی ڈیل نہیں ہے ، اور یہ عام ہے ، جیسے خداوند اِسے ایماندار پر عیاں کرنے کے لیے بھول گیا، اِس طرح وہ 1900 سالوں کے لیے سمجھ سکتے تھے ۔ آپ اِس کے لیے کیا کہیں گے ؟
بیش تر قسمت پر مزید بحچ کے لیے اگلے سوال کو دیکھیے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 1 :17 میں " بیش تر قسمت" کیا ہے اور یہ کیوں غلط ہے؟
جواب: یہاں بیش تر قسمت والوں بمقابلہ قسمت والوں اور دوسرے مسیحیوں کے درمیان مشق کرنے میں واضح فرق ہے : بیش تر قسمت والے یقین رکھتے ہیں کہ پانی کے بپتسمہ کی آج مشق نہیں ہو نی چاہیے، اور عموماً قہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم اس سے فرق قسمت رکھتے ہوئے رہتے ہیں جب نیا عہد نامہ لکھا گیا تھا ۔ اُن کے کتابچے کی بنیاد پر ،" کیا پانی کے بپتسمہ کی آج مشق کرنی چاہیے؟" یہاں (1 اُمید ) ہے جسے وہ واضح اختصار کے طور پر قیاس کریں گے ۔
کہتے ہیں، یہ پاک صافbaptisein1۔ (درست طور پر ) وہ یونانی لفظ
کیے جانے کے لیے عام لفظ ہے ۔
2۔ ( درست طور پر) کہنا کہ چرچ میں پانی کا بپتسمہ کو پُرانے عہد نامے یا یوحنا بپتسمہ دینے والے کے کام کی بنیاد پر ثابت نہیں کیا جا سکتا ۔
3۔ ( درست طور پر) یقین رکھنا کہ انجیل کی پہلے یہودیوں کے لیے تبلیغ کی گئی ، اور اُن میں سے اکثریت نے اِسے رد کیا ۔
4۔ ( غلطی سے ) کہنا کہ پانی کا بپتسمہ صرف اعمال میں ررست تھا جبکہ یسوع کو اب بھی اسرایئل کو اپنے مسیحا ہونے کے طور پر پیش کیا جانا تھا۔ جیسے کہ اعمال 33: 19 ۔21 میں ہے۔ ( اعمال : 2: 16 ۔ 40، کو بھی دیکھیے ، خاص طور پر 22 : 36، اعمال 3 : 12 ۔ 36 ، خاص طور پر ، 12 ۔ 25 ، 26، اعمال 5: 29 ۔ 32، خاص طور پر 31۔ اعمال 2 : 37 ، 38 ، اعمال 3 : 19۔
5 ۔ ( غلطی سے ) کہنا کہ آج بپتسمہ کی مشق نہیں کرنی چاہیے کیونکہ :
5الف۔ دھونا موسویٰ شریعت کا حصہ تھا ۔ ( حاشیہ کی تحریر کے طور پر ، یسوع کے بعد، یہودیت کو منتقل کرنے کے لیے بپتسمہ تھا )
5ب۔ بپتسمہ کو خداوند کے تبدیل شُدہ اسرایئل کے ساتھھ برتاو سے پہلے پورا کیا گیا تھا ۔
5 پ۔ بپتسمہ کو ( بیاں کرنے کے طور پر ) خد اکے تقریبا ً 52 عیسویٰ میں کلیسیا کے بارے عیاں کی تعلیم سے پہلے پورا کیا گیا تھا ۔ پولس نے کہا ، " مسیح نے مُجھے بپتسمہ دینے کو نہیں بھیجا بلکہ خوش خبری سُنانے کو "( 1 کرنتھیوں 1 :17 )
5 ت۔ آج ، "یہاں صرف ایک بپتسمہ ہے "( افسیوں 4: 5 )، اور یہ روح القدس کا بپتسمہ ہے ۔ یہاں اِسے جھوٹا ثابت کرنے کے تین مختلف طریقے ہیں ، ہر ایک اپنے لیے کافی ہے ۔
1۔ کلام کا مشاہدہ: سب متفق ہیں کہ 1 کرنتھیوں 1 : 13 ۔ 16 کو بالکل اُسی وقت لکھا گیا جب 17 آیت کو ۔ یہ آیات دکھاتی ہیں کہ کرنتھیوں نے اُتے یقین کے ساتھ بپتسمہ لیا جتنے یقین سے مسیح اُن کے لیے مرا تھا ، اور پولس نے اُن کے لیے خوشخبری کی منادی کی ۔ اُس وقت پولس نے کِرپس اور گُیس کو بپتسمہ دیا ، جبکہ پولس ایسا کرنے کے لیے غلط تھا ، یا "تبدیلی کا واقعہ" اُن کے بپتسمہ کے درمیان واقعہ ہوا اور پولس کرنتھیوں میں سے کسی اور کو بپتسمہ نہیں دے رہا تھا ، جوکہ معقول نہیں ہے۔
1 یوحنا 5 :7 ، خالص یونانی کے ساتھ ساتھ جدید ترجمہ ہے ، یہ روح کی گواہی ، پانی اور خون کا ذکر کرتی ہے۔ اگر " روح" ایمانداروں کے اندر روح القدس ہے ، خون ، یسوع کو خون ہے ، پھر ہمارے پانی کے بپتسمے کے علاوہ ، اورکونسا " پانی" ہے ؟
1 پطرس 3 : 21 ، کو 60 عیسویٰ کے بعد لکھا گیا ۔، یہ "آپ" کے لیے پانی کے بپتسمہ کے بارے سکھاتی ہے ۔
افسیوں 5 : 26 می ، جس وقت یسوع نے چرچ کو پانی سے دھویا ، یہ پانی کے بپتسمہ سے کیسے مختلف ہے؟
مساوی طور پر اہم ، کلام کی خاموشی نیے عہد نامے کے لکھے جانے کے وسط مین نئی قسمت کے رونما ہونے کے بارے بے بہرہ ہے ۔
اختصار کے ساتھھ، جس کا یسوع کے حکم دیا ، اُسے یسوع کے شاگردوں اور پولس نے کیا، پانی کے ساتھ یوحنا کا ذکر کیا گیا ، کیا آج اِس کی مشق کرنی چاہیے جبکہ خدا نے اِسے اپنے کلام میں بولنے کے لیے اچھا نہ سمجھا اپس نی قسمت کے بارے جسے مسیحیت نے جدید دور تک مخفی رکھا۔
2۔ کلام کی تشریح: یہ حیران کُن ہے کہ کتنے زیادہ بیسویں صدی میںقدیم یونانی الفاظ میں سادہ سوال پوچھنے میں ناکام ہوئے کہ ، " کیسے یونانی مقررین ، روح القدس کی راہنمائی میں ، عالمگیر طور پراپنی ذاتی زبان کو سمجھتے ہیں؟" ابتدائی کلیسیا نے کسی آئت کی اِس طرح تشریح نہیں کی کہ پانی کے بپتسمہ کی مشق نہیں کی جانی تھی ۔ برنباس کا خط ( 100عیسوی میں لکھا گیا ) کہتا ہے کہ دونوں بپتسمہ اور صلیب پُرانے عہد نامے میں پہلے سے تصور کیے گیے تھے ۔
ڈی ڈاچی ، 147 عیسوی میں کلیسیا ئی طور پر لکھا گیا ، جو پانی کے بپتسمہ کا ذکر کرتا ہے ۔ جسٹن مارٹر ( 165 عیسوی میں شہید ہوا) اپنی پہلی معذرت میں مسیحی بپتسمہ پر مکمل باب کو رکھتا ہے ۔ وہ یہودی ٹریفو کے ساتھ اپنی گفتگو میں بپتسمہ پر بحث کرتا ہے ۔ ٹرٹولین ( 200۔ 240) ، نوویشن ( 250۔ 280 عیسوی) ، الگزینڈریا کا کلیمنٹ نے 193۔ 217 / 220 عیسوی میں لکھا ) ، سایپرین ( 248۔ 258 میں لکھا )، ہیپو لٹیس ( 222۔ 235/6 عیسوی) کچھ اور ہیں جنہوں نے بپتسمہ پر بحث کی ۔
وائی کلیف بائبل ڈکشنری صفحہ 441 ، کے مطابق ، یہودی فرقہ نے قُران پر بھی غوطے کے ذریعے بپتسمہ کی مشق کی ۔ 1 کرنتھیوں 1 : 10۔ 17 کے لیے بہت واضح نظرےہ کے لیے کہ کیسے صالح یونانی بولنے والوں کا نظریہ تھا ، 1 کرنتھیوں پر جان چیریسوسٹم کے واعظ کو ساڑھے پانچویں صفحہ پر دیکھیے۔
اختصار کے ساتھ : اِس کا دعویٰ نہیں کیا جاتا ہے کہ یہ پہلے بائبل کے اُستاد بے خطا تھے ۔ بہر حال ، اگر ابتدائی کلیسیا نے عالمگیر طور پر پانی کے بپتسمہ کی مشق کی ، پھر ، شاید بیش تر قسمت والوں کو ایک اور قسمت کو ماننے کی ضرورت تھی جہاں خدا پانی کے بپتسمہ کو واپس لایا ۔
3 ۔ کلام کی درخواست : جب کہ یسوع نے ہمیں شاگرد بنانے ، اُنہیں بپتسمہ دینے ، اُنہیں سکھانے کا حکم دیا اور " تیسری چیز" متی 28: 19 ۔ 20 میں ہے ، اور کوئی آئت صاف صاف نہیں کہتی کہ بپتسمہ ختم( گذر) ہو چُکا ہے ، یکسانیت کا مطلب کہ شاگرد بنانا اور اُنہیں سکھانا گزر چُکا ہو گا ۔
" تیسری چیز" جس کا ذکر متی 28: 20 میں ہے ہر اُس چیز کی فرمانبرداری ہے جس کا مسیح نے حکم دیا ۔ جبکہ یسوع نے اُنہیں بپتسمہ دینے کا حکم دیا ، ہمیں یسوع کے حکم کو ایک طرف رکھنے کے بارے بہت محتاط ہونا چاہیے جب کلام کی کوئی آیت ایسا نہیں کتی ۔ آخر کار ، جبکہ ایک یہ دلیل پیش کرنے کی کوشش کر سکتا ہے کہ متی 28: 19 ۔ 20 کسی شخص پر لاگو نہ ہوئی سوائے گیارہ شاگردوں کے ، یہ جھوٹ ہے کیونکہ متی 28 : 20 میں یسو ع کہتا ہے کہ ،" دیکھو ، میں دُنیا کے آخر تک تمہرے ساتھھ ہوں ۔"
اختصار کے ساتھھ: اگر آپ کی الہیات آپ کو مسیح کی فرمانبرداری سے دور رکھتی ہے ، آپ کو مسیح کی فرمانبرداری اور اپنی الہیات کو تبدیل کرنا چاہیے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 1 : 20۔ 21 میں ، درست طور پر اِس دُنیا کی حکمت کونسی ہے، جس بارے پولس نے خبردار کیا؟
جواب: کسی فلسفی ، سایکولوجی ، یا دُنیاوی نظریہ کے طو ر پر ایسا سوچا جا سکتا ہے کہ بیوقوفانہ طور پر اِس دُنیا کا شمار ہوتا ہے، یا اپنے آپ کو معیار کے طور پر مرتب کر تی ہے ۔ 1 تیمیتھیس 6 : 20 میں پولس نےبھی بات کی جسے جھوٹ کے طور پرعلم کہا گیا ہے ۔
بہر حال ، جبکہ پولس اِس دُنیا کی حکمت پر بھروسہ کرنے پر تنقید کرتا ہے ، پولس نے اُن چیزو ں پر متفق ہونے کے مسلے کو نہ دیکھاجو سچی ہیں جسے یونانی فلسفہ دانوں نے بھی کہا ۔ جیسے الگیزینڈریا کے کلیمنٹ نے ( 193۔ 217 /220 عیسوی) میں لکھا ، اسے طیطس 1 : 12 ۔ 13 پر بحث کرتے ہوئے سٹروماٹا کی کتاب 1 باب 14 میں رکھا ، " آپ دیکھیے کہ کیسے یونانیوں کے نبیوں کی اُس ( پولس) کے لیے سچائی کی صفات تھیں ، اور شرمندہ نہیں ہے ، جب اخلاقی اصلاح کے لیے کسی کی دل شکنی کرنا اوردوسروں کے لیے رسوائی ، یونانی نظموں کو استعمال کرتے ہوئے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 1 : 20 ۔ 21 میں ، مسیحی مشاورت میں دئے گیے تصور کے لیے، آپ انسانی فطرت کے مطالعہ کی مشاورت کو استعمال کرتے ہوئے مسیحیوں کے درمیان فرق کو کیسے بتاتے ہیں ، اور مسیحی اصلاح کاروں کو کیا کرنا چاہیے ؟
جواب: اگر مشاورت کرنے والا ایک مسیحی ہے ، یا یہاں تک کہ وہ صلاح کار شخص کی مسیح کی طرف راہنمائی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ دکھانے کے لیے کافی نہیں کہ وہ مناسب مسیحی مشاورت کر رہا ہے ۔ بلکہ ، رابرٹ میک گھی کی کتاب معنی کی تلاش میں اور 6/13/200 پر ذاتی گفتگو کے مطابق ، اصل مسیحی مشاورت اُس کے لیے پوچھنا ہے جسے خداوند اِس حالت میں سرانجام دینا چاہتا ہے اور پھر ایسا کرنے کے لیے استعمال کرت ہوئے۔ خدا بہترین اصلاح کار ہے ۔ میک گھی ، رافا کرسچن کونسلنگ سنٹرز کا بانی ،کہتا ہے کہ اہم جزو یہ ہے کہ ایک شخص زندہ خدا کے ساتھ درمیانی وقفے میں کام کرنا شروع کرتا ہے، وہ مختصر وقت میں ڈرامائی تبدیلیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مشاورت کے ساتھ ، یہ کتاب قبول کرتی ہے کہ طبی ادویات طبی حالتوں اور کیمیکل غیر تناسب میں طبی برتاو کرنے کا کردار رکھتی ہیں۔
سوال: 1 کرنتھیوں 1 : 27 ۔ 28 میں ، کیوں خدا نے ا،س دُنیا کی بے وقوف چیزوں کا انتخاب کیا ؟
جواب: 1 کرنتھیوں 1 : 29۔ 31 اَس کا جواب دیتا ہے۔ کوئی ایک بھی دوسروں کے سامنے فخر کرنے کے قابل نہ ہو گا کہ وہ مسیحی بنے کیونکہ وہ چالاک تھے ۔ کوئی بھی خدا کے سامنے فخر کرنے کے قابل نہ ہو گا جسے اُنہوں نے اپنی زیادہ ذہانت کہ وجہ سے سمجھا۔
زیادہ ذہانت ایک شخص کو آسمان پر جانے کا زیادہ موقع نہیں دیتی ۔ کچھ معاملات میں، انسان کو شعوری غرور اِسے قبول کرنے سے دور رکھ سکتا ہے کہ خدا وند کےمقابلے میں اُن کی حکمت بہت کم ہے ۔ مسیحیت اِس طرح گرویدہ کر رہی ہے کہ اہم چیزوں کو سمجھنا ایک بچے کے لیے بہت آسان ہے، اب گہرائی میں بہت ذہین شخص لامحدو د خدا کے بارے ہر چیز کو جاننے کی اُمید نہیں کر سکتا۔ یسوع کو قبول کرنے میں ہر وہ چیز شامل ہے جسے آپ رکھتے ہیں ، اِس سے قطع نظر کہ آپ کتنے عقلمند ہونے کا دعویٰ کر تے ہیں۔
سوال: 1 کرنتھیوں 2 : 3 میں ، کیا یہ دکھاتی ہے کہ پولس تھرتھرانے( مرگی) کی حالت رکھتا تھا ، جیسے ایک شخص صلاح دی؟
جواب: نہیں ۔ یہ الزام دینا تھا کیونکہ پولس نے کہا کہ وہ " شیطان سے مارا " گیا تھا ، اور دمشق کی سڑک پر تجربہ فٹ ہو سکتا تھا ۔ یہ حقیقت کہ پولس نے قبول کیا کہ وہ 1 کرنتھیوں 2 : 3 میں گبھرایاہوا تھا اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مرگی کو رکھتا تھا۔ دمشق کی سڑک پر ، دوسرے لوگوں نے بھی روشنی کو دیکھا اور آواز کو سُنا ، اگرچہ اُنہوں نے آواز کو نہ سمجھا ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سب مرگی کے مرض کو رکھتے تھے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 2: 6 میں ، کیا خدا کی تخلیق کی تعلیم اِس دُنیا کے حکمرانوں ( نے Rudolph Bultmannسرداروں) کے تصورکے ساتھ متضاد ہے جیسے
سوچا؟
جواب: نہیں ، یہ صرف سادہ طور پر خدا کے تخلیق کے نظریہ کے ساتھ متضاد ہے ۔ خداوند مکمل طور پر ہر چیز پر قادر ہے ، اور خداوند کچھ بھی کر سکتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ اُس کے اقتدارِ اعلیٰ کے حصے کی مندوب کے لیے ، اُس کے انتخاب کرنے سے کچھ بھی خدا کو منع نہیں کر سکتا ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 2 : 8 میں ، کیسے اِس دُنیا کے سرداروں نے مسیح کو نا جانا ، جبکہ یسوع ہیرودیس اور پِلاطوس کے سامنے آیا ؟
جواب: یہاں تک کہ پولس کے دور میں ، بہت سے رومی سرداروں نے مسیح اور مسیحیوں کے بارے سُنا تھا ۔ بہر حال ، پولس کا نقطہ یہ ہے کہ اُن میں سے کسی نے یسوع کو نہ پہچانا کہ وہ حقیقت میں کون تھا ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 2 : 9 ۔ 10 میں، کیا ایماندار آسمان کی مستقبل کی چیزوں کو جانیں گے ، یا نہیں؟
جواب: ہمیں آسمان کی کچھ چیزوں کے بارے بتایا جا چُکا ہے ، لیکن ہمیں ہر چیز بتائی نہیں گی، اور ہم نے ابھی اُن کا تجربہ نہیں کیا ۔ جیسے 1 کرنتھیوں 13 : 12 کہتی ہے ، " اب ہم کو آینہ میں دھندلا سا دکھائی دیتا ہے مگر اُس وقت روبرو دیکھیں گے ۔ اِس وقت میرا علم ناقص ہے مگر اُس وقت ایسے پورے طور پر پہچان لوں گا جیسے میں پہچانا گیاہوں ۔"
سوال: 1 کرنتھیوں 2 : 14 میں ، پولس کیوں یہاں کہتا ہے کہ نفسانی آدمی خدا کے روح کی باتیں قبول نہیں کرتا ، جب وہ رومیوں 1 : 19 ۔20 میں کہتا ہے کہ خدا نے اپنی سچائی کو تمام لوگوں میں ظاہر کیا؟
جواب: رومیوں 1 : 19 ۔ 20 عام الہام کا حوالہ پیش کرتی ہے ، اور 1 کرنتےھیوں 2 : 14 علم ی نجات کا حوالہ پیش کرتی ہے ۔
عام الہام : رومیوں 1 : 19 ۔ 20 تخلیق کرنے والے کے وجود کی سچائی کا حوالہ پیش کرتی ہے ، اُس کی پوشیدہ صفات، ابدیت ، قدرت ، اور الہی فطرت کا حوالہ ۔ یہ نجات یافتہ بننے کے لیے کافی علم نہیں ہے ، لیکن کوئی سوچ سکتا ہے کہ یہ ہر ایک کےلیے اِس تخلیق کار کو جاننے کی تلاش کرنے کے لیے کافی علم ہو گا ۔ بہر حال ، معاملہ ایسا نہیں ہے۔ رومیوں 1 : 18 اور 3 : 9 ۔ 22 دکھاتی ہے کہ لوگ اپنی بد کاری کے ذریعے سچائی کو دباتے ہیں ، اور رومیوں 3 : 9 ۔ 20 اِس بارے تفصیل میں جاتی ہے کہ کیسے کوئی خود خدا کی تلاش نہیں کرتا ۔ عام الہام پہلا مرحلہ ہے : ایک شخص کو لازماً اُس پار یہا ں ذاتی طور پر خدا کو جاننے کے لیے جانا ہے ۔ بہر حال ، ایک شخص سزا کا مستحق ہے اگر وہ عام الہام کی سچائی کو رد کرتے ہیں جسے وہ رکھتے ہیں ۔
رومیوں 1 : 19 ۔ 20 اُس بڑی دلیل کا حصہ ہے جس پولس پیش کر رہاہے ، کہ ہر ایک شخص گناہ کا قصوروار ہے ، اور یہ کہ ہم سب کو نجات دہندہ ، یسوع کی ضرورت ہے۔
نجات کا علم : 1 کرنتھیوں 2 : 14 یہاں سے جاری رہتی ہے اور کہتی ہے کہ نفسانی شخص خدا کی چیزوں کو قبول نہیں کر سکتا ، ہمیں خدا کے روح کو رکھنے کی ضرورت ہے ۔ 1 کرنتھیوں 2 : 14 بڑی دلیل کا حصہ ہے 1 کرنتھیوں 2 میں روح کا بنیادی کردار ہماری نجات اور مسیحی بالیدگی میں ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 3 : 11 میں ، کیا یسوع بنیار( نیو) ہے ، یا افسیوں 2 : 20 میں رسول اور انبیا بنیاد( نیو) ہے؟
، دونوں آیات میں ایک جیسا ہے،themelionجواب: جبکہ یونانی لفظ نیو ،
افسیوں 2 : 20 لفظ " بنیاد" کی دو ادراک بناتی ہے ۔ رسول اور انبیا ء بنیاد کے پتھر ہیں ( صیغہ جمع) ، جس کے کونے کے سرے کا پتھر خود یسوع ہے ۔ جیسے شہتیر اور بند کی مانند گھر کی مکمل نیو بند شہتروں پر ہوتی ہے ، لیکن گھر اور شہتیر بندوں پر ہوتے ہیں ، چرچ رسولوں اور انبیا ء کی بنیاد پر قائم ہے لیکن اِس کی نیو پر کونے کے سرے کا پتھر یسوع ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 3 : 12۔ 15 میں ، کیا مسیحیوں کا انصاف کیا جائے گا؟
جواب: " بڑے سفید عدالتی تخت " پر : خالص مسیحیوں کا انصاف نہیں کیا جاتا ، اُن کا راست باز کے طور پر اعلان کیا گیا ہےکیونکہ وہ مسیح کے خون سے ڈھانپے گئے ہیں ۔ آپ اِس بارے مکاشفہ 20: 11 ۔ 15 میں اور متی 25: 31۔ 46 میں ُرھ سکتے ہیں ۔
کچھ مسیحی کہتے ہیں کہ یہ دو آیات اُسی عدالت کا حوالہ پیش کرتی ہیں اور دوسرے مسیحی کہتے ہیں الگ عدالت کے لیے کہتے ہیں ۔ الگ عدالت اِس مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایماندار بڑے سفید تخت کے سامنے پیش نہیں ہوتے ہیں جیسے بائبل کجے جوابات کی مکمل کتاب میں صفحہ 276۔ 277 میں آر ۔ سی ۔ سپریل اب یہ اچھا سوال ہے صفحہ 501۔ 502 میں کہتا ہے کہ دونوں ایماندار اور غیر ایماندار آخری عدالت کے لیے کھڑے ہونگے ۔ اِس سے قطع نظر ، کہ ایماندار بڑے سفید تخت سے کوئی خوف نہیں رکھیں گے ۔
بعد میں آنے والی" بیمہ سیٹ عدالت" : مسیحی موزوں تحریک کے کاموں کے لیے آسمانی انعام حاصل کرتے ہیں۔ آپ اِس کے بارے 1 کرنتھیوں 3 : 11 ۔ 15 اور 2 کرنتھیوں 4 : 10 میں پڑھ سکتے ہیں ۔ مسیحی اِسے عموما " بیمہ سیٹ ، عدالت کہتے ہیں کیونکہ یونانی شریعت میں ، " بیمہ سیٹ" وہ تھی جس پر انصاف کرنے والا بیٹھتا تھا ۔ مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے بائبل کے جوابات کی مکمل کتاب ، صفحہ 272۔ 276 اور اب یہ اچھا سوال ہے صفحہ 287۔ 288 آسمان میں مزید انعامات کے لیے۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 3 : 13 ۔ 15 مقامِ کفارہ کے کیتھولک نظریے کو سہار دیتی ہیں ؟
جواب: نہیں ۔ یہ صرف اِسے سہارا دیتے ہویے دکھائی دیتی ہیں اگر کوئی شخص پریشان ہوتا ہے ۔
1) آمایشی کام بمقابلہ تکلیف دہ ایمانداروں کی صفائی
2) کام بمقابلہ ایماندار کا آگ میں سے گزر جانا ۔
ایک کیتھولک پلٹ کر جواب دے سکتا ہے کہ یہ آیت ایماندار کے آ گ میں سے گذرنے کے کام کا ذکر کرتی ہیں امتحان کے لیے ایماندار کے صاف کیے جانے آگ کے قدیم طریقے سے گزرنے کا اصول نہیں تھا ۔ بہر حال ، پوری بائبل میں یہی ایک آیت ہے جسے کیتھولکس مقامِ کفارہ کو سہارا دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں ( کیتھولک الہامی پاروں میں سوائے 2 مکابیوں 12 : 46 کے ) ، یہاں اِس اضافی بائبلی اختراع کے لیے کوی اور بنیاد نہیں ہے۔
اضافی طور پر ، 2 پطرس 1 : 11 کہتی ہے کہ ہم ابدی بادشاہت میں بڑی عزت کے ساتھ داخل کیے جائیں گے ، گرمجوشی کے ساتھھ نہیں ۔ عبرانیوں 10 : 2 ، 16 ۔ 19 ، 9 : 4 دکھاتی ہیں کہ یسوع ہی ایک ہے جو ہمیں پاک صاف کرتا ہے۔
شاید آپ مقامِ کفارہ پر یقین رکھتے ہیں ، یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ کیتھو لک آپ کو دوسری سمت قائل کرنے کے لیے مدد گار ہو سکتا ہے۔
1۔ کیتھولکس کو سکھایا گیا ہے کہ مُردہ شخص کا مقامِ کفارہ میں وقت گُزارنا زندہ شخص کے اُن کے لیے دعا کرنے یا چرچ کے لیے مالی حصہ ڈالتے ہوئے اُس کے لیے سبق ہو سکتا ہے۔ پس ، مقامِ کفارہ کی آگ کے ذریعے یہاں شخص کے صاف کیے جانے کے کم وقت کے لیے طریقے ہیں ۔
2۔ کیتھولک سکھاتے ہیں کہ وہ جو خاص قسم کے لباس پہنتےہیں ، جسے شانہ پر باندھنے والا لباس کہتے ہیں ، اُنہیں ایک ہفتےمیں مقامِ کفارہ سے آزاد کر دیا جائے گا ، کیونکہ مریم ہفتے میں ایک مرتبہ اُس صاف کرنے والی جگہ پر جاتی ہے اور اُن سب کو باہر نکال لاتی ہے جہنوںنے اِسے پہنا ہوتا ہے۔ اگر اُن کے تمام گناہ آگ سے صاف کیے گیے تھے ، اُنہیں مریم کی خاص مدد کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ مریم کی خاص مدد پاک صاف کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ تاہم ، مقامِ کفارہ کی ٓگ تمام گناہوں کو پاک صاف کرنے کے لیے ضروری نہیں ہے ، اگر کوئی شخص آسمان میں آگ کی جگہ پر پاک صاف کرنےکی طاقت رکھتا ہے ۔
3۔ مریم پاک صاف کرنے کی قابلیت میں اکیلی نہیں ہے ۔ 1 یوحنا 1 : 7، 9 ، عبرانیوں 9: 14 ، 22 ، 10 : 2 ، 16۔ 19 کے مطابق یسوع نے ہم سب کو " پاک صاف" کیا ۔ جبکہ یسوع پہلے ہی اِس کا وعدہ کر چُکا تھا ، ہمیں جو کچھ کرنا ہے وہ یہ کہ اُس کی پاک صاف کرنے کی قدرت پر بھروسہ رکھنا ہے ۔ تاہم ، مریم اور پاک صاف کرنے والی آگ پر انحصار کرنا یر ضروری ہے ، اگر یسو ع یہ سب کھچھ کرنے کا وعدہ کر چُکا ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 3 : 17 میں ، کیسے خالص مسیحی خدا کا مقدس ہیں ؟
جواب: معمولی مطالعہ یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتاہے کہ ایماندار کا بدن خدا کا مَقدس ہے ۔ جبکہ یہ سچ ہے، یہ ایسا نہیں جو یہ آیت کہہ رہی ہے ۔ آ پ کے تمام اسمِ ضمیر صیغیہ جمع ہیں اور مَقدس صیغہ واحد ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 3: 19 میں ، کیوں پولس نے ایوب 5 : 3 میں ا،لیفز کے الفاظ کا سچے کلام کے طور پر حوالہ دیا ، جبکہ خدا نے ایوب 42 : 7 میں کہا کہ اِلیفز تیمانی وہ بات نہ کہی جو خدا کے حق میں ہے؟
جواب: ایوب42 : 7 یہ نہیں کہتی کہ ہر لفظ جسے اِلیفز نے کہا وہ غلط تھا ۔ خاص طور پر ، اِلیفز نے وہاں غلط بولا جہاں اُس نے قیاس کیا کہ خدا نالائق پر مُشکل نہیں آنے دے گا ۔ بہر حال، اِسے عالمگیرطور پر سمجھا گیا ہے کہ اَلیفز نے ایسا کہتے ہوئے درست طور پر بات کی کہ خداوند عقلمند کو اُن کی دغا بازی میں پکڑ سکتا ہے ۔
جبکہ اِس تعلیم کو پہلی مرتبہ الیفز کے ذریعے دیا گیا تھا ، یا خواہ الیفز نے اِسے کسی خدائی شخص سے سیکھا تھا جس نے اُسے سکھایا جو نادیدہ ہے ، لیکن یہ بے جوڑ ہے ۔ کُلیدی نقاط یہ ہیں :
1۔ یہ خدا کے بارے سچ ہے ۔
2۔ یہ پُرانے عہد نامے کے کلام میں لکھا گیا تھا کہ یسوع ، یہودی ، اور ابتدائی کلیسیا پہچانے گئے تھے ۔
3۔ پولس سادہ طرح کہہ رہا ہے کہ یہ سچائی کلام میں لکھی گئی ہے ۔ پولس درست تھا ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 4 : 1 میں ، یہاں خادم ( اسیر) کے لیے یونانی لفظ کے بارے غیر معمولی کیا ہے ؟
جواب: یہاں خادم کے لیے چار یونانی الفاظ ہیں :
( 1401 ) غلام یا خادم کے لیے عام لفظ ۔ یہ خادم کے لیے استعمال کیا doulos
جانے والا بہت عام لفظ ہے ۔
( 1249 ) جس سے ہم لفظ " ڈیکن" کو حاصل کرتے ہیں ۔ diakonos
( 5257 )لفظ "قطار" سے اخذ کیا گیا ہے۔Huperetes /( plural) hyperetas
اِس کا لغوی طور پر مطلب پُرانے زمانے کا غلام ہے۔ اِس کا مطلب ماتحت، خادم ، کا مطلب ماتحت بنناhypereteoعہدہ دار ، یا خادم بھی ہو سکتا ہے۔ متعلقہ لفظ
ہے۔
(3623)oikonmous ( 3816) ایک بچہ جو غلام یا خادم ہے ۔ ایک اور لفظ pais
کا دراصل مطلب غلام نہیں بلکہ مہتم ہے ۔
کو استعمال کیا اور دوسروںhuperetas1 کرنتھیوں 4 : 1 میں ، پولس اپنے لیے
کے لیے ساتھ کام کرنے والے کو۔
سوال: 1 کرنتھیوں 4 : 3 میں ، کیسے پولس نے اپنے آپ کو نہ پرکھا ؟
جواب: پولس نے اپنےآپ کو دوسروں کے مقابلے میں نہ پرکھا، اور پولس نے اندزہ لگانے کی کوشش نہ کی کہ کس قسم کا اجر وہ آسمان میں رکھے گا ۔ پولس نے اپنی زندگی کو پرکھا کہ وہ غیر ارادی طور پر یا جان بوجھ کر مسیح کی مانند ہونے کے لیے اپنی تلاش میں نشان کو کھو رہا ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 4 : 3 میں ، کیوں پولس نے اپنے آپ کو نہ پرکھا ، جبکہ ۲ کرنتھیوں 13 : 5 میں کہا کہ ہمیں اپنی پرکھھ کرنی ہے ؟
جواب: یہ مختلف یونانی الفاظ ہیں ۔ 1 کرنتھیوں 4 : 3۔ 5 میں
استعمال ہوا ، اور 2 کرنتھیوں 13 : 5 میں یونانی لفظAnakritho/ anakrinum
استعمال ہوا، جسے پرکھنے کے طورپر اچھا ترجمہ کیا گیا ۔ deirazete
سوال: 1 کرنتھیوں 4 : 6 (کے جے وی) میں ، اِسے کیا کہنا چاہیے؟
جواب: کنگ جمیس ورژن الفاظ کا اضافہ کرتے ہوئے غلطی کی ہے یہ یہاں ترچھے تاکیدی الفاظ لکھتی ہے ۔ یہ کہتی ہے ، " ہمارے وسیلے سے یہ سیکھو کہ لکھے ہوئے سے تجاوز نہ کرو" نوٹ کیجیے کہ کنگ جمیس ترجمہ کرنے والوں نے قدیم اٹلی کے جُملے " آدمیوں" کو یہاں رکھا ، یہ اشارہ کرنے کے لیے کہ یہ یونانی میں نہیں تھا۔ " تُم ہمارے وسیلے سے سیکھو کہ لکھے ہوئے سےتجاوز نہ کرو" ( این کے جے وی ) ۔
" ہم سے سیکھو تا کہ لکھے ہوئے سے تجازو نہ کرو" ( این اے ایس بی) ۔
" آپ ایسا کہتے ہوئے ہم سے سیکھ سکتے ہیں ، ' کہ اُس سے پار نہ جائیں جو لکھا ہے " ( این آئی وی)۔
" آپ سبق سیکھھ سکتے ہیں۔' اُس سے پار کبھی نہ جائیں جو لکھا ہے"( ولیم)
"ہم سے سیکھو اِس سے اوپر نہ سوچتے ہوئے جو لکھا جا چُکا ہے" ( یونانی لغوی ترجمہ ) ۔
انتخاب: خواہ پولس کا مطلب یہ سوچنا نہیں تھا اُس سے بالا تر جائیں جوآدمیوں کے بارے لکھا گیا ہے، یا کسی اور کو اُس سے بالا تر نہیں سوچنا/ جانا جو چیزوں کے بارے خدا کے کلام میں لکھا گیا ہے( آدمیوں کو شامل کرتے ہوئے) ۔ اِس طرح ارادۃً مطلب ( صرف آدمیوں کے لیے ) کے جے وی کے طو ر پر کم سمجھ بناتا ہے،، یا دوسرے ترجمہ کرنے والوں کے لیے واضح سمجھ ہے۔
آدمیوں کی : شاید کنگ جمیس ورژن ترجمہ کرنے والوں نے " آدمیوں کو" متعارف کرایا ہو کیونکہ سیاق و اسباق اپلوس ، پولس اور دوسرے راہنماوں کی بات کر رہا تھا ۔ بہر حال ، اُس وقت کچھ بھی جسے ہم جانتے ہیں اپلوس، پولس اور دوسروں کے بارے نہ لکھا گیا۔ یہاں تک کہ اگر یہودیوں نے کچھ منفی لکھا ، پولس کے بارے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے ، پولس یقینی طور پر اِس کی تصدیق نہیں کرے گا کہ وہ اِس میں سے کسی کو با اختیار کے طور پر قبول کریں ۔
چیزوں کے لیے: یہ مختلف فرقے مختلف تعلیمات رکھتے تھے ، خاص طور پر یہودی گروپ۔ پولس بنیادی طور پر خدا کے کلام کے طور پر ایسی چیزیں نہیں سکھا رہا جو خد ا کا کلام نہیں ہیں۔ پولس یہاں نئی تعلیم کو متعارف نہیں کروا رہا ، لیکن صرف اِس لیے کسی چیز کو دہرا رہا ہے جسے وہ پہلے ہی پڑھ چُکے ہیں ۔ امثال 30: 6 کہتی ہے کہ ہمیں خدا کے کلام میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے، اور استثنا 4 : 2 اُنہں حکم دیتے ہوئے کہتی ہے کہ ہمیں خدا کے کلام میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 4 : 6 ، امثال 30: 6 ، استثنا 4 : 2 میں ، " لکھےہوئے سے تجاوز نہ کرو" کا کیا مطلب ہے؟
جواب: یہ امثال 30: 6 پر جواب کو دہرایا جانا ہے ۔ یہ صرف بیوقوفانہ نہیں بلکہ ایسا کہنا خطرناک ہے " خدا نے اِس طرح کہا"، جب خدا نے ایسا نہیں کہا۔ یہ آپ کی اپنی رائے یا تشریح کے لیے اچھا ہے، جنتا زیادہ اِسے خدا کا کلام ہونے کے لیے سمجھا نہیں گیا۔ یہودی کھڑے ہونے کا رواج رکھتے تھے جب وہ خدا کے کلام کو پڑھتے تھے ، اور نیچے بیٹھتے تھے جب وہ اِس کی تشریح کرتے تھے ۔ ا،س طرح لوگ دیکھ سکتے تھے کہ کہاں خدا کا کلام رُکا اور انسانی تشریح شروع ہوئی۔
جب لوگوں نے چیخ و پکار کرکے خدا کے کلام میں اضافہ کیا ، یا یہ دعویٰ کیا کہ اُن کی انسانی تشریح خدا کی سچائی ہے، لوگ خدا کے کلام کی ناکامی کے بارے قیاس کر سکتے ہیں اگر انسانی الفاظ غلط ثابت ہوتے ہیں ۔ اِس ک یہ مطلب نہیں ،" جھوٹے الفاظ کا اُس میں اضافہ کرنا جسے خد انے لکھا " لیکن سادہ طور پر ، " اُس میں کسی چیز کو شامل نہ کرناجسے خدا نے لکھا " ۔ جبکہ مسیحی بہت سے نظریات پر غیر متفق ہیں ( اور یہ ٹھیک ہے) ، بہت سی مسیح کی مانند نہ ہونے والی انقسام لوگوں کو ایسا کہنے کے لیے جوڑتی ہیں کہ کوئی چیز خدا کا کلام ہے ، جب اُن کا منتطقی قیاس درحقیقت کلام میں بیان نہیں کیا گیا ۔ مثال کے طور پر ،
1۔ کب لوگوں کو بپتسمہ یافتہ ہونا چاہیے ؟
2۔ کیا مسیح مصیبت سے پہلے ، دوران ، یا بعد میں آئے گا ؟
3۔ کیسے روٹی اور مَے مسیح کا بدن اور خون ہیں ؟
4۔ درست طور پر کس درجہ انسان آزادی کو رکھتے ہیں؟
5۔ کیا خدا بے وقت ، بر وقت ، یا دونوں ہے؟
جبکہ کچھ مسیحی ہر ممکنہ نظریے پر یقین رکھتے ہیں ، پھر کچھ مسیحی اِن پر درست نظریات رکھتے ہیں ۔ بہر حال ، اگر ایک مسیحی سوچتا ہے کہ بائبل اُس مرد یا عورت کے نظریے کو اِس پر بیان کرتی ہے ، پھر وہ مرد یا عورت انسانی نظریے کو خدا کے کلام کے ساتھ مساوی کر رہا ہے۔ ایسا کرنا اچھا نہیں ہے ، یہاں تک کہ اگر انسانی نظریہ درحقیقت درست ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 4 : 9 میں ، پولس کا یہاںجلوس کے بارے بات کرنے کا کیا مطلب ہے ؟
جواب: جلوس بہت غیر معمولی تھےلیکن قدیم رومی زندگی کا خبروں کے لائق حصہ تھے۔ جب رومی جنرل نے اہم جنگ جیتی ، یہاں اُس کی عزت میں فتح یابی کا جلوس ہو گا جو روم کی راہنمائی کرے گا ۔ جلوس میں اُس کے بہت سے قیدی ہونگے ۔ اچھے طریقے سے رکھنے کے لیے ، پولس کا رسول کے طور پر تجربہ نے اُسے لیس کیا کہ وہ آسانی سے قیدیوں کے ساتھ شناخت رکھے ۔ پولس کرنتھیوں کی مروت کے ساتھ اپنے تجربے کو فرق طور پر دیکھ رہا تھا ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 4 : 10 میں ، کیا مسیحی پولس پر ، خود بیوقوفی کا دعویٰ کرنے والے کے طور پر یقین کرنے کو قبول کرتے ہیں؟
جواب: ہم پولس پر یقین نہیں کرتے ہیں ، لیکن ہم یسوع کویقین کر تے ہیں ، جو جانتا تھا جو وہ کر رہا تھا جب اُس نے پولس کو اپنے رسول کے طور پر مقرر کیا ۔ پولس کا محض یہ مطلب نہیں کہ خدا کی حکمت کے مقابلے میں اُس کی حکمت بیوقوفانہ تھی ، لیکن اُس نے سمجھا کہ ہر ایک کی حکمت خدا کی حکمت کے مقابلے میں بیوقوفی ہے ۔ بہر حال ، پولس یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اُس کی تقریرخدا کی حکمت تھی ، جو 1 کرنتھیوں 2 : 6۔ 7 میں اِس دُنیا کی نہیں تھی ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 4 : 15 میں ، کیوں مسیحیوں کو پولس کو اپنا باپ تصور کرنا چاہیے ، جبکہ یسوع نے متی 23 : 9 میں کہا کہ کسی آدمی کو اپنا باپ نہ کہنا ؟
جواب: اُنہیں پولس کو باپ نہیں کہنا چاہیے ، اورنہ کہا ۔ پولس صرف اِس لیے تشریح دے رہا ہے کہ کیسے اُنہیں انجیل سے متعارف کراتے ہوئے وہ اُن کے باپ کے طور پر بنا تھا ، پولس فلپیوں 4 : 1 میں فلپیوں کو اپنے تاج کا حصہ کہتا ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 5 : 1 میں ، کیوں پولس آدمی کے صحبت نہ کرنے لیکن عورت کے ساتھ نہ کرنے کے بارے کہتا ہے؟ کیا یہ دوگنا معیا ر ہے؟
جواب: جبکہ کلام عورت پر خاموش ہے ، پولس نے ہو سکتا ہے اُس عورت بارے کچھ بہ کہا ہو کیونکہ اُس نے کبھی مسیحی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ۔
ایک شخص کا اپنی ماں یا اپنے باپ کی بیویٰ کے ساتھ تعلق رکھنا نہ صرف پُرانے عہد نامے کی شریعت کے خلا ف تھا ( احبار 18: 8 اور استثنا 22: 22 ) ، بلکہ یہ Cicero Cluentes 6: 15رومی قانو ن کے بھی خلاف تھا (
)Institutes of Gaius 1 : 63اور
سوال: 1 کرنتھیوں 5 : 5 میں ، " کسی کو جسم کی ہلاکت کے لیے شیطان کے حوالہ کیے جانے " کا کیا مطلب ہے؟
جواب: جب خوا ہ ایک مسیحی یا غیر مسیحی جانتا ہے جو درست ہے اور اپس کی پیروی کرنے سے انکار کرتا ہے ، یہ دعا " آخری نتیجہ" ہے، کہ خدا اُس شخص کو تابعداری کے مقصد کے لیے جسمانی اذیت کے واسطے شیطان کے حوالہ کرے گا۔
کوئی شخص نوٹ کر سکتا ہے کہ شیطان کی خدا کے خلاف کھُلی بغاوت کے باوجود ، خداوند اب بھی اپنی تابعداری اور سزا کے لیے ہتھیار کے طور پر شیطان کو استعمال کرنے کے لیے انتخاب کرتا ہے ۔ جیسے ایک مسیحی اِسے رکھتا ہے ، شیطان قادرِ مطلق خدا کا نا رضا مند خادم ہے ۔ دیکھیے
صفحہ 581 ۔ 584 اور مزید تفصیلات 1001Hard sayings of the Bible
صفحہ 60۔61 کو دیھکیے۔ Bible questions Answeredکے لیے
سوال: 1 کرنتھیوں 5: 5 (این آئی وی) میں ، کیا کسی شخص کا شیطان کے حوالے کرنے سے وہ مزید " گناہ آلود" فطرت نہیں رکھتا ؟
کو گناہ آلود فطرت کےsarxجواب: نہیں ۔ این آئی وی عموماً یونانی لفظ جسم ،
طور پر ترجمہ کرتی ہے، لیکن سیاق و اسباق یہاں جسمانی تکلیف ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 5 : 9 میں ، کیا یہ کرنتھیوں کو لکھے گئے پچھلے خط کی گوہی ہے؟
جواب: قدامت پسند مسیحی سکالرز تین نظریات کو رکھتے ہیں:
1۔ کھویا ہوا خط: یہ ابتدائی خط کی طرف اشارہ ہے جسے خدا نے کلام کے طور پر محفوظ رکھنے کی ضرورت جوکو نہ دیکھا ۔ ہر چیز جسے پولس نے لکھا وہ کلام نہیں تھا ۔
2۔ 2 کرنتھیوں کی حفاظت: یہ ابتدائی خط کی طرف اشارہ ہے ، جسے 2 کرنتھیوں میں ایک حصے کے طور پر محفوظ رکھا ، جسے 2 کرنتھیوں 1 ۔ 9 میں محفوظ رکھا جا سکتا تھا ۔
3 ۔ پچھلا خط نہیںلکھا گیا تھا ۔ پولس نے یونانی میںفعل مضارع کو استمال کیا۔ پولس کی فعل مضارع کو استعمال کرنے کی مثال بالکل اِسی طرح ہے جیسے 1 کرنتھیوں 9 : 15 میں ہے ۔ ا،س نظریے کی تصدیق کے لیے ابتدائی کلیسیا کسی پچھلے خط کے لیے مکمل طو ر پر خاموش ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 6 : 1 ۔ 8 میں ، کیا مسیحیوں کو قانونی عدالتوں میں ایک دوسرے پر مقدمہ کرنا چاہیے ؟
جواب: مسیحی کر سکتے ہیں اور کسی دوسرے مسیحی کو ثالث ( فصیل) کرنے کے لیے رکھنا چاہیے ، لیکن فرمانبدار مسیحی ایک دوسرے پر مقدمہ نہیں کرتے ہیں۔
سوال: 1 کرنتھیوں 6: 2 ۔ 3 میں ، کیسے مقدس سب چیزوں کا انساف کریں ے، جبکہ خدا انصاف کرنے والا ہے؟
خدا سب لوگوں کو منصف ہوگا ۔ بہر حال ، خداوند آسمان میں مسیحیوں کے لیے چیزوں اور فرشتوں کے لیے اپنی عدالت کرنے کے لیے سفیر مقرر کرے گا ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 6: 9۔ 10 میں ، جبکہ یہ لوگ آسمان میں داخل نہ ہونگے ، کیسے کوئی شخص آسمان پر جا سکتا ہے ؟
جواب: پہلے ، یہ نشاندہی کرنی چاہیے کہ پولس نے کبھی ہیں کہا کہ یہ فہرست تھکا دےنے والی تھی ، دوسرے لفظوں میں ، صرف یہ خاص چیزیں نہ کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ شخص نجات یافتہ ہے۔
اِس سوال کا جواب 1 کرنتھیوں 6 :11 میں ہے ۔ یہ صاف گو داخلہ ہے کہ اُن میں سے کچھ نے اِن چیزوں کو مسیح کے آنے کے بعد کیا ، لیکن یسوع نے اُنہیں دھویا ، پاک کیا اور واجب ٹھہرایا۔
سوال: 1 کرنتھیوں 6 : 9 میں ، کیا پولس کا ہم جنس پرستی کا نظریہ صرف اُس کی رائے تھی ؟
جواب: نہیں ۔ یہ پولس رسول کی تعلیمات ہیں ، اور پولس کے الفاظ خدا کی طرف سے با اختیار ہیں ، جیسے 1 کرنتھیوں 14 : 37 اور گلتیوں 1 : 12 دکھاتی ہے۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 6 : 9 مکمل ہم جنس پرستی کے خلاف سکھاتی ہے یا صرف ہم جنس پرستی کا مرتکب ہونے والوں کے خلاف سکھاتی ہے؟
جواب: یہاں اِس میں غیر یقینی ہونا نہیں ہے خواہ اُس نےتعریف یا یونانی لفظ استعمال کیا ۔ جس کے لیے کچھ لوگ سوال کرتے ہیں یہ آیت کی وسعت ہے۔
تعریف: یونانیوں کے لیے ، خاص طور پر اسپارٹا کے رہنے والوں کے لیے ، ہم جنس پرستی بہت عام فعل ہے ۔ یہاں تک کہ کچھ محض اپنے بچوں کو صرف اِسی مقصد کے لیے جوان کرتے ہیں کہ اُس مرد یا عورت کا رجحان عصمت فروشی کی طرف ہو ۔ یونانیوں نے امتیا ز کیا کہ 1) مرد جنہوں نے لڑکوں کے ساتھ فعل کیا ، اور 2)لڑکے جو مردوں سے آستعمال کیے گیے ۔ یونانی لفظ
کا مطلب آدمی ہے۔arsenokoitai
وسعت: کچھ دعویٰ کر تے ہیں کہ جبکہ پولس نے اِس خاص لفظ کویونانی استعمال کیا ، اُس نے کسی طرح اُسے منسوخ کر دیا جو احبار 18: 22، 20 : 13 اور رومیوں 1: 26۔ 27 نے عام طور پر ہم جنس پرستی کے بارے کہا ۔ بہر حال ، سچ یہ ہے کہ پولس اِس خاص لفظ کو اپنے پڑھنے والوں کو اِس مکمل فعل کی سزا کو یاد دلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے ۔
ابتدائی کلیسیا میں ، یہاں کوئی اشارہ نہیں تھا کہ امتناہی حکم کو ساری ہم جنس پرستی پر لاگو نہیں کہا گیا ۔ کلیمنٹ آف الیگزینڈیا کے دی انسٹرکٹر 3: 12 کو دیکھیے اور رومیوں 1 : 26 ۔ 27 اور احبار 18 : 22 ، 20: 13 پر کی گئی بحث کو بھی دیکھیے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 6 : 13 میں ، خداوند کسے ہمارے اجسام کو قائم رکھ سکتا ہے ، جبکہ وہ اِنہیں نیست کرے گا ؟
جواب: نیست کرنے کا یہ مطلب نہیں مستقل طور پر جی اُٹھنے کے قابل نہ ہونا ۔ خدا ہمیں زندہ کرے گا اور ہمیں جسمانی اجسام دے گا ، یہاں تک کہ اُن مسیحیو ں کے لیے جو مارے گیے اور حیوانوں سے کھا لیے گیے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 6 : 14 میں ، کیا ایک مسیحی پاسٹر کو مسیحی اور غیر مسیحی کے درمیان شادی کی تقریب کو پورا کرنا چاہیے ؟
جواب: مسیحی شادی شُدہ ہوتے ہوئے خدا کی مرضی کی نافرمانی کر رہا ہے ، اس لیے پاسٹر کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ میں قیاس کرتا ہوں کہ دو غیر مسیحیوں کی شادی ٹھیک ہے۔
آر ۔ سی ۔ سپرول مسیحی اور غیر مسیحی کی شادی کے لیے کہتا ہے ک، " عام اصول کے طور پر ، میں نہیں کرتا ۔ میں ایسا نہیں کرتا کیونکہ میں قائل ہوں کہ خدا مُجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گا ۔"
سوال: 1 کرنتھیوں 7 : 2 میں ، کیا ہر ایک کو شادی شُدہ ہونا چاہیے؟
جواب: شادی عام طور پر نسلِ انسانی کے لیے عام بیان ہے۔ ا،س کے باوجود ، پولس، جب وہ اِس آیت کو لکھھ رہا تھا ، دوسرے شادی شُدہ نہیں تھے ، جیسے 1 کرنتھیوں 7: 7 ۔ 8 25۔ 29 دکھاتی ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 7: 3۔5 ( کے جےوی) میں ، تھوڑی مدت کے لیے " ایک دوسرے کو فریب دینا " ٹھیک ہے؟
جواب: کنگ جمیس ورژن میں یہ لفظ غیر معمولی ہے۔ یونانی میں اِس کا مطلب یہ ہے کہ شخص کو اپنے آپ کو اپنی بیویوں سے باز نہیں رکھنا چاہیے ، سوائے تھوڑے عرصے کے لیے دعا کے لیے، اور آپس کی رضا مندی سے۔ اِس سے قطع نظر کہ بیوی ایماندار ہے یا غیر ایماندار ۔ تاہم ، جنس یا اِس کی کمی کو اجر ( سزا)کے طور پر استعمال کرنا بائبل کے خلاف ہے۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 7 : 10 ۔ 16 طلاق کے بارے متی 5: 32 اور19 : 8 ۔ 9 کی تردید کرتی ہے؟
جواب: نہیں ۔ متی 5: 32 اور 19: 8۔9 طلاق کی ابتدا کی بات کرتی ہے اِس سے قطع نظر کہ اگر وہ مسیحی ہیں یا نہیں ۔ 1 کرنتھیوں 7 : 10 ۔ 16 کہتی ہے کہ ہم طلاق کی ابتدا کے لیے بے ایمان بیوی کو اجازت دے سکتا ہے، اگر یہی ہے جسے وہ واقعی چاہتے ہیں ۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 7: 10 ۔ 16 بیویٰ کی ناپاکی کے لیے طلاق کی اجازت دیتی ہے؟
جواب: بےشک ، طلاق مستقل علیحدگی ہے، لیکن یونانی الفاظ درحقیقت طلاق نہیں کہتے ، بلکہ " علیحد ہونا" یا " چھوڑ نا" کو استعمال کرتے ہیں ، اِس طرح فرار ہونا، اور اِس کے ساتھ ساتھ طلاق ڈھانپ جائے گا ۔ بہر حال ، تھوڑے عرصے کے لیے یا آزمائشی علیحدگی مستقل طور پر علیحدگی نہیں ہو گی اور یہ یہاں شامل نہیں ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 7 : 10۔ 14 اور 1 کرنتھیوں 7: 25۔ 29 میں ، کیا یہ پولس کے لیے ممکن رہا ہو گا کہ وہ ذاتی آراء لکھتا جو کلام ِ پاک نہیں تھیں؟ کیسی ابتدائی کلیسیا ( اور ہم) اُنہیں قبول نہ کرتے ہوئے جانے گی؟
جواب: یقینا ۔ اُن کے پاس بہت سی بات چیت تھی جو کلام میں قلمبند نہیں کی گئی ۔ یہ بھی کہ ، پولس نے کرنتھیوں کو 1کرنتھیوں کے بعد ذاتی خط لکھا ، جیسے 1 کرنتھیوں 5 : 9 دکھاتی ہے ۔
ٹرٹولین تحریر 200۔240 عیسوی بھی ذکر کرتی ہے کہ پولس کی تعلیم یہاں کلام تھا ، لیکن وہ یہاں اُس کے درمیان جو اُس کا اختیار تھا اور جو یسوع نے کہا اُسے باب 3 On Exhortation to Chastityدہراتے ہوئے فرق کر رہا تھا ۔
صفحہ 52۔
سوال: 1 کرنتھیوں 7: 12۔ 13میں ، کیا مسیحی اپنی بے ایمان بیویوں کو طلاق دے سکتے ہیں ؟
جواب: مسیحیوں کو طلاق کی ابتدا نہیں کرنی چاہیے ، سوائے حرامکاری کے ( متی5: 32 ) یا یا زندگی کے بڑے معاملات میں یا بیویٰ یا بچے کی موت میں ۔
بہر حال ، اگر بے ایمان بیویٰ طلاق کی ابتدا کر تی ہے ، مسیحی اُسے چھوڑ سکتے ہیں ، جیسے 1 کرنتھیوں 7: 15 کہتی ہے کہ اِس صورتِ حال میں،" خدا نے ہم کو میل ملاپ کے لیے بُلایا ہے" ۔ بہت سے طلاق کی ابتدا کو مساوی ہونے 1001 Bible Question Answeredکے طور دستبرداری کو دیکھتے ہیں ۔
صفحہ 247 وضاحت کے لیے 1 کرنتھیوں 7 : 14، 15، 39 کو بھی دیکیھے۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 7 : 12 ۔ 16 اور 1 کرنتھیوں 7 : 25 ۔ 29 کلام ہیں ، یا محض پولس کی رائے ہے؟
جواب: کچھ کہنے کی کوشش کر تے ہیں کہ یہ پولس کی ذاتی رائے ہے ، اور قدامت پسند مسیحی کہتے ہیں کہ یہ اب بھی بااختیار تعلیم ہے۔ سب کو تین چیزوں پر متفق ہونے کے قابل ہونا چاہیے۔
1۔ یہاں 1 کرنتھیوں 7: 8 ۔ 13 اور 7 : 17 کی گردوپیش آیات میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جسے ہم بائبل میں کسی اور جگہ سے جمع کر سکتے ہوں ۔
2۔ 1 کرنتھیوں 7 : 14 ۔ 16 نئی تعلیم ہے جو نئے عہد نامے میں کہیں نہیں پائی گئی ، اور 1 کرنتھیوں 7 : 12 ۔ 13 اِس کا پیش خیمہ ہے ۔
3۔ پولس کہہ رہا ہے کہ خداوند نے براہِ راست ایسا نہیں کہا ۔
4۔ پولس نے ایسا کبھی نہیں کہا کہ وہ اپنی دوسری تعلیم کے لیے رسول ہونے کا اختیار نہیں رکھتا ۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 7 : 14 ثابت کرتی ہے ، یا کم از کم شیر خوار بچے کے بپتسمہ کے لیے سہارا دیتی ہے؟
جواب: نہیں ۔ اگر " بچہ نے پاک ہوتےہوئے" بپتسمہ یافتہ ہونے کے لیے اُن کی مدد کی ، پھر بیویٰ کو پاک ہوتے ہوئے بے ایمان بیویوں کے بپتسمہ کے لیے بھی مدد کرنا ہو گی ۔
اِس آیت کا مطلب کہ خداوند اب بھی ایمانداروں کے بچوں کو برکت دے گا ، یہاں تک کہ جب ایک بیویٰ ایماندار ہیں ہوتی ہے ۔ اگر ایک بچہ اپنے ایک والدین کے ساتھ شیر خوار کے طور پر بپتسمہ یافتہ نہیں تھا ، غیر مسیحی والدین کی وجہ سے ، یہ آیت تب بھی درست ہو گی اور اُس بچے پر لاگو ہو گی۔
سویڈن میں ، جو کہ سرکاری طور پر لوتھرن قوم ہے ، وہ عوامی شیر خوار بچے کے بپتسمہ کی رسومات کو نہیں رکھتے ہیں۔ اُن کا شیر خوا ر کے بپتسمے کا نظریہ بہت اہم ہے ، کہ ہر بچہ اُس کے کبھی ہسپتال کو چھوڑنے سے پہلے بپتسمہ یافتہ ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے کُلسیوں 2 : 11 ۔ 12 اور 1 کرنتھیوں 1 : 16 پر کی گئی بحچ کو دیکھیے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 7 : 14 میں ، جبکہ ایماندار والدین کے لیے بچے پاک ہیں ، کیا بچے پھر بھی گناہ آلود ہیں ؟
جواب: جی ہاں کیونکہ پاک ہونے کا مطلب بے گناہ ہو نا نہیں ہے ۔ تما م سوائے آدم، حوا اور یسوع کے گنہگار فطرت میں پیدا ہوئے۔ 1 کرنتھیوں 7 : 14 سادہ طرح کہتی ہے کہ ایمانداروں کے بچے خاص طور پر خدا کی نگرانی میں ہیں ۔ زاید امدادی جواب کے لیے
صفحہ 244۔255Bible Difficulties and Seeming Contradiction
کو دیکھیے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 7 : 18 ۔ 19 میں ، جبکہ ختنہ کچھ نہیں ہے ، اور گلتیوں 5 : 2 ۔ 3 کہتی ہے ہمیں ختنہ نہیں کرنا چاہیے ، کیوں پولس نے اعمال 16 : 3 میں تیمتھیس کا ختنہ کرایا؟
جواب: پولس نے تیمتھیس کا ختنہ کرایا کیونکہ اُس علاقے کے یہودی جانتے تھے کہ تیمتھیس کا باپ یونانی تھا ۔ مزید تفصیلات کے لیے اعمال 16 : 3 پر کی گئی بحث کو دیکھیے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 7 : 21 ۔ 23 میں ، کیا پولس اُس کی تردید کر رہا ہے جو اُس نے افسیوں 6 : 5 ۔ 8 میں غلامی پر کہا ؟
جوب: نہیں ۔ یہاں پولس کی تعلیم کا انجما د ہے ۔
) غلام بننے سے بچنا ۔a
) اگر آپ غلام ہیں اور اپنی آزاری حاصل کر سکتے ہیں ، تو ایسا کیجیے۔b
) اُس وقت تک اپنی موجودہ حالت میں خوشدل ہونے کو سیکیھے ۔ c
اِسے دیتے ہوئے یہ مفلس آزاد آدمی کے لیے بڑے شہروں میں مخلصانہ طور پر رہنا مُشکل تھا ، اور کرنتھیوں کے دو تہائی لوگ غلام تھے، 1 کرنتھیوں 7 : 21۔ 23 دانا اور فُفید ہے ۔ مزید تفصیلات کے لیے طیطس 2 : 9 ، فیلمون 10 : 15 ، اور صفحہ 591۔ 593 اور صفحہ 642۔ 644 کوHard Sayings of the Bible
دیکھیے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 7 : 29 میں ، کیا مسیحیوں کو 2000 سال قبل شادی سے پرہیز کرنا چاہیے تھا ، کیونکہ وقت تنگ ہے ؟ وہ کونسا وقت تھا ؟
جواب: پہلے پہل، نصیحت دینا عقلمندی تھا ، جبکہ دس سالوں میں شدید ایذارسانی شروع ہوئی۔ پولس نے ہمیں مکمل تفصیل نہیں دی کہ وقت کیوں تنگ تھا ، سادہ طور پر ۱ کرنتھیوں 7 : 26 ۔ 31 میں موجودہ پریشانی اور بڑی تبدیلیوں کو ذکر کرتے ہوئے۔
زمینی والدین کے طور پر ، بعض اوقاتخداوند ہمیں وجوہات اور پس منظر دئے بغیر ہی چیزیں کہتا ہے ۔ اگر ہم علقمند ہیں ، ہم اِس سے قطع نظر خدا کی فرمانبداری کریں گے ۔ مزید تفصیلات کے لیے
صفحہ 593 ۔ 595 اور Hard Sayings of the Bible
صفحہ 204 پر دیکھیے۔ Bible Difficulties and Seeming Contradictions
باب 13 میں ذکر کرتا ہےDe Coronaٹر ٹولین ، تحریر 200 ۔ 240 عیسویٰ
کہ " آپ خدا میں شادی کے لیے پولس رسول کو رکھتے ہیں ۔"
سوال: 1 کرنتھیوں 7 : 30 ۔ 31 کا کیا مطلب ہے ؟
جواب: یہ آیات پولس کے وقت کے لیے اور ہر وقت مسیحیو ں کے لیے شدید ایذار سانی کو بتداشت کرنے کے بارے بہت اچھی نصیحت ہیں ۔ یہاں تک کہ جب مسیحی ایذار ساں نہیں ہوتے ، یہ تمام زمینی چیزوں کے لیے دانائی ہے وہ شادی یا دوسری خوشیوں ، دھن دولت ، یا یہاں تک کہ غم سے لطف اُٹھانے والے بنتے ہیں۔ آپ کبھی نہیں جانتے جب اُنہیں لیا جا سکتا ہے ، یا آپ کے پاس کتنا زیادہ وقت ہے ۔ آپ یہ جانتے ہیں کہ تنگ وقت میں ہم یہاں ہیں ، خداوند ہم سے اُ سکی مرضی پوری کرنے اور چکمنے کے لیے چاہتا ہے۔ ہم اُس طرح نہیں رہ سکتے میں کہا ، " خداوند نےCalvin and Hobbesجس طرح جوان لڑکے کیلون نے
مُجھے یہاں زمین پر کئی چیزیں سرانجام دینے کے لیے رکھا اور اِس طرح چیزیں جاری رہتی ہیں ، میں ہمیشہ زندہ رہوں گا ۔ "
سوال: 1 کرنتھیوں 7 : 31 میں ، کیسے دُنیا نے اپنی موجود ہ شکل کو بدلا تھا؟
جواب: یسوع کا آنا اور مسیحیت کا پھیلنا اِس وقت بہت معنی خیز تاریخی واقعہ تھا ۔ بہر حال ، رومی شہنشاہ کونسٹنٹاین ک 324 عیسویٰ میں مسیحیت کو جائز قرار دیتے ہوئے ، مسیحیوں کو دس ایذار سانیوں کی بڑی پریشانی کو رکھنا تھا ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 8 : 4 میں ، جبکہ بُت کچھ نہیں ہیں ، کیوں بُت پرستی 1 کرنتھیوں 10 : 20، خروج 20: 4، احبار 19 : 4 26 : 1 ، 30 میں سختی سے قابلِ الزام ہے؟
جواب: مطابقت یہاں مددگار ہے ۔ وجود نہ رکھنے والی حفاظتی چھتری کچھ نہیں ہے، لیکن وجود نہ رکھنے والی حفاظتی چھتری پر انحصار کرنا کچھ مہلک حد سے زیادہ کرنا ہے۔ اِسی طرح ، بُت کچھ نہیں ہے ، اپنا بھروسہ بُتوں پر رکھنا بہت حد سے زیادہ مہلک ہے ۔ خداوند بہت سے اقتباسات میں زو ر دے رہا ہے ، کہ آپ اپنے بھروسہ کو دونوں اُس پر اور بُتوں پر نہیں رکھ سکتے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 8 : 4 ، 7 ۔ 13 میں ، کیا بُتوں کوپیش کیا گیا گوشت کھانا ٹھیک ہے، یا ہمیں اجتناب کرنا چاہیے جیسے اعمال15 : 28 ۔ 29 کہتی ہے؟
جواب: رومیوں 14 دکھاتا ہے کہ یہ غلط ہو سکتا تھا یا ھالات پر انحصار کرتے ہوئے ٹھیک۔
الف) بُت کی تقریب پر کھانا غلط ہے ۔ وہاں سے گوشت کھانا غلط ہے اگر آپ کا نظریہ ہے کہ جیسے یہ کسی طرح بُت کی پرستش کرنا ہے۔ رومیوں 14 : 23 کہتی ہے کہ کچھ بھی ایمان کے بغیر گناہ ہے ۔
ب) گوشت کھانا ٹھیک ہے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ سارا کھانا خدا کی طرف سےآیا ہے ، نہ کہ بُتوں کی طرف سے ، اور یہ کہ آپ کسی بُت کی عبادت نہیں کر رہے ہیں ۔
ب2) سوائے اِس کے کہ اگر ایک کمزور مسیحی یا غیر مسیحی یہ قیاس کرے کہ آپ کا کھانا ایمان کے ساتھ مصالحت کا کام ہے۔ ہمیں دوسروں کے لیے رومیوں 14 : 10 ، 13 میں پس و پیش کرنے کا سبب نہیں ہو نا ہے ، اور ہمیں 1 تھسلینکیوں 5 : 22 اور 2 کرنتھیوں 8 : 22 میں بُری چیزوں کو ظاہریت دینے سے گریز کرنا چاہیے۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 8 : 5 اور یوحنا 10 : 35 بہت سےخداوں( دیوتاوں) کو سکھاتی ہیں؟
جواب: نہیں ۔ 1 کرنتھیوں 8 : 5 اُن سب بُتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جن پر غیر مسیحیوں نے یقین کیا ۔ یہاں بوہت سے دیوتا ہیں ، لیکن یہان صرف ایک واجب ہے جسے خدا کہا جاتا ہے۔ ہمیں " صرف دانا خدا" کی عبادت کرنی چاہیے 1 تیمتھیس 1 : 17 کے جے وی )۔
یوحنا 10 : 35 پر کی گئی بحث کو بھی دیکھیے۔ ٹر ٹولین ( 200۔ 240 عیسویٰ)
والیم 3 ، Ante- Nicene Fathers باب 4 ، Against Hermogenes
صفحہ 479 ، 1 کرنتھیوں 8 : 5 پر کی گئی پہلی بحث تھی ۔ اُس نے کہا بہت سے دیوتا صرف برائے نام دیوتا ہیں ، جبکہ یہاں صرف ایک سچا خدا ہے۔
کیا آپ کو اِسی بابت کی 10 آیت کےبرعکس ، بتوں کی عبادت گاہ میں سے کھانا ہو گا ؟ یہاں بلا شُبہ بہت سے بُت دیوتا ہیں ، لیکن کیا ٓا پ کو سکھایا گیا کہ 4آیت کے برعکس یہ دیوتا حقیقی ہیں؟ اگر نہیں ، پھر آپ 5 آیت کو بکثر ت حقیقی دیوتایوں کے بارے بات کرتے ہوئے استعمال نہیں کر سکتے ۔ 6 آیت کہتی ہے کہ ہم مختلف ہیں ، اِس میں کہ ہم صرف ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں ۔ حاشیہ کی تحریر کے طور پر ، اِس سوال اور ضروری طور پراِسی جواب کو دیتے ہوئے کتاب 3 باب 6٫5 صفحہ 420 میں ، Irenaeus Against Heresiesیہاں
پہلا شخص لایون کا آرینیس بشپ تھا۔
ایک مورمن نے ایک مرتبہ میرے ایک ساتھھ کمرے میں رہنے والے ، جارج کو بتایا ، کہ یہاں بہت سے دیوتا تھے ، لیکن یہ اِس دُنیا کا صرف ایک خدا تھا ، اور اُس نے اِس دُنیا کے خدا کی عبادت کی۔ بہر حال ، 2 کرنتھیوں 4 : 4 اور 1 یوحنا 5 : 19 کے مطابق اِس دُنیا کا خدا شیطان ہے۔ آرینیس ( 120۔ 202 عیسویٰ میں ، لکھا 182 ۔ 188 عیسویٰ میں ) فریگمنٹ 46 صفحہ 575 میں یہ بھی کہتا ہے کہ اِس دُنیا کا خدا ( دیوتا) شیطان ہے۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 8 : 6 سکھاتی ہے کہ یسوع قادرِ مطلق خدا نہیں ہے، جیسے یہواہ وٹنس والے دعویٰ کر تے ہیں؟
جواب: نہیں ۔ اِس آیت میں ، لفظ " خدا " خدا باپ کا حوالہ پیش کر تا ہے،لیکن یہوواہ وٹنس والوں کو دوسری تمام آیات کو نظر انداز کرنا تھا جو کہتی ہیں کہ یسوع خدا ہے ، جیسے کہ یوحنا 20 : 28 ۔ 29 اور ٰوحنا 8 : 58۔ اُنہیں انکار کرنا تھا کہ یہاں کم از کم لفظ خدا کی دو سمجھیں ہیں ، عبرانیوں 1 : 8 اور عبرانیوں 1 : 9 کی تردید کرتے ہوئے ۔ اُنہیں یوحنا 5 : 23 کی تردید کرتے ہوئے باپ کی عزت کے طور پر بیٹے کی عزت سے انکار کرنا تھا ۔
یہواہ وٹنس والے " قادرِ مطلق خدا " (باپ) اور" زور آور خدا" کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کر تے ہیں ، جسے وہ بیٹا کہتے ہیں ۔ جبکہ تثلیث میں یہاں تین کے درمیان امتیاز ہے، جبکہ خدا قادرِ مطلق ہے، یہاں خواہ مختلف دیوتا ہیں ، جیسے یہوواہ وٹنس والے اشارہ کر رہے ہیں ، یا یہاں صرف ایک خدا ہے ، اور خدا قادرِ مطلق ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 8 : 11 میں ، کیسے ہمارے اعمال بُتوں کے کھانے سے متعلق ، ہمارے مسیحی بھائی کو " ہلاک" کر سکتے ہیں ، جبکہ یوحنا 10 : 28 کہتی ہے کہ وہ کبھی ہلاک نہ ہونگے؟
جواب: جبکہ یونانی لفظ ایک جیسے ہیں ( سادہ طور پر فرق اختتام کے ساتھ)
اِن کا مطلب مختلف ہے۔ خالص مسیحی اِس پرApoeitai/ apoluntai
غیر متفق ہیں خواہ ایماندار اپنی نجات کو کھو سکتے ہیں ۔ اِس سے قطع نظر ، ایماندار بد قسمتی سے کھانا کھانے کے ذریعے اپنی گواہی اور واضح آگاہی کو کھو سکتے ہیں جب وہ یقین کرتے ہیں کہ ایسا کرنا غلط ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 1 ۔ 2 میں ، کیا پولس محض کرنتھیوں کا رسول تھا ، یا ہر ایک کے لیے تھا ؟
جواب: پولس نے، 1 تیمتھیس 1 : 1 ، 2 : 7 ، اور رومیوں 1 : 1 ، گلتیوں 1 : 1 ، افسیوں 1 : 1 ، کُلسیوں 1 : 1 ، 1 تیمتھیس 1 : 1 ، 2 تیمتھیس 1 : 1 اور طیطس 1 : 1 میں خود کہا کہ وہ محض کرنتھیوں کا رسول نہیں تھا ، بلکہ سب کے لیے تھا ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 5 اور متی 12 : 46 ۔ 47 میں ، کیا یسوع بھائی رکھتا تھا ؟
جواب: جی ہاں ، یسوع سوتیلے بھائی رکھتا تھا ۔ زیادہ تر غیر کیتھولک عموماً اِن آیات کے واضح مطلب کو لیتے ہیں کہ یسوع کے بھائی تھے۔ ابتدائی مسیحیوںنے اِسے اِسی طرح لیا۔ یسوع کے بھائی متی 13 : 55 ۔56 کے مطابق یعقوب( یعقوب کا مصنف) ، جوزف، شعمون اور یہودہ ( یہودہ کا مصنف) تھے ۔
زیادہ تر کیتھولکس " بھائیوں" کا مطلب قریبی رشتہ دار کے طور پر لیتے ہیں، جبکہ کیتھولک کلیسیا سکھاتی ہے کہ مریم ہمیشہ کے لیے کنواری تھی۔
بہر حال ، چچا زاد کے لیے یونانی لفظ ، سوگینس ، جسے لوقا 1 : 36 اور 1 : 58 میں استعمال کیا گیا ، یہ پولس اور متی کے استعمال کے لیے دستیاب تھا ، اور اُنیوں نے نہ کیا ۔ جبکہ کچھ مسیحی کوگوں کو مسیحی روایت کی اہمیت کو یاد دلاتے ہیں ، ہیپولیٹس( 222۔ 235/6 عیسویٰ) ریفیوٹیشن باب 2 میں یعقوب کا ہمارے خدا کے طور پر ذکر کرتا ہے۔
متی 13: 55 ، مرقس 3 : 31 ۔ 32 ، لوقا 8 : 19 ۔ 20 اور یوحنا 2 : 12 ، 7 : 3، 5 ، 10 میں آیات یسوع کے بھا ئیوں کا ذکر کر رہی ہیں ۔ مزید تفصیلات کے لیے 1001 بائبل آنسرڈ صفحہ 31 کو دیکھیے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 5 میں ، کیا پطرس( کیفا) بیویٰ کو رکھتا تھا ؟
جواب: 1 کرنتھیوں 9 : 5 کے علاوہ ایسا کہتے ہوئے ، متی 8 : 14 اور لوقا 4 : 38 ۔ 39 میں ، یسوع نے پطرس کی ساس کو بخار سے شفا بخشی۔ کلیمنٹ آف الیگزینڈریا ( سٹرومٹا) اور ایوزبیس ، ایکلسیاسٹیکل ہسٹری ( 3: 30) بھی سکھاتی ہے کہ پطرس شادی شُدہ تھا اور اُس کے بچے تھے۔
ایوزبیس ، ایکلسیاسٹیکل ہسٹری ( 3: 30) کےمطابق ، " وہ حسبِ حال کہتے ہیں ، کہ جب بابرکت پطرس نے اپنی بیویٰ کومرنےسے باہر دیکھا وہ اُس کے طلب کئے جانے اور گھر واپس آنے کی وجہ سے شادمان ہوا، اور اُس نے اُسے بڑے جرات مندانہ طور پر اور تسلی بخش طریقے سے بُلایا ، اُس کا نام لیتے ہوے اور کہتے ہوئے ، کہ " او تمہں خدا کو یاد رکھنا ہے" ایسی شادی بابرکت تھی ، اور اُن کا اُن کے لیے برتاو بہت عزیز تھا "( سٹرومٹا 7 : 2)
یسوع نے پطرس کی ساس کو اُس کی خدمت کے شروع میں شفا دی ( ( متی 8 : 14 ۔ 17 ، مرقس 1 : 29 ۔ 34 ، لوقا 4 : 38 ۔ 39 ) پس پطرس یسوع سے ملنے سے پہلے شادی شُدہ تھا ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 12 میں ، کیسے مسیح کی انجیل کا ہر ج پو سکتا تھا؟
جواب: " انجیل" سادہ طرح یسوع مسیح کے بارے " خوشخبری" ہے ۔ رابطہ اور انجیل کا بے ایمانوں کے وسیلے سپر د کیا جانا ہرج( مزاحمت ) کر سکتا ہے۔ اِسے ایمانداروں سے بھی مزاحمت کیا جا سکتا ہے جنہوں نے ، ایذار سانیوں اور دوسری وجوہات کے خوف کے بغیر ، اِس کی پوری طرح منادی کرنے کی خواہش نہ کی۔ ایک شخص چار سادہ نقاط کے ساتھ انجیل کی آگاہی کر سکتا ہے۔
1۔ اُسے سمجھنا جو خدا ہے، کہ یہاں صرف ایک تثلیثی خدا ہے ، اور ہمیں کسی اور نام نہاد دیوتایوں کی عبادت نہیں کرنی ہے۔
2 یہ محسوس کرنا کہ ہم کون ہیں ، کہ ہم گناہ کی فطرت میں پیدا ہوئے ، اور ہمارے گناہوں کے صاف اور معاف کیے جانے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنی قابلیت کی بنا ء پر آسمان میں داخل نہیں ہو سکتے۔
3 ۔ یہ دیکھنا کہ یسوع مسیح نے ، صلیب پر اپنی موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے ذریعے ، ایک کو مہیا کیا اورآسمان پر جانے کا صرف ایک رستہ ہے۔
4۔ یہ سمجھنا کہ ہمیں خدا کو پُکارنے کی ضرورت ہے، خدا پر بھروسہ رکھنے اور یہ دیکھنا کہ یسوع کے خون نے ہمارے گناہوں کی ادائیگی کی ۔
ہمارے خدا کے فرزند کے طور پر نئےسرے سے پیدا ہونے کے بعد ، ہم جانتے ہیں کہ روح القدس ہم میں سکونت کرتا ہے ، ہم میں خدا کو خوش کرنے کے لیے کام کرتا ہے ۔ جبکہ ہم ابھی تک گناہ میں ہونگے ، خدا ہمیں، مزید یسوع کی مانند بنانے کے لیے پاک کرتا ہے ۔ ہمیں خدا کے احکامات کی فرمانبرداری کرتے ہوئے ، پانی کے ساتھ بپتسمہ لیتے ہوئے ، اور محبت کرنے والے خدا کی مانند دوسروں سے محبت کرتے ہوئے زندگی بسر کرنی ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 14 میں ، کیا ہر ایک کو جو انجیل کی منادی کرتا ہےاُنہیں انجیل کے وسیلہ سے گُزارہ کرنا چاہیے؟
جواب: جیسے 1 کرنتھیوں 1 : 15 دکھاتی ہے ، یہ استحقاق ہے ، حکم نہیں ۔ یہ ایک صالح مسیحی کے لیے مکمل طور پر اچھا ہے کہ وہ انجیل کے وسیلہ سے گُزارا کریں ، لیکن اُنہیں ایسا نہیں کرنا ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 16 ۔ 17 میں ، کیوں پولس کو خوشخبری کی منادی کرنا تھی ، خواہ اپنی خوشی سے یا اپنی خوشی سے بغیر ۔ ؟
جواب: آپ خدا کی خدمت جتنا زیادہ یا جنتا کم آپ چاہتے ہیں کر سکتے ہیں ۔ پولس کو خوشخبری سُنانے کے لیے بُلایا گیا تھا ۔ وہ خواہشمندانہ طور پر اوراپنی مرضی سے اِسی کی منادی کرنا چاہتا تھا ۔ بہر حال ، وہ نشاندہی کر رہا ہے کہ اگر وہ اِس کی منادی کرنی کی خواہش نہ رکھتا، ایسا کرنا اُس کے لیے افسوس ناک ہو گا کیونکہ یہ مختاری خدا نے پولس کے سپر د کی تھی ۔ 1001 بائبل قیویسچنز آنسرڈ صفحہ 125۔ 126 اشارہ کرتی ہے کہ پولس کی مانند ، تمام خالص مسیحی انجیل ی منادی کرنے کے لیے متبرک احسان رکھتے ہیں ، اور اُنیہں خدا کے سامنے کھڑےہونا اور اپس کا جواب دہ ہونا ہے جو ہمارے سپرد کیا گیا تھا ۔ آسمان پر ہمارے ابدی اجر کی بنیاد اُس پر ہے جو ہم کر تے ہیں یا نہیں کرتے۔ اِس لیے آپ خدا کی خدمت جتنا زیادہ یا جنتا کم آپ چاہتے ہیں کر سکتے ہیں ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 18 (کے جے وی) میں ، اگرپولس منادی کے لیے پیسے لیتے ہوئے"اپنی طاقت کا ناجایز فائدہ نہیں اُٹھا رہا" ، کیا ادا کیے جانے والے خادم اپنی طاقت کا فائدہ اُٹھاتے ہیں؟
جواب: نہیں ، " اپنی طاقت کا فائدہ اُٹھانا " پُرانا انداز ہے ، کنگ جمیس ورژن کا انداز"اپنے حق کو استعمال " کرتے ہوئے اچھی طرح ترجمہ کیا گیا ہےجس کا ذکر 1 کرنتھیوں 9 : 14 میں انجیل کی منادی سے اپنے زندہ رہنے کے لیے کیا گیا ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 20۔ 23 میں ، کیسے پولس سب آدمیوں کے لیے سب چیزیں بنا ؟
جواب: پولس نے اپنی منادی یا مشق کی سچائی کے ساتھ مصالحت نہیں کی ۔ بہر حال ، اعمال 17 میں اور دوسری جگہوں پر اُس نے سچی انجیل کی منادی کرنے لیے مختلف ذرایع استعمال کیے ، اور اپس نے سکھایا کہ ہمیں اپنے کاموں کی تراش خراش کرنی چاہیے ، غیر ضروری معاملات( رومیوں 14) کمزور مسیحی کی خاطر ، اور جنتا زیادہ ممکن ہے تمام آدمیوں کے ساتھ امن و امان سے رہنا ( رومیوں 12 : 18 )۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 20 ، 1 کرنتھیوں 10: 33 میں ، کیا پولس آدمیوں کو خوش کی کوشش کر رہا ہے جیسے گلاتیوں 1: 10 کہتی ہے کہ پولس نہیں کرتا ؟
جواب: پولس اُن تمام لوگوں کے لیے وہ ساری چیزیں بننے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ اُنہیں مسیح کے لیے جیت لے ، لیکن سچائی کی مصالحت کوشامل نہیں کرتا۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 24 میں ، کیا ہمیں انعام حاصل کرنے کے لیے دوڑنا ہے ، یا انعام حاصل نہ کرنے کے لیے دوڑنا ہے ، جیسے رومیوں 9 : 16 کہتی ہے ؟
جواب: ہمیں جانفشانی کرنی ہے جب ہم انعام کو حاصل کر رہے ہوتے ہیں ، اور رومیوں 9 : 16 اِس کی تردید نہیں کرتی ہے۔ رومیوں 9 : 16 ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری مکمل جاننفشانی ہمیں نہیں بچاتی ، یہ خداہے جو ہمیں بچاتا ہے۔
ہمیں نجات یافتہ بننے کے لیے جانفشانی نہیں کرنی ہے، لیکن ہمیں خدا کو اپنی محبت اور شُکرگزاری دکھانے کے لیے جانفشانی کرنی ہےجس نے ہمیں بچایا۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 24 میں ، کیا صرف ایک مسیحی انعام حاصل کرے گا ؟
جواب: 2 تیتمھیس 4 : 8 کے مطابق ، نہیں ۔ بہر حال ، دوڑنے والے کے طور پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے لیے، ہمیں جان بوجھھ کر کم محنت نہیں کرنی چاہیے کہ ہماری زندگیاں مسیح کے لیے " فتح کی پہلی جگہ" ہیں ۔
سوال: 41 کرنتھیوں 9 : 24 میں ، پولس کیوں کرنتھیوں کو دوڑنے کے بارے بات کر رہا ہے؟
جواب: شاید اِس وجہ سے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ اُس کے ساتھ تشریح ہے جس سے وہ تعلق رکھ سکتے تھے ۔ اِستھامین گیمز ، کرنتھس کے قریب منعقد ہوتی تھیں ، جو اولمپکس گیمز کے بعد تھی ۔ دوڑنے والوں کو دس ماہ کی ٹریننگ کا عمل کرنا تھا ،اور مقصد لارل کا تاج حاصل کرنا تھا ، اور سرفرزای کا یہ ہار جلد ماند پڑ گیا ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 27 میں ، یونانی لفظ " مارنا کُوٹنا" کا کیا مطلب ہے؟
جواب: یونانی لفظ ہپوپایز کا مطلب اپنے آپ کو مارنا ہے ۔ کرنتھیوں سنجیدہ دوڑنے والے تھے ، اور بوکسنگ اور کُشتی لڑنا اُن کی بڑی کھیلیں تھیں ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 9 : 27 میں ، کیا یہاں موقع تھا کہ پولس بر طرف کیا جا سکتا تھا ؟ اگر نہیں ، اِس کا کیا مطلب ہے؟
جواب: جواب میں چار نقاط قیاس کیے جاتے ہیں :
1۔ خدا کے ابدی ظاہری تناسب سے ، خدا وند یقینی طور پر جانتا تھا کہ کون ثابت قدم رہے گا اور ابدی زند گی رکھے گا ۔
2۔ منتخب شُدہ جو آسمان پر جاتے ہیں اپنے اجر کو کھو سکتے ہیں ۔
3۔ ہماری زمینی ظاہر ی ےتناسب سے ، کچھ نجات یافتہ دکھائی دے سکتے ہیں ، لیکن آخر پر جہنم میں جاتے ہیں ۔
4۔ کرنتھیوں اِس پر غیر متفق تھے کہ ایک خالص مسیحی اپنی نجات کو کھو سکتا ہے ۔ مزید تفصیلات کے لیے افسیوں 1 : 14 او ر عبرانیوں 6 : 4 ۔ 10 پر کی گئی بحث کو دیکھیے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 10 : 8 میں ، وہ 23000کون تھے جو ایک ہی دن میں مارے گیے ؟
جواب: خالص مسیحی چار تشریحات دیتے ہیں :
1۔ خروج 32: 28 ، خروج کے ابتدائی وقت کاذکر کرتی ہے، جب ہارون نے سونے کا بچھڑا بنایا ، اور 3000ایک دن مہں تلوار سے مارے گئے۔ بالکل اُسی وقت ، خروج 32: 35 میں وباء سے مارے گئے۔
2۔ پولس نے اعدادی شمار کیا جب اُس نے اِسے لکھا ۔ ہارڈ سینگز آف دی بائبل صفحہ 597۔ 598 اِس کی تشریح دیتی ہے ۔ اِس کا مطلب ہو گا کہ بائبل بے خطا
( بغیر کسی غلطی کے) ہے ۔
3۔ گنتی 25 : 9 خروج میں سِتم پر وقت کا ذکر کرتی ہے ، جب مدیانی عورت نے اسرائیلی مردوں کو آزمایا اور 24،000 آدمی مارے گئے تھے۔ اعداد کو حل کرنے کے دو ممکنہ طریقے ہیں :
3 الف) 23،000 صرف ایک دن میں ہیں ، اور کُل 24،000 ہے ۔
3ب) 23،000 صرف لوگ ہے ، اور 24000 لوگ اور راہنما ہے ۔ ٹر ٹولین نے کہا 24،000مدیان کی وباء میں مارے گئے ، لیکن اِسے مخصوص نہیں کیا گیا کہ کتنے دنوں میں ، آن موڈیسٹی باب 6 صفحہ 79۔
4۔ پولس اُن کا حوالہ دے رہا ہے جو مرے ، اور 24000 ممکنہ طور پر ربنیک روایت سے ، گول نمبر ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 10 : 9 میں ، جبکہ خداوند آزمایا نہیں جا سکتا ، کیسے اسرائیلیوں نے یہاں خداوند کی آزامایش کی ؟
جواب: یونانی لفظ جو یہاں استعمال ہوا اُ س کا مطلب خدا کا "امتحان" کرنا بھی ہو سکتا ہے ، خروج 17 : 2 پر کی گئی بحث کو دیکھیے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 10: 10 میں ، بائبل ہمیں اُن بۃری چیزوں کے بارے کیا بتاتی ہے جسے لوگوں نے کیا ؟
جواب: عقلمند شخص دوسروں کی غلطیوں سے، اُنہیں سرزد کرنے سے پہلے ، سیکھ سکتا ہے ۔ بائبل چاہتی ہے کہ ہم دانشمند بنیں۔
سوال: 1 کرنتھیوں 10 : 13 میں ، کیا ہم کبھی نا قابلِ برداشت آزمایئش میں پڑتے ہیں ؟
جواب: نہیں ۔ اِس سے قطع نظر کہ جو ہم اُس وقت محسوس کرتے ہیں ، 1 کرنتھیوں 10 : 13 درست ہے ۔ اپنی ذاتی طاقت پر شاید ہمارے پاس ناقابلِ برداشت آزمائش ہو ہم خدا سے دعا کر سکتے ہیں ، بائبل پڑھ سکتے ہیں ، اور دوسرے ایمانداروں کو اپنے ساتھ دعا کرنے کے لیے فون کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم خدا کے سامنے چِلاتے ہیں ، وہ ہمیشہ آزمائش سے نکلنے کی راہ پیدا کرے گا ۔
سوال: جبکہ 1 کرنتھیوں 10: 14 بُت پرست سے بھاگنے کے لیے کہتی ہے ، کیا مسیحیوں کو صلیبیں نہیں پہننی چاہیے جیسے یہوواہ وٹنس والے کہتے ہیں ؟
جواب: نہیں ، جواب کے لیے خروج 20: 4 ۔ 5 پر کی گئی بحث کو دیکھیے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 10: 20 میں اور استثنا 32 : 16 ۔ 17 میں ، کیا مذہب ہمیشہ اچھی چیز نہیں ہے؟
جواب: نہیں ۔ پہلے جو ریورینڈ مُون کے مسلک کا یونیفیکیشن چرچ کہتا ہے ، اور پھر جو بائبل کہتی ہے ۔
الہی اصول صفحہ 9: " مذہب خدا کے مندرجہ ذیل طریقے میں اچھائی کے مقصد کو سر انکام دینے کے طور پر وجود میں آیا ۔ ۔۔ بہت سے مذاہب کی مختلف قسم کی ظاہریت کی زبردستی سمجھ کی ضرورت ۔
بائبل کے پاس دینوی مذہبی بُت پرستی کے بارے کہنے کے لیے بہت کچھ ہے ۔
1 کرنتھیوں 10 : 20 "۔۔۔ جو قُربانی غیر قومیں کرتی ہیں شیاطین کے لیے قُربانی کرتی ہیں نہ کہ خدا کے لیے ۔۔۔۔۔" ( شاید زبور 106 : 37 کا حوالہ )
یوناہ 2 : 8 "جو لوگ جھوٹے معبودوں کو مانتے ہیں وہ شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ "
یرمیاہ 2 : 5 "۔۔۔ وہ بطلان کی پیروی کر کے باطل ہوئے۔"
یہاں بُت پرستی کے خلاف بہت سی آیات ہیں ۔ نقطہ یہ ہے کہ اگر آپ حقیقی خدا کی پیروی کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ کو اپنے تمام بُتوں کو تباہ کرنا ہے ۔
ابتدائی کلیسیا میں ، یہاں مثال کے طور پر سکائی تھن مذہب کو استعمال کرتے ہوئے آرئجن کی سمجھ تھی۔ آریجن اگینسٹ سیلیس کتاب 5 باب 46 صفحہ 564۔
سوال: 1 کرنتھیوں 10: 21، 27 ، میں ، ہمیں اُسے نہیں کھانا جس کی بُتوں کو قُربانی دی جاتی ہے جیسے 1 کرنتھیوں 10 : 21 اور اعمال 15: 29 دکھاتی ہے ، یا کیا یہ ٹھیک ہے جیسے 1 کرنتھیوں 10 : 27 اور 1 کرنتھیوں 7 : 4، 7 دکھاتی ہے ؟
جواب: 1 کرنتھیوں بذاتِ خود اِس کا جواب دیتی ہے ۔
1۔ یہ ٹھیک نہیں اگریہ مذہبی عمل میں حصہ ڈالتی ہے ( 1 کرنتھیوں 10 : 20 ۔ 21)
2۔ جبکہ ساری خوراک خداوند سے آئی ۔ کھانا ٹھیک ہے جتنی دیر تک یہ آپ کے ضمیر کو ایسا کرنے کے لیے بے حرمت نہیں کرتا ۔ ( 1 کرنتھیوں 8 : 4، 8 ، 10 : 23 ۔ 27)
3۔ یہ ٹھیک نہیں اگر یہ آپ کے ضمیر کی بے حُرمتی کرتی ہے ، یا اُن حالتوں میں جہاں یہ کسی کے ٹھوکر کھانے کا باعث ہو ( 1 کرنتھیوں 8 : 9 ۔ 13 ، 10: 28 ۔ 30)
سوال: 1 کرنتھیوں 10: 24 ( کے جے وی ) میں ، کیا ہر شخص کو" دوسرے کی بہتری" کی تلاش کرنی ہے "؟
جواب: اِس کنگ جمیس ورژن کا انداز کا مطلب کہ ہمیں دوسروں کے فائدے کی تلاش کرنی چاہیے ۔ لغوی یونانی یہ کہ " کوئی شخص اپنے لیے چیزوں کی تلاشش میں نہ رہے ، بلکہ ہر ایک دوسرے کے لیے ۔" ( دی انٹر نیشنل بائبل جے پ ۔ گرین ۔ سر ۔ عڈ۔ صفحہ 889)۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 3 میں ، جبکہ لفظ " خدا " بائبل میں دو مطلب رکھتا ہے ، کیا یہ سچ ہے کہ ہم یسوع کو " عظیم اور شاندار شخص کے طور پر ، " دیوتا" کہتے سکتے ہیں ( 1 کرنتھیوں 8 : 5 ، یوحنا 10 : 35 ۔ 36 ) ، لیکن اُسے " خدا" ہیں کہتے جیسے کہ ایک سچا خدا ( استثنا 6 : 4 ۔1، 1 کرنتھیوں 8 : 6 ، 1 کرنتھیوں 11 : 3 ) جیسے یہوواہ وٹنس کہتے ہیں ؟
جواب: یہاں بائبل میں لفظ " خدا" کے کم از کم تین مطلب ہیں کُشادہ سمجھ طاقت ور مخلوق سے ادراک کی جاتی ہے ، نام نہاد خدا( دیوتا) جیسے 1 کرنتھیوں 8 : 5 اور یوحنا 10 : 35 میں ہے ۔ ایک دوسرا مطلب خدا باپ ہے ( کُلسیوں 1 : 3 اور افسیوں 1 :3 ) تیسرا مطلب یوحنا 1 : 1 ، 20: 28 ۔ 29 اور دوسری اایات میں یسوع ( اور روح القدس) ہے۔ ایک او ر مطلب پورے تین ہیں ۔ یسوع خود دکھاتا ہے کہ وہ یوحنا 10 : 36 اور یوحنا 5 : 22 ۔23 کے زیادہ کُشادہ مطلب کی بجائے خدا ہے ۔ اگر یوحنا 10 : 35 کی سمجھ میں یسوع کا مطلب کہ وہ خدا تھا ہے ، اہس نے یوحنا 10: 36 کیوں کہی ؟
یہواوہ وٹنس آنسرڈ ورس بائی ورس صفحہ 96۔ 97 معقول طور پر نشانہی کرتے ہیں کہ اگر یہوواہ وٹنس 1 کرنتھیوں 8 : 6 میں صرف باپ کو ثابت کرنے کے لے اور یسوع کے خدا نہ ہونے کو ثابت کرنے کے لیے ایک " خدا" کو پسند کریں گے، پھر اُنہیں ا،سی آیت میں یقین کرنا ہو گا کہ " ایک خدا" کا مطلب کہ یسوع ہمارا خدا ہے اور خدا باپ نہیں ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 3 میں ، کیسے عورت کا سر مرد ہے ؟
جواب: خاندان میں ، بیوی شوہر کی محکوم ہے ( 1 پطرس 3 : 1، افسیوں 4 : 22 ۔ 24 ) ۔ جب راضی نامہ نہی پہنچ سکتا ، بیوی کو شوہر کی فرمانبرداری کرنی ہے ، جتی دیر تک یہ اُس کی تردید نہیں کرتا جو بائبل کتہی ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیو ں 11 : 3 میں ، کیسے خدا مسیح کا " سر" ہے؟
جواب: انسانی بیٹا اور باپ مساوی طور پر انسان ہیں ، اور خدا کی نظر میں برابر ہیں ، اب باپ اور بیٹا مختلف صفات رکھتے ہیں ۔ باپ بیٹے کو کسی جگہ بھیج سکتا ہے ، اور بیٹے کو باپ کی فرمانبراری کرنی چاہیے ۔
اِسی طرح ، یسوع اور باپ قدرت اور عزت میں برابر ہیں ، جبکہ وہ بھی مختلف صفات رکھتے ہیں ۔ یسوع ایک تھا جو زمین پر آیا اور باپ کی فرمانبرداری کی ۔
( عبرانیوں 5 : 8 ، فلپیوں 2 : 7 ۔ 8 )
مزید تفصیلات کے لیے دی کمپلیٹ بُک آف بائبل آنسر صفحہ 111 کو دیکھیے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 3 ، متی 24 : 36 اور فلپیوں 2 : 7 ۔ 8 میں ، کیا یسوع با سےکم تر ہے ؟
جواب: بےشک یسوع جلال میں باپ سے کم تر تھا جب وہ زمین پر تھا ۔ آسمان میں ، وہ قدرت م جلال، عزت ، اور دوسری چیزوں میں خدا باپکے برابر ہے ۔ وہ
( آج آسمان میں ) ابتدا کے معاملے میں ( یسوع باپ سے پیدا ہوا) کردار ، اور رُتبے میں باپ سے کم تر ہے ۔ تقریباً یسوع باپ کے مساوی ہے بالکل اُسی طرح جیسے بیٹا اپنے باپ کے مساوی ہوتا ہے ۔ یسو ع باپ سے کم تر ہے بالکل اُسی طرح جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے کم تر ہوتا ہے۔
بائبل دونوں سمتیں دکھاتی ہے ، اور مخلص ایماندار کم تر نہیں ہو سکتے ۔ ہم بیٹے کی عزت کرنی ہے جیسے ہم باپ کی عزت کرتے ہیں ، جیسے یوحنا 5 : 22۔ 23 حکم دیتی ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 3 میں ، کیا یسوع کو کسی طرح باپ سے کم تر کہنا ، تثلیث کی تردید ہے ؟
جواب: اگر آپ تثلیث کو غلط سمجھتے ہیں ، اور دوسروں کو پاتے ہیں جو نا واقف ہیں ، یہ خدا کی سچائی سے کچھ الگ نہیں کرتا ۔ انطاکیہ کے بشپ تھیوفلیس ( 168 ۔ 181 /188 عیسوی) سے اب تک ، مسیحیوں کو مسلسل تثلیث کے بارے سکھایا گیا ۔ مسیحیوں کو سکھایا گیا کہ یسوع قدرت میں مساوی تھا ، اب باپ اُس کا سر ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11: 3 ۔ 9 میں ، کیا یہ مرد پرستی اقتباس ے ؟
جواب: شاید بنیادی نسوانی معیار ، لیکن خدا کء معیار سے نہیں ۔ مرد اور عورت مساوی قدر رکھتے ہیں ( گلتیوں 3 : 28 ) ، لیکن مرد اور عورت فرق کردار ادا کرتے ہیں ، جیسے 1 کرنتھیوں 11 : 3 ۔ 9 ، 14 : 34 ۔ 35 اور 1 تیمتھیس 2 : 11 ۔ 15 دکھاتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے اِن آیات پر کی گئی بحث کو دیکھیے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 5 میں ، کیا عورتوں کو آج سر ڈانپنا چاہیے وج وہ دعا کرتی ہیں ؟
جواب: اُس تۃزیب کے لیے اُنہیں کر نا چاہیے ، اپنے شوہروں کی عزت اور فرمانبرداری کی علامت کے طور پر ۔ پھر پیچھے، عورتوں کو اپنا سر ڈاھانپنا ہو گا جب وہ دعا کر تی تھیں ۔ خالص مسیحٰ آج اِس پر غیر متفق ہیں ۔
1۔ کچھ کہتے ہیں یہ اُن کی تہذیب کے لیے ٹھیک تھا ۔
2۔ دوسری مسیحی خواتین سر ڈاھانپتی ہیں جب وہ چرچ میں ہوتی ہیں۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 10میں، کیوں عورت کو فرشتوں کی وجہ سے سر پر محکوم ہونے کی علامت رکھی چاہیے؟
جواب: جبکہ کچھ نشاندہی کر تے ہں کہ یونانی لفظ اینگلوس کا مطلب انسانی پیغام رساں ہو سکتا ہے ، سیاق و اسباق فرشتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے نہ کہ انسانی پیغام رساں کی طرف۔ تین دوسری تشریحات یہ ہیں :
1۔ گِرے ہوئے فرشتے : پیدایش 6 : 2 ۔ 5 میں مخلوقات کے طور پر ( ٹرٹولین (200عیسویٰ) آن دی ویلینگ آف ورجنز 9 اور آن پریر 22) ۔ یہ مخلوقات اکیلے گِرائے گئے فرشتے تھے ، یا وہ انسان پر قابض بھوت ہو سکتے ہیں۔ ا،س طرح کپڑے پہننا جس طرح تہذیب کو قیاس کیا جاتا ہے ا،س طرح کی شیخی گرے ہوئے فرشتوں کو آدمیوں کو آزمانے کے مواقع دیتا ہے۔
2۔ سب فرشتے : " فرشتے کلیسیا کو دیکھنے والے تھے " خد اکی عبادت کے بالکل وسط میں یہ فرشتے ، اچھائی اور بُرائی کو دیکھ رہے تھے ، اُن کے کام کی بے عزتی بہت ناموزوں ہے ۔ پولس 1 تیمتھیس 5 : 21 میں ، عبادت میں فرشتوں کے موجود ہونے کی یہی سوچ کو رکھتا تھا ۔
3 دونوں : جبکہ دونوں پچھلے درست ہیں ، پولس کے ذہن میں ہو سکتا ہے دونوں ہوں۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11:11۔12 میں ، کیسے عورت مرد سے ہے اور مرد عورت کے وسیلہ سے مگر سب چیزیں خدا کی طرف سے ہیں؟
جواب: یہاں آدمیو ں کی صنف سے الگ عورتوں کی صنف اور اِس کے بر عکس کوئی مقصد نہیں ہے ۔ آخر کار ، یہاں خدا سے الگ ہو کر کسی چیز کا کوئی مقصد نہیں ۔ جیسے ایک روسی مسیحی نے استعاراتی طور پر پوچھا ، " اگر سڑک چرچ کی طرف راہنمائی نہیں کرتی ہے ، پھر اِس میں کیا اچھائی ہے؟"
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 13 میں ، کس قسم کی روحانی سچائیوں کا ہمیں "اپنے طور پر انصاف" کرنا چاہیے خواہ قبول کرنے کے لیے نہ نہیں کرنے کے لیے؟
جواب: ہمیں بغیر تنقید کیے ہوئے اقتباس میں بیان کی گئی سچائیوں کو قبول کرنا چاہیے ۔ ہمیں تمام دوسری بیاں کر دہ سچائیوں کی آزمائش اور پرکھھ کرنی چاہیے، جس میں کلام کی سب تشریحات شامل ہیں ۔ یہ اہم ہے کہ ہمیں اپنی کلام کی تشریحات کے ساتھ جو کلام سکھاتا ہے اُس کے ساتھ درہم برہم نہیں کرنا ۔ امثال 30: 5 ۔ 6 اور1 کرنتھیوں 4 : 6 زور دیتی ہیں کہ ہمیں خدا کے کلام میں اضافہ نہیں کرنا ہے۔ یہاں تک کہ حوا کی زوال پذیری میں ، دونوں شیطان اور حوا نے خدا کے کلام کے طور پر اپنی تشریحات پیش کیں ۔
1 کرنتھیوں 11: 13 میں ، پولس پڑھنے والوں کو پرکھنے کی دعوت دے رہا ہے کہ جو پولس نے یہاں لکھا ہے یہ اُن کے شعور کے ساتھ متفق ہے۔ وہ خدا کے کلام پر انصاف کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا ہے ، یا یہ کہ اگر یہ سچائیاں اُنکے ادراک کے ساتھھ متفق نہیں ہوتیں ، پھر اِن سچائیوں کو ر د کریں ۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 11 : 14 سکھاتی ہے کہ مردوں کو لمبے بال نہیں رکھنے چاہییں اور عورتوں کو لازماً لمبے بال رکھنے چاہیے؟
جواب: کچھ مسیحی کہتے ہیں کہ یہ آج اُسی طرح سچ ہے جیسے یہ پہلے تھا۔ دوسرے مسیحی کہتے ہیں کہ تہذیبی تھا ۔ تمام مسیحی اِن تین نقاط پر متفق ہو سکتے ہیں۔
1 ) پچھے ، جبکہ ایک عورت کے لیے بال کٹوانا شرم بات ہے ، مسیحی عورت کو بہت چھوٹے بال نہیں رکھنے چاہیے ۔ یہ بدی کو ظاہر کرے گا ۔ ( 2 کرنتھیوں 8 : 22 ، 1 تھسلینکیوں 5 : 22 ) ۔
2)۔ 1 کرنتھیوں 11 : 14 اور استثنا 22 : 5 دونوں آدمیوں کے عورتوں کی مانند اور عورتوں کو آدمیوں کی مانند نظر آنے کے خلاف ہیں ۔
3۔ اگر ایک مسیحی اِس نقطے پر غلط ہے ، یہ بُت پرستی یا جھوٹے یسوع کی پیروی کرنے سے مقابلہ کرتے کرتے ہوئے چھوٹی غلطی ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 14 میں ، اگر ایک کلیسیا آدمیوں اور عورتوں کے بالوں کی لمبائی پر غلط یقین رکھتی ہے ، کی ایہ ثابت کرتا ہے کہ وہ کلیسیا خدا کی کلیسیا نہیں ہے؟
جواب: اِس سوال کا جواب دینے سے پہلے ، آئیں کچھ مشاہدات کر تے ہیں ۔ ایک کلیسیا اب بھی ایک خدا کے چرچ مقامی طور پر اکٹھی ہو سکتی ہے اگر یہ ہے ، کم از کم عارضی طور پر :
) بردباری فاسق رُکنیت کو رکھنا ہے ( 1 کرنتھیوں 5 : 1 )a
) اِس کے ارکان کے درمیاں تقسیم ( 1 کرنتھیوں 2 : 13) b
)اُنہیں رکھا جو شریعت پرست تھے ( گلتیوں 2 : 13)c
سوال کا جواب دینے کے لیے : اگر ایک کلیسیا اب بھی خدا کی کلیسیا کے اِن مسائل کے ساتھھ سچی ہو سکتی ہے ، مان لیہنے کے طور پر ایک چرچ اب بھی خدا کا چرچ ہو سکتا ہے اگر وہ بالوں کے بارے غلط رائے رکھتے ہیں ۔
بہر حال ، اگر ایک مختلف انجیل کی منادی کرتا ہے ( گلتیوں 1 : 6 ۔ 9 ) ، یا کفارے یا قیامت سے انکاری ہے ( 1 کرنتھیوں 15 : 1 ۔ 7 ) اُن کا ایمان ناقص ہے۔ اُن کی مانند جو خدا ترسی کی شکل کو رکھتے ہیں لیکن اِس کی طاقت سے انکاری ہیں، ہمیں اُن سے دور رہنا ہے جیسے 2 تیمتھیس 3 : 5 حکم دیتی ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 19 میں ، پولس نے کیوں کہا کہ کرنتھیوں میں بدعتوں کا ہونا ضرور ہے؟
جواب: بدعتیں ، یا جھوٹی تعلیمات ، قابلِ خواہش نہ تھیں ، لیکن یہ لوگوں کے درمیاں نا گزیر تھیں جو خدا کے اختیار کو نہیں سُن رہے تھے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 23 ۔ 26 میں ، کیا یہ آخری کھانے کے درست الفاظ ہیں ، یا متی26 : 21 ۔ 29 ، مرقس 14 : 18 ۔ 24 اور لوقا 22 : 14 ۔20 کی اناجیل میں درست الفاظ ہیں ؟
جواب: غالبا ً نا یہ نہ وہ آخری کھانے کا مکمل رسم الخط ہے ، تشریح اب بھی درست ہو سکتی ہے ۔ پولس اور دوسرے انجیل کے لکھاریوں کا نقطہ آخری کھانے کے بارے کچھ بات کرتے ہوئےتشریح دینا ہےکہ ہمیں یاد دہانی کے فارمولوں سے بالا تر غور کرنا ہے ، عام ارادے کو ریکھنے کے لے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 24 میں ، کیا اِسے " تمہارے لیے توڑنا " کہنا چاہیے ، یا اِسے"تمہارے لیے " ہونا چاہیے ؟
جواب: یہاں دونوں طریقوں کے لیے یونانی رسم الخط ہیں ۔
"توڑنا" غیر حاضر ہے :
صفحہ 46 ( چیسٹر بیٹی 11) 100۔ 150 عیسویٰ
ویٹیکینس 325 ۔ 350 عیسویٰ
سنیٹکس 340 ۔ 350 عیسویٰ ( اصل )
ایفریمی رعسکریپٹس پانچویں صدی ( اصل)
الیگزینڈرینس 450 عیسویٰ
ایتھنینیس 326 ۔ 373 عیسوی
" توڑنا " موجود ہے :
سینیٹکس 340 ۔ 350 عیسویٰ ( درست کیا گیا )
ایفریمی رعسکریپٹس پانچویں صدی( تیسری درستگی)
گوتھک 493 ۔ 555 عیسویٰ
جان کریسوسٹم 370۔ 407 عیسویٰ
بیزنٹین لوکشنری ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 28 ۔ 29 میں ، کیسے آخری کھانے پر کھانا پینا نالاءق طور پر ہمارے خداوند کے بدن اور خون کے برعکس گناہ ہے ؟
جواب: کیسی ہم یسوع کی قُربانی کی یاد دہانی کے قریب پہنچتے ہیں ہم اِسے کیسے عزت دیتے ہیں ۔ اِسے خفیف طور پر لینا جو یسوع نے ہمارے لیے کیا بہت سنگین گناہ ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 28 ، 31 میں ، کیا ہمیں اپنے آپ کو جانچنے کا قیاس کرنا چاہیے ، یا نہیں ؟
جواب: اِس کے جواب میں دو نقاط قیاس کیے جاتے ہیں ۔
ہمیں اپنے آپ کو اپنا تجزیہ کرنے کی سمجھ میں جانچنا چاہیے اور تلاش کرنی چاہیے کہ کیسے مزید یسوع کی مانند زندگی گزار سکتے ہیں ۔
ہمیں دوسروں کے ساتھھ اپنا موازنہ کرنےکی سمجھ میں ، اپنی جانچ نہیں کرنی ہے ، یا اِس کا احطہ کرنے کی جدوجہد کرنا کہ ہم کیسے خدا کے سامنے کھڑے ہونگے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 29۔ 31 میں ، اگر لوگ آ ج خدا کے کھانے کو نالائق طور پر لیتے ہیں ، کیا وہ بیمار ہونگے اور مریں گے ؟
جواب: خدا ایمانداروں کو اُس وقت اور آج مہذب کر سکتا ہے ، جس طرح وہ چاہتا ہے ۔ یہ خود بخود نہیں ہے کہ وہ بیمار ہونگے ، لیکن کچھ بھی خدا کو ہر ایماندار کو منظم کرنے کے لیے روک نہیں سکتا جس کسی کو وہ فٹ دیکھتا ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 11 : 33 (کے جے وی ) میں ، " راہ دیکھنے" سے کیا مُراد ہے؟
جواب: راہ دیکھنے کا مطلب کسی کا یا کسی چیز کے لیے انتظار کرنا ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 12 : 3 میں ، اگر کوئی شخص سنجیدگی سے کہتا ہے تین مرتبہ کہتا ہے کہ یسوع خدا ہے ، کیا وہ پھر نجات یافتہ ہوتے ہیں ، جیسے کچھ نے وٹنس لی کے مقامی چرچ میں میں سکھایا ؟
جواب: ایک مرتبہ یسوع کو قبول کرنے کے ایسے الفاظ کہنا ضروری ہے ۔ بہر حال، یہ الفاظ کوئی جادوئی فارمولا نہیں ہیں ۔ جادوئی فارمولا کافی نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر جادو کا فارمولا مخلصانہ طور پر بولا گیا ہے ۔ آخر کار یہ الفاظ یا اعمال نہیں ہیں جو ہمیں بچاتے ہیں، یا یہاں تک کہ انجیل جو ہمیں بچاتی ہے ، یہ خدا ہے جو ہمیں چاتا ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 12 : 3 میں ، کیا ہر ایک جو کہتا ہے کہ ، " یسوع خداوند ہے " یہ روح القدس کے وسیلے کہہ رہا ہے؟
جواب: نہیں ۔ یہ کسی زبان میں ایک آواز سے ادا کیا جانے والا نہیں ہے ، لیکن اُن الفاظ کا مطلب ہے ۔ ایک شخص کسی بھی زبان میں کہہ سکتا ہے " کہ یسوع خداوند ہے" اور درحقیقت یسوع کو اپنے خداوند کے طور پر قبول کرتا ہے ، صرف روح القدس کے ذریعے ۔
یہ آیت خدا سے الگ ہماری قابلیتوں کے بارے بھی کچھ کہتی ہے ۔ روح القدس کے کام سے الگ ، زوال پذیر شخص یسوع کو خدا وند کے طور پر قبول کرنے کے قابل نہیں ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 12 : 7 میں ، اور بحث کے قابل رومیوں 8 : 9 ۔ 11 میں ، کیا ہر مسیحی روح کے ظہور کو رکھتا ہے ؟ دوسرے لفظوں میں ، اگر آپ ظہور کو نہیں رکھے ہیں ، کیا اِس کا مطلب کہ آپ سچے مسیحی نہیں ہیں ؟
جواب: ہر سچا مسیحی خواہ 1 کرنتھیوں 12 : 8 ۔31 میں تحائف کی فہرست میں سے ایک کو رکھتا ہے ، یا دوسرے تحائف جو یہاں شامل نہیں ہیں۔ کچھ بھی 1 کرنتھیوں 12 میں نہیں کہتی ہ یہ فہرست تھکا دینے والی ہے ، یہ سارے تحائف نظارےکے طور پر نہیں ہیں جیسے معجزات ، شفا، اور زبانوں میں بات کرنا ۔ کچھ حکمت علم اور مدد گار تحائف ہیں ۔ رومیوں 12 : 6 ۔ 8 دوسرے تحائف کا ذکر کرتی ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 12 : 28 ( کے جے وی) میں ، "منتظم" کا تحفہ کونسا ہے؟
جواب: یہ انتظام کرنے کا تحفہ ہے ۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 12 : 28 دکھاتی ہے کہ ہمیں آج رسولوں کو رکھنا ہے ؟
جواب: یہاں لفظ " رسول" کے تین مطلب ہیں :
1۔ یونانی لفظ رسول کا مطلب " ایک بھیجا ہوا" ہو سکتا ہے ۔ برنباس پیغام رساں تھا اور اعمال 4 : 36 اور 14 : 14 کی سمجھ میں ایک رسول تھا ۔ ابتدائی ممالک میںیونانی میں اِسے بحریہ کے اعلیٰ افسر کی طرف حوالہ ہو سکتا ہے۔ جبکہ آج یہاں رسول ہیں ، یہاں ڈاکیے ہیں ، اور بحریہ کے آفسر ہیں ، رسول کا یہ مطلب نہیں جس کاہم یہاں حوالہ پیش کر رہے ہیں ۔
2 ۔ مکاشفہ 21 : 14 کہتی ہے کہ نئے یروشلم کا شہر درست طور پر بارہ بنیادیں رکھے گا ، اور اُن پر " برہ کے بارہ" رسولوں کے نام ہونگے ۔ اپس وقت بارہ رسول پہلے ہی زندہ تھے ، یہاں مزید " برہ کے بارہ رسول" نہیں ہیں ۔
3۔ یہاں نئے عہد نامے میں استعمال کیے گئے لفظ " رسول" کی تیسری سمجھ ہے۔ بالکل جیسے یہاں جھوٹے نبی اور ُستاد ہو سکتے ہیں ،2 کرنتھیوں 11 : 13 اور مکاشفہ 2 : 2 دکھاتی ہے کہ یہاں لوگ ہو سکتے ہیں جو رسولوں کے طور پر بھیس بدل سکتے ہیں ۔ وہ جھوٹے رسول ہیں ، جو خد کی طرف سے نہیں بھیجے گئے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 12 : 30 میں ، کیا سچے ایماندار زبانوں میں بولنے کے لیے قیاس کیے جاتے ہیں ، یا نہیں ؟
جواب: دونوں غیر کیرزمیٹک اور کچھ کیریز میٹک مسیحی متفق ہیں کہ تمام مسیحی زبانوں میں بولنے کے تحفے کو نہیں رکھتے ہیں جس کا ذکر 1 کرنتھیوں 12 : 30 میں کیا گیا ہے ، جیسے کہ سب رسول او ر نبی نہیں ہیں ۔
غیر کیرزمیٹک مسیحی چرچ میں عوامی زبان میں بولنے کے تحائف کو رکھنے اور ذاتی دعا میں بولنے والی خفیہ زبان میں فرق کتے ہیں ۔ بہت سے ، لیکن سارے مسیحی نہیں کہتے کہ سب کو ذاتی زبانیں بولنا لازم ہے ۔ اکیلا اقتباس مدد کرتا ہے کہ سب کو زبانوں میں بولنا چاہیے ( 1 کرنتھیوں 14 : 5 )۔
بہت سے کیرز میٹک اصطلاح " روح القدس کے بپتسمہ" کو زبانوں میں بولنے کے ساتھ مِلاتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ دوسری برکت ہے جسے غیر کیرز میٹک نہیں رکھتے ۔ بہر حال ، دوسرے مسیحی کہتے ہیں کہ یہ سکھانا غلط ہے کہ ہر ایک زبانوں کے تحفے کو رکھتا ہے ، یا یہ زبانیں روح کے بپتسمے کی علامت ہے ۔
1 کرنتھیوں 14 : 1 ، 5 کہتی ہے کہ پولس خواہش رکھتا ہے کہ سب زبانیں بولیں ، لیکن اِس کی بجائے وہ نبوت کرتے ہیں ۔ یہ جُملہ اُس کی مانند ہے جب گنتی 11 : 27 ۔ 29 میں الداد اور مداد نبوت کر رہے تھے ، اور یشوع نے موسیٰ کو اُنہیں روکنے کے لیے کہا ۔موسیٰ نے جواب دیا ، " میری خواہش ہے کہ خدا کے سب لوگ نبی ہوں ۔" اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر اسرائیلی نبی کے طور پر قیاس یا گیا تھا ۔ مزید معلومات کے لیے اگلے سوال کو دیکھیے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 12 : 30 میں ، کیا کم از کم کچھ مسیحٰی حقیقی طورپر آج زبانوں میں بات کرتے ہیں ؟
جواب: خالص مسیحی اِس پر غیر متفق ہیں ۔
کیرز میٹکس: یقین رکھتے ہیں کہ تحفہ آج عمل میں ہے ۔ کچھھ کیرز میٹکس روحانی تحایف پر زور دیتے ہیں جتنا زیادہ وہ مسیح پر زور دیتے ہیں۔وہ اکثر غیر کیرز میٹکس کے ساتھ مِل کر کام کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ دوسرے کیرز میٹکس ، جبکہ یقین کر رہے ہیں کہ غیر کیرز میٹکس اِس تعلیم پر غلط ہیں ، وہ دیکھھ سکتے ہیں کہ غیر کیرز میٹک مسیحی خدا کی طرف سے بہت سے دوسرے طریقوں میں استعمال کءے گئے ہیں اور اُن کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں ، کیونکہ مسیح جو ہمیں اکٹھا رکھتا ہے غیر ضروری تعلیمات کی نسبت جو ہمیں تقسیم کرتی ہیں ۔
کلٹک وننس پینٹیکوسٹل: تثلیث سے انکاری کے علاوہ ، سکھاتے ہیں کہ آج ہر ایک جو زبانیں نہیں بولتا وہ جہنم میں جائے گا ۔
مخالفِ کیرز میٹک: سکھاتے ہیں کہ خدا کا زبانوں میں بولنے کا شب کچھھ دیا ہوا بہت عرصہ پہلے گُزر(ختم ہو) چُکا ہے، اور کسی مسیحی عباد ت میں زبانوں میں بولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ، اور 1 کرنتھیوں 14 : 39 نئے عہد نامے کی آیت ہے جسے آج نظر انداز کیا جانا چاہیے ۔
دوسرے غیر کیرز میٹک: فرق کرتے ہیں خواہ زبانوں میں بولنا ہے یا نہیں ، یا سارے روحانی تحائف ختم ہو چُکے ہیں ۔ وہ خواہ یقین کریں کہ کچھھ زبانوں میں بولنے والے خالص ہو سکتے ہیں ، یا یا یہ یقین رکھتے ہیں کہ سب کا زبانوں میں بولنا الہی تحریک نہیں ہے ، لیکن کوئی شخص بھی کامل نہیں ہے جو غلطی کی ایک قسم ہے جسے برداشت کیا جا سکتا ہے ، او ر 1 کرنتھیوں 14 : 39 کو آج نظر انداز نہیں کیا گیا ہے ۔
خبرداری : ایسا کہنا غلط ہے کہ آج زبانوں میں بولنا شیطانی ہے ۔ غیر کیرز میٹک اور بہت سے کیرز میٹک متفق ہیں کہ زبانوں میں بولنے کی چند کوششیں نہ خدا کی طرف سے ہیں اور نہ شیطان کی طرف سے ،بلکہ کوئی شخص بےوقوفانہ طور پر اپنی قدرتی قابلیتیوں کے ساتھ زبانیں بولنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 12 : 31 (کے جے وی) میں ، ہمیں کیوں روحانی تحائف کی آرزو رکھنی چاہیے ، جبکہ خروج 20: 17 کہتی ہے کہ آرزو کرنا غلط ہے؟
جواب: اِس یونانی لفظ کا بہتر طور پر ترجمہ " سرگرمی سے خواہش" کرنا ہے ۔ 1 کرنتھیوں 12 : 31 کہتی ہے کہ ہمیں بڑی سرگرمی سے روحانی تحائف کی آرزو کرنی ہے ، جبکہ خروج 20 : 17 اِس سے انکاری نہیں ، لیکن کہتی ہے کہ مال و دولت کی آروزو نہیں کرنی ہے یا لوگ جو اپنے پڑوسی سے تعلق رکھتے ہیں ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 13 : 7 ۔ 8 میں ، کیوں ہمیں ہمیشہ دوسروں پر بھروسہ کرنا چاہیے ، جبکہ میکاہ 7 : 5 ۔ 6 اور یرمیاہ9 : 4 ۔ 5 ، 17 : 5 کہتی ہے ہم نہیں کر تے ہیں ؟
جواب: ہمیں دوسروں کے لیے بھروسہ رکھنا ہے ، لیکن ہمیں دوسروں پر بھروسہ نہیں رکھنا ۔ یہاں تک کہ جب ہم دوسروں کا بھروسہ کرتے ہیں ، یہاں قابلیتیں ہیں ۔
یرمیاہ 9 : 4 ۔ 5 اور میکاہ 7 : 5 ۔ 6 نبی اور ایماندار کو ہدایت کرنی ہے کہ اُن اندھیرے وقتوں میں رہتے ہوئے ، اپنے ہمسایوں پر بھروسہ نہ رکھیں ، یا یہاں تک کہ اپنے ذاتی گھرانے پر۔
یرمیاہ 17 : 5 کہتی ہے کہ وہ ایک جو اپنا بھروسہ خدا کی بجائ/ے انسان پر رکھتا ہے لعنتی ہے ۔
1 کرنتھیوں 13 : 7 ۔ 8 ہمیں محبت کے لیے خیالی دیتی ہے ۔ یونانی الفاظ
کا لغوی طور پر مطلب " سب پر ایمان رکھنا ہے" Panta pisteuei
یہاں ایمان کے لیے یونانی لفظ کا مطلب شعوری طور پر قبول کرنا نہیں ہے ، لیکن بچانے والا ایمان جس میں ہمارا ایمان رکھنا شامل ہے یا اِس پر انحصار کرنا اِس کے ساتھ ساتھ شعوری طور پر قبول کرنا ۔ جبکہ کوئی بھی سنجیدہ طور پر سوچتا ہے کہ پولس جھوٹے نبیوں پر ایمان کی طرفداری کر رہا ہے اور جھوٹ بولتا ہے کہ آپ کو خدا کے کلام پر یقین رکھنے کے لیے غیر یقین ہونا ہے ، یقین رکھنے کا مکمل کیا مطلب ہے ؟ یہ جُملہ تمام لوگوں پر یقین رکھنے کے لیے نہیں کہہ رہا ہے ، لیکن ساری سچائی پر ایمان رکھنے کے لیے کہہ رہا ہے ۔ چیزیں جن پر خاص طور پر ہمیں ایمان رکھنا ہے وہ ہماری بائبل میں 1 کرنتھیوں 15 : 11 میں ایک صفحہ یا دو ہونگے ۔
سوال: کیا 1 کرنتھیوں 13 : 9 ۔ 11 ثابت کرتا ہے کہ روحانی تحائف گُزر(ختم ہو ) چُکے ہیں ؟
جواب: 1 کرنتھیوں 12 : 8 ۔ 10 میں ذکر کیے گئے تین تحائف ختم ہو چُکے ہیں
( علم ، نبوت ، زبانیں ) ختم ہو جائیں گی جب " کامل " آئے گا ۔ " کامل" مکمل چیز، بیان یا شخص کی طرف حوالہ ہو سکتا ہے۔ اِس شرط کے لیے تین امکانات ہیں :
1۔ نئے عہد نامے کی کاملیت۔
2 ۔ جب کلیسیا مکمل ہو تی ہے ۔
3۔ جب مسیح دوبارہ آئے گا ۔
بہر حال ، تشریح 1) غالباً ناممکن ہے ، کیونکہ یہ 1 کرنتھیوں 13 : 12 کے ساتھ فٹ نہییں ہوتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ تیسرے نظریہ میں بہت زیادہ تعریف کی گئی ہے۔ زکریاہ 13 : 3 ۔ 6 بھی کہتی ہے کہ یروشلیم کو گناہ اور ناپاکی سے صاف کرنے کے لیے چشمہ کھُلنے کے بعد ، نبوت کی روح ختم ہو جائے گی۔
کچھ کہتے ہیں اگر 1 کرنتھیوں 13 : 9 ۔ 11 ثابت کرتا ہے کہ زبانوں میں بولنا ختم ہو چُکا ہے ، پھر علم بھی ختم ہو چُکا ہے ، اور کاملیے پہلے ہی آ چُکی ہے ۔ بہر حال، یہ وہ علم نہیں جو ختم ہو چُکا ہے ، بلکہ یہ علم کا مافوق الفطرت تحفہ ہے۔
سوال: 1 کرنتھیوں 13 :13 میں ، اگر کوئی شخص ایمان، اُمید اور محبت رکھتا ہے ، کیوں اُنہیں بائبل کو مزید پڑھنے ، یا تعلیم کو جاننے کی ضرورت ہے ؟
جواب: ایمان ، اُمید اور محبت ، کا مطلب ایمان میں ایمان، کسی چیز کی اُمید اور اپنے لیے محبت نہیں ۔ اِس کا مطلب خدا میں محبت ، خدا کے وعدوں میں اُمید اور خدا اور دوسروں کے لیے محبت ہے ۔
ہمیں خدا کے بارے جانےے کی مزید ضرورت ہے ہم اِس میں ایمان رکھتے ہیں ، یہ سمجھنے کے لیے کہ ہمار ی اُمید اور اُس کے لیے اور دوسروں کے لیے یقینی ہے۔ افسیوں 1 : 17 میں ، پولس ، لکھتا ہے کہ وہ خدا کو اچھی طرح جان سکتے ہیں ، وہ اُمید کو جان سکتے ہیں جس کے لیے خدا نے ہمیں بُلایا ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 14 میں ، پولس بنیادی طور پر کیا کہہ رہا ہے ؟
جواب: پولس کرنتھیوں کو مندرجہ ذیل باتیں کہیں :
1۔ اُ س نے زبانوں میں بات کی ، اور یہ اُن سب کے لیے زبانوں میں بولنے کی خواہش رکھنا اچھا تھا ( آیات، 5، 18)
2 ۔ ہر ایک کو زبانوں میں بولنے سے زیادہ نبوت کرنے کی خواہش رکھنی چاہیے( آیات 1 ، 5 ، 19)۔
3۔ زبانوں میں بولنے ( آیات 2، 4 ) اور نبوت کرنے ( آیات 3 ، 4) کے لیے شرعی مقصد۔
4۔ اُنہوںنے زبانوں میں بولنے پر بہت زور دیا ، اُنہیںتحائف پر زور دےنے کی بجائے چرچ کی تعمیر کرنی چاہیے تھی ( آیات 4۔5،26، 28 )
5۔ کلیسیا میں زبانوں میں بولنے کا درست طریقہ با ترتیب ہے، زیادہ سے زیادہ دو یا تین تشریح کرنے والوں سے( آیات 6 ۔ 13، 26۔33)
6۔ تشریح کرنے والوں کے ساتھ زبانوں میں بولنے کی باترتیب طور پر ممانعت نہ کریں ۔( آیت 39) ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 14 : 1 ، 5 ، 12 میں ، کیا ہمیں روحانی تحائف کی تلاش کرنی چاہیے ؟
جواب: جی ہاں ۔ ہمیں ہر اچھی چیز کی تلاش کرنی چاہیے کو خدا ہمیں دینا چاہتا ہے ۔ یہ بھی کہ ، اگر ہم روحانی تحفہ رکھتے ہیں ، کوئی اقتباس یہ نہیں کہتا ہے کہ ہمیں دوسرے تحائف کی خواہش کرنے سے رُکنا چاہیے ۔ 1 کرنتھیوں 12 : 31 کہتی ہے کہ ہمیں ( ہمیشہ) روحانی تحائف کی خواہش رکھنی ہے اور 1 کرنتھیوں 14 : 12 اور 1 پطرس 4 : 10 ۔ 11 ذکر کرتی ہیں کہ ہمیں اُن تحائف سے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیےجنہیں ہم رکھتے ہیں ۔ اِس کے باوجود ، ہمیں خدا کے قریب ہونے کی تلاش سے زیادہ تحائف کی تلاش نہیں کرنی چاہیے ۔
مزید تفصیلات کے لیے 1 کرنتھیوں 12 : 30 پر کی گئی بحث کو دیکھیے آیا کہ ہمیں آج زبانوں میں بولنے اور نبوت کرنی ہے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 14 : 1 ، 5 میں ، کیا پولس کرنتھیوں کو کہہ رہا ہے کہ زبانوں میں بولنے اور نبوت کرنے کی خواہش کو رکھنا چاہیے ، یا نہیں ؟
جواب: جواب کے لیے 1 کرنتھیوں 14 پر کی گئی بحث کو دیکھیے ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 14 : 21 میں ، کیوں پولس نے کہا کہ یہ حوالہ شریعت ( توریت) سے آیا ، جبکہ یہ درحقیقت یسعیاہ 28 : 11 ۔ 12 سے آیا ؟
جواب: صدوقی اور دوسرے توریت کے طور پر بائبل کی صرف پہلی پانچ کتابوں کو قبول کرتے ہیں ، لیکن فریسی سارے پُرانے عہد نامے کو توریت قیاس کرتے ہیں ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 14 : 22 ۔ 25 میں ، کیسے زبانوں میں بولنا غیر ایمانداروں کے لیے نشان اور نبوت ایمانداروں کے لیے نشان ہے ؟
جواب: جواب کے لیے تین جوابات قیاس کیے جاتے ہیں :
بھید : زبانوں میں بولنا غیر ایمانداروں کے لیے ایک بھید ہو گا ، اُنہیں سوچنے کا سبب بننے کے لیے کہ آپ پاگل ہیں ، اور یہ نامناسب ہے ۔ ( 1 کرنتھیوں 14 : 23)
گواہی : جب ایک غیر ایماندار موزوں نبوت کرسُنتا ہے ، وہ اپنے دل میں مخفی باتوں کو سُنتا ہے ، وہ اِسے گواہی کے طور پر دیکھے گا کہ خدااُن کے درمیاں ہے۔ ( 1 کرنتھیوں 14 : 25 )
دونوں : مکاشفہ ( نبوت) اور زبانیں کرنتھس کی کلیسیامیں مناسب مقام رکھتی تھیں ( 1 کرنتھیوں 14 : 26 )
سوال: 1 کرنتھیوں 14 : 23 میں ، کیا مسیحیوں کو ایسی چیزیں کرنی چاہییں جو دوسرے لوگوں کو یہ سوچنے پر آمادہ کریں گی کہ مسیحی پاگل ( دیوانہ) ہیں ؟
جواب: ہاں اور نہیں ، مناسب طور پر سمجھا گیا ۔
1 ۔ کچھ غیر ایماندار سوچتے ہیں کہ مسیحی ، مسیحیو ں کے طور پر رہنے ہوئے دیوانہ ہیں ۔ یہ وہ ہے جس سے بچنا مشکل ہے ، او رمسیحیوں کو اُس سے جو دوسرے سوچتے ہیں تھوڑے لحاظ کے ساتھ خدا کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔ یسوع اور انبیا ء پر دیوانہ ہونے اور ابلیس ہونے کا الزام لگایا گیا ۔
2۔ بہر حال ، ہمیں اکیلے مقصد کے لیے کوئی چیز نہیں کرنی چاہیے جس سے لوگ سوچیں کہ ہم دیوانہ ہیں ، جب تک اِس سے روحانی استفادہ حاصل نہ ہو ۔ بائبل میں صرف ایک مثال 1 سیمویل 21 : 13 ۔ 15 میں ، داود کے خوف میں ہونے کے لیے کی گئی ۔
سوال: 1 کرنتھیوں 14 : 28 میں ، کیا کلیسیا میں لوگوں کو ترجمہ کرنے والوں کے بغیر زبانوں میں بولنا چاہیے ؟ روح میں نشان کے بارے کیا ہے ؟
جواب: 1 کرنتھیوں 14 : 28 واضح ہے : ترجمہ کرنے والے کے بغیر کلیسیا میں زبانوں میں نہ بولنا۔
سوال: 1 کرنتھیوں 14 : 32 میں ، جبکہ نبیوں کی روحیں نبیوں کے تابع ہیں ، کیا یہ ثابت کرتا ہے کہ روح القدس خدا نہیں ، جیسے تثلیث کو نہ ماننے والے دعویٰ کرتے ہیں ؟
جواب: نہیں ۔ پہلے منطق کی وضاحت ، اور پھر جواب الف) نبیوں کی روحیں نبیوں کے تابع ہیں ، اور بی) خداوند ہمارے قبضہ میں نہیں ہے ، اِسی لیے : روح القدس خدا نہیں ہے۔
جبکہ الف اور بی درست ہیں ، دلیل نامناسب ہے : لوگوں کی روحیں روح القدس نہیں ہیں ۔
" ایس" کو نہ بھولیے : یونانی میں لفظ روحیں " جمع ہے واحد نہیں ۔ الینڈ یٹ آلز کی فہرست رسم الخظ کی کمی بیشی دکھاتی ہے کہ کوئی اقتباس نہیں جو کہتا ہو۔
1 تھسلینکیوں 5 : 23 کے مطابق ہر شخص روح ، جان ، اور جسم رکھتا ہے۔ 1 کرنتھیوں 14 : 32 میں روحیں نا تو روح القدس ہے نہ ہی جنوں کی روحیں ہیں ، بلکہ تحفہ یا نبوت کی روح ہے جو شخص کو روح القدس سے دی گئی ہے ۔ کوئی اِسے مزید تفصیلات کے لیے کریسٹم ہومیلین 1 کرنتھیوں ( صفحہ 219) کو پڑھ سکتے ہیں ۔
بہر حال، " نبیوں کی روحیں " ابھی تک روح القدس کے ساتھ رابطے میں ہیں ، اور نویٹن نے غلطی سے ا،س آیت کو روح القدس کی بات کرتے ہوئے استعمال کیا ، اور ٹریٹیز آن دی ٹرینٹی باب 29 میں " روح" کو واحد کے طور پر جُملہ بندی کی۔
سوال: 1 کرنتھیوں 14 : 33 میں ، کیسے خداوند ابتری کا بانی نہیں ہے ، جبکہ خدا نے پیدایش 11 : 7 ۔ 8 میں بابلکے بُرج پر بنی نوع انسان کی زبان کو درہم برہم کر دیا ؟
جواب: " درم برہم " کے لیے یونانی لفظ کا مطلب "بے ترتیب" یا شورش" ہو سکتا ہے ۔ خدا کلیسیاوں میں ابتری پیدا کرنے والا نہیں ہے ، لیکن کسی موقع پر وہ اُن کی سوچوں ، منصوبوں اور زبانوں کو ابتر کرتا ہے جو خدا کے خلاف رو گردانی کرتے ہیں ۔
سوال: جبکہ 1 کرنتھیوں 14 : 33 کہتی ہے کہ خدا ابتری کا خدا نہیں ہے، کیا یہ آیت ثابت پر ثابت کرتی ہے کہ تثلیث جھوٹ ہے جیسے یہوواہ وٹنس والے اپنے کتابچے " کیا آپ کو تثلیث پر یقین رکھنا چاہیے(1989) " صفحہ 4 میں دعویٰ کر تے ہیں ؟
جواب: ٹھوس طور پر نہیں ۔ یسوع کا زمین پر آنا فریسیوں سے ادراک نہیں کیا جا سکتا ، اِس لیے نہیں کیونکہ وہ بہت ذہین نہیں تھے ، لیکن مسیحا کا اُن کے لیے آنا اُن کی الہیات یا منصوبوں میں فٹ ہو سکتا ہے۔
یہوواہ وٹنس والے عالمگیر طور پر کہتے ہیں کہ تثلیث جھوٹ ہے۔ مورمنز عام طور پر ایسا کہتے ہیں ، اگرچہ میں چند سے مِلا جو کہتے ہیں کہ تثلیث سچ ہے ۔ یہوواہ وٹنس اور دونوں قسم کے مورمنز کے ساتھ ، اگرچہ معاملہ تثلیث سے انکار اور یہاںتک کہ تثلیث کو سمجھنا کہ درحقیقت تثلیث کیا ہے یہ نہیں ہے ۔ سات نق